Loading...

Loading...
کتب
۳۲۵ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف افاضہ کے سات پھیروں میں رمل نہیں کیا ۱؎ ۔
حدثنا سليمان بن داود، اخبرنا ابن وهب، حدثني ابن جريج، عن عطاء بن ابي رباح، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم لم يرمل في السبع الذي افاض فيه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ ہر جانب سے ( مکہ سے ) لوٹتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی مکہ سے کوچ نہ کرے یہاں تک کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف ( طواف وداع ) ہو ۱؎ ۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا سفيان، عن سليمان الاحول، عن طاوس، عن ابن عباس، قال كان الناس ينصرفون في كل وجه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا ينفرن احد حتى يكون اخر عهده الطواف بالبيت
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیي رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تو لوگوں نے عرض کیا: انہیں حیض آ گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لگتا ہے وہ ہم کو روک لیں گی ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو کوئی بات نہیں ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر صفية بنت حيى فقيل انها قد حاضت . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لعلها حابستنا " . فقالوا يا رسول الله انها قد افاضت . فقال " فلا اذا
حارث بن عبداللہ بن اوس کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ سے اس عورت کے متعلق پوچھا جو یوم النحر کو بیت اللہ کا طواف ( افاضہ ) کر چکی ہو، پھر اسے حیض آ گیا ہو؟ انہوں نے کہا: وہ آخری طواف ( طواف وداع ) کر کے جائے ( یعنی: طواف وداع کا انتظار کرے ) ، حارث نے کہا: اسی طرح مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بتایا تھا، اس پر عمر نے کہا تیرے دونوں ہاتھ گر جائیں ۱؎! تم نے مجھ سے ایسی بات پوچھی جسے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ چکے تھے تاکہ میں اس کے خلاف بیان کروں۔
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا ابو عوانة، عن يعلى بن عطاء، عن الوليد بن عبد الرحمن، عن الحارث بن عبد الله بن اوس، قال اتيت عمر بن الخطاب فسالته عن المراة، تطوف بالبيت يوم النحر ثم تحيض قال ليكن اخر عهدها بالبيت . قال فقال الحارث كذلك افتاني رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال فقال عمر اربت عن يديك سالتني عن شىء سالت عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم لكيما اخالف
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے تنعیم سے عمرے کا احرام باندھا پھر میں ( مکہ ) گئی اور اپنا عمرہ پورا کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابطح ۱؎ میں میرا انتظار کیا یہاں تک کہ میں فارغ ہو کر ( آپ کے پاس واپس آ گئی ) تو آپ نے لوگوں کو روانگی کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ آئے اور اس کا طواف کیا پھر روانہ ہوئے۔
حدثنا وهب بن بقية، عن خالد، عن افلح، عن القاسم، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت احرمت من التنعيم بعمرة فدخلت فقضيت عمرتي وانتظرني رسول الله صلى الله عليه وسلم بالابطح حتى فرغت وامر الناس بالرحيل . قالت واتى رسول الله صلى الله عليه وسلم البيت فطاف به ثم خرج
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آخری دن کی روانگی میں نکلی تو آپ وادی محصب میں اترے، ( ابوداؤد کہتے ہیں: ابن بشار نے اس حدیث میں ان کے تنعیم بھیجے جانے کا واقعہ ذکر نہیں کیا ) پھر میں صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، تو آپ نے لوگوں میں روانگی کی منادی کرا دی، پھر خود روانہ ہوئے تو فجر سے پہلے بیت اللہ سے گزرے اور نکلتے وقت اس کا طواف کیا، پھر مدینہ کا رخ کر کے چل پڑے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو بكر، - يعني الحنفي - حدثنا افلح، عن القاسم، عن عايشة، قالت خرجت معه - تعني مع النبي صلى الله عليه وسلم - في النفر الاخر فنزل المحصب - قال ابو داود ولم يذكر ابن بشار قصة بعثها الى التنعيم في هذا الحديث - قالت ثم جيته بسحر فاذن في اصحابه بالرحيل فارتحل فمر بالبيت قبل صلاة الصبح فطاف به حين خرج ثم انصرف متوجها الى المدينة
عبدالرحمٰن بن طارق اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب یعلیٰ کے گھر کی جگہ سے آگے بڑھتے ( اس جگہ کا نام عبیداللہ بھول گئے ) تو بیت اللہ کی جانب رخ کرتے اور دعا مانگتے ۱؎۔
حدثنا يحيى بن معين، حدثنا هشام بن يوسف، عن ابن جريج، اخبرني عبيد الله بن ابي يزيد، ان عبد الرحمن بن طارق، اخبره عن امه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا جاز مكانا من دار يعلى - نسيه عبيد الله - استقبل البيت فدعا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محصب میں صرف اس لیے اترے تاکہ آپ کے (مکہ سے) نکلنے میں آسانی ہو، یہ کوئی سنت نہیں، لہٰذا جو چاہے وہاں اترے اور جو چاہے نہ اترے ۱؎۔ تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ۱۶۷۸۵، ۱۷۳۳۰ ) ، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ۱۴۷ ( ۱۷۶۵ ) ، صحیح مسلم/الحج ۵۹ ( ۱۳۱۱ ) ، سنن الترمذی/الحج ۸۲ ( ۹۲۳ ) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ۸۱ ( ۳۰۶۷ ) ، مسند احمد ( ۶/۱۹۰ ) ( صحیح)
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى بن سعيد، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، قالت انما نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم المحصب ليكون اسمح لخروجه وليس بسنة فمن شاء نزله ومن شاء لم ينزله
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ کہ ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے آپ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ میں وہاں ( محصب میں ) اتروں، میں نے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ نصب کیا تھا، آپ وہاں اترے تھے۔ مسدد کی روایت میں ہے، وہ ( ابورافع ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسباب کے محافظ تھے اور عثمان رضی اللہ عنہ کی روایت میں «يعني في الأبطح» کا اضافہ ہے ( مطلب یہ ہے کہ وہ ابطح میں محافظ تھے ) ۔
حدثنا احمد بن حنبل، وعثمان بن ابي شيبة المعنى، ح وحدثنا مسدد، قالوا حدثنا سفيان، حدثنا صالح بن كيسان، عن سليمان بن يسار، قال قال ابو رافع لم يامرني رسول الله صلى الله عليه وسلم ان انزله ولكن ضربت قبته فنزله . قال مسدد وكان على ثقل النبي صلى الله عليه وسلم وقال عثمان يعني في الابطح
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کل حج میں کہاں اتریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا عقیل نے کوئی گھر ہمارے لیے ( مکہ میں ) چھوڑا ہے؟ ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم خیف بنو کنانہ میں اتریں گے جہاں قریش نے کفر پر عہد کیا تھا ( یعنی وادی محصب میں ) ۱؎ ، اور وہ یہ کہ بنو کنانہ نے قریش سے بنی ہاشم کے خلاف قسم کھائی تھی کہ وہ ان سے نہ شادی بیاہ کریں گے، نہ خرید و فروخت، اور نہ انہیں پناہ دیں گے۔ زہری کہتے ہیں: خیف وادی کا نام ہے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن علي بن حسين، عن عمرو بن عثمان، عن اسامة بن زيد، قال قلت يا رسول الله اين تنزل غدا في حجته قال " هل ترك لنا عقيل منزلا " . ثم قال " نحن نازلون بخيف بني كنانة حيث قاسمت قريش على الكفر " . يعني المحصب وذلك ان بني كنانة حالفت قريشا على بني هاشم ان لا يناكحوهم ولا يبايعوهم ولا ييووهم . قال الزهري والخيف الوادي
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب منیٰ سے کوچ کرنے کا قصد کیا تو فرمایا: ہم وہاں کل اتریں گے ۔ پھر راوی نے ویسا ہی بیان کیا، اس روایت میں نہ تو حدیث کے شروع کے الفاظ ہیں، اور نہ ہی یہ ذکر ہے کہ خیف وادی کا نام ہے۔
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا عمر، حدثنا ابو عمرو، - يعني الاوزاعي - عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال حين اراد ان ينفر من منى " نحن نازلون غدا " . فذكر نحوه ولم يذكر اوله ولا ذكر الخيف الوادي
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما بطحاء میں نیند کی ایک جھپکی لے لیتے پھر مکہ میں داخل ہوتے اور بتاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
حدثنا موسى ابو سلمة، حدثنا حماد، عن حميد، عن بكر بن عبد الله، وايوب، عن نافع، ان ابن عمر، كان يهجع هجعة بالبطحاء ثم يدخل مكة ويزعم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يفعل ذلك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء بطحاء میں پڑھی پھر ایک نیند سوئے، پھر مکہ میں داخل ہوئے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عفان، حدثنا حماد بن سلمة، اخبرنا حميد، عن بكر بن عبد الله، عن ابن عمر، وايوب، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى الظهر والعصر والمغرب والعشاء بالبطحاء ثم هجع هجعة ثم دخل مكة وكان ابن عمر يفعله
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں منیٰ میں ٹھہرے، لوگ آپ سے سوالات کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے معلوم نہ تھا میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈا لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذبح کر لو کوئی حرج نہیں ، پھر ایک اور شخص آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے معلوم نہ تھا میں نے رمی کرنے سے پہلے نحر کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمی کر لو، کوئی حرج نہیں ، اس طرح جتنی چیزوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا جو آگے پیچھے ہو گئیں تھیں آپ نے فرمایا: کر ڈالو، کوئی حرج نہیں ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عيسى بن طلحة بن عبيد الله، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، انه قال وقف رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع بمنى يسالونه فجاءه رجل فقال يا رسول الله اني لم اشعر فحلقت قبل ان اذبح فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذبح ولا حرج " . وجاء رجل اخر فقال يا رسول الله لم اشعر فنحرت قبل ان ارمي . قال " ارم ولا حرج " . قال فما سيل يوميذ عن شىء قدم او اخر الا قال " اصنع ولا حرج
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلا، لوگ آپ کے پاس آتے تھے جب کوئی کہتا: اللہ کے رسول! میں نے طواف سے پہلے سعی کر لی یا میں نے ایک چیز کو مقدم کر دیا یا مؤخر کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں، حرج صرف اس پر ہے جس نے کسی مسلمان کی جان یا عزت و آبرو پامال کی اور وہ ظالم ہو، ایسا ہی شخص ہے جو حرج میں پڑ گیا اور ہلاک ہوا ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن الشيباني، عن زياد بن علاقة، عن اسامة بن شريك، قال خرجت مع النبي صلى الله عليه وسلم حاجا فكان الناس ياتونه فمن قال يا رسول الله سعيت قبل ان اطوف او قدمت شييا او اخرت شييا . فكان يقول " لا حرج لا حرج الا على رجل اقترض عرض رجل مسلم وهو ظالم فذلك الذي حرج وهلك
مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو باب بنی سہم کے پاس نماز پڑھتے دیکھا، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزر رہے تھے بیچ میں کوئی سترہ نہ تھا ۱؎۔ سفیان کے الفاظ یوں ہیں: ان کے اور کعبہ کے درمیان کوئی سترہ نہ تھا۔ سفیان کہتے ہیں: ابن جریج نے ان کے بارے میں ہمیں بتایا کہ کثیر نے اپنے والد سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا میں نے اسے اپنے والد سے نہیں سنا، بلکہ گھر کے کسی فرد سے سنا اور انہوں نے میرے دادا سے روایت کی ہے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا سفيان بن عيينة، حدثني كثير بن كثير بن المطلب بن ابي وداعة، عن بعض، اهلي عن جده، انه راى النبي صلى الله عليه وسلم يصلي مما يلي باب بني سهم والناس يمرون بين يديه وليس بينهما سترة . قال سفيان ليس بينه وبين الكعبة سترة . قال سفيان كان ابن جريج اخبرنا عنه قال اخبرنا كثير عن ابيه قال فسالته فقال ليس من ابي سمعته ولكن من بعض اهلي عن جدي
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ فتح کرا دیا، تو آپ لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: اللہ نے ہی مکہ سے ہاتھیوں کو روکا، اور اس پر اپنے رسول اور مومنین کا اقتدار قائم کیا، میرے لیے دن کی صرف ایک گھڑی حلال کی گئی اور پھر اب قیامت تک کے لیے حرام کر دی گئی، نہ وہاں ( مکہ ) کا درخت کاٹا جائے، نہ اس کا شکار بدکایا جائے، اور نہ وہاں کا لقطہٰ ( پڑی ہوئی چیز ) کسی کے لیے حلال ہے، بجز اس کے جو اس کی تشہیر کرے ، اتنے میں عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! سوائے اذخر کے ۱؎ ( یعنی اس کا کاٹنا درست ہونا چاہیئے ) اس لیے کہ وہ ہماری قبروں اور گھروں میں استعمال ہوتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوائے اذخر کے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن مصفٰی نے ولید سے اتنا اضافہ کیا ہے: تو اہل یمن کے ایک شخص ابوشاہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے لکھ کر دے دیجئیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو شاہ کو لکھ کر دے دو ، ( ولید کہتے ہیں ) میں نے اوزاعی سے پوچھا: «اكتبوا لأبي شاه» سے کیا مراد ہے، وہ بولے: یہی خطبہ ہے جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثني يحيى، - يعني ابن ابي كثير - عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال لما فتح الله تعالى على رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة قام رسول الله صلى الله عليه وسلم فيهم فحمد الله واثنى عليه ثم قال " ان الله حبس عن مكة الفيل وسلط عليها رسوله والمومنين وانما احلت لي ساعة من النهار ثم هي حرام الى يوم القيامة لا يعضد شجرها ولا ينفر صيدها ولا تحل لقطتها الا لمنشد " . فقام عباس او قال قال العباس يا رسول الله الا الاذخر فانه لقبورنا وبيوتنا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا الاذخر " . قال ابو داود وزادنا فيه ابن المصفى عن الوليد فقام ابو شاه - رجل من اهل اليمن - فقال يا رسول الله اكتبوا لي . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اكتبوا لابي شاه " . قلت للاوزاعي ما قوله " اكتبوا لابي شاه " . قال هذه الخطبة التي سمعها من رسول الله صلى الله عليه وسلم
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی واقعہ مروی ہے اس میں اتنا زائد ہے «لا يختلى خلاها» ( اور اس کے پودے نہ کاٹے جائیں ) ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن مجاهد، عن طاوس، عن ابن عباس، في هذه القصة قال " ولا يختلى خلاها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں ایک گھر یا عمارت نہ بنا دیں جو آپ کو دھوپ سے سایہ دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں یہ ( منیٰ ) اس کی جائے قیام ہے جو یہاں پہلے پہنچ جائے۱؎ ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا اسراييل، عن ابراهيم بن مهاجر، عن يوسف بن ماهك، عن امه، عن عايشة، قالت قلت يا رسول الله الا نبني لك بمنى بيتا او بناء يظلك من الشمس فقال " لا انما هو مناخ من سبق اليه
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حرم میں غلہ روک کر رکھنا اس میں الحاد ( کج روی ) ہے ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا ابو عاصم، عن جعفر بن يحيى بن ثوبان، اخبرني عمارة بن ثوبان، حدثني موسى بن باذان، قال اتيت يعلى بن امية فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " احتكار الطعام في الحرم الحاد فيه