Loading...

Loading...
کتب
۳۲۵ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حجۃ الوداع میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ہم نے عمرے کا احرام باندھا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے ساتھ ہدی ہو تو وہ عمرے کے ساتھ حج کا احرام باندھ لے پھر وہ حلال نہیں ہو گا جب تک کہ ان دونوں سے ایک ساتھ حلال نہ ہو جائے ، چنانچہ میں مکہ آئی، میں حائضہ تھی، میں نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا اور نہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، لہٰذا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: اپنا سر کھول لو، کنگھی کر لو، حج کا احرام باندھ لو، اور عمرے کو ترک کر دو ، میں نے ایسا ہی کیا، جب میں نے حج ادا کر لیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میرے بھائی ) عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے ساتھ مقام تنعیم بھیجا ( تو میں وہاں سے احرام باندھ کر آئی اور ) میں نے عمرہ ادا کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے عمرے کی جگہ پر ہے ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: چنانچہ جنہوں نے عمرے کا احرام باندھ رکھا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، پھر ان لوگوں نے احرام کھول دیا، پھر جب منیٰ سے لوٹ کر آئے تو حج کا ایک اور طواف کیا، اور رہے وہ لوگ جنہوں نے حج و عمرہ دونوں کو جمع کیا تھا تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابراہیم بن سعد اور معمر نے ابن شہاب سے اسی طرح روایت کیا ہے انہوں نے ان لوگوں کے طواف کا جنہوں نے عمرہ کے طواف کا احرام باندھا، اور ان لوگوں کے طواف کا جنہوں نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع فاهللنا بعمرة ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كان معه هدى فليهل بالحج مع العمرة ثم لا يحل حتى يحل منهما جميعا " . فقدمت مكة وانا حايض ولم اطف بالبيت ولا بين الصفا والمروة فشكوت ذلك الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " انقضي راسك وامتشطي واهلي بالحج ودعي العمرة " . قالت ففعلت فلما قضينا الحج ارسلني رسول الله صلى الله عليه وسلم مع عبد الرحمن بن ابي بكر الى التنعيم فاعتمرت فقال " هذه مكان عمرتك " . قالت فطاف الذين اهلوا بالعمرة بالبيت وبين الصفا والمروة ثم حلوا ثم طافوا طوافا اخر بعد ان رجعوا من منى لحجهم واما الذين كانوا جمعوا الحج والعمرة فانما طافوا طوافا واحدا . قال ابو داود رواه ابراهيم بن سعد ومعمر عن ابن شهاب نحوه لم يذكروا طواف الذين اهلوا بعمرة وطواف الذين جمعوا الحج والعمرة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا یہاں تک کہ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو مجھے حیض آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی، آپ نے پوچھا: عائشہ! تم کیوں رو رہی ہو؟ ، میں نے کہا: مجھے حیض آ گیا کاش میں نے ( امسال ) حج کا ارادہ نہ کیا ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی ذات پاک ہے، یہ تو بس ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے واسطے لکھ دی ہے ، پھر فرمایا: تم حج کے تمام مناسک ادا کرو البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرو ۱؎ پھر جب ہم مکہ میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اسے عمرہ بنانا چاہے تو وہ اسے عمرہ بنا لے ۲؎ سوائے اس شخص کے جس کے ساتھ ہدی ہو ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو اپنی ازواج مطہرات کی جانب سے گائے ذبح کی۔ جب بطحاء کی رات ہوئی اور عائشہ رضی اللہ عنہا حیض سے پاک ہو گئیں تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میرے ساتھ والیاں حج و عمرہ دونوں کر کے لوٹیں گی اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا وہ انہیں لے کر مقام تنعیم گئے پھر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہاں سے عمرہ کا تلبیہ پڑھا۔
حدثنا ابو سلمة، موسى بن اسماعيل حدثنا حماد، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، انها قالت لبينا بالحج حتى اذا كنا بسرف حضت فدخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا ابكي فقال " ما يبكيك يا عايشة " . فقلت حضت ليتني لم اكن حججت . فقال " سبحان الله انما ذلك شىء كتبه الله على بنات ادم " . فقال " انسكي المناسك كلها غير ان لا تطوفي بالبيت " . فلما دخلنا مكة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من شاء ان يجعلها عمرة فليجعلها عمرة الا من كان معه الهدى " . قالت وذبح رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نسايه البقر يوم النحر فلما كانت ليلة البطحاء وطهرت عايشة قالت يا رسول الله اترجع صواحبي بحج وعمرة وارجع انا بالحج فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم عبد الرحمن بن ابي بكر فذهب بها الى التنعيم فلبت بالعمرة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم ( مکہ ) آئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جو اپنے ساتھ ہدی نہ لایا ہو وہ حلال ہو جائے ۱؎، چنانچہ وہ تمام لوگ حلال ہو گئے جو ہدی لے کر نہیں آئے تھے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا نرى الا انه الحج فلما قدمنا تطوفنا بالبيت فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم من لم يكن ساق الهدى ان يحل فاحل من لم يكن ساق الهدى
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے پہلے یہ بات معلوم ہو گئی ہوتی جواب معلوم ہوئی ہے تو میں ہدی نہ لاتا ، محمد بن یحییٰ ذہلی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اور میں ان لوگوں کے ساتھ حلال ہو جاتا جو عمرہ کے بعد حلال ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ سب لوگوں کا معاملہ یکساں ہو ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا عثمان بن عمر، اخبرنا يونس، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لو استقبلت من امري ما استدبرت لما سقت الهدى " . قال محمد احسبه قال " ولحللت مع الذين احلوا من العمرة " . قال اراد ان يكون امر الناس واحدا
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج افراد کا احرام باندھ کر آئے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا عمرے کا احرام باندھ کر آئیں، جب وہ مقام سرف میں پہنچیں تو انہیں حیض آ گیا یہاں تک کہ جب ہم لوگ مکہ پہنچے تو ہم نے کعبۃ اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے جن کے پاس ہدی نہ ہو وہ احرام کھول دیں، ہم نے کہا: کیا کیا چیزیں حلال ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز حلال ہے ، چنانچہ ہم نے عورتوں سے صحبت کی، خوشبو لگائی، اپنے کپڑے پہنے حالانکہ عرفہ میں صرف چار راتیں باقی تھیں، پھر ہم نے یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) کو احرام باندھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہیں روتے پایا، پوچھا: کیا بات ہے؟ ، وہ بولیں: مجھے حیض آ گیا لوگوں نے احرام کھول دیا لیکن میں نے نہیں کھولا اور نہ میں بیت اللہ کا طواف ہی کر سکی ہوں، اب لوگ حج کے لیے جا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ( حیض ) ایسی چیز ہے جسے اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ دیا ہے لہٰذا تم غسل کر لو پھر حج کا احرام باندھ لو ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اور سارے ارکان ادا کئے جب حیض سے پاک ہو گئیں تو بیت اللہ کا طواف کیا، اور صفا و مروہ کی سعی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تم حج اور عمرہ دونوں سے حلال ہو گئیں ، وہ بولیں: اللہ کے رسول! میرے دل میں خیال آتا ہے کہ میں بیت اللہ کا طواف ( قدوم ) نہیں کر سکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبدالرحمٰن! انہیں لے جاؤ، اور تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ ، یہ واقعہ حصبہ ۱؎ کی رات کا تھا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن ابي الزبير، عن جابر، قال اقبلنا مهلين مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالحج مفردا واقبلت عايشة مهلة بعمرة حتى اذا كانت بسرف عركت حتى اذا قدمنا طفنا بالكعبة وبالصفا والمروة فامرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يحل منا من لم يكن معه هدى قال فقلنا حل ماذا فقال " الحل كله " . فواقعنا النساء وتطيبنا بالطيب ولبسنا ثيابنا وليس بيننا وبين عرفة الا اربع ليال ثم اهللنا يوم التروية ثم دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم على عايشة فوجدها تبكي فقال " ما شانك " . قالت شاني اني قد حضت وقد حل الناس ولم احلل ولم اطف بالبيت والناس يذهبون الى الحج الان . فقال " ان هذا امر كتبه الله على بنات ادم فاغتسلي ثم اهلي بالحج " . ففعلت . ووقفت المواقف حتى اذا طهرت طافت بالبيت وبالصفا والمروة ثم قال " قد حللت من حجك وعمرتك جميعا " . قالت يا رسول الله اني اجد في نفسي اني لم اطف بالبيت حين حججت . قال " فاذهب بها يا عبد الرحمن فاعمرها من التنعيم " . وذلك ليلة الحصبة
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے آگے اسی قصہ کا کچھ حصہ مروی ہے، اس میں ہے کہ اپنے قول «وأهلي بالحج» یعنی حج کا احرام باندھ لو کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر حج کرو اور وہ تمام کام کرو جو ایک حاجی کرتا ہے البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا اور نماز نہ پڑھنا ۔
حدثنا احمد بن حنبل، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن جريج، قال اخبرني ابو الزبير، انه سمع جابرا، قال دخل النبي صلى الله عليه وسلم على عايشة ببعض هذه القصة قال عند قوله " واهلي بالحج " . " ثم حجي واصنعي ما يصنع الحاج غير ان لا تطوفي بالبيت ولا تصلي
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا احرام باندھا اس میں کسی اور چیز کو شامل نہیں کیا، پھر ہم ذی الحجہ کی چار راتیں گزرنے کے بعد مکہ آئے تو ہم نے طواف کیا، سعی کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احرام کھولنے کا حکم دے دیا اور فرمایا: اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا ، پھر سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے: اللہ کے رسول! یہ ہمارا متعہ ( حج کا متعہ ) اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( نہیں ) بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے ہے ۱؎۔ اوزاعی کہتے ہیں: میں نے عطا بن ابی رباح کو اسے بیان کرتے سنا تو میں اسے یاد نہیں کر سکا یہاں تک کہ میں ابن جریج سے ملا تو انہوں نے مجھے اسے یاد کرا دیا۔
حدثنا العباس بن الوليد بن مزيد، اخبرني ابي، حدثني الاوزاعي، حدثني من، سمع عطاء بن ابي رباح، حدثني جابر بن عبد الله، قال اهللنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالحج خالصا لا يخالطه شىء فقدمنا مكة لاربع ليال خلون من ذي الحجة فطفنا وسعينا ثم امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نحل وقال " لولا هديي لحللت " . ثم قام سراقة بن مالك فقال يا رسول الله ارايت متعتنا هذه العامنا هذا ام للابد فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بل هي للابد " . قال الاوزاعي سمعت عطاء بن ابي رباح يحدث بهذا فلم احفظه حتى لقيت ابن جريج فاثبته لي
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام ذی الحجہ کی چار راتیں گزرنے کے بعد ( مکہ ) آئے، جب انہوں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب اسے عمرہ بنا لو سوائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی ہو ، پھر جب یوم الترویہ ( آٹھواں ذی الحجہ ) ہوا تو لوگوں نے حج کا احرام باندھا، جب یوم النحر ( دسواں ذی الحجہ ) ہوا تو وہ لوگ ( مکہ ) آئے اور انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی نہیں کی ۱؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن قيس بن سعد، عن عطاء بن ابي رباح، عن جابر، قال قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم واصحابه لاربع ليال خلون من ذي الحجة فلما طافوا بالبيت وبالصفا والمروة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اجعلوها عمرة الا من كان معه الهدى " . فلما كان يوم التروية اهلوا بالحج فلما كان يوم النحر قدموا فطافوا بالبيت ولم يطوفوا بين الصفا والمروة
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام نے حج کا احرام باندھا ان میں سے اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور طلحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے پاس ہدی کے جانور نہیں تھے اور علی رضی اللہ عنہ یمن سے ساتھ ہدی لے کر آئے تھے تو انہوں نے کہا: میں نے اسی کا احرام باندھا ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ حج کو عمرہ میں بدل لیں یعنی وہ طواف کر لیں پھر بال کتروا لیں اور پھر احرام کھول دیں سوائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی ہو، تو لوگوں نے عرض کیا: کیا ہم منیٰ کو اس حال میں جائیں کہ ہمارے ذکر منی ٹپکا رہے ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: اگر مجھے پہلے سے یہ معلوم ہوتا جو اب معلوم ہوا ہے تو میں ہدی نہ لاتا، اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، حدثنا حبيب، - يعني المعلم - عن عطاء، حدثني جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اهل هو واصحابه بالحج وليس مع احد منهم يوميذ هدى الا النبي صلى الله عليه وسلم وطلحة وكان علي - رضى الله عنه - قدم من اليمن ومعه الهدى فقال اهللت بما اهل به رسول الله صلى الله عليه وسلم وان النبي صلى الله عليه وسلم امر اصحابه ان يجعلوها عمرة يطوفوا ثم يقصروا ويحلوا الا من كان معه الهدى فقالوا اننطلق الى منى وذكورنا تقطر فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " لو اني استقبلت من امري ما استدبرت ما اهديت ولولا ان معي الهدى لاحللت
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عمرہ ہے، ہم نے اس سے فائدہ اٹھایا لہٰذا جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ پوری طرح سے حلال ہو جائے، اور عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو گیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ( مرفوع حدیث ) منکر ہے، یہ ابن عباس کا قول ہے نہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، ان محمد بن جعفر، حدثهم عن شعبة، عن الحكم، عن مجاهد، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " هذه عمرة استمتعنا بها فمن لم يكن عنده هدى فليحل الحل كله وقد دخلت العمرة في الحج الى يوم القيامة " . قال ابو داود هذا منكر انما هو قول ابن عباس
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب آدمی حج کا احرام باندھ کر مکہ آئے اور بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لے تو وہ حلال ہو گیا اور یہ عمرہ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے ایک شخص سے انہوں نے عطا سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ خالص حج کا احرام باندھ کر مکہ میں داخل ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عمرہ سے بدل دیا۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثني ابي، حدثنا النهاس، عن عطاء، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اهل الرجل بالحج ثم قدم مكة فطاف بالبيت وبالصفا والمروة فقد حل وهي عمرة " . قال ابو داود رواه ابن جريج عن رجل عن عطاء دخل اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم مهلين بالحج خالصا فجعلها النبي صلى الله عليه وسلم عمرة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا جب آپ ( مکہ ) آئے تو آپ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی ( ابن شوکر کی روایت میں ہے کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال نہیں کتروائے ( پھر ابن شوکر اور ابن منیع دونوں کی روایتیں متفق ہیں کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کی وجہ سے احرام نہیں کھولا، اور حکم دیا کہ جو ہدی لے کر نہ آیا ہو طواف اور سعی کر لے اور بال کتروا لے پھر احرام کھول دے، ( ابن منیع کی حدیث میں اتنا اضافہ ہے ) : یا سر منڈوا لے پھر احرام کھول دے۔
حدثنا الحسن بن شوكر، واحمد بن منيع، قالا حدثنا هشيم، عن يزيد بن ابي زياد، - قال ابن منيع اخبرنا يزيد بن ابي زياد المعنى، - عن مجاهد، عن ابن عباس، قال اهل النبي صلى الله عليه وسلم بالحج فلما قدم طاف بالبيت وبين الصفا والمروة - وقال ابن شوكر ولم يقصر ثم اتفقا - ولم يحل من اجل الهدى وامر من لم يكن ساق الهدى ان يطوف وان يسعى ويقصر ثم يحل . زاد ابن منيع في حديثه او يحلق ثم يحل
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے ایک شخص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے ان کے پاس گواہی دی کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الموت میں حج سے پہلے عمرہ کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني حيوة، اخبرني ابو عيسى الخراساني، عن عبد الله بن القاسم، عن سعيد بن المسيب، ان رجلا، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم اتى عمر بن الخطاب - رضي الله عنه - فشهد عنده انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي قبض فيه ينهى عن العمرة قبل الحج
ابوشیخ ہنائی خیوان بن خلدہ ( جو اہل بصرہ میں سے ہیں اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں ) سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں فلاں چیز سے روکا ہے اور چیتوں کی کھال پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں، پھر معاویہ نے پوچھا: تو کیا یہ بھی معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( قران ) حج اور عمرہ دونوں کو ملانے سے منع فرمایا ہے؟ لوگوں نے کہا: رہی یہ بات تو ہم اسے نہیں جانتے، تو انہوں نے کہا: یہ بھی انہی ( ممنوعات ) میں سے ہے لیکن تم لوگ بھول گئے ۱؎۔
حدثنا موسى ابو سلمة، حدثنا حماد، عن قتادة، عن ابي شيخ الهنايي، خيوان بن خلدة ممن قرا على ابي موسى الاشعري من اهل البصرة ان معاوية بن ابي سفيان قال لاصحاب النبي صلى الله عليه وسلم هل تعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن كذا وكذا وعن ركوب جلود النمور قالوا نعم . قال فتعلمون انه نهى ان يقرن بين الحج والعمرة فقالوا اما هذا فلا . فقال اما انها معهن ولكنكم نسيتم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے انہیں کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھتے سنا آپ فرما رہے تھے: «لبيك عمرة وحجا لبيك عمرة وحجا» ۔
حدثنا احمد بن حنبل، قال حدثنا هشيم، اخبرنا يحيى بن ابي اسحاق، وعبد العزيز بن صهيب، وحميد الطويل، عن انس بن مالك، انهم سمعوه يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبي بالحج والعمرة جميعا يقول " لبيك عمرة وحجا لبيك عمرة وحجا
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات ذی الحلیفہ میں گزاری، یہاں تک کہ صبح ہو گئی پھر سوار ہوئے یہاں تک کہ جب سواری آپ کو لے کر بیداء پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تحمید، تسبیح اور تکبیر بیان کی، پھر حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا، اور لوگوں نے بھی ان دونوں کا احرام باندھا، پھر جب ہم لوگ ( مکہ ) آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ( احرام کھولنے کا ) حکم دیا، انہوں نے احرام کھول دیا، یہاں تک کہ جب یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) آیا تو لوگوں نے حج کا احرام باندھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات اونٹنیاں کھڑی کر کے اپنے ہاتھ سے نحر کیں ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جو بات اس روایت میں منفرد ہے وہ یہ کہ انہوں نے ( یعنی انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے «الحمدلله، سبحان الله والله أكبر» کہا پھر حج کا تلبیہ پکارا۔
حدثنا ابو سلمة، موسى بن اسماعيل حدثنا وهيب، حدثنا ايوب، عن ابي قلابة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم بات بها - يعني بذي الحليفة - حتى اصبح ثم ركب حتى اذا استوت به على البيداء حمد الله وسبح وكبر ثم اهل بحج وعمرة واهل الناس بهما فلما قدمنا امر الناس فحلوا حتى اذا كان يوم التروية اهلوا بالحج ونحر رسول الله صلى الله عليه وسلم سبع بدنات بيده قياما . قال ابو داود الذي تفرد به - يعني انسا - من هذا الحديث انه بدا بالحمد والتسبيح والتكبير ثم اهل بالحج
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر مقرر کر کے بھیجا، میں ان کے ساتھ تھا تو مجھے ان کے ساتھ ( وہاں ) کئی اوقیہ سونا ملا، جب آپ یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو دیکھا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رنگین کپڑے پہنے ہوئے ہیں، اور گھر میں خوشبو بکھیر رکھی ہے، وہ کہنے لگیں: آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم دیا تو انہوں نے احرام کھول دیا ہے، علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے فاطمہ سے کہا: میں نے وہ نیت کی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو آپ نے مجھ سے پوچھا: تم نے کیا نیت کی ہے؟ ، میں نے کہا: میں نے وہی احرام باندھا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو ہدی ساتھ لایا ہوں اور میں نے قِران کیا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم سڑسٹھ ( ۶۷ ) ۱؎ یا چھیاسٹھ ( ۶۶ ) اونٹ ( میری طرف سے ) نحر کرو اور تینتیس ( ۳۳ ) یا چونتیس ( ۳۴ ) اپنے لیے روک لو، اور ہر اونٹ میں سے ایک ایک ٹکڑا گوشت میرے لیے رکھ لو ۔
حدثنا يحيى بن معين، قال حدثنا حجاج، حدثنا يونس، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب، قال كنت مع علي حين امره رسول الله صلى الله عليه وسلم على اليمن قال فاصبت معه اواقي فلما قدم علي من اليمن على رسول الله صلى الله عليه وسلم وجد فاطمة - رضى الله عنها - قد لبست ثيابا صبيغا وقد نضحت البيت بنضوح فقالت ما لك فان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد امر اصحابه فاحلوا قال قلت لها اني اهللت باهلال النبي صلى الله عليه وسلم . قال فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقال لي " كيف صنعت " . فقال قلت اهللت باهلال النبي صلى الله عليه وسلم . قال " فاني قد سقت الهدى وقرنت " . قال فقال لي " انحر من البدن سبعا وستين او ستا وستين وامسك لنفسك ثلاثا وثلاثين او اربعا وثلاثين وامسك لي من كل بدنة منها بضعة
ابووائل کہتے ہیں کہ صبی بن معبد سے کہا: میں نے ( حج و عمرہ ) دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں اپنے نبی کی سنت پر عمل کی توفیق ملی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير بن عبد الحميد، عن منصور، عن ابي وايل، قال قال الصبى بن معبد اهللت بهما معا . فقال عمر هديت لسنة نبيك صلى الله عليه وسلم
ابووائل کہتے ہیں کہ صبی بن معبد نے عرض کیا کہ میں ایک نصرانی بدو تھا میں نے اسلام قبول کیا تو اپنے خاندان کے ایک شخص کے پاس آیا جسے ہذیم بن ثرملہ کہا جاتا تھا میں نے اس سے کہا: ارے میاں! میں جہاد کا حریص ہوں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ حج و عمرہ میرے اوپر فرض ہیں، تو میرے لیے کیسے ممکن ہے کہ میں دونوں کو ادا کر سکوں، اس نے کہا: دونوں کو جمع کر لو اور جو ہدی میسر ہو اسے ذبح کرو، تو میں نے ان دونوں کا احرام باندھ لیا، پھر جب میں مقام عذیب پر آیا تو میری ملاقات سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان سے ہوئی اور میں دونوں کا تلبیہ پکار رہا تھا، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: یہ اپنے اونٹ سے زیادہ سمجھ دار نہیں، تو جیسے میرے اوپر پہاڑ ڈال دیا گیا ہو، یہاں تک کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے ان سے عرض کیا: امیر المؤمنین! میں ایک نصرانی بدو تھا، میں نے اسلام قبول کیا، میں جہاد کا خواہشمند ہوں لیکن دیکھ رہا ہوں کہ مجھ پر حج اور عمرہ دونوں فرض ہیں، تو میں اپنی قوم کے ایک آدمی کے پاس آیا اس نے مجھے بتایا کہ تم ان دونوں کو جمع کر لو اور جو ہدی میسر ہو اسے ذبح کرو، چنانچہ میں نے دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: تمہیں اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کی توفیق ملی۔
حدثنا محمد بن قدامة بن اعين، وعثمان بن ابي شيبة، قالا حدثنا جرير بن عبد الحميد، عن منصور، عن ابي وايل، قال قال الصبى بن معبد كنت رجلا اعرابيا نصرانيا فاسلمت فاتيت رجلا من عشيرتي يقال له هذيم بن ثرملة فقلت له يا هناه اني حريص على الجهاد واني وجدت الحج والعمرة مكتوبين على فكيف لي بان اجمعهما قال اجمعهما واذبح ما استيسر من الهدى . فاهللت بهما معا فلما اتيت العذيب لقيني سلمان بن ربيعة وزيد بن صوحان وانا اهل بهما جميعا فقال احدهما للاخر ما هذا بافقه من بعيره . قال فكانما القي على جبل حتى اتيت عمر بن الخطاب فقلت له يا امير المومنين اني كنت رجلا اعرابيا نصرانيا واني اسلمت وانا حريص على الجهاد واني وجدت الحج والعمرة مكتوبين على فاتيت رجلا من قومي فقال لي اجمعهما واذبح ما استيسر من الهدى واني اهللت بهما معا . فقال لي عمر رضى الله عنه هديت لسنة نبيك صلى الله عليه وسلم
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: آج رات میرے پاس میرے رب عزوجل کی جانب سے ایک آنے والا ( جبرائیل ) آیا ( آپ اس وقت وادی عقیق ۱؎ میں تھے ) اور کہنے لگا: اس مبارک وادی میں نماز پڑھو، اور کہا: عمرہ حج میں شامل ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ولید بن مسلم اور عمر بن عبدالواحد نے اس حدیث میں اوزاعی سے یہ جملہ «وقل عمرة في حجة» ( کہو! عمرہ حج میں ہے ) نقل کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اس حدیث میں علی بن مبارک نے یحییٰ بن ابی کثیر سے «وقل عمرة في حجة» کا جملہ نقل ۲؎ کیا ہے۔
حدثنا النفيلي، حدثنا مسكين، عن الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن عكرمة، قال سمعت ابن عباس، يقول حدثني عمر بن الخطاب، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اتاني الليلة ات من عند ربي عز وجل " . قال وهو بالعقيق " وقال صل في هذا الوادي المبارك وقال عمرة في حجة " . قال ابو داود رواه الوليد بن مسلم وعمر بن عبد الواحد في هذا الحديث عن الاوزاعي " وقل عمرة في حجة " . قال ابو داود وكذا رواه علي بن المبارك عن يحيى بن ابي كثير في هذا الحديث وقال " وقل عمرة في حجة