Loading...

Loading...
کتب
۳۲۵ احادیث
اس سند سے بھی کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے «أى ذلك فعلت أجزأ عنك» اس میں سے تو جو بھی کر لو گے تمہارے لیے کافی ہے ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن عبد الكريم بن مالك الجزري، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن كعب بن عجرة، في هذه القصة زاد " اى ذلك فعلت اجزا عنك
حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے، یا لنگڑا ہو جائے تو وہ حلال ہو گیا، اب اس پر اگلے سال حج ہو گا ۱؎ ۔ عکرمہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے کہا: انہوں نے سچ کہا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن حجاج الصواف، حدثني يحيى بن ابي كثير، عن عكرمة، قال سمعت الحجاج بن عمرو الانصاري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كسر او عرج فقد حل وعليه الحج من قابل " . قال عكرمة سالت ابن عباس وابا هريرة عن ذلك فقالا صدق
حجاج بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے یا لنگڑا ہو جائے یا بیمار ہو جائے ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، سلمہ بن شبیب نے «عن معمر» کے بجائے «أنبأنا معمر» کہا ہے۔
حدثنا محمد بن المتوكل العسقلاني، وسلمة، قالا حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن يحيى بن ابي كثير، عن عكرمة، عن عبد الله بن رافع، عن الحجاج بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من كسر او عرج او مرض " . فذكر معناه . قال سلمة بن شبيب قال انا معمر
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے ابوحاضر حمیری سے سنا وہ میرے والد میمون بن مہران سے بیان کر رہے تھے کہ جس سال اہل شام مکہ میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا محاصرہ کئے ہوئے تھے میں عمرہ کے ارادے سے نکلا اور میری قوم کے کئی لوگوں نے میرے ساتھ ہدی کے جانور بھی بھیجے، جب ہم اہل شام ( مکہ کے محاصرین ) کے قریب پہنچے تو انہوں نے ہمیں حرم میں داخل ہونے سے روک دیا، چنانچہ میں نے اسی جگہ اپنی ہدی نحر کر دی اور احرام کھول دیا اور لوٹ آیا، جب دوسرا سال ہوا تو میں اپنا عمرہ قضاء کرنے کے لیے نکلا، چنانچہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور میں نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ قضاء کے عمرہ میں حدیبیہ کے سال جس ہدی کی نحر کر لی تھی اس کا بدل دو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا تھا کہ وہ عمرہ قضاء میں اس ہدی کا بدل دیں جو انہوں نے حدیبیہ کے سال نحر کی تھی۔
حدثنا النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن عمرو بن ميمون، قال سمعت ابا حاضر الحميري، يحدث ابي ميمون بن مهران قال خرجت معتمرا عام حاصر اهل الشام ابن الزبير بمكة وبعث معي رجال من قومي بهدى فلما انتهينا الى اهل الشام منعونا ان ندخل الحرم فنحرت الهدى مكاني ثم احللت ثم رجعت فلما كان من العام المقبل خرجت لاقضي عمرتي فاتيت ابن عباس فسالته فقال ابدل الهدى فان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر اصحابه ان يبدلوا الهدى الذي نحروا عام الحديبية في عمرة القضاء
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ آتے تو ذی طویٰ میں رات گزارتے یہاں تک کہ صبح کرتے اور غسل فرماتے، پھر دن میں مکہ میں داخل ہوتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتاتے کہ آپ نے ایسے ہی کیا ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن نافع، ان ابن عمر، كان اذا قدم مكة بات بذي طوى حتى يصبح ويغتسل ثم يدخل مكة نهارا ويذكر عن النبي صلى الله عليه وسلم انه فعله
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ثنیہ علیا ( بلند گھاٹی ) سے داخل ہوتے، ( یحییٰ کی روایت میں اس طرح ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ثنیہ بطحاء کی جانب سے مقام کداء سے داخل ہوتے ) اور ثنیہ سفلی ( نشیبی گھاٹی ) سے نکلتے۔ برمکی کی روایت میں اتنا زائد ہے یہ مکہ کی دو گھاٹیاں ہیں اور مسدد کی حدیث زیادہ کامل ہے۔
حدثنا عبد الله بن جعفر البرمكي، حدثنا معن، عن مالك، ح وحدثنا مسدد، وابن، حنبل عن يحيى، ح وحدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، جميعا عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يدخل مكة من الثنية العليا - قالا عن يحيى ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يدخل مكة من كداء من ثنية البطحاء - ويخرج من الثنية السفلى . زاد البرمكي يعني ثنيتى مكة وحديث مسدد اتم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شجرہ ( جو ذی الحلیفہ میں تھا ) کے راستے سے ( مدینہ سے ) نکلتے تھے اور معرس ( مدینہ سے چھ میل پر ایک موضع ہے ) کے راستہ سے ( مدینہ میں ) داخل ہوتے تھے ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يخرج من طريق الشجرة ويدخل من طريق المعرس
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ کے بلند مقام کداء ۱؎ کی جانب سے داخل ہوئے اور عمرہ کے وقت کُدی ۲؎ کی جانب سے داخل ہوئے اور عروہ دونوں ہی جانب سے داخل ہوتے تھے، البتہ اکثر کدی کی جانب سے داخل ہوتے اس لیے کہ یہ ان کے گھر سے قریب تھا۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا ابو اسامة، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح من كداء من اعلى مكة ودخل في العمرة من كدى قال وكان عروة يدخل منهما جميعا وكان اكثر ما كان يدخل من كدى وكان اقربهما الى منزله
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوتے تو اس کی بلندی کی طرف سے داخل ہوتے اور اس کے نشیب سے نکلتے۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا سفيان بن عيينة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا دخل مكة دخل من اعلاها وخرج من اسفلها
مہاجر مکی کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ جو بیت اللہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھاتا ہو تو انہوں نے کہا: میں سوائے یہود کے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھتا تھا، اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، لیکن آپ ایسا نہیں کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا يحيى بن معين، ان محمد بن جعفر، حدثهم حدثنا شعبة، قال سمعت ابا قزعة، يحدث عن المهاجر المكي، قال سيل جابر بن عبد الله عن الرجل، يرى البيت يرفع يديه فقال ما كنت ارى احدا يفعل هذا الا اليهود وقد حججنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يكن يفعله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تو بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں ( یعنی فتح مکہ کے روز ) ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا سلام بن مسكين، حدثنا ثابت البناني، عن عبد الله بن رباح الانصاري، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم لما دخل مكة طاف بالبيت وصلى ركعتين خلف المقام يعني يوم الفتح
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور مکہ میں داخل ہوئے تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس آئے اور اس کا بوسہ لیا، پھر بیت اللہ کا طواف کیا، پھر صفا کی طرف آئے اور اس پر چڑھے جہاں سے بیت اللہ کو دیکھ رہے تھے، پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے لگے اور اس کا ذکر کرتے رہے اور اس سے دعا کرتے رہے جتنی دیر تک اللہ نے چاہا، راوی کہتے ہیں: اور انصار آپ کے نیچے تھے، ہاشم کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور اللہ کی حمد بیان کی اور جو دعا کرنا چاہتے تھے کی۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا بهز بن اسد، وهاشم، - يعني ابن القاسم - قالا حدثنا سليمان بن المغيرة، عن ثابت، عن عبد الله بن رباح، عن ابي هريرة، قال اقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل مكة فاقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم الى الحجر فاستلمه ثم طاف بالبيت ثم اتى الصفا فعلاه حيث ينظر الى البيت فرفع يديه فجعل يذكر الله ما شاء ان يذكره ويدعوه قال والانصار تحته قال هاشم فدعا وحمد الله ودعا بما شاء ان يدعو
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حجر اسود کے پاس آئے اور اسے چوما، اور کہا: میں جانتا ہوں تو ایک پتھر ہے نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے نہ چومتا
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن عابس بن ربيعة، عن عمر، انه جاء الى الحجر فقبله فقال اني اعلم انك حجر لا تنفع ولا تضر ولولا اني رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبلك ما قبلتك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ کے کسی رکن کو چھوتے نہیں دیکھا سوائے حجر اسود اور رکن یمانی کے ۱؎۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا ليث، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابن عمر، قال لم ار رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح من البيت الا الركنين اليمانيين
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول معلوم ہوا کہ حطیم کا ایک حصہ بیت اللہ میں شامل ہے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ کی قسم! میرا گمان ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو گا، میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( رکن عراقی اور رکن شامی ) کا استلام بھی اسی لیے چھوڑا ہو گا کہ یہ بیت اللہ کی اصلی بنیادوں پر نہ تھے اور اسی وجہ سے لوگ حطیم ۱؎ کے پیچھے سے طواف کرتے تھے۔
حدثنا مخلد بن خالد، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، انه اخبر بقول، عايشة رضى الله عنها ان الحجر بعضه من البيت . فقال ابن عمر والله اني لاظن عايشة ان كانت سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم اني لاظن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يترك استلامهما الا انهما ليسا على قواعد البيت ولا طاف الناس وراء الحجر الا لذلك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کسی بھی چکر میں ترک نہیں کرتے تھے، راوی کہتے ہیں اور عبداللہ بن عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبد العزيز بن ابي رواد، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يدع ان يستلم الركن اليماني والحجر في كل طوفة قال وكان عبد الله بن عمر يفعله
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن عبيد الله، - يعني ابن عبد الله بن عتبة - عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم طاف في حجة الوداع على بعير يستلم الركن بمحجن
صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مکہ میں اطمینان ہوا تو آپ نے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے، اور میں آپ کو دیکھ رہی تھی۔
حدثنا مصرف بن عمرو اليامي، حدثنا يونس، - يعني ابن بكير - حدثنا ابن اسحاق، حدثني محمد بن جعفر بن الزبير، عن عبيد الله بن عبد الله بن ابي ثور، عن صفية بنت شيبة، قالت لما اطمان رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة عام الفتح طاف على بعير يستلم الركن بمحجن في يده . قالت وانا انظر اليه
ابوطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر بیٹھ کر بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا، آپ حجر اسود کا استلام اپنی چھڑی سے کرتے پھر اسے چوم لیتے، ( محمد بن رافع کی روایت میں اتنا زیادہ ہے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا و مروہ کی طرف نکلے اور اپنی سواری پر بیٹھ کر سعی کے سات چکر لگائے۔
حدثنا هارون بن عبد الله، ومحمد بن رافع، - المعنى - قالا حدثنا ابو عاصم، عن معروف، - يعني ابن خربوذ المكي - حدثنا ابو الطفيل، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يطوف بالبيت على راحلته يستلم الركن بمحجنه ثم يقبله زاد محمد بن رافع ثم خرج الى الصفا والمروة فطاف سبعا على راحلته
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیٹھ ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا، اور صفا و مروہ کی سعی کی، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلندی پر ہوں، اور لوگ آپ کو دیکھ سکیں، اور آپ سے پوچھ سکیں، کیونکہ لوگوں نے آپ کو گھیر رکھا تھا۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى، عن ابن جريج، اخبرني ابو الزبير، انه سمع جابر بن عبد الله، يقول طاف النبي صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع على راحلته بالبيت وبالصفا والمروة ليراه الناس وليشرف وليسالوه فان الناس غشوه