Loading...

Loading...
کتب
۳۲۵ احادیث
نبیہ بن وہب جو بنی عبدالدار کے فرد ہیں سے روایت ہے کہ عمر بن عبیداللہ نے انہیں ابان بن عثمان بن عفان کے پاس بھیجا، ابان اس وقت امیر الحج تھے، وہ دونوں محرم تھے، وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں طلحہ بن عمر کا شیبہ بن جبیر کی بیٹی سے نکاح کر دوں، میں چاہتا ہوں کہ تم بھی اس میں شریک رہو، ابان نے اس پر انکار کیا اور کہا کہ میں نے اپنے والد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: محرم نہ خود نکاح کرے اور نہ کسی دوسرے کا نکاح کرائے ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن نافع، عن نبيه بن وهب، اخي بني عبد الدار ان عمر بن عبيد الله، ارسل الى ابان بن عثمان بن عفان يساله وابان يوميذ امير الحاج وهما محرمان اني اردت ان انكح طلحة بن عمر ابنة شيبة بن جبير فاردت ان تحضر ذلك . فانكر ذلك عليه ابان وقال اني سمعت ابي عثمان بن عفان يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا ينكح المحرم ولا ينكح
اس سند سے بھی عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا پھر راوی نے اسی کے مثل ذکر کیا البتہ اس میں انہوں نے «ولا يخطب» ( نہ شادی کا پیغام دے ) کے لفظ کا اضافہ کیا ہے ۱؎۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، ان محمد بن جعفر، حدثهم حدثنا سعيد، عن مطر، ويعلى بن حكيم، عن نافع، عن نبيه بن وهب، عن ابان بن عثمان، عن عثمان، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر مثله زاد " ولا يخطب
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا، اور ہم اس وقت مقام سرف میں حلال تھے ( یعنی احرام نہیں باندھے تھے)
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن حبيب بن الشهيد، عن ميمون بن مهران، عن يزيد بن الاصم ابن اخي، ميمونة عن ميمونة، قالت تزوجني رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن حلالان بسرف
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے حالت احرام میں نکاح کیا۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم تزوج ميمونة وهو محرم
سعید بن مسیب کہتے ہیں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ) حالت احرام میں نکاح کے سلسلے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کو وہم ہوا ہے۔
حدثنا ابن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن اسماعيل بن امية، عن رجل، عن سعيد بن المسيب، قال وهم ابن عباس في تزويج ميمونة وهو محرم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ محرم کون کون سا جانور قتل کر سکتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ جانور ہیں جنہیں حل اور حرم دونوں جگہوں میں مارنے میں کوئی حرج نہیں: بچھو، چوہیا، چیل، کوا اور کاٹ کھانے والا کتا ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، سيل النبي صلى الله عليه وسلم عما يقتل المحرم من الدواب فقال " خمس لا جناح في قتلهن على من قتلهن في الحل والحرم العقرب والفارة والحداة والغراب والكلب العقور
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں حرم میں بھی مارنا حلال ہے: سانپ، بچھو، کوا، چیل، چوہیا، اور کاٹ کھانے والا کتا ۔
حدثنا علي بن بحر، حدثنا حاتم بن اسماعيل، حدثني محمد بن عجلان، عن القعقاع بن حكيم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " خمس قتلهن حلال في الحرم الحية والعقرب والحداة والفارة والكلب العقور
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: محرم کون کون سا جانور مار سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: سانپ، بچھو، چوہیا کو ( مار سکتا ہے ) اور کوے کو بھگا دے، اسے مارے نہیں، اور کاٹ کھانے والے کتے، چیل اور حملہ کرنے والے درندے کو ( مار سکتا ہے ) ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا هشيم، حدثنا يزيد بن ابي زياد، حدثنا عبد الرحمن بن ابي نعم البجلي، عن ابي سعيد الخدري، ان النبي صلى الله عليه وسلم سيل عما يقتل المحرم قال " الحية والعقرب والفويسقة ويرمي الغراب ولا يقتله والكلب العقور والحداة والسبع العادي
عبداللہ بن حارث سے روایت ہے (حارث طائف میں عثمان رضی اللہ عنہ کے خلیفہ تھے) وہ کہتے ہیں حارث نے عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے کھانا تیار کیا، اس میں چکور ۱؎، نر چکور اور نیل گائے کا گوشت تھا، وہ کہتے ہیں: انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا چنانچہ قاصد ان کے پاس آیا تو دیکھا کہ وہ اپنے اونٹوں کے لیے چارہ تیار کر رہے ہیں، اور اپنے ہاتھ سے چارا جھاڑ رہے تھے جب وہ آئے تو لوگوں نے ان سے کہا: کھاؤ، تو وہ کہنے لگے: لوگوں کو کھلاؤ جو حلال ہوں ( احرام نہ باندھے ہوں ) میں تو محرم ہوں تو انہوں نے کہا: میں قبیلہ اشجع کے ان لوگوں سے جو اس وقت یہاں موجود ہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے نیل گائے کا پاؤں ہدیہ بھیجا تو آپ نے کھانے سے انکار کیا کیونکہ آپ حالت احرام میں تھے؟ لوگوں نے کہا: ہاں۲؎۔
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سليمان بن كثير، عن حميد الطويل، عن اسحاق بن عبد الله بن الحارث، عن ابيه، وكان الحارث، خليفة عثمان على الطايف فصنع لعثمان طعاما فيه من الحجل والبعاقيب ولحم الوحش قال فبعث الى علي بن ابي طالب فجاءه الرسول وهو يخبط لاباعر له فجاءه وهو ينفض الخبط عن يده فقالوا له كل . فقال اطعموه قوما حلالا فانا حرم . فقال علي رضى الله عنه انشد الله من كان ها هنا من اشجع اتعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اهدى اليه رجل حمار وحش وهو محرم فابى ان ياكله قالوا نعم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا: زید بن ارقم! کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکار کا دست ہدیہ دیا گیا تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا، اور فرمایا: ہم احرام باندھے ہوئے ہیں؟ ، انہوں نے جواب دیا: ہاں ( معلوم ہے ) ۔
حدثنا ابو سلمة، موسى بن اسماعيل حدثنا حماد، عن قيس، عن عطاء، عن ابن عباس، انه قال يا زيد بن ارقم هل علمت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اهدي اليه عضو صيد فلم يقبله وقال " انا حرم " . قال نعم
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: خشکی کا شکار تمہارے لیے اس وقت حلال ہے جب تم خود اس کا شکار نہ کرو اور نہ تمہارے لیے اس کا شکار کیا جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب دو روایتیں متعارض ہوں تو دیکھا جائے گا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل کس کے موافق ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا يعقوب، - يعني الاسكندراني القاري - عن عمرو، عن المطلب، عن جابر بن عبد الله، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " صيد البر لكم حلال ما لم تصيدوه او يصد لكم " . قال ابو داود اذا تنازع الخبران عن النبي صلى الله عليه وسلم ينظر بما اخذ به اصحابه
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، مکہ کا راستہ طے کرنے کے بعد اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ جو احرام باندھے ہوئے تھے وہ پیچھے رہ گئے، انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا، پھر اچانک انہوں نے ایک نیل گائے دیکھا تو اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور ساتھیوں سے کوڑا مانگا، انہوں نے انکار کیا، پھر ان سے برچھا مانگا تو انہوں نے پھر انکار کیا، پھر انہوں نے نیزہ خود لیا اور نیل گائے پر حملہ کر کے اسے مار ڈالا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ساتھیوں نے اس میں سے کھایا اور بعض نے انکار کیا، جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر ملے تو آپ سے اس بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک کھانا تھا جو اللہ نے تمہیں کھلایا ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابي النضر، مولى عمر بن عبيد الله التيمي عن نافع، مولى ابي قتادة الانصاري عن ابي قتادة، انه كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اذا كان ببعض طريق مكة تخلف مع اصحاب له محرمين وهو غير محرم فراى حمارا وحشيا فاستوى على فرسه قال فسال اصحابه ان يناولوه سوطه فابوا فسالهم رمحه فابوا فاخذه ثم شد على الحمار فقتله فاكل منه بعض اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وابى بعضهم فلما ادركوا رسول الله صلى الله عليه وسلم سالوه عن ذلك فقال " انما هي طعمة اطعمكموها الله تعالى
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹڈیاں سمندر کے شکار میں سے ہیں ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا حماد، عن ميمون بن جابان، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الجراد من صيد البحر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں ٹڈیوں کا ایک جھنڈ ملا، ہم میں سے ایک شخص انہیں اپنے کوڑے سے مار رہا تھا، اور وہ احرام باندھے ہوئے تھا تو اس سے کہا گیا کہ یہ درست نہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: وہ تو سمندر کے شکار میں سے ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابومہزم ضعیف ہیں اور دونوں روایتیں راوی کا وہم ہیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث، عن حبيب المعلم، عن ابي المهزم، عن ابي هريرة، قال اصبنا صرما من جراد فكان رجل منا يضربه بسوطه وهو محرم فقيل له ان هذا لا يصلح فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " انما هو من صيد البحر " . سمعت ابا داود يقول ابو المهزم ضعيف والحديثان جميعا وهم
کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ٹڈیاں سمندر کے شکار میں سے ہیں۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ميمون بن جابان، عن ابي رافع، عن كعب، قال الجراد من صيد البحر
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے زمانے میں ان کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں تمہارے سر کی جوؤں نے ایذا دی ہے؟ کہا: ہاں، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سر منڈوا دو، پھر ایک بکری ذبح کرو، یا تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجور کھلاؤ ۱؎ ۔
حدثنا وهب بن بقية، عن خالد الطحان، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن كعب بن عجرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر به زمن الحديبية فقال " قد اذاك هوام راسك " . قال نعم . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " احلق ثم اذبح شاة نسكا او صم ثلاثة ايام او اطعم ثلاثة اصع من تمر على ستة مساكين
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: اگر تم چاہو تو ایک بکری ذبح کر دو اور اگر چاہو تو تین دن کے روزے رکھو، اور اگر چاہو تو تین صاع کھجور چھ مسکینوں کو کھلا دو ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن داود، عن الشعبي، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن كعب بن عجرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له " ان شيت فانسك نسيكة وان شيت فصم ثلاثة ايام وان شيت فاطعم ثلاثة اصع من تمر لستة مساكين
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے زمانے میں ان کے پاس سے گزرے، پھر انہوں نے یہی قصہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے ساتھ دم دینے کا جانور ہے؟ ، انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تو تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو تین صاع کھجور کھلاؤ، اس طرح کہ ہر دو مسکین کو ایک صاع مل جائے ۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا عبد الوهاب، ح وحدثنا نصر بن علي، حدثنا يزيد بن زريع، - وهذا لفظ ابن المثنى - عن داود، عن عامر، عن كعب بن عجرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر به زمن الحديبية فذكر القصة فقال " امعك دم " . قال لا . قال " فصم ثلاثة ايام او تصدق بثلاثة اصع من تمر على ستة مساكين بين كل مسكينين صاع
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ( اور انہیں سر میں ( جوؤوں کی وجہ سے ) تکلیف پہنچی تھی تو انہوں نے سر منڈوا دیا تھا ) ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک گائے قربان کرنے کا حکم دیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن نافع، ان رجلا، من الانصار اخبره عن كعب بن عجرة، - وكان قد اصابه في راسه اذى فحلق فامره النبي صلى الله عليه وسلم ان يهدي هديا بقرة
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حدیبیہ کے سال میرے سر میں جوئیں پڑ گئیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا یہاں تک کہ مجھے اپنی بینائی جانے کا خوف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے میرے سلسلے میں «فمن كان منكم مريضا أو به أذى من رأسه» کی آیت نازل فرمائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور مجھ سے فرمایا: تم اپنا سر منڈوا لو اور تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو ایک فرق ۱؎ منقٰی کھلاؤ، یا پھر ایک بکری ذبح کرو چنانچہ میں نے اپنا سر منڈوایا پھر ایک بکری کی قربانی دے دی۔
حدثنا محمد بن منصور، حدثنا يعقوب، حدثني ابي، عن ابن اسحاق، حدثني ابان، - يعني ابن صالح - عن الحكم بن عتيبة، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن كعب بن عجرة، قال اصابني هوام في راسي وانا مع، رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الحديبية حتى تخوفت على بصري فانزل الله سبحانه وتعالى { فمن كان منكم مريضا او به اذى من راسه } الاية فدعاني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لي " احلق راسك وصم ثلاثة ايام او اطعم ستة مساكين فرقا من زبيب او انسك شاة " . فحلقت راسي ثم نسكت