Loading...

Loading...
کتب
۱۰۷ احادیث
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مردوں کے لیے ) ریشم اور سونا پہننے سے منع کیا، اور فرمایا: یہ ان ( کافروں ) کے لیے دنیا میں ہے اور ہمارے لیے آخرت میں ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن شعبة، عن الحكم، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن حذيفة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن لبس الحرير والذهب وقال " هو لهم في الدنيا ولنا في الاخرة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ریشم کا ایک سرخ جوڑا دیکھا تو کہا: اللہ کے رسول! اگر آپ اس جوڑے کو وفود سے ملنے کے لیے اور جمعہ کے دن پہننے کے لیے خرید لیتے تو اچھا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، ان عبد الله بن عمر، اخبره ان عمر بن الخطاب راى حلة سيراء من حرير فقال يا رسول الله لو ابتعت هذه الحلة للوفد وليوم الجمعة . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما يلبس هذا من لا خلاق له في الاخرة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر بن عوام اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کو اس تکلیف کی وجہ سے جو انہیں کھجلی کی وجہ سے تھی، ریشم کے کرتے پہننے کی اجازت دی۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، . ان انس بن مالك، نباهم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رخص للزبير بن العوام ولعبد الرحمن بن عوف في قميصين من حرير من وجع كان بهما حكة
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ خالص ریشمی کپڑے ( حریر و دیباج ) کے استعمال سے منع فرماتے تھے سوائے اس کے جو اس قدر ریشمی ہوتا، پھر انہوں نے اپنی ایک انگلی، پھر دوسری پھر تیسری پھر چوتھی انگلی سے اشارہ کیا ۱؎ پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس سے منع کرتے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا حفص بن غياث، عن عاصم، عن ابي عثمان، عن عمر، انه كان ينهى عن الحرير، والديباج، الا ما كان هكذا ثم اشار باصبعه ثم الثانية ثم الثالثة ثم الرابعة فقال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهانا عنه
اسماء رضی اللہ عنہا کے غلام ابوعمر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے ایک عمامہ خریدا جس میں گوٹے بنے تھے، پھر قینچی منگا کر انہیں کتر دیا ۱؎، میں اسماء رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے کہا: تعجب ہے عبداللہ پر، ( ایک اپنی خادمہ کو پکار کر کہا: ) اے لڑکی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ لے آ، چنانچہ وہ ایک ایسا جبہ لے کر آئی جس کی دونوں آستینوں، گریبان اور کلیوں کے دامن پر ریشمی گوٹے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن مغيرة بن زياد، عن ابي عمر، مولى اسماء قال رايت ابن عمر اشترى عمامة لها علم فدعا بالجلمين فقصه فدخلت على اسماء فذكرت ذلك لها فقالت بوسا لعبد الله يا جارية هاتي جبة رسول الله صلى الله عليه وسلم . فجاءت بجبة مكفوفة الكمين والجيب والفرجين بالديباج
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ میں ریشم اور دائیں ہاتھ میں سونا لیا، اور دونوں کو ہاتھ میں اٹھائے فرمایا: یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام، اور عورتوں کے لیے حلال ہیں ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن محمد بن اسحاق، عن يزيد بن ابي حبيب، عن عبد العزيز بن ابي الصعبة، عن ابي الافلح الهمداني، عن عبد الله بن زرير الغافقي، سمعته يقول سمعت علي بن ابي طالب، يقول اخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم حريرا بشماله وذهبا بيمينه ثم رفع بهما يديه فقال " ان هذين حرام على ذكور امتي حل لاناثهم
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی ( جوڑا ) تحفہ میں آیا جس کے تانے یا بانے میں ریشم ملا ہوا تھا، آپ نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس کا کیا کروں؟ کیا میں اسے پہنوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اسے فاطماؤں کی اوڑھنیاں بنا دو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن يزيد بن ابي زياد، عن ابي فاختة، حدثني هبيرة بن يريم، عن علي، انه اهدي لرسول الله صلى الله عليه وسلم حلة مكفوفة بحرير اما سداوها واما لحمتها فارسل بها الى فاتيته فقلت يا رسول الله ما اصنع بها البسها قال " لا ولكن اجعلها خمرا بين الفواطم
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس گھر سے نکل کر آئے، آپ کے ایک ہاتھ میں ریشم کا کپڑا، اور دوسرے میں سونا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام، اور عورتوں کے لیے حلال ہیں ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن الافريقي، عن عبد الرحمن بن رافع، عن عبد الله بن عمرو، قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي احدى يديه ثوب من حرير وفي الاخرى ذهب فقال " ان هذين محرم على ذكور امتي حل لاناثهم
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی زینب رضی اللہ عنہا کو سرخ دھاری دار ریشمی کرتا پہنے دیکھا۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا عيسى بن يونس، عن معمر، عن الزهري، عن انس، قال رايت على زينب بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم قميص حرير سيراء
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت بال جھاڑے اور سنوارے ہوئے سرخ جوڑے میں ملبوس کسی کو نہیں دیکھا
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، عن شريك بن عبد الله القاضي، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال ما رايت اجمل من رسول الله صلى الله عليه وسلم مترجلا في حلة حمراء
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے دیکھا، اتنے میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما دونوں لال قمیص پہنے ہوئے آ گئے کبھی گرتے تھے کبھی اٹھتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( منبر سے ) اترے، دونوں کو اپنی گود میں اٹھا لیا، اور فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کا قول سچ ہے: «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» بلاشبہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں ، میں نے ان دونوں کو دیکھا تو صبر نہ کر سکا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ شروع کر دیا ۱؎۔
حدثنا ابو عامر عبد الله بن عامر بن براد بن يوسف بن ابي بردة بن ابي موسى الاشعري، حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا حسين بن واقد، قاضي مرو حدثني عبد الله بن بريدة، ان اباه، حدثه قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب فاقبل حسن وحسين عليهما قميصان احمران يعثران ويقومان فنزل النبي صلى الله عليه وسلم فاخذهما فوضعهما في حجره فقال " صدق الله ورسوله {انما اموالكم واولادكم فتنة} رايت هذين فلم اصبر " . ثم اخذ في خطبته
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مفدم» سے منع کیا ہے، یزید کہتے ہیں کہ میں نے حسن سے پوچھا: «مفدم» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جو کپڑا «کسم» میں رنگنے سے خوب پیلا ہو جائے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، عن يزيد بن ابي زياد، عن الحسن بن سهيل، عن ابن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المفدم . قال يزيد قلت للحسن ما المفدم قال المشبع بالعصفر
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیلے رنگ کے کپڑے پہننے سے روکا، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن اسامة بن زيد، عن عبد الله بن حنين، قال سمعت عليا، يقول نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم - ولا اقول نهاكم - عن لبس المعصفر
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم اذاخر ۱؎ کے موڑ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے، آپ میری طرف متوجہ ہوئے، میں باریک چادر پہنے ہوئے تھا جو کسم کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کیا ہے ؟ میں آپ کی اس ناگواری کو بھانپ گیا، چنانچہ میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا، وہ اس وقت اپنا تنور گرم کر رہے تھے، میں نے اسے اس میں ڈال دیا، دوسری صبح میں آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ! چادر کیا ہوئی ؟ میں نے آپ کو ساری بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اپنی کسی گھر والی کو کیوں نہیں پہنا دی؟ اس لیے کہ اسے پہننے میں عورتوں کے لیے کوئی مضائقہ نہیں ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا عيسى بن يونس، عن هشام بن الغاز، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال اقبلنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من ثنية اذاخر فالتفت الى وعلى ريطة مضرجة بالعصفر فقال " ما هذه " . فعرفت ما كره فاتيت اهلي وهم يسجرون تنورهم فقذفتها فيه ثم اتيته من الغد فقال " يا عبد الله ما فعلت الريطة " . فاخبرته فقال " الا كسوتها بعض اهلك فانه لا باس بذلك للنساء
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو ہم نے آپ کے لیے پانی رکھا تاکہ آپ اس سے ٹھنڈے ہوں، آپ نے اس سے غسل فرمایا، پھر میں آپ کے پاس ایک پیلی چادر لے کر آیا، ( اس کو آپ نے پہنا ) تو میں نے آپ کے پیٹ کی سلوٹوں پر ورس کا نشان دیکھا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن ابن ابي ليلى، عن محمد بن عبد الرحمن، عن محمد بن شرحبيل، عن قيس بن سعد، قال اتانا النبي صلى الله عليه وسلم فوضعنا له ماء يتبرد به فاغتسل ثم اتيته بملحفة صفراء فرايت اثر الورس على عكنه
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ پیو، صدقہ و خیرات کرو، اور پہنو ہر وہ لباس جس میں اسراف و تکبر ( فضول خرچی اور گھمنڈ ) کی ملاوٹ نہ ہو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا همام، عن قتادة، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كلوا واشربوا وتصدقوا والبسوا ما لم يخالطه اسراف او مخيلة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے شہرت کا لباس پہنا اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا ۔
حدثنا محمد بن عبادة، ومحمد بن عبد الملك الواسطيان، قالا حدثنا يزيد بن هارون، انبانا شريك، عن عثمان بن ابي زرعة، عن مهاجر، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لبس ثوب شهرة البسه الله يوم القيامة ثوب مذلة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے دنیا میں شہرت کا لباس پہنا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ذلت کا لباس پہنائے گا، پھر اس میں آگ بھڑکائے گا۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا ابو عوانة، عن عثمان بن المغيرة، عن المهاجر، عن عبد الله بن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لبس ثوب شهرة في الدنيا البسه الله ثوب مذلة يوم القيامة ثم الهب فيه نارا
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے شہرت کی خاطر لباس پہنا، اللہ تعالیٰ اس سے منہ پھیر لے گا یہاں تک کہ اسے اس جگہ رکھے گا جہاں اسے رکھنا ہے ( یعنی جہنم میں ) ۔
حدثنا العباس بن يزيد البحراني، حدثنا وكيع بن محرز الناجي، حدثنا عثمان بن جهم، عن زر بن حبيش، عن ابي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من لبس ثوب شهرة اعرض الله عنه حتى يضعه متى وضعه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ہر وہ کھال جسے دباغت دے دی گئی ہو پاک ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن زيد بن اسلم، عن عبد الرحمن بن وعلة، عن ابن عباس، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ايما اهاب دبغ فقد طهر