Loading...

Loading...
کتب
۳۲۵ احادیث
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا اور میں ان دنوں کم سن تھا: مجھے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «إن الصفا والمروة من شعائر الله» کے سلسلہ میں بتائیے، میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی ان کے درمیان سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: ہرگز نہیں، اگر ایسا ہوتا جیسا تم کہہ رہے ہو تو اللہ کا قول «فلا جناح عليه أن يطوف بهما» کے بجائے «فلا جناح عليه أن لا يطوف بهما» تو اس پر ان کی سعی نہ کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہوتا، یہ آیت دراصل انصار کے بارے میں اتری، وہ مناۃ ( یعنی زمانہ جاہلیت کا بت ) کے لیے حج کرتے تھے اور مناۃ قدید ۱؎ کے سامنے تھا، وہ لوگ صفا و مروہ کے بیچ سعی کرنا برا سمجھتے تھے، جب اسلام آیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «إن الصفا والمروة من شعائر الله» ۲؎ ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن هشام بن عروة، ح وحدثنا ابن السرح، حدثنا ابن وهب، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، انه قال قلت لعايشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم وانا يوميذ حديث السن ارايت قول الله تعالى { ان الصفا والمروة من شعاير الله } فما ارى على احد شييا ان لا يطوف بهما . قالت عايشة كلا لو كان كما تقول كانت فلا جناح عليه ان لا يطوف بهما انما انزلت هذه الاية في الانصار كانوا يهلون لمناة وكانت مناة حذو قديد وكانوا يتحرجون ان يطوفوا بين الصفا والمروة فلما جاء الاسلام سالوا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك فانزل الله تعالى { ان الصفا والمروة من شعاير الله}
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی، آپ کے ساتھ کچھ ایسے لوگ تھے جو آپ کو آڑ میں لیے ہوئے تھے، تو عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا خالد بن عبد الله، حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، عن عبد الله بن ابي اوفى، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اعتمر فطاف بالبيت وصلى خلف المقام ركعتين ومعه من يستره من الناس فقيل لعبد الله ادخل رسول الله صلى الله عليه وسلم الكعبة قال لا
اس سند سے بھی عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: پھر آپ صفا و مروہ آئے اور ان کے درمیان سات بار سعی کی، پھر اپنا سر منڈایا۔
حدثنا تميم بن المنتصر، اخبرنا اسحاق بن يوسف، اخبرنا شريك، عن اسماعيل بن ابي خالد، قال سمعت عبد الله بن ابي اوفى، بهذا الحديث زاد ثم اتى الصفا والمروة فسعى بينهما سبعا ثم حلق راسه
کثیر بن جمہان سے روایت ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! میں آپ کو ( عام چال چلتے ) دیکھتا ہوں جب کہ لوگ دوڑتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اگر میں عام چال چلتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے دیکھا ہے اور اگر میں دوڑ کر کرتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سعی ( دوڑتے ) کرتے دیکھا ہے اور میں بہت بوڑھا شخص ہوں۔
حدثنا النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا عطاء بن السايب، عن كثير بن جمهان، ان رجلا، قال لعبد الله بن عمر بين الصفا والمروة يا ابا عبد الرحمن اني اراك تمشي والناس يسعون قال ان امش فقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي وان اسع فقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يسعى وانا شيخ كبير
جعفر بن محمد اپنے والد محمد (محمد باقر) سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے جب ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے آنے والوں کے بارے میں ( ہر ایک سے ) پوچھا یہاں تک کہ جب مجھ تک پہنچے تو میں نے کہا: میں محمد بن علی بن حسین ہوں، تو انہوں نے اپنا ہاتھ میرے سر کی طرف بڑھایا، اور میرے کرتے کے اوپر کی گھنڈی کھولی، پھر نیچے کی کھولی، اور پھر اپنی ہتھیلی میرے دونوں چھاتیوں کے بیچ میں رکھی، میں ان دنوں جوان تھا، پھر کہا: خوش آمدید، اے میرے بھتیجے! جو چاہو پوچھو، میں نے ان سے سوالات کئے، وہ نابینا ہو چکے تھے اور نماز کا وقت آ گیا، تو وہ ایک کپڑا اوڑھ کر کھڑے ہو گئے ( یعنی ایک ایسا کپڑا جو دہرا کر کے سلا ہوا تھا ) ، جب اسے اپنے کندھے پر ڈالتے تو چھوٹا ہونے کی وجہ سے وہ کندھے سے گر جاتا، چنانچہ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی اور ان کی چادر ان کے بغل میں تپائی پر رکھی ہوئی تھی، میں نے عرض کیا: مجھے اللہ کے رسول کے حج کا حال بتائیے، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور نو کی گرہ بنائی پھر بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو سال تک ( مدینہ میں ) حج کئے بغیر رہے، پھر دسویں سال لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کو جانے والے ہیں، چنانچہ مدینہ میں لوگ کثرت سے آ گئے ۱؎، ہر ایک کی خواہش تھی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں حج کرے، اور آپ ہی کی طرح سارے کام انجام دے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ کے ساتھ ہم بھی نکلے، ہم لوگ ذی الحلیفہ پہنچے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے یہاں محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کی ولادت ہوئی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوایا: میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم غسل کر لو، اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لو، اور احرام پہن لو ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ذو الحلیفہ کی ) مسجد میں نماز پڑھی، پھر قصواء ( نامی اونٹنی ) پر سوار ہوئے، یہاں تک کہ جب بیداء میں اونٹنی کو لے کر سیدھی ہو گئی ( جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) تو میں نے تاحد نگاہ دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوار بھی ہیں پیدل بھی، اسی طرح معاملہ دائیں جانب تھا، اسی طرح بائیں جانب، اور اسی طرح آپ کے پیچھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان میں تھے ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہو رہا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا معنی سمجھتے تھے، چنانچہ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے ویسے ہی ہم بھی کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید پر مشتمل تلبیہ: «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» پکارا، اور لوگ وہی تلبیہ پکارتے رہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پکارا کرتے تھے ۲؎، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس میں سے کسی بھی لفظ سے منع نہیں کیا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا تلبیہ ہی برابر کہتے رہے۔ ہماری نیت صرف حج کی تھی، ہمیں پتہ نہیں تھا کہ عمرہ بھی کرنا پڑے گا ۳؎، جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا پھر تین پھیروں میں رمل کیا، اور چار پھیروں میں عام چال چلے، پھر مقام ابراہیم کے پاس آئے اور یہ آیت پڑھی: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ۴؎، اور مقام ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ کے بیچ میں رکھا۔ ( محمد بن جعفر ) کہتے ہیں: میرے والد کہتے تھے ( ابن نفیل اور عثمان کی روایت میں ہے ) کہ میں یہی جانتا ہوں کہ جابر رضی اللہ عنہ نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے ( اور سلیمان کی روایت میں ہے ) میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے کہا: رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں رکعتوں میں «قل هو الله أحد» اور «قل يا أيها الكافرون» پڑھا ۵؎، پھر بیت اللہ کی طرف لوٹے اور حجر اسود کا استلام کیا، اس کے بعد ( مسجد کے ) دروازے سے صفا کی طرف نکل گئے جب صفا سے قریب ہوئے تو «إن الصفا والمروة من شعائر الله» پڑھا اور فرمایا: ہم بھی وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا سے ابتداء کی اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھا، تو اللہ کی بڑائی اور وحدانیت بیان کی اور فرمایا: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شىء قدير لا إله إلا الله وحده أنجز وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده» پھر اس کے درمیان میں دعا مانگی اور اس طرح تین بار کہا، پھر مروہ کی طرف اتر کر آئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم ڈھلکنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطن وادی ۶؎ میں رمل کیا یہاں تک کہ جب چڑھنے لگے تو عام چال چلے، یہاں تک کہ مروہ آئے تو وہاں بھی وہی کیا جو صفا پہ کیا تھا، جب طواف کا آخری پھیرا مروہ پہ ختم ہوا تو فرمایا: اگر مجھے پہلے سے معلوم ہوتا جو کہ بعد میں معلوم ہوا تو میں ہدی نہ لاتا اور میں اسے عمرہ بنا دیتا، لہٰذا تم میں سے جس کے ساتھ ہدی نہ ہو تو وہ حلال ہو جائے، اور اسے عمرہ بنا لے ۔ سبھی لوگ حلال ہو گئے اور بال کتروا لیے سوائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی تھی۔ پھر سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا یہ ( عمرہ ) صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ ہمیش کے لیے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے میں داخل کیں اور فرمایا: عمرہ حج میں اسی طرح داخل ہو گیا ، اسے دو مرتبہ فرمایا: ( صرف اسی سال کے لیے ) نہیں، بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لیے ( صرف اسی سال کے لیے ) نہیں، بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لیے ، اور علی رضی اللہ عنہ یمن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے اونٹ لے کر آئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ان لوگوں میں سے پایا جنہوں نے احرام کھول ڈالا تھا، وہ رنگین کپڑے زیب تن کئے ہوئے تھیں، اور سرمہ لگا رکھا تھا، علی رضی اللہ عنہ کو یہ ناگوار لگا، وہ کہنے لگے: تمہیں کس نے اس کا حکم دیا تھا؟ وہ بولیں: میرے والد نے۔ علی رضی اللہ عنہ ( اپنے ایام خلافت میں ) عراق میں کہا کرتے تھے کہ میں ان کاموں سے جن کو فاطمہ نے کر رکھا تھا غصہ میں بھرا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پوچھنے کے لیے آیا جو فاطمہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بتائی تھی، اور جس پر میں نے ناگواری کا اظہار کیا تھا، تو انہوں نے کہا کہ مجھے میرے والد نے اس کا حکم دیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا، اس نے سچ کہا، تم نے حج کی نیت کرتے وقت کیا کہا تھا؟ ، عرض کیا: میں نے یوں کہا تھا: اے اللہ! میں اسی کا احرام باندھتا ہوں جس کا تیرے رسول نے باندھا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ تو ہدی ہے اب تم بھی احرام نہ کھولنا ۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہدی کے جانوروں کی مجموعی تعداد جو علی رضی اللہ عنہ یمن سے لے کر آئے تھے اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے لے کر آئے تھے کل سو ( ۱۰۰ ) تھی، چنانچہ تمام لوگوں نے احرام کھول دیا، اور بال کتروائے سوائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی تھی۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب یوم الترویہ ( ذو الحجہ کا آٹھواں دن ) آیا تو سب لوگوں نے منیٰ کا رخ کیا اور حج کا احرام باندھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سوار ہوئے، اور منیٰ پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں ادا کیں۔ پھر کچھ دیر ٹھہرے یہاں تک کہ سورج نکل آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے بالوں سے بنا ہوا ایک خیمہ کا حکم دیا، تو وادی نمرہ میں خیمہ لگایا گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے، قریش کو اس بات میں شک نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ میں مشعر حرام ۷؎ کے پاس ٹھہریں گے جیسے جاہلیت میں قریش کیا کرتے تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے یہاں تک کہ عرفات جا پہنچے ۸؎ تو دیکھا کہ خیمہ نمرہ میں لگا دیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اترے یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو قصواء کو لانے کا حکم فرمایا، اس پر کجاوہ باندھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے یہاں تک کہ وادی کے اندر آئے، تو لوگوں کو خطاب کیا اور فرمایا: تمہاری جانیں اور تمہارے مال تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارا یہ دن، تمہارے اس مہینے، اور تمہارے اس شہر میں۔ سنو! جاہلیت کے زمانے کی ہر بات میرے قدموں تلے پامال ہو گئی ( یعنی لغو اور باطل ہو گئی اور اس کا اعتبار نہ رہا ) جاہلیت کے سارے خون معاف ہیں اور سب سے پہلا خون جسے میں معاف کرتا ہوں وہ ابن ربیعہ یا ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کا ہے- وہ بنی سعد میں دودھ پی رہا تھا- اسے ہذیل کے لوگوں نے قتل کر دیا تھا ( وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا زاد بھائی تھا ) اور جاہلیت کے تمام سود ختم ہیں سب سے پہلا سود جسے میں ختم کرتا ہوں وہ اپنا سود ہے یعنی عباس بن عبدالمطلب کا کیونکہ سود سبھی ختم ہیں خواہ وہ کسی کے بھی ہوں۔ اور عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، اس لیے کہ تم نے انہیں اللہ کی امان کے ساتھ اپنے قبضہ میں لیا ہے، اور تم نے اللہ کے حکم سے ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے، ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر اس شخص کو نہ آنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو، اب اگر وہ ایسا کریں تو انہیں بس اس قدر مارو کہ ہڈی نہ ٹوٹنے پائے، اور انہیں تم سے دستور کے مطابق کھانا لینے اور کپڑا لینے کا حق ہے۔ میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوطی سے پکڑے رہو گے تو اس کے بعد کبھی گمراہ نہ ہو گے، وہ اللہ کی کتاب ہے۔ ( اچھا بتاؤ ) تم سے قیامت کے روز میرے بارے میں سوال کیا جائے گا تو تمہارا جواب کیا ہو گا؟ لوگوں نے کہا: ہم گواہی دیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا حکم پہنچا دیا، حق ادا کر دیا، اور نصیحت کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگشت شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا، پھر لوگوں کی طرف جھکایا، اور فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو گواہ رہ ۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی اور انہوں نے پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی یہاں تک کہ میدان عرفات آئے تو اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ صخرات ( بڑے پتھروں ) کی جانب کیا، اور حبل المشاۃ کو اپنے سامنے کیا، اور قبلہ رخ ہوئے، اور شام تک ٹھہرے رہے یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا اور سورج کی ٹکیہ غائب ہونے کے بعد زردی کچھ کم ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا، پھر عرفات سے لوٹے، قصواء کی باگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھینچ کر رکھی تھی یہاں تک کہ اس کا سر پالان کے سر سے چھو جایا کرتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے داہنے ہاتھ کے اشارہ سے لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ: لوگو! اطمینان سے چلو!، لوگو! اطمینان سے چلو! ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بلندی پر آتے تو باگ ڈھیلی چھوڑ دیتے تاکہ وہ چڑھ سکے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے تو مغرب اور عشاء ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ ملا کر پڑھیں۔ عثمان کہتے ہیں: دونوں کے بیچ میں کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی پھر سارے راوی متفق ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھی یہاں تک کہ صبح خوب اچھی طرح روشن ہو گئی، سلیمان کہتے ہیں ( یہ نماز ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اذان اور ایک اقامت سے ( پڑھی ) ، پھر سارے راوی متفق ہیں ) ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قصواء پر سوار ہوئے یہاں تک کہ مشعر حرام کے پاس آئے، اس پر چڑھے، ( عثمان اور سلیمان کہتے ہیں ) پھر قبلہ رخ ہوئے اور اللہ کی تحمید، تکبیر اور تہلیل کی، ( عثمان نے یہ اضافہ کیا کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید بیان کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ خوب روشنی ہو گئی اس کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چل پڑے، اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سوار کر لیا، وہ نہایت عمدہ بال والے گورے خوبصورت شخص تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے تو آپ کا گزر ایسی عورتوں پر ہوا جو ہودجوں میں بیٹھی ہوئی جا رہی تھیں، فضل ان کی طرف دیکھنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ فضل کے چہرے پر رکھ دیا تو فضل نے اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنا ہاتھ دوسری جانب موڑ دیا تو فضل نے اپنا رخ اور جانب موڑ لیا اور دیکھنے لگے، یہاں تک کہ جب وادی محسر میں آئے تو اپنی سواری کو ذرا حرکت دی ( یعنی ذرا تیز چلایا ) پھر درمیانی راستے ۹؎ سے چلے جو جمرہ عقبہ پہنچاتا ہے یہاں تک کہ جب اس جمرے کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے تو اسے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری پر تکبیر کہی، کنکری اتنی بڑی تھی کہ انگلی میں رکھ کر پھینک رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی کے اندر سے کنکریاں ماریں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نحر کرنے کی جگہ کو آئے، اور اپنے ہاتھ سے ( ۶۳ ) اونٹنیاں نحر کیں، اور پھر علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو باقی انہوں نے نحر کیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی اپنے ہدی میں شریک کر لیا ( یعنی اپنے ہدی کے اونٹوں میں سے کچھ اونٹ انہیں بھی نحر کرنے کے لیے دے دیئے ) پھر ہر اونٹ میں سے گوشت کا ایک ایک ٹکڑا لینے کا حکم دیا، تو وہ سب ٹکڑے ایک دیگ میں رکھ کر پکائے گئے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور علی رضی اللہ عنہ ) دونوں نے ان کا گوشت کھایا اور ان کا شوربہ پیا، ( سلیمان کہتے ہیں ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف چلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں ۱۰؎ ظہر پڑھی۔ پھر بنی عبدالمطلب کے پاس آئے، وہ لوگ آب زمزم پلا رہے تھے فرمایا: اے بنی عبدالمطلب! پانی کھینچو، اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمہارے سقایہ پر لوگ تم پر غالب آ جائیں گے ۱۱؎ تو میں بھی تمہارے ساتھ پانی کھینچتا، ان لوگوں نے ایک ڈول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا۔
جعفر بن محمد اپنے والد محمد باقر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں ظہر اور عصر ایک اذان سے پڑھی، ان کے درمیان کوئی نفل نہیں پڑھی، البتہ اقامت دو تھیں، اور مغرب و عشاء جمع ( مزدلفہ ) میں ایک اذان اور دو اقامتوں سے پڑھی، ان کے درمیان بھی کوئی نفل نہیں پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حاتم بن اسماعیل نے ایک لمبی حدیث میں مسنداً بیان کیا ہے اور حاتم بن اسماعیل کی طرح اسے محمد بن علی الجعفی نے جعفر سے، اور جعفر نے اپنے والد محمد سے، محمد نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ نے مغرب اور عشاء ایک اذان اور ایک اقامت سے پڑھی ۱؎ ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا سليمان يعني ابن بلال، ح وحدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، - المعنى واحد - عن جعفر بن محمد، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى الظهر والعصر باذان واحد بعرفة ولم يسبح بينهما واقامتين وصلى المغرب والعشاء بجمع باذان واحد واقامتين ولم يسبح بينهما . قال ابو داود هذا الحديث اسنده حاتم بن اسماعيل في الحديث الطويل ووافق حاتم بن اسماعيل على اسناده محمد بن علي الجعفي عن جعفر عن ابيه عن جابر الا انه قال فصلى المغرب والعتمة باذان واقامة
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تو یہاں ( منیٰ میں ) نحر کیا ہے اور منیٰ پورا کا پورا نحر کرنے کی جگہ ہے ، اور عرفات میں وقوف کیا تو فرمایا: میں نے یہاں وقوف کیا ہے لیکن پورا میدان عرفات وقوف ( ٹھہرنے ) کی جگہ ہے ، اور مزدلفہ میں وقوف تو فرمایا: میں یہاں ٹھہرا ہوں لیکن پورا مزدلفہ وقوف ( ٹھہرنے ) کی جگہ ہے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا جعفر، حدثنا ابي، عن جابر، قال ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم " قد نحرت ها هنا ومنى كلها منحر " . ووقف بعرفة فقال " قد وقفت ها هنا وعرفة كلها موقف " . ووقف في المزدلفة فقال " قد وقفت ها هنا ومزدلفة كلها موقف
اس سند سے بھی جعفر سے یہی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: «فانحروا في رحالكم» کہ تم لوگ اپنی قیام گاہوں میں نحر کرو۔
حدثنا مسدد، حدثنا حفص بن غياث، عن جعفر، باسناده زاد " فانحروا في رحالكم
اس سند سے بھی جابر رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں یعقوب نے «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھنے کے بعد یہ ادراج کیا ہے کہ آپ نے ان دونوں رکعتوں میں توحید ( یعنی «قل هو الله أحد» ) اور «قل يا أيها الكافرون» پڑھیں ، اور اس میں یہ ادراج بھی کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں کہا یعقوب کہتے ہیں کہ میرے والد نے فرمایا: جابر رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول ذکر نہیں کیا: ( میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فاطمہ رضی اللہ عنہا کے خلاف غصہ دلانے چلا ) ، اور یعقوب نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ذکر کیا، میرے والد جعفر کا کہنا ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے اس حرف یعنی «فذهبت محرشا» کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا يحيى بن سعيد القطان، عن جعفر، حدثني ابي، عن جابر، فذكر هذا الحديث وادرج في الحديث عند قوله { واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى } قال فقرا فيها بالتوحيد و { قل يا ايها الكافرون } وقال فيه قال علي - رضى الله عنه - بالكوفة قال ابي هذا الحرف لم يذكره جابر فذهبت محرشا . وذكر قصة فاطمة رضى الله عنها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قریش اور ان کے ہم مذہب لوگ مزدلفہ میں ہی ٹھہرتے تھے اور لوگ انہیں حمس یعنی بہادر و شجاع کہتے تھے جب کہ سارے عرب کے لوگ عرفات میں ٹھہرتے تھے، تو جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات آنے اور وہاں ٹھہرنے پھر وہاں سے مزدلفہ لوٹنے کا حکم دیا اور یہی حکم اس آیت میں ہے: «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» ( سورۃ البقرہ: ۱۹۹ ) تم لوگ وہاں سے لوٹو جہاں سے سبھی لوگ لوٹتے ہیں – یعنی عرفات سے ۔
حدثنا هناد، عن ابي معاوية، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كانت قريش ومن دان دينها يقفون بالمزدلفة وكانوا يسمون الحمس وكان ساير العرب يقفون بعرفة قالت فلما جاء الاسلام امر الله تعالى نبيه صلى الله عليه وسلم ان ياتي عرفات فيقف بها ثم يفيض منها فذلك قوله تعالى { ثم افيضوا من حيث افاض الناس}
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) کو ظہر اور یوم عرفہ ( نویں ذی الحجہ ) کو فجر منیٰ میں پڑھی
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا الاحوص بن جواب الضبي، حدثنا عمار بن رزيق، عن سليمان الاعمش، عن الحكم، عن مقسم، عن ابن عباس، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر يوم التروية والفجر يوم عرفة بمنى
عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور کہا: مجھے آپ وہ بتائیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کو یاد ہو کہ آپ نے ظہر یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) کو کہاں پڑھی؟ انہوں نے کہا: منیٰ میں، میں نے عرض کیا تو لوٹنے کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کہاں پڑھی؟ فرمایا: ابطح میں، پھر کہا: تم وہی کرو جو تمہارے امراء کریں ۱؎۔
حدثنا احمد بن ابراهيم، حدثنا اسحاق الازرق، عن سفيان، عن عبد العزيز بن رفيع، قال سالت انس بن مالك قلت اخبرني بشىء، عقلته عن رسول الله صلى الله عليه وسلم اين صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر يوم التروية فقال بمنى . قلت فاين صلى العصر يوم النفر قال بالابطح ثم قال افعل كما يفعل امراوك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم عرفہ ( نویں ذی الحجہ ) کو فجر پڑھ کر منیٰ سے چلے یہاں تک کہ عرفات آئے تو نمرہ میں اترے اور نمرہ عرفات میں امام کے اترنے کی جگہ ہے، جب ظہر کا وقت آنے کو ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نمرہ سے ) عین دوپہر میں چلے اور ظہر اور عصر کو جمع کیا، پھر لوگوں میں خطبہ دیا ۱؎ پھر چلے اور عرفات میں موقف میں وقوف کیا۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يعقوب، حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، حدثني نافع، عن ابن عمر، قال غدا رسول الله صلى الله عليه وسلم من منى حين صلى الصبح صبيحة يوم عرفة حتى اتى عرفة فنزل بنمرة وهي منزل الامام الذي ينزل به بعرفة حتى اذا كان عند صلاة الظهر راح رسول الله صلى الله عليه وسلم مهجرا فجمع بين الظهر والعصر ثم خطب الناس ثم راح فوقف على الموقف من عرفة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب حجاج نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو قتل کیا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ( پوچھنے کے لیے آدمی ) بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج ( یعنی عرفہ ) کے دن ( نماز اور خطبہ کے لیے ) کس وقت نکلتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا جب یہ وقت آئے گا تو ہم خود چلیں گے، پھر جب ابن عمر رضی اللہ عنہما نے چلنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے کہا: ابھی سورج ڈھلا نہیں، انہوں نے پوچھا: کیا اب ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا، پھر جب لوگوں نے کہا کہ سورج ڈھل گیا تو وہ چلے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا وكيع، حدثنا نافع بن عمر، عن سعيد بن حسان، عن ابن عمر، قال لما ان قتل الحجاج ابن الزبير، ارسل الى ابن عمر اية ساعة كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يروح في هذا اليوم قال اذا كان ذلك رحنا . فلما اراد ابن عمر ان يروح قالوا لم تزغ الشمس . قال ازاغت قالوا لم تزغ - او زاغت - قال فلما قالوا قد زاغت . ارتحل
بنی ضمرہ کے ایک آدمی اپنے والد یا اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں منبر پر ( خطبہ دیتے ) دیکھا۔
حدثنا هناد، عن ابن ابي زايدة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن زيد بن اسلم، عن رجل، من بني ضمرة عن ابيه، او عمه قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على المنبر بعرفة
نبیط بن شریط رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں سرخ اونٹ پر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الله بن داود، عن سلمة بن نبيط، عن رجل، من الحى عن ابيه، نبيط انه راى النبي صلى الله عليه وسلم واقفا بعرفة على بعير احمر يخطب
خالد بن عداء بن ہوذہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں عرفہ کے دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹ پر دونوں رکابوں کے درمیان کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ ۱؎ دیتے دیکھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن العلاء نے وکیع سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ہناد نے
حدثنا هناد بن السري، وعثمان بن ابي شيبة، قالا حدثنا وكيع، عن عبد المجيد، قال حدثني العداء بن خالد بن هوذة، - قال هناد عن عبد المجيد ابي عمرو، - قال حدثني خالد بن العداء بن هوذة، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب الناس يوم عرفة على بعير قايم في الركابين . قال ابو داود رواه ابن العلاء عن وكيع كما قال هناد
اس سند سے بھی عداء بن خالد سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
حدثنا عباس بن عبد العظيم، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا عبد المجيد ابو عمرو، عن العداء، بمعناه
یزید بن شیبان کہتے ہیں ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے ہم عرفات میں تھے ( وہ ایسی جگہ تھی جسے عمرو ( عمرو بن عبداللہ ) امام سے دور سمجھتے تھے ) ، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا قاصد ہوں، آپ کا فرمان ہے کہ اپنے مشاعر ( نشانیوں کی جگہوں ) پر ٹھہرو ۱؎ اس لیے کہ تم اپنے والد ابراہیم کے وارث ہو
حدثنا ابن نفيل، حدثنا سفيان، عن عمرو، - يعني ابن دينار - عن عمرو بن عبد الله بن صفوان، عن يزيد بن شيبان، قال اتانا ابن مربع الانصاري ونحن بعرفة في مكان يباعده عمرو عن الامام فقال اما اني رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم اليكم يقول لكم " قفوا على مشاعركم فانكم على ارث من ارث ابيكم ابراهيم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے، آپ پر اطمینان اور سکینت طاری تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف اسامہ رضی اللہ عنہ تھے، آپ نے فرمایا: لوگو! اطمینان و سکینت کو لازم پکڑو اس لیے کہ گھوڑوں اور اونٹوں کا دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے انہیں ( گھوڑوں اور اونٹوں کو ) ہاتھ اٹھائے دوڑتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمع ( مزدلفہ ) آئے، ( وہب کی روایت میں اتنا زیادہ ہے ) : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو بٹھایا اور فرمایا: لوگو! گھوڑوں اور اونٹوں کو دوڑانا نیکی نہیں ہے تم اطمینان اور سکینت کو لازم پکڑو ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: پھر میں نے کسی اونٹ اور گھوڑے کو اپنے ہاتھ اٹھائے ( دوڑتے ) نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ آئے۔
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان، عن الاعمش، ح وحدثنا وهب بن بيان، حدثنا عبيدة، حدثنا سليمان الاعمش، - المعنى - عن الحكم، عن مقسم، عن ابن عباس، قال افاض رسول الله صلى الله عليه وسلم من عرفة وعليه السكينة ورديفه اسامة وقال " ايها الناس عليكم بالسكينة فان البر ليس بايجاف الخيل والابل " . قال فما رايتها رافعة يديها عادية حتى اتى جمعا . زاد وهب ثم اردف الفضل بن العباس . وقال " ايها الناس ان البر ليس بايجاف الخيل والابل فعليكم بالسكينة " . قال فما رايتها رافعة يديها حتى اتى منى
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، وعثمان بن ابي شيبة، وهشام بن عمار، وسليمان بن عبد الرحمن الدمشقيان، - وربما زاد بعضهم على بعض الكلمة والشىء - قالوا حدثنا حاتم بن اسماعيل حدثنا جعفر بن محمد عن ابيه قال دخلنا على جابر بن عبد الله فلما انتهينا اليه سال عن القوم حتى انتهى الى فقلت انا محمد بن علي بن حسين . فاهوى بيده الى راسي فنزع زري الاعلى ثم نزع زري الاسفل ثم وضع كفه بين ثديى وانا يوميذ غلام شاب . فقال مرحبا بك واهلا يا ابن اخي سل عما شيت . فسالته وهو اعمى وجاء وقت الصلاة فقام في نساجة ملتحفا بها يعني ثوبا ملفقا كلما وضعها على منكبه رجع طرفاها اليه من صغرها فصلى بنا ورداوه الى جنبه على المشجب . فقلت اخبرني عن حجة رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال بيده فعقد تسعا . ثم قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مكث تسع سنين لم يحج ثم اذن في الناس في العاشرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حاج فقدم المدينة بشر كثير كلهم يلتمس ان ياتم برسول الله صلى الله عليه وسلم ويعمل بمثل عمله فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم وخرجنا معه حتى اتينا ذا الحليفة فولدت اسماء بنت عميس محمد بن ابي بكر فارسلت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف اصنع قال " اغتسلي واستذفري بثوب واحرمي " . فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد ثم ركب القصواء حتى اذا استوت به ناقته على البيداء . قال جابر نظرت الى مد بصري من بين يديه من راكب وماش وعن يمينه مثل ذلك وعن يساره مثل ذلك ومن خلفه مثل ذلك ورسول الله صلى الله عليه وسلم بين اظهرنا وعليه ينزل القران وهو يعلم تاويله فما عمل به من شىء عملنا به فاهل رسول الله صلى الله عليه وسلم بالتوحيد " لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك ان الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك " . واهل الناس بهذا الذي يهلون به فلم يرد عليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم شييا منه ولزم رسول الله صلى الله عليه وسلم تلبيته . قال جابر لسنا ننوي الا الحج لسنا نعرف العمرة حتى اذا اتينا البيت معه استلم الركن فرمل ثلاثا ومشى اربعا ثم تقدم الى مقام ابراهيم فقرا { واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى } فجعل المقام بينه وبين البيت قال فكان ابي يقول قال ابن نفيل وعثمان ولا اعلمه ذكره الا عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال سليمان ولا اعلمه الا قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا في الركعتين ب { قل هو الله احد } وب { قل يا ايها الكافرون } ثم رجع الى البيت فاستلم الركن ثم خرج من الباب الى الصفا فلما دنا من الصفا قرا { ان الصفا والمروة من شعاير الله } " نبدا بما بدا الله به " . فبدا بالصفا فرقي عليه حتى راى البيت فكبر الله ووحده وقال " لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شىء قدير لا اله الا الله وحده انجز وعده ونصر عبده وهزم الاحزاب وحده " . ثم دعا بين ذلك وقال مثل هذا ثلاث مرات ثم نزل الى المروة حتى اذا انصبت قدماه رمل في بطن الوادي حتى اذا صعد مشى حتى اتى المروة فصنع على المروة مثل ما صنع على الصفا حتى اذا كان اخر الطواف على المروة قال " اني لو استقبلت من امري ما استدبرت لم اسق الهدى ولجعلتها عمرة فمن كان منكم ليس معه هدى فليحلل وليجعلها عمرة " . فحل الناس كلهم وقصروا الا النبي صلى الله عليه وسلم ومن كان معه هدى فقام سراقة بن جعشم فقال يا رسول الله العامنا هذا ام للابد فشبك رسول الله صلى الله عليه وسلم اصابعه في الاخرى ثم قال " دخلت العمرة في الحج " . هكذا مرتين " لا بل لابد ابد لا بل لابد ابد " . قال وقدم علي - رضى الله عنه - من اليمن ببدن النبي صلى الله عليه وسلم فوجد فاطمة - رضى الله عنها - ممن حل ولبست ثيابا صبيغا واكتحلت فانكر علي ذلك عليها وقال من امرك بهذا فقالت ابي . فكان علي يقول بالعراق ذهبت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم محرشا على فاطمة في الامر الذي صنعته مستفتيا لرسول الله صلى الله عليه وسلم في الذي ذكرت عنه فاخبرته اني انكرت ذلك عليها فقالت ان ابي امرني بهذا . فقال " صدقت صدقت ماذا قلت حين فرضت الحج " . قال قلت اللهم اني اهل بما اهل به رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال " فان معي الهدى فلا تحلل " . قال وكان جماعة الهدى الذي قدم به علي من اليمن والذي اتى به النبي صلى الله عليه وسلم من المدينة ماية فحل الناس كلهم وقصروا الا النبي صلى الله عليه وسلم ومن كان معه هدى قال فلما كان يوم التروية ووجهوا الى منى اهلوا بالحج فركب رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى بمنى الظهر والعصر والمغرب والعشاء والصبح ثم مكث قليلا حتى طلعت الشمس وامر بقبة له من شعر فضربت بنمرة فسار رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا تشك قريش ان رسول الله صلى الله عليه وسلم واقف عند المشعر الحرام بالمزدلفة كما كانت قريش تصنع في الجاهلية فاجاز رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اتى عرفة فوجد القبة قد ضربت له بنمرة فنزل بها حتى اذا زاغت الشمس امر بالقصواء فرحلت له فركب حتى اتى بطن الوادي فخطب الناس فقال " ان دماءكم واموالكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا الا ان كل شىء من امر الجاهلية تحت قدمى موضوع ودماء الجاهلية موضوعة واول دم اضعه دماونا دم " . قال عثمان " دم ابن ربيعة " . وقال سليمان " دم ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب " . وقال بعض هولاء كان مسترضعا في بني سعد فقتلته هذيل " وربا الجاهلية موضوع واول ربا اضعه ربانا ربا عباس بن عبد المطلب فانه موضوع كله اتقوا الله في النساء فانكم اخذتموهن بامانة الله واستحللتم فروجهن بكلمة الله وان لكم عليهن ان لا يوطين فرشكم احدا تكرهونه فان فعلن فاضربوهن ضربا غير مبرح ولهن عليكم رزقهن وكسوتهن بالمعروف واني قد تركت فيكم ما لن تضلوا بعده ان اعتصمتم به كتاب الله وانتم مسيولون عني فما انتم قايلون " . قالوا نشهد انك قد بلغت واديت ونصحت . ثم قال باصبعه السبابة يرفعها الى السماء وينكبها الى الناس " اللهم اشهد اللهم اشهد اللهم اشهد " . ثم اذن بلال ثم اقام فصلى الظهر ثم اقام فصلى العصر ولم يصل بينهما شييا ثم ركب القصواء حتى اتى الموقف فجعل بطن ناقته القصواء الى الصخرات وجعل حبل المشاة بين يديه فاستقبل القبلة فلم يزل واقفا حتى غربت الشمس وذهبت الصفرة قليلا حين غاب القرص واردف اسامة خلفه فدفع رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد شنق للقصواء الزمام حتى ان راسها ليصيب مورك رحله وهو يقول بيده اليمنى " السكينة ايها الناس السكينة ايها الناس " . كلما اتى حبلا من الحبال ارخى لها قليلا حتى تصعد حتى اتى المزدلفة فجمع بين المغرب والعشاء باذان واحد واقامتين - قال عثمان ولم يسبح بينهما شييا ثم اتفقوا - ثم اضطجع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى طلع الفجر فصلى الفجر حين تبين له الصبح - قال سليمان بنداء واقامة ثم اتفقوا - ثم ركب القصواء حتى اتى المشعر الحرام فرقي عليه قال عثمان وسليمان فاستقبل القبلة فحمد الله وكبره وهلله زاد عثمان ووحده فلم يزل واقفا حتى اسفر جدا ثم دفع رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل ان تطلع الشمس واردف الفضل بن عباس وكان رجلا حسن الشعر ابيض وسيما فلما دفع رسول الله صلى الله عليه وسلم مر الظعن يجرين فطفق الفضل ينظر اليهن فوضع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده على وجه الفضل وصرف الفضل وجهه الى الشق الاخر وحول رسول الله صلى الله عليه وسلم يده الى الشق الاخر وصرف الفضل وجهه الى الشق الاخر ينظر حتى اتى محسرا فحرك قليلا ثم سلك الطريق الوسطى الذي يخرجك الى الجمرة الكبرى حتى اتى الجمرة التي عند الشجرة فرماها بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة منها بمثل حصى الخذف فرمى من بطن الوادي ثم انصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم الى المنحر فنحر بيده ثلاثا وستين وامر عليا فنحر ما غبر - يقول ما بقي - واشركه في هديه ثم امر من كل بدنة ببضعة فجعلت في قدر فطبخت فاكلا من لحمها وشربا من مرقها قال سليمان ثم ركب ثم افاض رسول الله صلى الله عليه وسلم الى البيت فصلى بمكة الظهر ثم اتى بني عبد المطلب وهم يسقون على زمزم فقال " انزعوا بني عبد المطلب فلولا ان يغلبكم الناس على سقايتكم لنزعت معكم " . فناولوه دلوا فشرب منه