Loading...

Loading...
کتب
۳۲۵ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے آپ کو کچھ تکلیف تھی چنانچہ آپ نے اپنی سواری پر بیٹھ کر طواف کیا ۱؎، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس آتے تو چھڑی سے اس کا استلام کرتے، جب آپ طواف سے فارغ ہو گئے تو اونٹ کو بٹھا دیا اور ( طواف کی ) دو رکعتیں پڑھیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا خالد بن عبد الله، حدثنا يزيد بن ابي زياد، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قدم مكة وهو يشتكي فطاف على راحلته كلما اتى على الركن استلم الركن بمحجن فلما فرغ من طوافه اناخ فصلى ركعتين
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے طواف کر لو ۱؎ ، تو میں نے طواف کیا اور آپ خانہ کعبہ کے پہلو میں اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، اور «الطور * وكتاب مسطور» کی تلاوت فرما رہے تھے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن محمد بن عبد الرحمن بن نوفل، عن عروة بن الزبير، عن زينب بنت ابي سلمة، عن ام سلمة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها قالت شكوت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم اني اشتكي فقال " طوفي من وراء الناس وانت راكبة " . قالت فطفت ورسول الله صلى الله عليه وسلم حينيذ يصلي الى جنب البيت وهو يقرا ب { الطور * وكتاب مسطور}
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہری چادر میں اضطباع کر کے طواف کیا ۱؎۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن ابن جريج، عن ابن يعلى، عن يعلى، قال طاف النبي صلى الله عليه وسلم مضطبعا ببرد اخضر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا تو بیت اللہ کے طواف میں رمل ۱؎ کیا اور اپنی چادروں کو اپنی بغلوں کے نیچے سے نکال کر اپنے بائیں کندھوں پر ڈالا۔
حدثنا ابو سلمة، موسى حدثنا حماد، عن عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم واصحابه اعتمروا من الجعرانة فرملوا بالبيت وجعلوا ارديتهم تحت اباطهم قد قذفوها على عواتقهم اليسرى
ابوطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے طواف میں رمل کیا اور یہ سنت ہے، انہوں نے کہا: لوگوں نے سچ کہا اور جھوٹ اور غلط بھی، میں نے دریافت کیا: لوگوں نے کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ اور غلط؟ فرمایا: انہوں نے یہ سچ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل کیا لیکن یہ جھوٹ اور غلط کہا کہ رمل سنت ہے ( واقعہ یہ ہے ) کہ قریش نے حدیبیہ کے موقع پر کہا کہ محمد اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑ دو وہ اونٹ کی موت خود ہی مر جائیں گے، پھر جب ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شرط پر مصالحت کر لی کہ آپ آئندہ سال آ کر حج کریں اور مکہ میں تین دن قیام کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور مشرکین بھی قعیقعان کی طرف سے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: تین پھیروں میں رمل کرو ، اور یہ سنت نہیں ہے ۱؎، میں نے کہا: آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی اور یہ سنت ہے، وہ بولے: انہوں نے سچ کہا اور جھوٹ اور غلط بھی، میں نے دریافت کیا: کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ؟ وہ بولے: یہ سچ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان اپنے اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی لیکن یہ جھوٹ اور غلط ہے کہ یہ سنت ہے، دراصل لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نہ جا رہے تھے اور نہ سرک رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی تاکہ لوگ آپ کی بات سنیں اور لوگ آپ کو دیکھیں اور ان کے ہاتھ آپ تک نہ پہنچ سکیں۔
حدثنا ابو سلمة، موسى بن اسماعيل حدثنا حماد، حدثنا ابو عاصم الغنوي، عن ابي الطفيل، قال قلت لابن عباس يزعم قومك ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد رمل بالبيت وان ذلك سنة . قال صدقوا وكذبوا . قلت وما صدقوا وما كذبوا قال صدقوا قد رمل رسول الله صلى الله عليه وسلم وكذبوا ليس بسنة ان قريشا قالت زمن الحديبية دعوا محمدا واصحابه حتى يموتوا موت النغف . فلما صالحوه على ان يجييوا من العام المقبل فيقيموا بمكة ثلاثة ايام فقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم والمشركون من قبل قعيقعان فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لاصحابه " ارملوا بالبيت ثلاثا " . وليس بسنة . قلت يزعم قومك ان رسول الله صلى الله عليه وسلم طاف بين الصفا والمروة على بعيره وان ذلك سنة فقال صدقوا وكذبوا . قلت ما صدقوا وما كذبوا قال صدقوا قد طاف رسول الله صلى الله عليه وسلم بين الصفا والمروة على بعيره وكذبوا ليس بسنة كان الناس لا يدفعون عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا يصرفون عنه فطاف على بعير ليسمعوا كلامه وليروا مكانه ولا تناله ايديهم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے اور لوگوں کو مدینہ کے بخار نے کمزور کر دیا تھا، تو مشرکین نے کہا: تمہارے پاس وہ لوگ آ رہے ہیں جنہیں بخار نے ضعیف بنا دیا ہے، اور انہیں بڑی تباہی اٹھانی پڑی ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس گفتگو سے مطلع کر دیا، تو آپ نے حکم دیا کہ لوگ ( طواف کعبہ کے ) پہلے تین پھیروں میں رمل کریں اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام چال چلیں، تو جب مشرکین نے انہیں رمل کرتے دیکھا تو کہنے لگے: یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم لوگوں نے یہ کہا تھا کہ انہیں بخار نے کمزور کر دیا ہے، یہ لوگ تو ہم لوگوں سے زیادہ تندرست ہیں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تمام پھیروں میں رمل نہ کرنے کا حکم صرف ان پر نرمی اور شفقت کی وجہ سے دیا تھا ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن سعيد بن جبير، انه حدث عن ابن عباس، قال قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة وقد وهنتهم حمى يثرب فقال المشركون انه يقدم عليكم قوم قد وهنتهم الحمى ولقوا منها شرا فاطلع الله سبحانه نبيه صلى الله عليه وسلم على ما قالوه فامرهم ان يرملوا الاشواط الثلاثة وان يمشوا بين الركنين فلما راوهم رملوا قالوا هولاء الذين ذكرتم ان الحمى قد وهنتهم هولاء اجلد منا . قال ابن عباس ولم يامرهم ان يرملوا الاشواط الا ابقاء عليهم
اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: اب رمل اور مونڈھے کھولنے کی کیا ضرورت ہے؟ اب تو اللہ نے اسلام کو مضبوط کر دیا ہے اور کفر اور اہل کفر کا خاتمہ کر دیا ہے، اس کے باوجود ہم ان باتوں کو نہیں چھوڑیں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں کیا کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الملك بن عمرو، حدثنا هشام بن سعد، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، قال سمعت عمر بن الخطاب، يقول فيم الرملان اليوم والكشف عن المناكب، وقد اطا الله الاسلام ونفى الكفر واهله مع ذلك لا ندع شييا كنا نفعله على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیت اللہ کا طواف کرنا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا اور کنکریاں مارنا، یہ سب اللہ کی یاد قائم کرنے کے لیے مقرر کئے گئے ہیں ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا عبيد الله بن ابي زياد، عن القاسم، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما جعل الطواف بالبيت وبين الصفا والمروة ورمى الجمار لاقامة ذكر الله
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضطباع کیا، پھر استلام کیا، اور تکبیر بلند کی، پھر تین پھیروں میں رمل کیا، جب لوگ ( یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ) رکن یمانی پر پہنچتے اور قریش کی نظروں سے غائب ہو جاتے تو عام چال چلتے پھر جب ان کے سامنے آتے تو رمل کرتے، قریش کہتے تھے: گویا یہ ہرن ہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: تو یہ فعل سنت ہو گیا۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا يحيى بن سليم، عن ابن خثيم، عن ابي الطفيل، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم اضطبع فاستلم وكبر ثم رمل ثلاثة اطواف وكانوا اذا بلغوا الركن اليماني وتغيبوا من قريش مشوا ثم يطلعون عليهم يرملون تقول قريش كانهم الغزلان قال ابن عباس فكانت سنة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا تو بیت اللہ کے تین پھیروں میں رمل کیا اور چار میں عام چال چلی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن ابي الطفيل، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم واصحابه اعتمروا من الجعرانة فرملوا بالبيت ثلاثا ومشوا اربعا
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا، اور بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے۔
حدثنا ابو كامل، حدثنا سليم بن اخضر، حدثنا عبيد الله، عن نافع، ان ابن عمر، رمل من الحجر الى الحجر وذكر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم فعل ذلك
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں رکن ( یعنی رکن یمانی اور حجر اسود ) کے درمیان«ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» ( سورۃ البقرہ: ۹۶ ) کہتے سنا، اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا ابن جريج، عن يحيى بن عبيد، عن ابيه، عن عبد الله بن السايب، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ما بين الركنين { ربنا اتنا في الدنيا حسنة وفي الاخرة حسنة وقنا عذاب النار}
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے ہی سب سے پہلے جب حج و عمرہ کا طواف کرتے تو آپ تین پھیروں میں دوڑ کر چلتے اور باقی چار میں معمولی چال چلتے، پھر دو رکعتیں پڑھتے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا يعقوب، عن موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا طاف في الحج والعمرة اول ما يقدم فانه يسعى ثلاثة اطواف ويمشي اربعا ثم يصلي سجدتين
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس گھر ( کعبہ ) کا طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے کسی کو مت روکو، رات اور دن کے جس حصہ میں بھی وہ کرنا چاہے کرنے دو ۔ فضل کی روایت کے میں ہے: «إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يا بني عبد مناف لا تمنعوا أحدا» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی عبد مناف! کسی کو مت روکو
حدثنا ابن السرح، والفضل بن يعقوب، - وهذا لفظه - قالا حدثنا سفيان، عن ابي الزبير، عن عبد الله بن باباه، عن جبير بن مطعم، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تمنعوا احدا يطوف بهذا البيت ويصلي اى ساعة شاء من ليل او نهار " . قال الفضل ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يا بني عبد مناف لا تمنعوا احدا
ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ( جنہوں نے قران کیا تھا ) صفا اور مروہ کے درمیان صرف ایک ہی سعی کی اپنے پہلے طواف کے وقت۔
حدثنا ابن حنبل، حدثنا يحيى، عن ابن جريج، قال اخبرني ابو الزبير، قال سمعت جابر بن عبد الله، يقول لم يطف النبي صلى الله عليه وسلم ولا اصحابه بين الصفا والمروة الا طوافا واحدا طوافه الاول
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے جو آپ کے ساتھ تھے، اس وقت تک طواف نہیں کیا جب تک کہ ان لوگوں نے رمی جمار نہیں کر لیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا مالك بن انس، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، ان اصحاب، رسول الله صلى الله عليه وسلم الذين كانوا معه لم يطوفوا حتى رموا الجمرة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: بیت اللہ کا تمہارا طواف اور صفا و مروہ کی سعی حج و عمرہ دونوں کے لیے کافی ہے ۔ شافعی کہتے ہیں: سفیان نے اس روایت کو کبھی عطاء سے اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، اور کبھی عطاء سے مرسلاً روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا۔
حدثنا الربيع بن سليمان الموذن، اخبرني الشافعي، عن ابن عيينة، عن ابن ابي نجيح، عن عطاء، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لها " طوافك بالبيت وبين الصفا والمروة يكفيك لحجتك وعمرتك " . قال الشافعي كان سفيان ربما قال عن عطاء عن عايشة . وربما قال عن عطاء ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لعايشة رضى الله عنها
عبدالرحمٰن بن صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو میں نے کہا: میں اپنے کپڑے پہنوں گا ( میرا گھر راستے میں تھا ) پھر میں دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں، تو میں گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ کعبۃ اللہ کے اندر سے نکل چکے ہیں اور سب لوگ بیت اللہ کے دروازے سے لے کر حطیم تک کعبہ سے چمٹے ہوئے ہیں، انہوں نے اپنے رخسار بیت اللہ سے لگا دئیے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کے بیچ میں ہیں۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير بن عبد الحميد، عن يزيد بن ابي زياد، عن مجاهد، عن عبد الرحمن بن صفوان، قال لما فتح رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة قلت لالبسن ثيابي - وكانت داري على الطريق - فلانظرن كيف يصنع رسول الله صلى الله عليه وسلم فانطلقت فرايت النبي صلى الله عليه وسلم قد خرج من الكعبة هو واصحابه وقد استلموا البيت من الباب الى الحطيم وقد وضعوا خدودهم على البيت ورسول الله صلى الله عليه وسلم وسطهم
شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ساتھ طواف کیا، جب ہم لوگ کعبہ کے پیچھے آئے تو میں نے کہا: کیا آپ پناہ نہیں مانگیں گے؟ اس پر انہوں نے کہا: ہم پناہ مانگتے ہیں اللہ کی آگ سے، پھر وہ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا، اور حجر اسود اور کعبہ کے دروازے کے درمیان کھڑے رہے اور اپنا سینہ، اپنے دونوں ہاتھ اپنی دونوں ہتھیلیاں اس طرح رکھیں اور انہوں نے انہیں پوری طرح پھیلایا، پھر بولے: اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا المثنى بن الصباح، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، قال طفت مع عبد الله فلما جينا دبر الكعبة قلت الا تتعوذ . قال نعوذ بالله من النار . ثم مضى حتى استلم الحجر واقام بين الركن والباب فوضع صدره ووجهه وذراعيه وكفيه هكذا وبسطهما بسطا ثم قال هكذا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعله
عبداللہ بن سائب کہتے ہیں کہ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لے کر جاتے ( جب ان کی بینائی ختم ہو گئی ) اور ان کو اس تیسرے کونے کے پاس کھڑا کر دیتے جو اس رکن کعبہ کے قریب ہے جو حجر اسود کے قریب ہے اور دروازے سے ملا ہوا ہے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما ان سے کہتے: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ نماز پڑھتے تھے؟ وہ کہتے: ہاں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کھڑے ہوتے اور نماز پڑھتے
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا السايب بن عمر المخزومي، حدثني محمد بن عبد الله بن السايب، عن ابيه، انه كان يقود ابن عباس فيقيمه عند الشقة الثالثة مما يلي الركن الذي يلي الحجر مما يلي الباب فيقول له ابن عباس انبيت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي ها هنا فيقول " نعم " . فيقوم فيصلي