Loading...

Loading...
کتب
۱۰۷ احادیث
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کی ایک لونڈی کو صدقہ کی ایک بکری ملی تھی جو مری پڑی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اس بکری کے پاس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے اس کی کھال کیوں نہیں اتار لی کہ اسے دباغت دے کر کام میں لے آتے ؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو مردار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف اس کا کھانا حرام ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، عن ميمونة، ان شاة، لمولاة ميمونة مر بها - يعني النبي صلى الله عليه وسلم - قد اعطيتها من الصدقة ميتة فقال " هلا اخذوا اهابها فدبغوه فانتفعوا به " . فقالوا يا رسول الله انها ميتة . قال " انما حرم اكلها
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ امہات المؤمنین میں سے کسی ایک کے پاس ایک بکری تھی جو مر گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر گزر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ اس کی کھال کو کام میں لے آتے تو اس کے مالکوں کو کوئی نقصان نہ ہوتا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن ليث، عن شهر بن حوشب، عن سلمان، قال كان لبعض امهات المومنين شاة فماتت فمر رسول الله صلى الله عليه وسلم عليها فقال " ما ضر اهل هذه لو انتفعوا باهابها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: جب مردہ جانوروں کی کھال کو دباغت دے دی جائے، تو لوگ ا سے فائدہ اٹھائیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا خالد بن مخلد، عن مالك بن انس، عن يزيد بن قسيط، عن محمد بن عبد الرحمن، عن امه، عن عايشة، قالت امر رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يستمتع بجلود الميتة اذا دبغت
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب آیا کہ مردار کی کھال اور پٹھوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ ۱؎۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا جرير، عن منصور، ح وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، عن الشيباني، ح وحدثنا ابو بكر، حدثنا غندر، عن شعبة، كلهم عن الحكم، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن عبد الله بن عكيم، قال اتانا كتاب النبي صلى الله عليه وسلم " ان لا تنتفعوا من الميتة باهاب ولا عصب
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیوں کے دو تسمے تھے، جو آگے سے دہرے ہوتے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن خالد الحذاء، عن عبد الله بن الحارث، عن عبد الله بن العباس، قال كان لنعل النبي صلى الله عليه وسلم قبالان مثني شراكهما
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیوں کے دو تسمے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، عن همام، عن قتادة، عن انس، قال كان لنعل النبي صلى الله عليه وسلم قبالان
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جوتا پہنے تو دائیں پیر سے شروع کرے، اور اتارے تو پہلے بائیں پیر سے اتارے ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا وكيع، عن شعبة، عن محمد بن زياد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا انتعل احدكم فليبدا باليمنى واذا خلع فليبدا باليسرى
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی شخص ایک جوتا یا ایک موزہ پہن کر نہ چلے، یا تو دونوں جوتے اور موزے اتار دے یا پھر دونوں جوتے اور موزے پہن لے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن ابن عجلان، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يمشي احدكم في نعل واحد ولا خف واحد ليخلعهما جميعا او ليمش فيهما جميعا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ينتعل الرجل قايما
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے جوتا پہننے سے منع فرمایا۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم ان ينتعل الرجل قايما
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نجاشی ( اصحمہ بن بحر ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو کالے اور چمڑے کے سادہ موزے تحفہ میں بھیجے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہنا۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا وكيع، حدثنا دلهم بن صالح الكندي، عن حجير بن عبد الله الكندي، عن ابن بريدة، عن ابيه، ان النجاشي، اهدى لرسول الله صلى الله عليه وسلم خفين ساذجين اسودين فلبسهما
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے، تو تم ان کی مخالفت کرو ( یعنی خضاب لگاؤ ) ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، سمع ابا سلمة، وسليمان بن يسار، يخبران عن ابي هريرة، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان اليهود والنصارى لا يصبغون فخالفوهم
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالوں کی سفیدی بدلنے کے لیے سب سے بہترین چیز مہندی اور کتم ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن الاجلح، عن عبد الله بن بريدة، عن ابي الاسود الديلي، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان احسن ما غيرتم به الشيب الحناء والكتم
عثمان بن موہب کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بال نکال کر مجھے دکھایا، جو مہندی اور کتم سے رنگا ہوا تھا۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا سلام بن ابي مطيع، عن عثمان بن موهب، قال دخلت على ام سلمة . قال فاخرجت الى شعرا من شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم مخضوبا بالحناء والكتم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، اس وقت ان کے بال سفید گھاس کی طرح تھے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں ان کی کسی عورت کے پاس لے جاؤ کہ وہ انہیں بدل دے ( یعنی خضاب لگا دے ) ، لیکن کالے خضاب سے انہیں بچاؤ ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن ليث، عن ابي الزبير، عن جابر، قال جيء بابي قحافة يوم الفتح الى النبي صلى الله عليه وسلم وكان راسه ثغامة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذهبوا به الى بعض نسايه فلتغيره وجنبوه السواد
صہیب الخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو خضاب تم لگاتے ہو ان میں بہترین کالا خضاب ہے، اس سے عورتیں تمہاری طرف زیادہ راغب ہوتی ہیں، اور تمہارے دشمنوں کے دلوں میں تمہاری ہیبت زیادہ بیٹھتی ہے ۔
حدثنا ابو هريرة الصيرفي، محمد بن فراس حدثنا عمر بن الخطاب بن زكريا الراسبي، حدثنا دفاع بن دغفل السدوسي، عن عبد الحميد بن صيفي، عن ابيه، عن جده، صهيب الخير قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان احسن ما اختضبتم به لهذا السواد ارغب لنسايكم فيكم واهيب لكم في صدور عدوكم
عبید بن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: میں آپ کو اپنی داڑھی ورس سے زرد ( پیلی ) کرتے دیکھتا ہوں؟، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں اس لیے زرد ( پیلی ) کرتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی داڑھی زرد ( پیلی ) کرتے دیکھا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن عبيد الله بن عمر، عن سعيد بن ابي سعيد، ان عبيد بن جريج، سال ابن عمر قال رايتك تصفر لحيتك بالورس فقال ابن عمر اما تصفيري لحيتي فاني رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصفر لحيته
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس ہوا جس نے مہندی کا خضاب لگا رکھا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کتنا اچھا ہے ، پھر آپ ایک دوسرے شخص کے پاس سے گزرے جس نے مہندی اور کتم ( وسمہ ) کا خضاب لگایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس سے اچھا ہے ! پھر آپ کا گزر ایک دوسرے کے پاس ہوا جس نے زرد خضاب لگا رکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ان سب سے اچھا اور بہتر ہے ۔ ابن طاؤس کہتے ہیں کہ اسی لیے طاؤس بالوں کو زرد خضاب کیا کرتے تھے
حدثنا ابو بكر، حدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا محمد بن طلحة، عن حميد بن وهب، عن ابن طاوس، عن طاوس، عن ابن عباس، قال مر النبي صلى الله عليه وسلم على رجل قد خضب بالحناء فقال " ما احسن هذا " . ثم مر باخر قد خضب بالحناء والكتم فقال " هذا احسن من هذا " . ثم مر باخر قد خضب بالصفرة فقال " هذا احسن من هذا كله " . قال وكان طاوس يصفر
ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ بال یعنی داڑھی بچہ سفید دیکھی۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابو داود، حدثنا زهير، عن ابي اسحاق، عن ابي جحيفة، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم هذه منه بيضاء . يعني عنفقته
حمید کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب لگایا ہے؟ کہا: میں نے آپ کی داڑھی میں سفید بال دیکھے ہی نہیں سوائے ان سترہ یا بیس بالوں کے جو آپ کی داڑھی کے سامنے والے حصے میں تھے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا خالد بن الحارث، وابن ابي عدي، عن حميد، قال سيل انس بن مالك اخضب رسول الله صلى الله عليه وسلم قال انه لم ير من الشيب الا نحو سبعة عشر او عشرين شعرة في مقدم لحيته