Loading...

Loading...
کتب
۳۲۵ احادیث
زہری سے روایت ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعتیں صرف اس لیے پڑھیں کہ انہوں نے حج کے بعد وہاں اقامت کی نیت کی تھی۔
حدثنا محمد بن العلاء، اخبرنا ابن المبارك، عن معمر، عن الزهري، ان عثمان، انما صلى بمنى اربعا لانه اجمع على الاقامة بعد الحج
ابراہیم کہتے ہیں عثمان رضی اللہ عنہ نے چار رکعتیں پڑھیں اس لیے کہ انہوں نے منیٰ کو وطن بنا لیا تھا۔
حدثنا هناد بن السري، عن ابي الاحوص، عن المغيرة، عن ابراهيم، قال ان عثمان صلى اربعا لانه اتخذها وطنا
زہری کہتے ہیں جب عثمان رضی اللہ عنہ نے طائف میں اپنی جائیداد بنائی اور وہاں قیام کرنے کا ارادہ کیا تو وہاں چار رکعتیں پڑھیں، وہ کہتے ہیں: پھر اس کے بعد ائمہ نے اسی کو اپنا لیا۔
حدثنا محمد بن العلاء، اخبرنا ابن المبارك، عن يونس، عن الزهري، قال لما اتخذ عثمان الاموال بالطايف واراد ان يقيم بها صلى اربعا قال ثم اخذ به الايمة بعده
زہری سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں نماز اس وجہ سے پوری پڑھی کہ اس سال بدوی لوگ بہت آئے تھے تو انہوں نے چار رکعتیں پڑھیں تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہو کہ نماز ( اصل میں ) چار رکعت ہی ہے ( نہ کہ دو، جو قصر کی صورت میں پڑھی جاتی ہے ) ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ايوب، عن الزهري، ان عثمان بن عفان، اتم الصلاة بمنى من اجل الاعراب لانهم كثروا عاميذ فصلى بالناس اربعا ليعلمهم ان الصلاة اربع
ابواسحاق کہتے ہیں کہ مجھ سے حارثہ بن وہب خزاعی نے بیان کیا اور ان کی والدہ عمر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں تو ان سے عبیداللہ بن عمر کی ولادت ہوئی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے منیٰ میں نماز پڑھی، اور لوگ بڑی تعداد میں تھے، تو آپ نے ہمیں حجۃ الوداع میں دو رکعتیں پڑھائیں ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارثہ کا تعلق خزاعہ سے ہے اور ان کا گھر مکہ میں ہے۔
حدثنا النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا ابو اسحاق، حدثني حارثة بن وهب الخزاعي، - وكانت امه تحت عمر فولدت له عبيد الله بن عمر - قال صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم بمنى والناس اكثر ما كانوا فصلى بنا ركعتين في حجة الوداع . قال ابو داود حارثة من خزاعة ودارهم بمكة
والدہ سلیمان بن عمرو بن احوص رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سوار ہو کر بطن وادی سے جمرہ پر رمی کرتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر کنکری پر تکبیر کہتے تھے، ایک شخص آپ کے پیچھے تھا، وہ آپ پر آڑ کر رہا تھا، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے کہا: فضل بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں، اور لوگوں کی بھیڑ ہو گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم میں سے کوئی کسی کو قتل نہ کرے ( یعنی بھیڑ کی وجہ سے ایک دوسرے کو کچل نہ ڈالے ) اور جب تم رمی کرو تو ایسی چھوٹی کنکریوں سے مارو جنہیں تم دونوں انگلیوں کے بیچ رکھ سکو ۔
حدثنا ابراهيم بن مهدي، حدثني علي بن مسهر، عن يزيد بن ابي زياد، اخبرنا سليمان بن عمرو بن الاحوص، عن امه، قالت رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يرمي الجمرة من بطن الوادي وهو راكب يكبر مع كل حصاة ورجل من خلفه يستره فسالت عن الرجل فقالوا الفضل بن العباس وازدحم الناس فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا ايها الناس لا يقتل بعضكم بعضا واذا رميتم الجمرة فارموا بمثل حصى الخذف
والدہ سلیمان بن عمرو بن احوص رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرہ عقبہ کے پاس سوار دیکھا اور میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں میں کنکریاں تھیں، تو آپ نے بھی رمی کی اور لوگوں نے بھی رمی کی ۱؎۔
حدثنا ابو ثور، ابراهيم بن خالد ووهب بن بيان قالا حدثنا عبيدة، عن يزيد بن ابي زياد، عن سليمان بن عمرو بن الاحوص، عن امه، قالت رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم عند جمرة العقبة راكبا ورايت بين اصابعه حجرا فرمى ورمى الناس
اس سند سے بھی یزید بن ابی زیاد سے اسی طریق سے اسی حدیث کے ہم مثل مروی ہے اس میں «ولم يقم عندها» اور اس کے پاس نہیں ٹھہرے کا جملہ زائد ہے۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابن ادريس، حدثنا يزيد بن ابي زياد، باسناده في مثل هذا الحديث زاد ولم يقم عندها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ یوم النحر کے بعد تین دنوں میں جمرات کی رمی کے لیے پیدل چل کر آتے تھے اور پیدل ہی واپس جاتے اور وہ بتاتے تھے کہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا القعنبي، حدثنا عبد الله، - يعني ابن عمر - عن نافع، عن ابن عمر، انه كان ياتي الجمار في الايام الثلاثة بعد يوم النحر ماشيا ذاهبا وراجعا ويخبر ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يفعل ذلك
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنی سواری پر یوم النحر کو رمی کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: تم لوگ اپنے حج کے ارکان سیکھ لو کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ میں اپنے اس حج کے بعد کوئی حج کر سکوں گا یا نہیں ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن جريج، اخبرني ابو الزبير، سمعت جابر بن عبد الله، يقول رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يرمي على راحلته يوم النحر يقول " لتاخذوا مناسككم فاني لا ادري لعلي لا احج بعد حجتي هذه
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر بیٹھ کر یوم النحر کو چاشت کے وقت رمی کرتے دیکھا پھر اس کے بعد جو رمی کی ( یعنی گیارہ، بارہ اور تیرہ کو ) تو وہ زوال کے بعد کی۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن جريج، قال اخبرني ابو الزبير، انه سمع جابر بن عبد الله، يقول رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يرمي على راحلته يوم النحر ضحى فاما بعد ذلك فبعد زوال الشمس
وبرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کنکریاں کب ماروں؟ آپ نے کہا: جب تمہارا امام کنکریاں مارے تو تم بھی مارو، میں نے پھر یہی سوال کیا، انہوں نے کہا: ہم سورج ڈھلنے کا انتظار کرتے تھے تو جب سورج ڈھل جاتا تو ہم کنکریاں مارتے۔
حدثنا عبد الله بن محمد الزهري، حدثنا سفيان، عن مسعر، عن وبرة، قال سالت ابن عمر متى ارمي الجمار قال اذا رمى امامك فارم . فاعدت عليه المسالة فقال كنا نتحين زوال الشمس فاذا زالت الشمس رمينا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یوم النحر ) کے آخری حصہ میں جس وقت ظہر پڑھ لی طواف افاضہ کیا، پھر منیٰ لوٹے اور تشریق کے دنوں تک وہاں ٹھہرے رہے، جب سورج ڈھل جاتا تو ہر جمرے کو سات سات کنکریاں مارتے، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے، اور پہلے اور دوسرے جمرے پر دیر تک ٹھہرتے، روتے، گڑگڑاتے اور دعا کرتے اور تیسرے جمرے کو کنکریاں مار کر اس کے پاس نہیں ٹھہرتے۔
حدثنا علي بن بحر، وعبد الله بن سعيد، - المعنى - قالا حدثنا ابو خالد الاحمر، عن محمد بن اسحاق، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت افاض رسول الله صلى الله عليه وسلم من اخر يومه حين صلى الظهر ثم رجع الى منى فمكث بها ليالي ايام التشريق يرمي الجمرة اذا زالت الشمس كل جمرة بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة ويقف عند الاولى والثانية فيطيل القيام ويتضرع ويرمي الثالثة ولا يقف عندها
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب وہ جمرہ کبری ( جمرہ عقبہ ) کے پاس آئے تو بیت اللہ کو اپنے بائیں جانب اور منیٰ کو دائیں جانب کیا اور جمرے کو سات کنکریاں ماریں، اور کہا: اسی طرح اس ذات نے بھی کنکریاں ماری تھیں جس پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی۔
حدثنا حفص بن عمر، ومسلم بن ابراهيم، - المعنى - قالا حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن ابن مسعود، قال لما انتهى الى الجمرة الكبرى جعل البيت عن يساره ومنى عن يمينه ورمى الجمرة بسبع حصيات وقال هكذا رمى الذي انزلت عليه سورة البقرة
عاصم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو ( منیٰ میں ) رات نہ گزارنے کی رخصت دی اور یہ کہ وہ یوم النحر کو رمی کریں، پھر اس کے بعد والے دن یعنی گیارہویں کو گیارہویں اور بارہویں دونوں دنوں کی رمی کریں، اور پھر روانگی کے دن ( تیرہویں کو ) رمی کریں گے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، ح وحدثنا ابن السرح، اخبرنا ابن وهب، اخبرني مالك، عن عبد الله بن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن ابيه، عن ابي البداح بن عاصم، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رخص لرعاء الابل في البيتوتة يرمون يوم النحر ثم يرمون الغد ومن بعد الغد بيومين ويرمون يوم النفر
عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو رخصت دی کہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن ناغہ کریں۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن عبد الله، ومحمد، ابنى ابي بكر عن ابيهما، عن ابي البداح بن عدي، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم رخص للرعاء ان يرموا يوما ويدعوا يوما
ابومجلز کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے رمی جمرات کا حال دریافت کیا تو انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ کنکریاں ماریں یا سات ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن المبارك، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شعبة، عن قتادة، قال سمعت ابا مجلز، يقول سالت ابن عباس عن شىء، من امر الجمار فقال ما ادري ارماها رسول الله صلى الله عليه وسلم بست او بسبع
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی جمرہ عقبہ کی رمی کر لے تو اس کے لیے سوائے عورتوں کے ہر چیز حلال ہے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ضعیف ہے، حجاج نے نہ تو زہری کو دیکھا ہے اور نہ ہی ان سے سنا ہے ۲؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا الحجاج، عن الزهري، عن عمرة بنت عبد الرحمن، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا رمى احدكم جمرة العقبة فقد حل له كل شىء الا النساء " . قال ابو داود هذا حديث ضعيف الحجاج لم ير الزهري ولم يسمع منه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم ارحم المحلقين» اے اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم کر ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور کٹوانے والوں پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم ارحم المحلقين» اے اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم فرما ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور کٹوانے والوں پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور کٹوانے والوں پر بھی ۱؎ ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اللهم ارحم المحلقين " . قالوا يا رسول الله والمقصرين . قال " اللهم ارحم المحلقين " . قالوا يا رسول الله والمقصرين . قال " والمقصرين
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنا سر منڈوایا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا يعقوب، - يعني الاسكندراني - عن موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حلق راسه في حجة الوداع