Loading...

Loading...
کتب
۳۲۵ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر جب بھی کوئی سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں ۔
حدثنا محمد بن عوف، حدثنا المقري، حدثنا حيوة، عن ابي صخر، حميد بن زياد عن يزيد بن عبد الله بن قسيط، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما من احد يسلم على الا رد الله على روحي حتى ارد عليه السلام
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ۱؎ اور میری قبر کو میلا نہ بناؤ ( کہ سب لوگ وہاں اکٹھا ہوں ) ، اور میرے اوپر درود بھیجا کرو کیونکہ تم جہاں بھی رہو گے تمہارا درود مجھے پہنچایا جائے گا ۔
حدثنا احمد بن صالح، قرات على عبد الله بن نافع اخبرني ابن ابي ذيب، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تجعلوا بيوتكم قبورا ولا تجعلوا قبري عيدا وصلوا على فان صلاتكم تبلغني حيث كنتم
ربیعہ بن ہدیر کہتے ہیں کہ میں نے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو سوائے اس ایک حدیث کے کوئی اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے نہیں سنا، میں نے عرض کیا: وہ کون سی حدیث ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، آپ شہداء کی قبروں کا ارادہ رکھتے تھے جب ہم حرۂ واقم ( ایک ٹیلے کا نام ہے ) پر چڑھے اور اس پر سے اترے تو دیکھا کہ وادی کے موڑ پر کئی قبریں ہیں، ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ہمارے بھائیوں کی قبریں یہی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے صحابہ کی قبریں ہیں ۱؎ ، جب ہم شہداء کی قبروں کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں ۲؎ ۔
حدثنا حامد بن يحيى، حدثنا محمد بن معن المديني، اخبرني داود بن خالد، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن ربيعة، - يعني ابن الهدير - قال ما سمعت طلحة بن عبيد الله، يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا قط غير حديث واحد . قال قلت وما هو قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يريد قبور الشهداء حتى اذا اشرفنا على حرة واقم فلما تدلينا منها واذا قبور بمحنية قال قلنا يا رسول الله اقبور اخواننا هذه قال " قبور اصحابنا " . فلما جينا قبور الشهداء قال " هذه قبور اخواننا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحاء میں جو ذی الحلیفہ میں ہے اونٹ بٹھایا اور وہاں نماز پڑھی، چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اناخ بالبطحاء التي بذي الحليفة فصلى بها فكان عبد الله بن عمر يفعل ذلك
مالک کہتے ہی جب کوئی مدینہ واپس لوٹے اور معرس پہنچے تو اس کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ آگے بڑھے جب تک کہ نماز نہ پڑھ لے جتنا اس کا جی چاہے اس لیے کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں رات کو قیام کیا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسحاق مدنی کو کہتے سنا: معرس مدینہ سے چھ میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے۔
حدثنا القعنبي، قال قال مالك لا ينبغي لاحد ان يجاوز المعرس اذا قفل راجعا الى المدينة حتى يصلي فيها ما بدا له لانه بلغني ان رسول الله صلى الله عليه وسلم عرس به . قال ابو داود سمعت محمد بن اسحاق المدني قال المعرس على ستة اميال من المدينة