احادیث
#1910
سنن ابی داؤد - The Rites of Hajj
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قریش اور ان کے ہم مذہب لوگ مزدلفہ میں ہی ٹھہرتے تھے اور لوگ انہیں حمس یعنی بہادر و شجاع کہتے تھے جب کہ سارے عرب کے لوگ عرفات میں ٹھہرتے تھے، تو جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات آنے اور وہاں ٹھہرنے پھر وہاں سے مزدلفہ لوٹنے کا حکم دیا اور یہی حکم اس آیت میں ہے: «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» ( سورۃ البقرہ: ۱۹۹ ) تم لوگ وہاں سے لوٹو جہاں سے سبھی لوگ لوٹتے ہیں – یعنی عرفات سے ۔
حدثنا هناد، عن ابي معاوية، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كانت قريش ومن دان دينها يقفون بالمزدلفة وكانوا يسمون الحمس وكان ساير العرب يقفون بعرفة قالت فلما جاء الاسلام امر الله تعالى نبيه صلى الله عليه وسلم ان ياتي عرفات فيقف بها ثم يفيض منها فذلك قوله تعالى { ثم افيضوا من حيث افاض الناس}
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- The Rites of Hajj
- Hadith Index
- #1910
- Book Index
- 190
Grades
- Al-AlbaniSahih
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidSahih
- Shuaib Al ArnautSahih
- Zubair Ali ZaiSahih Bukhari (4520) Sahih Muslim (1219)
