Loading...

Loading...
کتب
۳۲۵ احادیث
کریب کہتے ہیں کہ میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا: جس شام کو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہو کر آئے تھے آپ نے کیا کیا کیا؟ وہ بولے: ہم اس گھاٹی میں آئے جہاں لوگ اپنے اونٹ رات کو قیام کے لیے بٹھاتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی بیٹھا دی، پھر پیشاب کیا، ( زہیر نے یہ نہیں کہا کہ پانی بہایا ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگایا اور وضو کیا، جس میں زیادہ مبالغہ نہیں کیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نماز، ( پڑھی جائے ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز آگے چل کر ( پڑھیں گے ) ۔ اسامہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے یہاں تک کہ مزدلفہ آئے، وہاں آپ نے مغرب پڑھی پھر لوگوں نے اپنی سواریاں اپنے ٹھکانوں پر بٹھائیں یہاں تک کہ عشاء کی اقامت ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی، پھر لوگوں نے اونٹوں سے اپنے بوجھ اتارے، ( محمد کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ کریب کہتے ہیں ) پھر میں نے پوچھا: صبح ہوئی تو آپ لوگوں نے کیسے کیا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سوار ہوئے، اور میں پیدل قریش کے لوگوں کے ساتھ ساتھ چلا۔
حدثنا احمد بن عبد الله بن يونس، حدثنا زهير، ح وحدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، - وهذا لفظ حديث زهير - حدثنا ابراهيم بن عقبة، اخبرني كريب، انه سال اسامة بن زيد قلت اخبرني كيف، فعلتم - او صنعتم - عشية ردفت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال جينا الشعب الذي ينيخ الناس فيه للمعرس فاناخ رسول الله صلى الله عليه وسلم ناقته ثم بال - وما قال زهير اهراق الماء - ثم دعا بالوضوء فتوضا وضوءا ليس بالبالغ جدا قلت يا رسول الله الصلاة . قال " الصلاة امامك " . قال فركب حتى قدمنا المزدلفة فاقام المغرب ثم اناخ الناس في منازلهم ولم يحلوا حتى اقام العشاء وصلى ثم حل الناس . زاد محمد في حديثه قال قلت كيف فعلتم حين اصبحتم قال ردفه الفضل وانطلقت انا في سباق قريش على رجلى
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر ( ارکان عرفات سے فراغت کے بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو پیچھے سوار کر لیا اور درمیانی چال سے اونٹ ہانکنے لگے، لوگ دائیں اور بائیں اپنے اونٹوں کو مار رہے تھے آپ ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور فرماتے تھے: لوگو! اطمینان سے چلو ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے اس وقت لوٹے جب سورج ڈوب گیا۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن عياش، عن زيد بن علي، عن ابيه، عن عبيد الله بن ابي رافع، عن علي، قال ثم اردف اسامة فجعل يعنق على ناقته والناس يضربون الابل يمينا وشمالا لا يلتفت اليهم ويقول " السكينة ايها الناس " . ودفع حين غابت الشمس
عروہ کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں عرفات سے لوٹتے وقت کیسے چلتے تھے؟ فرمایا: تیز چال چلتے تھے، اور جب راستہ پا جاتے تو دوڑتے۔ ہشام کہتے ہیں: «نص» ، «عنق» سے بھی زیادہ تیز چال کو کہتے ہیں۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، انه قال سيل اسامة بن زيد وانا جالس، كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسير في حجة الوداع حين دفع قال كان يسير العنق فاذا وجد فجوة نص . قال هشام النص فوق العنق
اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر تھا جب سورج ڈوب گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يعقوب، حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، حدثني ابراهيم بن عقبة، عن كريب، مولى عبد الله بن عباس عن اسامة، قال كنت ردف النبي صلى الله عليه وسلم فلما وقعت الشمس دفع رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کی روایت ہے کہ انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے جب گھاٹی میں آئے تو اترے، پیشاب کیا اور وضو کیا لیکن بھرپور وضو نہیں کیا، میں نے آپ سے عرض کیا: نماز ( کا وقت ہو گیا ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز آگے چل کر پڑھیں گے ، پھر آپ سوار ہوئے جب مزدلفہ پہنچے تو اترے وضو کیا اور اچھی طرح سے وضو کیا، پھر نماز کی تکبیر کہی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب پڑھی پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنے قیام گاہ میں بٹھایا پھر عشاء کی اقامت ہوئی تو آپ نے عشاء پڑھی اور درمیان میں کچھ نہیں پڑھا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن موسى بن عقبة، عن كريب، مولى عبد الله بن عباس عن اسامة بن زيد، انه سمعه يقول دفع رسول الله صلى الله عليه وسلم من عرفة حتى اذا كان بالشعب نزل فبال فتوضا ولم يسبغ الوضوء قلت له الصلاة . فقال " الصلاة امامك " . فركب فلما جاء المزدلفة نزل فتوضا فاسبغ الوضوء ثم اقيمت الصلاة فصلى المغرب ثم اناخ كل انسان بعيره في منزله ثم اقيمت العشاء فصلاها ولم يصل بينهما شييا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء مزدلفہ میں ایک ساتھ پڑھی۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى المغرب والعشاء بالمزدلفة جميعا
اس سند سے بھی زہری سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے البتہ اس میں ہے کہ ایک ہی اقامت سے دونوں کو جمع کیا۔ احمد کہتے ہیں: وکیع نے کہا: ہر نماز الگ الگ اقامت سے پڑھی۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا حماد بن خالد، عن ابن ابي ذيب، عن الزهري، باسناده ومعناه وقال باقامة اقامة جمع بينهما . قال احمد قال وكيع صلى كل صلاة باقامة
اس سند سے بھی زہری سے ابن حنبل کی سند سے انہوں نے حماد سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: ہر نماز کے لیے ایک الگ اقامت کہی اور پہلی نماز کے لیے اذان نہیں دی اور نہ ان دونوں میں سے کسی کے بعد نفل پڑھی۔ مخلد کہتے ہیں: ان دونوں میں سے کسی نماز کے لیے اذان نہیں دی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا شبابة، ح وحدثنا مخلد بن خالد، - المعنى - اخبرنا عثمان بن عمر، عن ابن ابي ذيب، عن الزهري، باسناد ابن حنبل عن حماد، ومعناه، قال باقامة واحدة لكل صلاة ولم يناد في الاولى ولم يسبح على اثر واحدة منهما . قال مخلد لم يناد في واحدة منهما
عبداللہ بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مغرب تین رکعت اور عشاء دو رکعت پڑھی، تو مالک بن حارث نے ان سے کہا: یہ کون سی نماز ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ دونوں اسی جگہ ایک تکبیر سے پڑھیں۔
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن عبد الله بن مالك، قال صليت مع ابن عمر المغرب ثلاثا والعشاء ركعتين فقال له مالك بن الحارث ما هذه الصلاة قال صليتهما مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في هذا المكان باقامة واحدة
سعید بن جبیر اور عبداللہ بن مالک سے روایت ہے وہ دونوں کہتے ہیں: ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مزدلفہ میں مغرب و عشاء ایک اقامت سے پڑھیں، پھر راوی نے ابن کثیر کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا اسحاق، - يعني ابن يوسف - عن شريك، عن ابي اسحاق، عن سعيد بن جبير، وعبد الله بن مالك، قالا صلينا مع ابن عمر بالمزدلفة المغرب والعشاء باقامة واحدة فذكر معنى حديث ابن كثير
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ہم ( عرفات سے ) ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ لوٹے، جب ہم جمع یعنی مزدلفہ پہنچے تو آپ نے ہمیں مغرب اور عشاء، تین رکعت مغرب کی اور دو رکعت عشاء کی ایک اقامت ۱؎ سے پڑھائی، جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ہم سے کہا: اسی طرح ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ پڑھائی تھی۔
حدثنا ابن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن اسماعيل، عن ابي اسحاق، عن سعيد بن جبير، قال افضنا مع ابن عمر فلما بلغنا جمعا صلى بنا المغرب والعشاء باقامة واحدة ثلاثا واثنتين فلما انصرف قال لنا ابن عمر هكذا صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في هذا المكان
سلمہ بن کہیل کہتے ہیں میں نے سعید بن جبیر کو دیکھا انہوں نے مزدلفہ میں اقامت کہی پھر مغرب تین رکعت پڑھی اور عشاء دو رکعت، پھر آپ نے کہا: میں نے دیکھا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس مقام پر اسی طرح کیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مقام پر اسی طرح کرتے دیکھا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، حدثني سلمة بن كهيل، قال رايت سعيد بن جبير اقام بجمع فصلى المغرب ثلاثا ثم صلى العشاء ركعتين ثم قال شهدت ابن عمر صنع في هذا المكان مثل هذا وقال شهدت رسول الله صلى الله عليه وسلم صنع مثل هذا في هذا المكان
سلیم بن اسود ابوالشعثاء محاربی کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ عرفات سے مزدلفہ آیا وہ تکبیر و تہلیل سے تھکتے نہ تھے، جب ہم مزدلفہ آ گئے تو انہوں نے اذان کہی اور اقامت، یا ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ اذان اور اقامت کہے، پھر ہمیں مغرب تین رکعت پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: عشاء پڑھ لو چنانچہ ہمیں عشاء دو رکعت پڑھائی پھر کھانا منگوایا۔ اشعث کہتے ہیں: اور مجھے علاج بن عمرو نے میرے والد کی حدیث کے مثل حدیث کی خبر دی ہے جو انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لوگوں نے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی طرح نماز پڑھی ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو الاحوص، حدثنا اشعث بن سليم، عن ابيه، قال اقبلت مع ابن عمر من عرفات الى المزدلفة فلم يكن يفتر من التكبير والتهليل حتى اتينا المزدلفة فاذن واقام او امر انسانا فاذن واقام فصلى بنا المغرب ثلاث ركعات ثم التفت الينا فقال الصلاة فصلى بنا العشاء ركعتين ثم دعا بعشايه . قال واخبرني علاج بن عمرو بمثل حديث ابي عن ابن عمر قال فقيل لابن عمر في ذلك فقال صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم هكذا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ وقت پر ہی نماز پڑھتے دیکھا سوائے مزدلفہ کے، مزدلفہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کو جمع کیا اور دوسرے دن فجر وقت معمول سے کچھ پہلے پڑھی ۱؎۔
حدثنا مسدد، ان عبد الواحد بن زياد، وابا، عوانة وابا معاوية حدثوهم عن الاعمش، عن عمارة، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن ابن مسعود، قال ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى صلاة الا لوقتها الا بجمع فانه جمع بين المغرب والعشاء بجمع وصلى صلاة الصبح من الغد قبل وقتها
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( مزدلفہ میں ) جب آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو آپ قزح میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: یہ قزح ہے اور یہ موقف ( ٹھہرنے کی جگہ ) ہے، اور مزدلفہ پورا موقف ( ٹھہرنے کی جگہ ) ہے، میں نے یہاں نحر کیا ہے اور منیٰ پورا نحر کرنے کی جگہ ہے لہٰذا تم اپنے اپنے ٹھکانوں میں نحر کر لو ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن عياش، عن زيد بن علي، عن ابيه، عن عبيد الله بن ابي رافع، عن علي، قال فلما اصبح - يعني النبي صلى الله عليه وسلم - ووقف على قزح فقال " هذا قزح وهو الموقف وجمع كلها موقف ونحرت ها هنا ومنى كلها منحر فانحروا في رحالكم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں عرفات میں اس جگہ ٹھہرا ہوں لیکن عرفات پورا جائے وقوف ہے، میں مزدلفہ میں یہاں ٹھہرا ہوں لیکن مزدلفہ پورا جائے وقوف ہے، میں نے یہاں پر نحر کیا اور منیٰ پورا جائے نحر ہے لہٰذا تم اپنے ٹھکانوں میں نحر کرو ۔
حدثنا مسدد، حدثنا حفص بن غياث، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " وقفت ها هنا بعرفة وعرفة كلها موقف ووقفت ها هنا بجمع وجمع كلها موقف ونحرت ها هنا ومنى كلها منحر فانحروا في رحالكم
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورا عرفات جائے وقوف ہے پورا منیٰ جائے نحر ہے اور پورا مزدلفہ جائے وقوف ہے مکہ کے تمام راستے چلنے کی جگہیں ہیں اور ہر جگہ نحر درست ہے ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا ابو اسامة، عن اسامة بن زيد، عن عطاء، قال حدثني جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " كل عرفة موقف وكل منى منحر وكل المزدلفة موقف وكل فجاج مكة طريق ومنحر
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جاہلیت کے لوگ مزدلفہ سے نہیں لوٹتے تھے جب تک کہ سورج کو ثبیر ۱؎ پر نہ دیکھ لیتے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے ہی ( مزدلفہ سے ) چل پڑے۔
حدثنا ابن كثير، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن ميمون، قال قال عمر بن الخطاب كان اهل الجاهلية لا يفيضون حتى يروا الشمس على ثبير فخالفهم النبي صلى الله عليه وسلم فدفع قبل طلوع الشمس
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے لوگوں میں سے کمزور جان کر مزدلفہ کی رات کو پہلے بھیج دیا تھا ۱؎۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا سفيان، اخبرني عبيد الله بن ابي يزيد، انه سمع ابن عباس، يقول انا ممن، قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة المزدلفة في ضعفة اهله
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہم چھوٹے بچوں کو گدھوں پر سوار کر کے مزدلفہ کی رات پہلے ہی روانہ کر دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری رانوں پر دھیرے سے مارتے تھے اور فرماتے تھے: اے میرے چھوٹے بچو! جمرہ پر کنکریاں نہ مارنا جب تک کہ آفتاب طلوع نہ ہو جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «لطح» کے معنی آہستہ مارنے کے ہیں۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، قال حدثني سلمة بن كهيل، عن الحسن العرني، عن ابن عباس، قال قدمنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة المزدلفة اغيلمة بني عبد المطلب على حمرات فجعل يلطح افخاذنا ويقول " ابيني لا ترموا الجمرة حتى تطلع الشمس " . قال ابو داود اللطح الضرب اللين