احادیث
#1987
سنن ابی داؤد - The Rites of Hajj
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو ذی الحجہ میں عمرہ صرف اس لیے کرایا کہ مشرکین کا خیال ختم ہو جائے اس لیے کہ قریش کے لوگ نیز وہ لوگ جو ان کے دین پر چلتے تھے، کہتے تھے: جب اونٹ کے بال بڑھ جائیں اور پیٹھ کا زخم ٹھیک ہو جائے اور صفر کا مہینہ آ جائے تو عمرہ کرنے والے کا عمرہ درست ہو گیا، چنانچہ وہ ذی الحجہ اور محرم ( اشہر حرم ) کے ختم ہونے تک عمرہ کرنا حرام سمجھتے تھے۔
حدثنا هناد بن السري، عن ابن ابي زايدة، حدثنا ابن جريج، ومحمد بن اسحاق، عن عبد الله بن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، قال والله ما اعمر رسول الله صلى الله عليه وسلم عايشة في ذي الحجة الا ليقطع بذلك امر اهل الشرك فان هذا الحى من قريش ومن دان دينهم كانوا يقولون اذا عفا الوبر وبرا الدبر ودخل صفر فقد حلت العمرة لمن اعتمر . فكانوا يحرمون العمرة حتى ينسلخ ذو الحجة والمحرم
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- The Rites of Hajj
- Hadith Index
- #1987
- Book Index
- 267
Grades
- Al-AlbaniHasan
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidHasan
- Zubair Ali ZaiHasan
