Loading...

Loading...
کتب
۳۲۵ احادیث
بکر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا: کیا وجہ ہے کہ اس گھر کے لوگ نبیذ ( کھجور کا شربت ) پلاتے ہیں اور آپ کے چچا کے بیٹے ( قریش ) دودھ، شہد اور ستو پلاتے ہیں؟ کیا یہ لوگ بخیل یا محتاج ہیں؟ ابن عباس نے کہا: نہ ہم بخیل ہیں اور نہ محتاج، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز اپنی سواری پر بیٹھ کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کو کچھ مانگا تو نبیذ پیش کیا گیا، آپ نے اس میں سے پیا اور باقی ماندہ اسامہ رضی اللہ عنہ کو دے دیا، تو انہوں نے بھی اس میں سے پیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا اور خوب کیا ایسے ہی کیا کرو ، تو ہم اسی کو اختیار کئے ہوئے ہیں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا، اسے ہم بدلنا نہیں چاہتے۔
حدثنا عمرو بن عون، حدثنا خالد، عن حميد، عن بكر بن عبد الله، قال قال رجل لابن عباس ما بال اهل هذا البيت يسقون النبيذ وبنو عمهم يسقون اللبن والعسل والسويق ابخل بهم ام حاجة فقال ابن عباس ما بنا من بخل ولا بنا من حاجة ولكن دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم على راحلته وخلفه اسامة بن زيد فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بشراب فاتي بنبيذ فشرب منه ودفع فضله الى اسامة بن زيد فشرب منه ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " احسنتم واجملتم كذلك فافعلوا " . فنحن هكذا لا نريد ان نغير ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبدالرحمٰن بن حمید سے روایت ہے کہ انہوں نے عمر بن عبدالعزیز کو سائب بن یزید سے پوچھتے سنا: کیا آپ نے مکہ میں رہائش اختیار کرنے کے سلسلے میں کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے ابن حضرمی نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مہاجرین کے لیے حج کے احکام سے فراغت کے بعد تین دن تک مکہ میں ٹھہرنے کی اجازت ہے ۱؎ ۔
حدثنا القعنبي، حدثنا عبد العزيز، - يعني الدراوردي - عن عبد الرحمن بن حميد، انه سمع عمر بن عبد العزيز، يسال السايب بن يزيد هل سمعت في الاقامة، بمكة شييا قال اخبرني ابن الحضرمي، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " للمهاجرين اقامة بعد الصدر ثلاثا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اسامہ بن زید، عثمان بن طلحہ حجبی اور بلال رضی اللہ عنہم کعبہ میں داخل ہوئے، پھر ان لوگوں نے اسے بند کر لیا، اور اس میں رکے رہے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے جب وہ باہر آئے تو پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا؟ وہ بولے: آپ نے ایک ستون اپنے بائیں طرف اور دو ستون دائیں طرف اور تین ستون اپنے پیچھے کیا ( اس وقت بیت اللہ چھ ستونوں پر قائم تھا ) پھر آپ نے نماز پڑھی۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل الكعبة هو واسامة بن زيد وعثمان بن طلحة الحجبي وبلال فاغلقها عليه فمكث فيها قال عبد الله بن عمر فسالت بلالا حين خرج ماذا صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال جعل عمودا عن يساره وعمودين عن يمينه وثلاثة اعمدة وراءه - وكان البيت يوميذ على ستة اعمدة - ثم صلى
اس سند سے بھی مالک سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ستونوں کا ذکر نہیں، البتہ اتنا اضافہ ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، آپ کے اور قبلے کے درمیان تین ہاتھ کا فاصلہ تھا ۔
حدثنا عبد الله بن محمد بن اسحاق الاذرمي، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن مالك، بهذا الحديث لم يذكر السواري قال ثم صلى وبينه وبين القبلة ثلاثة اذرع
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قعنبی کی حدیث کے ہم مثل روایت کی ہے اس میں اس طرح ہے کہا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعتیں پڑھیں؟ ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعنى حديث القعنبي . قال ونسيت ان اساله كم صلى
عبدالرحمٰن بن صفوان کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا جرير، عن يزيد بن ابي زياد، عن مجاهد، عن عبد الرحمن بن صفوان، قال قلت لعمر بن الخطاب كيف صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم حين دخل الكعبة قال صلى ركعتين
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ آئے تو آپ نے کعبہ میں داخل ہونے سے انکار کیا کیونکہ اس میں بت رکھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ نکال دیئے گئے، اس میں ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی تصویریں بھی تھیں، وہ اپنے ہاتھوں میں فال نکالنے کے تیر لیے ہوئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ انہیں ہلاک کرے، اللہ کی قسم انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ان دونوں ( ابراہیم اور اسماعیل ) نے کبھی بھی فال نہیں نکالا ، وہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس کے گوشوں اور کونوں میں تکبیرات بلند کیں، پھر بغیر نماز پڑھے نکل آئے۔
حدثنا ابو معمر عبد الله بن عمرو بن ابي الحجاج، حدثنا عبد الوارث، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم لما قدم مكة ابى ان يدخل البيت وفيه الالهة فامر بها فاخرجت قال فاخرج صورة ابراهيم واسماعيل وفي ايديهما الازلام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قاتلهم الله والله لقد علموا ما استقسما بها قط " . قال ثم دخل البيت فكبر في نواحيه وفي زواياه ثم خرج ولم يصل فيه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری خواہش تھی کہ میں بیت اللہ میں داخل ہو کر اس میں نماز پڑھوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حطیم میں داخل کر دیا، اور فرمایا: جب تم بیت اللہ میں داخل ہونا چاہو تو حطیم کے اندر نماز پڑھ لیا کرو کیونکہ یہ بھی بیت اللہ ہی کا ایک ٹکڑا ہے، تمہاری قوم کے لوگوں نے جب کعبہ تعمیر کیا تو اسی پر اکتفا کیا تو لوگوں نے اسے بیت اللہ سے خارج ہی کر دیا ۱؎ ۔
حدثنا القعنبي، حدثنا عبد العزيز، عن علقمة، عن امه، عن عايشة، انها قالت كنت احب ان ادخل البيت فاصلي فيه فاخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدي فادخلني في الحجر فقال " صلي في الحجر اذا اردت دخول البيت فانما هو قطعة من البيت فان قومك اقتصروا حين بنوا الكعبة فاخرجوه من البيت
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے نکلے اور آپ خوش تھے پھر میرے پاس آئے اور آپ غمگین تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کعبے کے اندر گیا اگر مجھے وہ بات پہلے معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی ۱؎ تو میں اس میں داخل نہ ہوتا، مجھے اندیشہ ہے کہ میں نے اپنی امت کو زحمت میں ڈال دیا ہے ۲؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الله بن داود، عن اسماعيل بن عبد الملك، عن عبد الله بن ابي مليكة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج من عندها وهو مسرور ثم رجع الى وهو كييب فقال " اني دخلت الكعبة ولو استقبلت من امري ما استدبرت ما دخلتها اني اخاف ان اكون قد شققت على امتي
اسلمیہ کہتی ہیں کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا ۱؎: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو بلایا تو آپ سے کیا کہا؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں یہ بتانا بھول گیا کہ مینڈھے ۲؎ کی دونوں سینگوں کو چھپا دو اس لیے کہ کعبہ میں کوئی چیز ایسی رہنی مناسب نہیں ہے جو نماز پڑھنے والے کو غافل کر دے ۔
حدثنا ابن السرح، وسعيد بن منصور، ومسدد، قالوا حدثنا سفيان، عن منصور الحجبي، حدثني خالي، عن امي، صفية بنت شيبة قالت سمعت الاسلمية، تقول قلت لعثمان ما قال لك رسول الله صلى الله عليه وسلم حين دعاك قال " اني نسيت ان امرك ان تخمر القرنين فانه ليس ينبغي ان يكون في البيت شىء يشغل المصلي " . قال ابن السرح خالي مسافع بن شيبة
شیبہ بن عثمان کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس جگہ بیٹھے جہاں تم بیٹھے ہو اور کہا: میں باہر نہیں نکلوں گا جب تک کہ کعبہ کا مال ۱؎ ( محتاج مسلمانوں میں ) تقسیم نہ کر دوں، میں نے کہا: آپ ایسا نہیں کر سکتے، فرمایا: کیوں نہیں، میں ضرور کروں گا، میں نے کہا: آپ ایسا نہیں کر سکتے، وہ بولے: کیوں؟ میں نے کہا: اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال کی جگہ دیکھی، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی دیکھ رکھی تھی، اور وہ دونوں اس مال کے آپ سے زیادہ حاجت مند تھے لیکن انہوں نے اسے نہیں نکالا، یہ سن کر عمر کھڑے ہوئے اور باہر نکل آئے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي، عن الشيباني، عن واصل الاحدب، عن شقيق، عن شيبة، - يعني ابن عثمان - قال قعد عمر بن الخطاب - رضى الله عنه - في مقعدك الذي انت فيه فقال لا اخرج حتى اقسم مال الكعبة . قال قلت ما انت بفاعل . قال بلى لافعلن . قال قلت ما انت بفاعل . قال لم قلت لان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد راى مكانه وابو بكر - رضى الله عنه - وهما احوج منك الى المال فلم يخرجاه . فقام فخرج
زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیّۃ ۱؎ سے لوٹے اور بیری کے درخت کے پاس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرن اسود ۲؎ کے دامن میں اس کے بالمقابل کھڑے ہوئے پھر اپنی نگاہ سے نخب ۳؎ کا استقبال کیا ( اور راوی نے کبھی ( «نخبا» کے بجائے «واديه» کا لفظ کہا ) اور ٹھہر گئے تو سارے لوگ ٹھہر گئے تو فرمایا: صیدوج ۴؎ اور اس کے درخت محترم ہیں، اللہ کی طرف سے محترم قرار دیئے گئے ہیں ، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طائف میں اترنے اور ثقیف کا محاصرہ کرنے سے پہلے کی بات ہے۔
حدثنا حامد بن يحيى، حدثنا عبد الله بن الحارث، عن محمد بن عبد الله بن انسان الطايفي، عن ابيه، عن عروة بن الزبير، عن الزبير، قال لما اقبلنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من لية حتى اذا كنا عند السدرة وقف رسول الله صلى الله عليه وسلم في طرف القرن الاسود حذوها فاستقبل نخبا ببصره وقال مرة واديه ووقف حتى اتقف الناس كلهم ثم قال " ان صيد وج وعضاهه حرام محرم لله " . وذلك قبل نزوله الطايف وحصاره لثقيف
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کجاوے صرف تین ہی مسجدوں کے لیے کسے جائیں: مسجد الحرام، میری اس مسجد ( یعنی مسجد نبوی ) اور مسجد اقصی کے لیے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تشد الرحال الا الى ثلاثة مساجد مسجد الحرام ومسجدي هذا والمسجد الاقصى
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوائے قرآن کے اور اس کے جو اس صحیفے ۱؎ میں ہے کچھ نہیں لکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ حرام ہے عائر سے ثور تک ( عائر اور ثور دو پہاڑ ہیں ) ، جو شخص مدینہ میں کوئی بدعت ( نئی بات ) نکالے، یا نئی بات نکالنے والے کو پناہ اور ٹھکانا دے تو اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ کوئی نفل، مسلمانوں کا ذمہ ( عہد ) ایک ہے ( مسلمان سب ایک ہیں اگر کوئی کسی کو امان دیدے تو وہ سب کی طرف سے ہو گی ) اس ( کو نبھانے ) کی ادنی سے ادنی شخص بھی کوشش کرے گا، لہٰذا جو کسی مسلمان کی دی ہوئی امان کو توڑے تو اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ نفل، اور جو اپنے مولی کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے ولاء کرے ۲؎ اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض قبول ہو گا اور نہ نفل ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن الاعمش، عن ابراهيم التيمي، عن ابيه، عن علي، - رضى الله عنه - قال ما كتبنا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم الا القران وما في هذه الصحيفة . قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المدينة حرام ما بين عاير الى ثور فمن احدث حدثا او اوى محدثا فعليه لعنة الله والملايكة والناس اجمعين لا يقبل منه عدل ولا صرف وذمة المسلمين واحدة يسعى بها ادناهم فمن اخفر مسلما فعليه لعنة الله والملايكة والناس اجمعين لا يقبل منه عدل ولا صرف ومن والى قوما بغير اذن مواليه فعليه لعنة الله والملايكة والناس اجمعين لا يقبل منه عدل ولا صرف
علی رضی اللہ عنہ سے اس قصے میں روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ( یعنی مدینہ ) کی نہ گھاس کاٹی جائے، نہ اس کا شکار بھگایا جائے، اور نہ وہاں کی گری پڑی چیزوں کو اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کی پہچان کرائے، کسی شخص کے لیے درست نہیں کہ وہ وہاں لڑائی کے لیے ہتھیار لے جائے، اور نہ یہ درست ہے کہ وہاں کا کوئی درخت کاٹا جائے سوائے اس کے کہ کوئی آدمی اپنے اونٹ کو چارہ کھلائے ۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا عبد الصمد، حدثنا همام، حدثنا قتادة، عن ابي حسان، عن علي، - رضى الله عنه - في هذه القصة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يختلى خلاها ولا ينفر صيدها ولا تلتقط لقطتها الا لمن اشاد بها ولا يصلح لرجل ان يحمل فيها السلاح لقتال ولا يصلح ان يقطع منها شجرة الا ان يعلف رجل بعيره
عدی بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے ہر جانب ایک ایک برید محفوظ کر دیا ہے ۱؎ نہ وہاں کا درخت کاٹا جائے گا اور نہ پتے توڑے جائیں گے مگر اونٹ کے چارے کے لیے ( بہ قدر ضرورت ) ۔
حدثنا محمد بن العلاء، ان زيد بن الحباب، حدثهم حدثنا سليمان بن كنانة، مولى عثمان بن عفان اخبرنا عبد الله بن ابي سفيان، عن عدي بن زيد، قال حمى رسول الله صلى الله عليه وسلم كل ناحية من المدينة بريدا بريدا لا يخبط شجره ولا يعضد الا ما يساق به الجمل
سلیمان بن ابی عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک شخص کو پکڑا جو مدینہ کے حرم میں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم قرار دیا ہے شکار کر رہا تھا، سعد نے اس سے اس کے کپڑے چھین لیے تو اس کے سات ( ۷ ) لوگوں نے آ کر ان سے اس کے بارے میں گفتگو کی، آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرم قرار دیا ہے اور فرمایا ہے: جو کسی کو اس میں شکار کرتے پکڑے تو چاہیئے کہ وہ اس کے کپڑے چھین لے ، لہٰذا میں تمہیں وہ سامان نہیں دوں گا جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دلایا ہے البتہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس کی قیمت دے دوں گا۔
حدثنا ابو سلمة، حدثنا جرير، - يعني ابن حازم - حدثني يعلى بن حكيم، عن سليمان بن ابي عبد الله، قال رايت سعد بن ابي وقاص اخذ رجلا يصيد في حرم المدينة الذي حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلبه ثيابه فجاء مواليه فكلموه فيه فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حرم هذا الحرم وقال " من وجد احدا يصيد فيه فليسلبه ثيابه " . فلا ارد عليكم طعمة اطعمنيها رسول الله صلى الله عليه وسلم ولكن ان شيتم دفعت اليكم ثمنه
سعد رضی اللہ عنہ کے غلام سے روایت ہے کہ سعد نے مدینہ کے غلاموں میں سے کچھ غلاموں کو مدینہ کے درخت کاٹتے پایا تو ان کے اسباب چھین لیے اور ان کے مالکوں سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منع کرتے سنا ہے کہ مدینہ کا کوئی درخت نہ کاٹا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو کوئی اس میں کچھ کاٹے تو جو اسے پکڑے اس کا اسباب چھین لے ۱؎ ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا ابن ابي ذيب، عن صالح، مولى التوامة عن مولى، لسعد ان سعدا، وجد عبيدا من عبيد المدينة يقطعون من شجر المدينة فاخذ متاعهم وقال - يعني لمواليهم - سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى ان يقطع من شجر المدينة شىء وقال " من قطع منه شييا فلمن اخذه سلبه
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم سے نہ درخت کاٹے جائیں اور نہ پتے توڑے جائیں البتہ نرمی سے جھاڑ لیے جائیں ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن حفص ابو عبد الرحمن القطان، حدثنا محمد بن خالد، اخبرني خارجة بن الحارث الجهني، اخبرني ابي، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يخبط ولا يعضد حمى رسول الله صلى الله عليه وسلم ولكن يهش هشا رفيقا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء پیدل اور سوار ( دونوں طرح سے ) آتے تھے ابن نمیر کی روایت میں اور دو رکعت پڑھتے تھے ( کا اضافہ ہے ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، ح وحدثنا عثمان بن ابي شيبة، عن ابن نمير، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان ياتي قباء ماشيا وراكبا زاد ابن نمير ويصلي ركعتين