Loading...

Loading...
کتب
۳۲۵ احادیث
سبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب ہم عسفان میں پہنچے تو آپ سے سراقہ بن مالک مدلجی نے کہا: اللہ کے رسول! آج ایسا بیان فرمائیے جیسے ان لوگوں کو سمجھاتے ہیں جو ابھی پیدا ہوئے ہوں ( بالکل واضح ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے عمرہ کو تمہارے حج میں داخل کر دیا ہے لہٰذا جب تم مکہ آ جاؤ تو جو بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لے تو وہ حلال ہو گیا سوائے اس کے جس کے ساتھ ہدی کا جانور ہو ۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابن ابي زايدة، اخبرنا عبد العزيز، حدثني الربيع بن سبرة، عن ابيه، قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اذا كان بعسفان قال له سراقة بن مالك المدلجي يا رسول الله اقض لنا قضاء قوم كانما ولدوا اليوم . فقال " ان الله تعالى قد ادخل عليكم في حجكم هذا عمرة فاذا قدمتم فمن تطوف بالبيت وبين الصفا والمروة فقد حل الا من كان معه هدى
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے مروہ پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تیر کی دھار سے کاٹے، ( یا یوں ہے ) میں نے آپ کو دیکھا کہ مروہ پر تیر کے پیکان سے آپ کے بال کترے جا رہے ہیں ۱؎۔
حدثنا عبد الوهاب بن نجدة، حدثنا شعيب بن اسحاق، عن ابن جريج، ح حدثنا ابو بكر بن خلاد، حدثنا يحيى، - المعنى - عن ابن جريج، اخبرني الحسن بن مسلم، عن طاوس، عن ابن عباس، ان معاوية بن ابي سفيان، اخبره قال قصرت عن النبي صلى الله عليه وسلم بمشقص على المروة . او رايته يقصر عنه على المروة بمشقص . قال ابن خلاد ان معاوية لم يذكر اخبره
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تمہیں نہیں معلوم کہ میں نے مروہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ایک اعرابی کے تیر کی پیکان سے کترے۔ حسن کی روایت میں «لحجته» ( آپ کے حج میں ) ہے۔
حدثنا الحسن بن علي، ومخلد بن خالد، ومحمد بن يحيى، - المعنى - قالوا حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، ان معاوية، قال له اما علمت اني قصرت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بمشقص اعرابي على المروة - زاد الحسن في حديثه - لحجته
مسلم قری سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کا تلبیہ پکارا اور آپ کے صحابہ کرام نے حج کا۔
حدثنا ابن معاذ، اخبرنا ابي، حدثنا شعبة، عن مسلم القري، سمع ابن عباس، يقول اهل النبي صلى الله عليه وسلم بعمرة واهل اصحابه بحج
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں عمرے کو حج کے ساتھ ملا کر تمتع کیا تو آپ نے ہدی کے جانور تیار کئے، اور ذی الحلیفہ سے اپنے ساتھ لے کر گئے تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرے کا تلبیہ پکارا پھر حج کا ( یعنی پہلے «لبيك بعمرة» کہا پھر «لبيك بحجة» کہا ) ۱؎ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی عمرے کو حج میں ملا کر تمتع کیا، تو لوگوں میں کچھ ایسے تھے جنہوں نے ہدی تیار کیا اور اسے لے گئے، اور بعض نے ہدی نہیں بھیجا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچے تو لوگوں سے فرمایا: تم میں سے جو ہدی لے کر آیا ہو تو اس کے لیے ( احرام کی وجہ سے ) حرام ہوئی چیزوں میں سے کوئی چیز حلال نہیں جب تک کہ وہ اپنا حج مکمل نہ کر لے، اور تم لوگوں میں سے جو ہدی لے کر نہ آیا ہو تو اسے چاہیئے کہ بیت اللہ کا طواف کرے، صفا و مروہ کی سعی کرے، بال کتروائے اور حلال ہو جائے، پھر حج کا احرام باندھے اور ہدی دے جسے ہدی نہ مل سکے تو ایام حج میں تین روزے رکھے اور سات روزے اس وقت جب اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر آ جائے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ آئے تو آپ نے طواف کیا، سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا، پھر پہلے تین پھیروں میں تیز چلے اور آخری چار پھیروں میں عام چال، بیت اللہ کے طواف سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابراہیم پر دو رکعتیں پڑھیں، پھر سلام پھیرا اور پلٹے تو صفا پر آئے اور صفا و مروہ میں سات بار سعی کی، پھر ( آپ کے لیے محرم ہونے کی وجہ سے ) جو چیز حرام تھی وہ حلال نہ ہوئی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حج پورا کر لیا اور یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو اپنا ہدی نحر کر دیا، پھر لوٹے اور بیت اللہ کا طواف ( افاضہ ) کیا پھر ہر حرام چیز آپ کے لیے حلال ہو گئی اور لوگوں میں سے جنہوں نے ہدی دی اور اسے ساتھ لے کر آئے تو انہوں نے بھی اسی طرح کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔
حدثنا عبد الملك بن شعيب بن الليث، حدثني ابي، { عن جدي، } عن عقيل، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله بن عمر، قال تمتع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع بالعمرة الى الحج فاهدى وساق معه الهدى من ذي الحليفة وبدا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاهل بالعمرة ثم اهل بالحج وتمتع الناس مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالعمرة الى الحج فكان من الناس من اهدى وساق الهدى ومنهم من لم يهد فلما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة قال للناس " من كان منكم اهدى فانه لا يحل له من شىء حرم منه حتى يقضي حجه ومن لم يكن منكم اهدى فليطف بالبيت وبالصفا والمروة وليقصر وليحلل ثم ليهل بالحج وليهد فمن لم يجد هديا فليصم ثلاثة ايام في الحج وسبعة اذا رجع الى اهله " . وطاف رسول الله صلى الله عليه وسلم حين قدم مكة فاستلم الركن اول شىء ثم خب ثلاثة اطواف من السبع ومشى اربعة اطواف ثم ركع حين قضى طوافه بالبيت عند المقام ركعتين ثم سلم فانصرف فاتى الصفا فطاف بالصفا والمروة سبعة اطواف ثم لم يحلل من شىء حرم منه حتى قضى حجه ونحر هديه يوم النحر وافاض فطاف بالبيت ثم حل من كل شىء حرم منه وفعل الناس مثل ما فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم من اهدى وساق الهدى من الناس
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے احرام کھول دیا لیکن آپ نے اپنے عمرے کا احرام نہیں کھولا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے سر میں تلبید کی تھی اور ہدی کو قلادہ پہنایا تھا تو میں اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتا جب تک کہ ہدی نحر نہ کر لوں ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، عن حفصة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها قالت يا رسول الله ما شان الناس قد حلوا ولم تحلل انت من عمرتك فقال " اني لبدت راسي وقلدت هديي فلا احل حتى انحر الهدى
سلیم بن اسود سے روایت ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ ایسے شخص کے بارے میں جو حج کی نیت کرے پھر اسے عمرے سے فسخ کر دے کہا کرتے تھے: یہ صرف اسی قافلہ کے لیے ( مخصوص ) تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ۱؎۔
حدثنا هناد، - يعني ابن السري - عن ابن ابي زايدة، اخبرنا محمد بن اسحاق، عن عبد الرحمن بن الاسود، عن سليم بن الاسود، ان ابا ذر، كان يقول فيمن حج ثم فسخها بعمرة لم يكن ذلك الا للركب الذين كانوا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم
بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کا ( عمرے کے ذریعے ) فسخ کرنا ہمارے لیے خاص ہے یا ہمارے بعد والوں کے لیے بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ یہ تمہارے لیے خاص ہے ۔
حدثنا النفيلي، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن محمد - اخبرني ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن الحارث بن بلال بن الحارث، عن ابيه، قال قلت يا رسول الله فسخ الحج لنا خاصة او لمن بعدنا قال " بل لكم خاصة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیچھے سوار تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت آپ کے پاس فتویٰ پوچھنے آئی تو فضل اسے دیکھنے لگے اور وہ فضل کو دیکھنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل کا منہ اس عورت کی طرف سے دوسری طرف پھیرنے لگے ۱؎، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں پر ( عائد کردہ ) فریضہ حج نے میرے والد کو اس حالت میں پایا ہے کہ وہ بوڑھے ہو چکے ہیں، اونٹ پر نہیں بیٹھ سکتے کیا میں ان کی جانب سے حج کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، اور یہ واقعہ حجۃ الوداع میں پیش آیا۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن سليمان بن يسار، عن عبد الله بن عباس، قال كان الفضل بن عباس رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاءته امراة من خثعم تستفتيه فجعل الفضل ينظر اليها وتنظر اليه فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يصرف وجه الفضل الى الشق الاخر فقالت يا رسول الله ان فريضة الله على عباده في الحج ادركت ابي شيخا كبيرا لا يستطيع ان يثبت على الراحلة افاحج عنه قال " نعم " . وذلك في حجة الوداع
ابورزین رضی اللہ عنہ بنی عامر کے ایک فرد کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں جو نہ حج کی طاقت رکھتے ہیں نہ عمرہ کرنے کی اور نہ سواری پر سوار ہونے کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے والد کی جانب سے حج اور عمرہ کرو ۔
حدثنا حفص بن عمر، ومسلم بن ابراهيم، - بمعناه - قالا حدثنا شعبة، عن النعمان بن سالم، عن عمرو بن اوس، عن ابي رزين، - قال حفص في حديثه رجل من بني عامر - انه قال يا رسول الله ان ابي شيخ كبير لا يستطيع الحج ولا العمرة ولا الظعن . قال " احجج عن ابيك واعتمر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کہتے سنا: «لبيك عن شبرمة» حاضر ہوں شبرمہ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: شبرمہ کون ہے؟ ، اس نے کہا: میرا بھائی یا میرا رشتے دار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے اپنا حج کر لیا ہے؟ ، اس نے جواب دیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے اپنا حج کرو پھر ( آئندہ ) شبرمہ کی طرف سے کرنا ۔
حدثنا اسحاق بن اسماعيل الطالقاني، وهناد بن السري، - المعنى واحد - قال اسحاق - حدثنا عبدة بن سليمان، عن ابن ابي عروبة، عن قتادة، عن عزرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم سمع رجلا يقول لبيك عن شبرمة . قال " من شبرمة " . قال اخ لي او قريب لي . قال " حججت عن نفسك " . قال لا . قال " حج عن نفسك ثم حج عن شبرمة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا: «لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك، لا شريك لك» حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، حمد و ستائش، نعمتیں اور فرماروائی تیری ہی ہے تیرا ان میں کوئی شریک نہیں ۔ راوی کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر تلبیہ میں اتنا مزید کہتے «لبيك لبيك لبيك وسعديك والخير بيديك والرغباء إليك والعمل» حاضر ہوں تیری خدمت میں، حاضر ہوں، حاضر ہوں، نیک بختی حاصل کرتا ہوں، خیر تیرے ہاتھ میں ہے، تیری ہی طرف رغبت اور عمل ہے
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان تلبية، رسول الله صلى الله عليه وسلم " لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك ان الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك " . قال وكان عبد الله بن عمر يزيد في تلبيته " لبيك لبيك لبيك وسعديك والخير بيديك والرغباء اليك والعمل
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا، پھر انہوں نے تلبیہ کا اسی طرح ذکر کیا جیسے ابن عمر کی حدیث میں ہے اور کہا: لوگ ( اپنی طرف سے اللہ کی تعریف میں ) «ذا المعارج» اور اس جیسے کلمات بڑھاتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سنتے تھے لیکن آپ ان سے کچھ نہیں فرماتے ۱؎۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا جعفر، حدثنا ابي، عن جابر بن عبد الله، قال اهل رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر التلبية مثل حديث ابن عمر قال والناس يزيدون " ذا المعارج " . ونحوه من الكلام والنبي صلى الله عليه وسلم يسمع فلا يقول لهم شييا
سائب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ ۱؎ اور ساتھ والوں کو «الإهلال» یا فرمایا «التلبية» میں آواز بلند کرنے کا حکم دوں ۲؎۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن عبد الله بن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن عبد الملك بن ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن خلاد بن السايب الانصاري، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اتاني جبريل صلى الله عليه وسلم فامرني ان امر اصحابي ومن معي ان يرفعوا اصواتهم بالاهلال - او قال - بالتلبية " . يريد احدهما
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پکارا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی ۱؎۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا وكيع، حدثنا ابن جريج، عن عطاء، عن ابن عباس، عن الفضل بن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لبى حتى رمى جمرة العقبة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کی طرف نکلے ہم میں سے کچھ لوگ تلبیہ پکار رہے تھے اور کچھ «الله أكبر» کہہ رہے تھے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبد الله بن ابي سلمة، عن عبد الله بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، قال غدونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من منى الى عرفات منا الملبي ومنا المكبر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمرہ کرنے والا حجر اسود کا استلام کرنے تک لبیک پکارے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالملک بن ابی سلیمان اور ہمام نے عطاء سے، عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا هشيم، عن ابن ابي ليلى، عن عطاء، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يلبي المعتمر حتى يستلم الحجر " . قال ابو داود رواه عبد الملك بن ابي سليمان وهمام عن عطاء عن ابن عباس موقوفا
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کو نکلے، جب ہم مقام عرج میں پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے، ہم بھی اترے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں، اور میں اپنے والد کے پہلو میں بیٹھی۔ اس سفر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کے سامان اٹھانے کا اونٹ ایک ہی تھا جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام کے پاس تھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ اس انتظار میں بیٹھے کہ وہ غلام آئے جب وہ آیا تو اس کے ساتھ اونٹ نہ تھا، انہوں نے پوچھا: تیرا اونٹ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا کل رات وہ گم ہو گیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے: ایک ہی اونٹ تھا اور وہ بھی تو نے گم کر دیا، پھر وہ اسے مارنے لگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے اور فرما رہے تھے: دیکھو اس محرم کو کیا کر رہا ہے؟ ( ابن ابی رزمہ نے کہا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زیادہ کچھ نہیں فرما رہے تھے کہ دیکھو اس محرم کو کیا کر رہا ہے اور آپ مسکرا رہے تھے۔
حدثنا احمد بن حنبل، ومحمد بن عبد العزيز بن ابي رزمة، اخبرنا عبد الله بن ادريس، اخبرنا ابن اسحاق، عن يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن ابيه، عن اسماء بنت ابي بكر، قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حجاجا حتى اذا كنا بالعرج نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم ونزلنا فجلست عايشة - رضى الله عنها - الى جنب رسول الله صلى الله عليه وسلم وجلست الى جنب ابي وكانت زمالة ابي بكر وزمالة رسول الله صلى الله عليه وسلم واحدة مع غلام لابي بكر فجلس ابو بكر ينتظر ان يطلع عليه فطلع وليس معه بعيره قال اين بعيرك قال اضللته البارحة . قال فقال ابو بكر بعير واحد تضله قال فطفق يضربه ورسول الله صلى الله عليه وسلم يتبسم ويقول " انظروا الى هذا المحرم ما يصنع " . قال ابن ابي رزمة فما يزيد رسول الله صلى الله عليه وسلم على ان يقول " انظروا الى هذا المحرم ما يصنع " . ويتبسم
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ جعرانہ میں تھے، اس کے بدن پر خوشبو یا زردی کا نشان تھا اور وہ جبہ پہنے ہوئے تھا، پوچھا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کس طرح عمرہ کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی، جب وحی اتر چکی تو آپ نے فرمایا: عمرے کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے؟ فرمایا: خلوق کا نشان، یا زردی کا نشان دھو ڈالو، جبہ اتار دو، اور عمرے میں وہ سب کرو جو حج میں کرتے ہو ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا همام، قال سمعت عطاء، اخبرنا صفوان بن يعلى بن امية، عن ابيه، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم وهو بالجعرانة وعليه اثر خلوق - او قال صفرة - وعليه جبة فقال يا رسول الله كيف تامرني ان اصنع في عمرتي فانزل الله تبارك وتعالى على النبي صلى الله عليه وسلم الوحى فلما سري عنه قال " اين السايل عن العمرة " . قال " اغسل عنك اثر الخلوق - او قال اثر الصفرة - واخلع الجبة عنك واصنع في عمرتك ما صنعت في حجتك
اس سند سے بھی یعلیٰ سے یہی قصہ مروی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا جبہ اتار دو ، چنانچہ اس نے اپنے سر کی طرف سے اسے اتار دیا، اور پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن عطاء، عن يعلى بن امية، وهشيم، عن الحجاج، عن عطاء، عن صفوان بن يعلى، عن ابيه، بهذه القصة قال فيه فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " اخلع جبتك " . فخلعها من راسه وساق الحديث