Loading...

Loading...
کتب
۳۲۵ احادیث
اس سند سے بھی یعلیٰ بن منیہ ۱؎ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: «فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينزعها نزعا ويغتسل مرتين أو ثلاثا» یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اسے اتار دے اور غسل کرے دو بار یا تین بار آپ نے فرمایا پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حدثنا يزيد بن خالد بن عبد الله بن موهب الهمداني الرملي، قال حدثني الليث، عن عطاء بن ابي رباح، عن ابن يعلى ابن منية، عن ابيه، بهذا الخبر قال فيه فامره رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ينزعها نزعا ويغتسل مرتين او ثلاثا . وساق الحديث
یعلیٰ بن امیہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جعرانہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس نے عمرہ کا احرام اور جبہ پہنے ہوئے تھا، اور اس کی داڑھی و سر کے بال زرد تھے، اور راوی نے یہی حدیث بیان کی۔
حدثنا عقبة بن مكرم، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا ابي قال، سمعت قيس بن سعد، يحدث عن عطاء، عن صفوان بن يعلى بن امية، عن ابيه، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم بالجعرانة وقد احرم بعمرة وعليه جبة وهو مصفر لحيته وراسه وساق هذا الحديث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ آپ نے فرمایا: نہ کرتا پہنے، نہ ٹوپی، نہ پائجامہ، نہ عمامہ ( پگڑی ) ، نہ کوئی ایسا کپڑا جس میں ورس ۱؎ یا زعفران لگا ہو، اور نہ ہی موزے، سوائے اس شخص کے جسے جوتے میسر نہ ہوں، تو جسے جوتے میسر نہ ہوں وہ موزے ہی پہن لے، انہیں کاٹ ڈالے تاکہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں ۲؎ ۔
حدثنا مسدد، واحمد بن حنبل، قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، قال سال رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم ما يترك المحرم من الثياب فقال " لا يلبس القميص ولا البرنس ولا السراويل ولا العمامة ولا ثوبا مسه ورس ولا زعفران ولا الخفين الا لمن لم يجد النعلين فمن لم يجد النعلين فليلبس الخفين وليقطعهما حتى يكونا اسفل من الكعبين
اس سند سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے، راوی نے البتہ اتنا اضافہ کیا ہے کہ محرم عورت منہ پر نہ نقاب ڈالے اور نہ دستانے پہنے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حاتم بن اسماعیل اور یحییٰ بن ایوب نے اس حدیث کو موسی بن عقبہ سے، اور موسیٰ نے نافع سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے لیث نے کہا ہے، اور اسے موسیٰ بن طارق نے موسیٰ بن عقبہ سے ابن عمر پر موقوفاً روایت کیا ہے، اور اسی طرح اسے عبیداللہ بن عمر اور مالک اور ایوب نے بھی موقوفاً روایت کیا ہے، اور ابراہیم بن سعید المدینی نے نافع سے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ محرم عورت نہ تو منہ پر نقاب ڈالے اور نہ دستانے پہنے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابراہیم بن سعید المدینی ایک شیخ ہیں جن کا تعلق اہل مدینہ سے ہے ان سے زیادہ احادیث مروی نہیں، یعنی وہ قلیل الحدیث ہیں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه . زاد " ولا تنتقب المراة الحرام ولا تلبس القفازين " . قال ابو داود وقد روى هذا الحديث حاتم بن اسماعيل ويحيى بن ايوب عن موسى بن عقبة عن نافع على ما قال الليث ورواه موسى بن طارق عن موسى بن عقبة موقوفا على ابن عمر وكذلك رواه عبيد الله بن عمر ومالك وايوب موقوفا وابراهيم بن سعيد المديني عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم " المحرمة لا تنتقب ولا تلبس القفازين " . قال ابو داود ابراهيم بن سعيد المديني شيخ من اهل المدينة ليس له كبير حديث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: محرم عورت نہ تو منہ پر نقاب ڈالے اور نہ دستانے پہنے ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابراهيم بن سعيد المديني، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " المحرمة لا تنتقب ولا تلبس القفازين
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے عورتوں کو حالت احرام میں دستانے پہننے، نقاب اوڑھنے، اور ایسے کپڑے پہننے سے جن میں ورس یا زعفران لگا ہو منع فرمایا، البتہ ان کے علاوہ جو رنگین کپڑے چاہے پہنے جیسے زرد رنگ والے کپڑے، یا ریشمی کپڑے، یا زیور، یا پائجامہ، یا قمیص، یا کرتا، یا موزہ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو عبدہ بن سلیمان اور محمد بن سلمہ نے ابن اسحاق سے ابن اسحاق نے نافع سے حدیث «وما مس الورس والزعفران من الثياب» تک روایت کیا ہے اور اس کے بعد کا ذکر ان دونوں نے نہیں کیا ہے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يعقوب، حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، قال فان نافعا مولى عبد الله بن عمر حدثني عن عبد الله بن عمر انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى النساء في احرامهن عن القفازين والنقاب وما مس الورس والزعفران من الثياب ولتلبس بعد ذلك ما احبت من الوان الثياب معصفرا او خزا او حليا او سراويل او قميصا او خفا . قال ابو داود روى هذا الحديث عن ابن اسحاق عن نافع عبدة بن سليمان ومحمد بن سلمة الى قوله وما مس الورس والزعفران من الثياب . ولم يذكرا ما بعده
نافع کہتے ہیں کہ کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سردی محسوس کی تو انہوں نے کہا: نافع! میرے اوپر کپڑا ڈال دو، میں نے ان پر برنس ڈال دی، تو انہوں نے کہا: تم میرے اوپر یہ ڈال رہے ہو حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو اس کے پہننے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، انه وجد القر فقال الق على ثوبا يا نافع . فالقيت عليه برنسا فقال تلقي على هذا وقد نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يلبسه المحرم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: پاجامہ وہ پہنے جسے ازار نہ ملے اور موزے وہ پہنے جسے جوتے نہ مل سکیں ۔ ( ابوداؤد کہتے ہیں یہ اہل مکہ کی حدیث ہے ۱؎ اس کا مرجع بصرہ میں جابر بن زید ہیں ۲؎ اور جس چیز کے ساتھ وہ منفرد ہیں وہ سراویل کا ذکر ہے اور اس میں موزے کے سلسلہ میں کاٹنے کا ذکر نہیں ) ۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " السراويل لمن لا يجد الازار والخف لمن لا يجد النعلين " . قال ابو داود هذا حديث اهل مكة ومرجعه الى البصرة الى جابر بن زيد والذي تفرد به منه ذكر السراويل ولم يذكر القطع في الخف
عائشہ بنت طلحہ کا بیان ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ کہتی ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلتے تو ہم اپنی پیشانی پر خوشبو کا لیپ لگاتے تھے جب پسینہ آتا تو وہ خوشبو ہم میں سے کسی کے منہ پر بہہ کر آ جاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھتے لیکن منع نہ کرتے ۱؎۔
حدثنا الحسين بن الجنيد الدامغاني، حدثنا ابو اسامة، قال اخبرني عمر بن سويد الثقفي، قال حدثتني عايشة بنت طلحة، ان عايشة ام المومنين، - رضى الله عنها - حدثتها قالت كنا نخرج مع النبي صلى الله عليه وسلم الى مكة فنضمد جباهنا بالسك المطيب عند الاحرام فاذا عرقت احدانا سال على وجهها فيراه النبي صلى الله عليه وسلم فلا ينهاها
میں نے ابن شہاب سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایسا ہی کرتے تھے یعنی محرم عورت کے موزوں کو کاٹ دیتے ۱؎، پھر ان سے صفیہ بنت ابی عبید نے بیان کیا کہ ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ن تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ۱۷۸۶۷ ) ، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ۲/۲۹، ۳۵، ۶/۳۵ ) ( حسن ) ( محمد بن اسحاق کی یہ روایت معنعن نہیں ہے بلکہ اسے انہوں نے زہری سے بالمشافہہ اخذ کیا ہے، اس لئے حسن ہے)
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابن ابي عدي، عن محمد بن اسحاق، قال ذكرت لابن شهاب فقال حدثني سالم بن عبد الله، ان عبد الله، - يعني ابن عمر - كان يصنع ذلك - يعني يقطع الخفين للمراة المحرمة - ثم حدثته صفية بنت ابي عبيد ان عايشة حدثتها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد كان رخص للنساء في الخفين فترك ذلك
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ والوں سے صلح کی تو آپ نے ان سے اس شرط پر مصالحت کی کہ مسلمان مکہ میں جلبان السلاح کے ساتھ ہی داخل ہوں گے ۱؎ تو میں نے ان سے پوچھا: «جلبان السلاح» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: «جلبان السلاح» میان کا نام ہے اس چیز سمیت جو اس میں ہو۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، قال سمعت البراء، يقول لما صالح رسول الله صلى الله عليه وسلم اهل الحديبية صالحهم على ان لا يدخلوها الا بجلبان السلاح فسالته ما جلبان السلاح قال القراب بما فيه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سوار ہمارے سامنے سے گزرتے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھے ہوتے، جب سوار ہمارے سامنے آ جاتے تو ہم اپنے نقاب اپنے سر سے چہرے پر ڈال لیتے اور جب وہ گزر جاتے تو ہم اسے کھول لیتے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا هشيم، اخبرنا يزيد بن ابي زياد، عن مجاهد، عن عايشة، قالت كان الركبان يمرون بنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم محرمات فاذا حاذوا بنا سدلت احدانا جلبابها من راسها الى وجهها فاذا جاوزونا كشفناه
ام حصین رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کیا تو میں نے اسامہ اور بلال رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ ان میں سے ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے تھے، اور دوسرے اپنا کپڑا اٹھائے تھے تاکہ وہ آپ پر دھوپ سے سایہ کر سکیں ۱؎ یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا محمد بن سلمة، عن ابي عبد الرحيم، عن زيد بن ابي انيسة، عن يحيى بن حصين، عن ام الحصين، حدثته قالت، حججنا مع النبي صلى الله عليه وسلم حجة الوداع فرايت اسامة وبلالا واحدهما اخذ بخطام ناقة النبي صلى الله عليه وسلم والاخر رافع ثوبه ليستره من الحر حتى رمى جمرة العقبة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور آپ حالت احرام میں تھے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن عطاء، وطاوس، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم احتجم وهو محرم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیماری کی وجہ سے جو آپ کو تھی اپنے سر میں پچھنا لگوایا اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا هشام، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم احتجم وهو محرم في راسه من داء كان به
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درد کی وجہ سے جو آپ کو تھا اپنے قدم کی پشت پر پچھنا لگوایا، آپ احرام باندھے ہوئے تھے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد کو کہتے سنا کہ ابن ابی عروبہ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے یعنی قتادہ سے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن قتادة، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم احتجم وهو محرم على ظهر القدم من وجع كان به . قال ابو داود سمعت احمد قال ابن ابي عروبة ارسله يعني عن قتادة
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ مر بن عبیداللہ بن معمر کی دونوں آنکھیں دکھنے لگیں تو انہوں نے ابان بن عثمان کے پاس ( پوچھنے کے لیے اپنا آدمی ) بھیجا کہ وہ اپنی آنکھوں کا کیا علاج کریں؟ ( سفیان کہتے ہیں: ابان ان دونوں حج کے امیر تھے ) تو انہوں نے کہا: ان دونوں پر ایلوا کا لیپ لگا لو، کیونکہ میں نے عثمان سے سنا ہے وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کر رہے تھے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا سفيان، عن ايوب بن موسى، عن نبيه بن وهب، قال اشتكى عمر بن عبيد الله بن معمر عينيه فارسل الى ابان بن عثمان - قال سفيان وهو امير الموسم - ما يصنع بهما قال اضمدهما بالصبر فاني سمعت عثمان - رضى الله عنه - يحدث ذلك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
اس سند سے بھی نبیہ بن وہب سے یہی حدیث مروی ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم ابن علية، عن ايوب، عن نافع، عن نبيه بن وهب، بهذا الحديث
عبداللہ بن حنین سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کے مابین مقام ابواء میں اختلاف ہو گیا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: محرم سر دھو سکتا ہے، مسور نے کہا: محرم سر نہیں دھو سکتا، تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں ( ابن حنین کو ) ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تو آپ نے انہیں دو لکڑیوں کے درمیان کپڑے کی آڑ لیے ہوئے نہاتے پایا، ابن حنین کہتے ہیں: میں نے سلام کیا تو انہوں نے پوچھا: کون؟ میں نے کہا: میں عبداللہ بن حنین ہوں، مجھے آپ کے پاس عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھیجا ہے کہ میں آپ سے معلوم کروں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں اپنے سر کو کیسے دھوتے تھے؟ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا اور اسے اس قدر جھکایا کہ مجھے ان کا سر نظر آنے لگا، پھر ایک آدمی سے جو ان پر پانی ڈال رہا تھا، کہا: پانی ڈالو تو اس نے ان کے سر پر پانی ڈالا، پھر ایوب نے اپنے ہاتھوں سے سر کو ملا، اور دونوں ہاتھوں کو آگے لائے اور پیچھے لے گئے اور بولے ایسا ہی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن ابراهيم بن عبد الله بن حنين، عن ابيه، ان عبد الله بن عباس، والمسور بن مخرمة، اختلفا بالابواء فقال ابن عباس يغسل المحرم راسه وقال المسور لا يغسل المحرم راسه فارسله عبد الله بن عباس الى ابي ايوب الانصاري فوجده يغتسل بين القرنين وهو يستر بثوب قال فسلمت عليه ��قال من هذا قلت انا عبد الله بن حنين ارسلني اليك عبد الله بن عباس اسالك كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغسل راسه وهو محرم قال فوضع ابو ايوب يده على الثوب فطاطاه حتى بدا لي راسه ثم قال لانسان يصب عليه اصبب . قال فصب على راسه ثم حرك ابو ايوب راسه بيديه فاقبل بهما وادبر ثم قال هكذا رايته يفعل صلى الله عليه وسلم