احادیث
#1999
سنن ابی داؤد - The Rites of Hajj
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری وہ رات جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے یوم النحر کی شام تھی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اتنے میں وہب بن زمعہ اور ان کے ساتھ ابوامیہ کی اولاد کا ایک شخص دونوں قمیص پہنے میرے یہاں آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہب سے پوچھا: ابوعبداللہ! کیا تم نے طواف افاضہ کر لیا؟ وہ بولے: قسم اللہ کی! نہیں اللہ کے رسول، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنی قمیص اتار دو ، چنانچہ انہوں نے اپنی قمیص اپنے سر سے اتار دی اور ان کے ساتھی نے بھی اپنے سر سے اپنی قمیص اتار دی پھر بولے: اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ دن ہے کہ جب تم جمرہ کو کنکریاں مار لو تو تمہارے لیے وہ تمام چیزیں حلال ہو جائیں گی جو تمہارے لیے حالت احرام میں حرام تھیں سوائے عورتوں کے، پھر جب شام کر لو اور بیت اللہ کا طواف نہ کر سکو تو تمہارا احرام باقی رہے گا، اسی طرح جیسے رمی جمرات سے پہلے تھا یہاں تک کہ تم اس کا طواف کر لو ۔
حدثنا احمد بن حنبل، ويحيى بن معين، - المعنى واحد - قالا حدثنا ابن ابي عدي، عن محمد بن اسحاق، حدثنا ابو عبيدة بن عبد الله بن زمعة، عن ابيه، وعن امه، زينب بنت ابي سلمة عن ام سلمة، - يحدثانه جميعا ذاك عنها - قالت كانت ليلتي التي يصير الى فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم مساء يوم النحر فصار الى ودخل على وهب بن زمعة ومعه رجل من ال ابي امية متقمصين فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لوهب " هل افضت ابا عبد الله " . قال لا والله يا رسول الله . قال صلى الله عليه وسلم " انزع عنك القميص " . قال فنزعه من راسه ونزع صاحبه قميصه من راسه ثم قال ولم يا رسول الله قال " ان هذا يوم رخص لكم اذا انتم رميتم الجمرة ان تحلوا " . يعني من كل ما حرمتم منه الا النساء " فاذا امسيتم قبل ان تطوفوا هذا البيت صرتم حرما كهييتكم قبل ان ترموا الجمرة حتى تطوفوا به
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- The Rites of Hajj
- Hadith Index
- #1999
- Book Index
- 279
Grades
- Al-AlbaniHasan Sahih
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
