Loading...

Loading...
کتب
۳۲۵ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے کمزور اور ضعیف لوگوں کو اندھیرے ہی میں منیٰ روانہ کر دیتے تھے اور انہیں حکم دیتے تھے کہ کنکریاں نہ مارنا جب تک کہ آفتاب نہ نکل آئے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا الوليد بن عقبة، حدثنا حمزة الزيات، عن حبيب بن ابي ثابت، عن عطاء، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقدم ضعفاء اهله بغلس ويامرهم يعني لا يرمون الجمرة حتى تطلع الشمس
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ کو نحر کی رات ( دسویں رات ) کو ( منیٰ کی طرف ) روانہ فرما دیا انہوں نے فجر سے پہلے کنکریاں مار لیں پھر مکہ جا کر طواف افاضہ کیا، اور یہ وہ دن تھا جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس رہا کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا ابن ابي فديك، عن الضحاك، - يعني ابن عثمان - عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، انها قالت ارسل النبي صلى الله عليه وسلم بام سلمة ليلة النحر فرمت الجمرة قبل الفجر ثم مضت فافاضت وكان ذلك اليوم اليوم الذي يكون رسول الله صلى الله عليه وسلم - تعني - عندها
اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے جمرہ کو کنکریاں ماریں، مخبر ( راوی حدیث ) کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: ہم نے رات ہی کو جمرے کو کنکریاں مار لیں، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن خلاد الباهلي، حدثنا يحيى، عن ابن جريج، اخبرني عطاء، اخبرني مخبر، عن اسماء، انها رمت الجمرة قلت انا رمينا الجمرة بليل . قالت انا كنا نصنع هذا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے اطمینان و سکون کے ساتھ لوٹے اور لوگوں کو حکم دیا کہ اتنی چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں جو ہاتھ کی دونوں انگلیوں کے سروں کے درمیان آ سکیں اور وادی محسر میں آپ نے اپنی سواری کو تیز کیا۔
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان، حدثني ابو الزبير، عن جابر، قال افاض رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليه السكينة وامرهم ان يرموا بمثل حصى الخذف واوضع في وادي محسر
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نحر کے روز ( دسویں ذی الحجہ کو ) حجۃ الوداع میں جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور لوگوں سے پوچھا: یہ کون سا دن ہے؟ ، لوگوں نے جواب دیا: یوم النحر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی حج اکبر کا دن ہے ۱؎ ۔
حدثنا مومل بن الفضل، حدثنا الوليد، حدثنا هشام، - يعني ابن الغاز - حدثنا نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم وقف يوم النحر بين الجمرات في الحجة التي حج فقال " اى يوم هذا " . قالوا يوم النحر . قال " هذا يوم الحج الاكبر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یوم النحر کو منیٰ ان لوگوں میں بھیجا جو پکار رہے تھے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور نہ ہی کوئی ننگا بیت اللہ کا طواف کرے گا، اور حج ا کبر کا دن یوم النحر ہے اور حج اکبر سے مراد حج ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، ان الحكم بن نافع، حدثهم حدثنا شعيب، عن الزهري، حدثني حميد بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، قال بعثني ابو بكر فيمن يوذن يوم النحر بمنى ان لا يحج بعد العام مشرك ولا يطوف بالبيت عريان ويوم الحج الاكبر يوم النحر والحج الاكبر الحج
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج میں خطبہ دیا تو فرمایا: زمانہ پلٹ کر ویسے ہی ہو گیا جیسے اس دن تھا جب اللہ نے آسمان اور زمین کی تخلیق فرمائی تھی، سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے، ان میں سے چار مہینے حرام ہیں: تین لگاتار ہیں، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم اور ایک مضر کا رجب ہے ۱؎ جو جمادی الآخرہ اور شعبان کے بیچ میں ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا اسماعيل، حدثنا ايوب، عن محمد، عن ابن ابي بكرة، عن ابي بكرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم خطب في حجته فقال " ان الزمان قد استدار كهييته يوم خلق الله السموات والارض السنة اثنا عشر شهرا منها اربعة حرم ثلاث متواليات ذو القعدة و ذو الحجة والمحرم ورجب مضر الذي بين جمادى وشعبان
اس سند سے بھی ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عون نے اس حدیث میں ان کا نام لیا ہے اور یوں کہا ہے «عن عبدالرحمٰن بن أبي بكرة عن أبي بكرة» ۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فياض، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا ايوب السختياني، عن محمد بن سيرين، عن ابن ابي بكرة، عن ابي بكرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه . قال ابو داود سماه ابن عون فقال عن عبد الرحمن بن ابي بكرة عن ابي بكرة في هذا الحديث
عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ عرفات میں تھے، اتنے میں نجد والوں میں سے کچھ لوگ آئے، ان لوگوں نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے آواز دی: اللہ کے رسول! حج کیوں کر ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے پکار کر کہا: حج عرفات میں وقوف ہے ۱؎ جو شخص مزدلفہ کی رات کو فجر سے پہلے ( عرفات میں ) آ جائے تو اس کا حج پورا ہو گیا، منیٰ کے دن تین ہیں ( گیارہ، بارہ اور تیرہ ذی الحجہ ) ، جو شخص دو ہی دن کے بعد چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے اس پر کوئی گناہ نہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے بٹھا لیا وہ یہی پکارتا جاتا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح مہران نے سفیان سے «الحج الحج» دو بار نقل کیا ہے اور یحییٰ بن سعید قطان نے سفیان سے «الحج» ایک ہی بار نقل کیا ہے۔
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان، حدثني بكير بن عطاء، عن عبد الرحمن بن ابي يعمر الديلي، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو بعرفة فجاء ناس - او نفر - من اهل نجد فامروا رجلا فنادى رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف الحج فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا فنادى " الحج الحج يوم عرفة من جاء قبل صلاة الصبح من ليلة جمع فتم حجه ايام منى ثلاثة فمن تعجل في يومين فلا اثم عليه ومن تاخر فلا اثم عليه " . قال ثم اردف رجلا خلفه فجعل ينادي بذلك . قال ابو داود وكذلك رواه مهران عن سفيان قال " الحج الحج " . مرتين ورواه يحيى بن سعيد القطان عن سفيان قال " الحج " . مرة
عروہ بن مضرس طائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ موقف یعنی مزدلفہ میں تھے، میں نے عرض کیا: میں طی کے پہاڑوں سے آ رہا ہوں، میں نے اپنی اونٹنی کو تھکا مارا، اور خود کو بھی تھکا دیا، اللہ کی قسم راستے میں کوئی ایسا ٹیکرہ نہیں آیا جس پر میں ٹھہرا نہ ہوں، تو میرا حج درست ہوا یا نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ہمارے ساتھ اس نماز کو پا لے اور اس سے پہلے رات یا دن کو عرفات میں ٹھہر چکا ہو تو اس کا حج پورا ۱؎ ہو گیا، اس نے اپنا میل کچیل دور کر لیا ۲؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن اسماعيل، حدثنا عامر، اخبرني عروة بن مضرس الطايي، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بالموقف - يعني بجمع قلت جيت يا رسول الله من جبل طيي اكللت مطيتي واتعبت نفسي والله ما تركت من جبل الا وقفت عليه فهل لي من حج فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ادرك معنا هذه الصلاة واتى عرفات قبل ذلك ليلا او نهارا فقد تم حجه وقضى تفثه
عبدالرحمٰن بن معاذ سے روایت ہے وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں لوگوں سے خطاب کیا، اور انہیں ان کے ٹھکانوں میں اتارا، آپ نے فرمایا: مہاجرین یہاں اتریں اور قبلہ کے دائیں جانب اشارہ کیا، اور انصار یہاں اتریں، اور قبلے کے بائیں جانب اشارہ کیا، پھر باقی لوگ ان کے اردگرد اتریں ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن حميد الاعرج، عن محمد بن ابراهيم التيمي، عن عبد الرحمن بن معاذ، عن رجل، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال خطب النبي صلى الله عليه وسلم الناس بمنى ونزلهم منازلهم فقال " لينزل المهاجرون ها هنا " . واشار الى ميمنة القبلة " والانصار ها هنا " . واشار الى ميسرة القبلة " ثم لينزل الناس حولهم
بنی بکر کے دو آدمی کہتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ایام تشریق کے بیچ والے دن ( بارہویں ذی الحجہ کو ) خطبہ دے رہے تھے اور ہم آپ کی اونٹنی کے پاس تھے، یہ وہی خطبہ تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دیا
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابن المبارك، عن ابراهيم بن نافع، عن ابن ابي نجيح، عن ابيه، عن رجلين، من بني بكر قالا راينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب بين اوسط ايام التشريق ونحن عند راحلته وهي خطبة رسول الله صلى الله عليه وسلم التي خطب بمنى
ربیعہ بن عبدالرحمٰن بن حصین کہتے ہیں مجھ سے میری دادی سراء بنت نبہان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا اور وہ جاہلیت میں گھر کی مالکہ تھیں ( جس میں اصنام ہوتے تھے ) ، وہ کہتی ہیں: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الروس ۱؎ ( ایام تشریق کے دوسرے دن بارہویں ذی الحجہ ) کو خطاب کیا اور پوچھا: یہ کون سا دن ہے؟ ، ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: کیا یہ ایام تشریق کا بیچ والا دن نہیں ہے ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوحرہ رقاشی کے چچا سے بھی اسی طرح روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق کے بیچ والے دن خطبہ دیا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عاصم، حدثنا ربيعة بن عبد الرحمن بن حصن، حدثتني جدتي، سراء بنت نبهان - وكانت ربة بيت في الجاهلية - قالت خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الرءوس فقال " اى يوم هذا " . قلنا الله ورسوله اعلم قال " اليس اوسط ايام التشريق " . قال ابو داود وكذلك قال عم ابي حرة الرقاشي انه خطب اوسط ايام التشريق
ہرماس بن زیاد باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنی اونٹنی عضباء پر عید الاضحی کے دن منیٰ میں لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا هشام بن عبد الملك، حدثنا عكرمة، حدثني الهرماس بن زياد الباهلي، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يخطب الناس على ناقته العضباء يوم الاضحى بمنى
سلیم بن عامر کلاعی کہتے ہیں کہ میں نے ابوامامہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے منیٰ میں یوم النحر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا ۱؎۔
حدثنا مومل، - يعني ابن الفضل - الحراني - حدثنا الوليد، حدثنا ابن جابر، حدثنا سليم بن عامر الكلاعي، سمعت ابا امامة، يقول سمعت خطبة، رسول الله صلى الله عليه وسلم بمنى يوم النحر
رافع بن عمرو المزنی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں ایک سفید خچر پر سوار لوگوں کو خطبہ دیتے سنا جس وقت آفتاب بلند ہو چکا تھا اور علی رضی اللہ عنہ آپ کی طرف سے اسے لوگوں کو پہنچا ۱؎ رہے تھے اور دور والوں کو بتا رہے تھے، کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور کچھ کھڑے تھے۔
حدثنا عبد الوهاب بن عبد الرحيم الدمشقي، حدثنا مروان، عن هلال بن عامر المزني، حدثني رافع بن عمرو المزني، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب الناس بمنى حين ارتفع الضحى على بغلة شهباء وعلي - رضى الله عنه - يعبر عنه والناس بين قاعد وقايم
عبدالرحمٰن بن معاذ تمیمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، ہم منیٰ میں تھے تو ہمارے کان کھول دئیے گئے آپ جو بھی فرماتے تھے ہم اسے سن لیتے تھے، ہم اپنے ٹھکانوں میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ارکان حج سکھانا شروع کئے یہاں تک کہ جب آپ جمرات تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی دونوں انگلیوں کو رکھ کر اتنی چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں جو انگلیوں کے درمیان آ سکتی تھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کو حکم دیا کہ وہ مسجد کے اگلے حصہ میں اتریں اور انصار کو حکم دیا کہ وہ لوگ مسجد کے پیچھے اتریں اس کے بعد سب لوگ اترے۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث، عن حميد الاعرج، عن محمد بن ابراهيم التيمي، عن عبد الرحمن بن معاذ التيمي، قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن بمنى ففتحت اسماعنا حتى كنا نسمع ما يقول ونحن في منازلنا فطفق يعلمهم مناسكهم حتى بلغ الجمار فوضع اصبعيه السبابتين في اذنيه ثم قال " بحصى الخذف " . ثم امر المهاجرين فنزلوا في مقدم المسجد وامر الانصار فنزلوا من وراء المسجد ثم نزل الناس بعد ذلك
حریز یا ابوحریز بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عبدالرحمٰن بن فروخ کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ ہم لوگوں کا مال بیچتے ہیں تو کیا ہم میں سے کوئی منیٰ کی راتوں میں مکہ میں جا کر مال کے پاس رہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو رات اور دن دونوں منیٰ میں رہا کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر، محمد بن خلاد الباهلي حدثنا يحيى، عن ابن جريج، حدثني حريز، او ابو حريز - الشك من يحيى - انه سمع عبد الرحمن بن فروخ، يسال ابن عمر قال انا نتبايع باموال الناس فياتي احدنا مكة فيبيت على المال فقال اما رسول الله صلى الله عليه وسلم فبات بمنى وظل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاجیوں کو پانی پلانے کی وجہ سے منیٰ کی راتوں کو مکہ میں گزارنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابن نمير، وابو اسامة عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال استاذن العباس رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يبيت بمكة ليالي منى من اجل سقايته فاذن له
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعتیں پڑھیں تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ دو ہی رکعتیں پڑھیں ( اور حفص کی روایت میں اتنا مزید ہے کہ ) عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی خلافت کے شروع میں، پھر وہ پوری پڑھنے لگے، ( ایک روایت میں ابومعاویہ سے یہ ہے کہ ) پھر تمہاری رائیں مختلف ہو گئیں، میری تو خواہش ہے کہ میرے لیے چار رکعتوں کے بجائے دو مقبول رکعتیں ہی ہوں۔ اعمش کہتے ہیں: مجھ سے معاویہ بن قرہ نے اپنے شیوخ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے چار رکعتیں پڑھیں، تو ان سے کہا گیا: آپ نے عثمان پر اعتراض کیا، پھر خود ہی چار پڑھنے لگے؟ تو انہوں نے کہا: اختلاف برا ہے۔
حدثنا مسدد، ان ابا معاوية، وحفص بن غياث، حدثاه - وحديث ابي معاوية، اتم - عن الاعمش، عن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، قال صلى عثمان بمنى اربعا فقال عبد الله صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم ركعتين ومع ابي بكر ركعتين ومع عمر ركعتين زاد عن حفص ومع عثمان صدرا من امارته ثم اتمها . زاد من ها هنا عن ابي معاوية ثم تفرقت بكم الطرق فلوددت ان لي من اربع ركعات ركعتين متقبلتين . قال الاعمش فحدثني معاوية بن قرة عن اشياخه ان عبد الله صلى اربعا قال فقيل له عبت على عثمان ثم صليت اربعا قال الخلاف شر