Loading...

Loading...
کتب
۱۰۷ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی جس میں نقش و نگار تھے، تو آپ صلی اللہعلیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان بیل بوٹوں نے غافل کر دیا، اسے ابوجہم کو کے پاس لے کر جاؤ اور مجھے ان کی انبجانی چادر لا کر دے دو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في خميصة لها اعلام فقال " شغلني اعلام هذه اذهبوا بها الى ابي جهم وايتوني بانبجانيته
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے ایک موٹے کپڑے کا تہبند نکالا جو یمن میں تیار کیا جاتا ہے، اور ان چادروں میں سے ایک چادر جنہیں ملبدہ ( موٹا ارزاں کمبل ) کہا جاتا ہے، نکالا اور قسم کھا کر مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں میں وفات پائی ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، اخبرني سليمان بن المغيرة، عن حميد بن هلال، عن ابي بردة، قال دخلت على عايشة فاخرجت لي ازارا غليظا من التي تصنع باليمن وكساء من هذه الاكسية التي تدعى الملبدة واقسمت لي لقبض رسول الله صلى الله عليه وسلم فيهما
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چادر میں نماز پڑھی جس میں آپ نے گرہ لگا رکھی تھی۔
حدثنا احمد بن ثابت الجحدري، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الاحوص بن حكيم، عن خالد بن معدان، عن عبادة بن الصامت، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى في شملة قد عقد عليها
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ کے جسم پر موٹے کنارے والی نجرانی چادر تھی۔
حدثنا يونس بن عبد الاعلى، حدثنا ابن وهب، حدثنا مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، قال كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم وعليه رداء نجراني غليظ الحاشية
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی کو برا بھلا کہا ہو یا آپ کا کپڑا تہ کیا جاتا رہا ہو۔
حدثنا عبد القدوس بن محمد، حدثنا بشر بن عمر، حدثنا ابن لهيعة، حدثنا ابو الاسود، عن عاصم بن عمر بن قتادة، عن علي بن الحسين، عن عايشة، قالت ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يسب احدا ولا يطوى له ثوب
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں «بردہ» ( چادر ) لے کر آئی ( ابوحازم نے پوچھا«بردہ» کیا چیز ہے؟ ان کے شیخ نے کہا: «بردہ» شملہ ہے جسے اوڑھا جاتا ہے ) اور کہا: اللہ کے رسول! اسے میں نے اپنے ہاتھ سے بنا ہے تاکہ میں آپ کو پہناؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا کیونکہ آپ کو اس کی ضرورت تھی، پھر آپ اسے پہن کر کے ہمارے درمیان نکل کر آئے، یہی آپ کا تہبند تھا، پھر فلاں کا بیٹا فلاں آیا ( اس شخص کا نام حدیث بیان کرنے کے دن سہل نے لیا تھا لیکن ابوحازم اسے بھول گئے ) اور عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ چادر کتنی اچھی ہے، یہ آپ مجھے پہنا دیجئیے، فرمایا: ٹھیک ہے ، پھر جب آپ اندر گئے تو اسے ( اتار کر ) تہ کیا، اور اس کے پاس بھجوا دی، لوگوں نے اس سے کہا: اللہ کی قسم! تم نے اچھا نہیں کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نے اس لیے پہنائی تھی کہ آپ کو اس کی حاجت تھی، پھر بھی تم نے اسے آپ سے مانگ لیا، حالانکہ تمہیں معلوم تھا کہ آپ کسی سائل کو نامراد واپس نہیں کرتے تو اس شخص نے جواب دیا: اللہ کی قسم! میں نے آپ سے اسے پہننے کے لیے نہیں مانگا ہے بلکہ اس لیے مانگا ہے کہ وہ میرا کفن ہو، سہل کہتے ہیں: جب وہ مرے تو یہی چادر ان کا کفن تھی ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن ابيه، عن سهل بن سعد الساعدي، ان امراة، جاءت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم ببردة - قال وما البردة قال الشملة - قالت يا رسول الله اني نسجت هذه بيدي لاكسوكها . فاخذها رسول الله صلى الله عليه وسلم محتاجا اليها فخرج علينا فيها وانها لازاره فجاء فلان بن فلان - رجل سماه يوميذ - فقال يا رسول الله ما احسن هذه البردة اكسنيها . قال " نعم " . فلما دخل طواها وارسل بها اليه فقال له القوم والله ما احسنت كسيها النبي صلى الله عليه وسلم محتاجا اليها ثم سالته اياها وقد علمت انه لا يرد سايلا . فقال اني والله ما سالته اياها لالبسها ولكن سالته اياها لتكون كفني . فقال سهل فكانت كفنه يوم مات
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اون کا ( سادہ اور موٹا ) لباس پہنا ہے، مرمت شدہ جوتا پہنا ہے اور انتہائی موٹا کپڑا زیب تن فرمایا ہے۔
حدثنا يحيى بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي، حدثنا بقية بن الوليد، عن يوسف بن ابي كثير، عن نوح بن ذكوان، عن الحسن، عن انس، قال لبس رسول الله صلى الله عليه وسلم الصوف واحتذى المخصوف ولبس ثوبا خشنا خشنا
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نیا کپڑا پہنا تو یہ دعا پڑھی: «الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي» یعنی: اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں، اور اپنی زندگی میں زینت حاصل کرتا ہوں ، پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا کہ جو شخص نیا کپڑا پہنے اور یہ دعا پڑھے: «الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي»یعنی اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں اور اپنی زندگی میں زینت حاصل کرتا ہوں ، پھر وہ اس کپڑے کو جو اس نے اتارا، یا جو پرانا ہو گیا صدقہ کر دے، تو وہ اللہ کی حفظ و امان اور حمایت میں رہے گا، زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، قال حدثنا اصبغ بن زيد، حدثنا ابو العلاء، عن ابي امامة، قال لبس عمر بن الخطاب ثوبا جديدا فقال الحمد لله الذي كساني ما اواري به عورتي واتجمل به في حياتي ثم قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من لبس ثوبا جديدا فقال الحمد لله الذي كساني ما اواري به عورتي واتجمل به في حياتي . ثم عمد الى الثوب الذي اخلق او القى فتصدق به كان في كنف الله وفي حفظ الله وفي ستر الله حيا وميتا " . قالها ثلاثا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو ایک سفید قمیص پہنے دیکھا تو پوچھا: تمہارا یہ کپڑا دھویا ہوا ہے یا نیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، یہ دھویا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «البس جديدا وعش حميدا ومت شهيدا» نیا لباس، قابل تعریف زندگی، اور شہادت کی موت نصیب ہو ۔
حدثنا الحسين بن مهدي، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى على عمر قميصا ابيض فقال " ثوبك هذا غسيل ام جديد " . قال لا بل غسيل . قال " البس جديدا وعش حميدا ومت شهيدا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے منع فرمایا ہے، ایک «اشتمال صماء» ۱؎ سے، دوسرے ایک کپڑے میں «احتباء» ۲؎ سے کہ اس کی شرمگاہ پر کچھ نہ ہو
حدثنا ابو بكر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي سعيد الخدري، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن لبستين فاما اللبستان فاشتمال الصماء والاحتباء في الثوب الواحد ليس على فرجه منه شىء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے منع فرمایا: «اشتمال صماء» سے اور ایک کپڑے میں«احتباء» سے، کہ شرمگاہ آسمان کی طرف کھلی رہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، وابو اسامة عن عبيد الله بن عمر، عن خبيب بن عبد الرحمن، عن حفص بن عاصم، عن ابي هريرة، . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن لبستين عن اشتمال الصماء وعن الاحتباء في الثوب الواحد يفضي بفرجه الى السماء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے منع فرمایا: «اشتمال صماء» سے، اور ایک کپڑے میں«احتباء» سے، کہ تم اپنی شرمگاہ کو آسمان کی طرف کھولے رہو۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، وابو اسامة عن سعد بن سعيد، عن عمرة، عن عايشة، قالت نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن لبستين اشتمال الصماء والاحتباء في ثوب واحد وانت مفض فرجك الى السماء
ابوبردہ اپنے والد ابوموسیٰ اشعری سے روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! کاش تم ہم کو اس وقت دیکھتے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب ہم پر آسمان سے بارش ہوتی تو تم خیال کرتے کہ ہماری بو بھیڑ کی بو جیسی ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا الحسن بن موسى، عن شيبان، عن قتادة، عن ابي بردة، عن ابيه، قال قال لي يا بنى لو شهدتنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اصابتنا السماء لحسبت ان ريحنا ريح الضان
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اون کا بنا ہوا تنگ آستین والا رومی جبہ پہنے ہمارے پاس تشریف لائے، اور اسی میں ہمیں نماز پڑھائی، اس کے علاوہ آپ پر کوئی اور لباس نہ تھا۔
حدثنا محمد بن عثمان بن كرامة، حدثنا ابو اسامة، حدثنا الاحوص بن حكيم، عن خالد بن معدان، عن عبادة بن الصامت، قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم وعليه جبة رومية من صوف ضيقة الكمين فصلى بنا فيها ليس عليه شىء غيرها
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا، پھر اون والے جبہ کو جو آپ پہنے ہوئے تھے الٹ دیا، اور اس سے اپنا چہرہ پونچھا۔
حدثنا العباس بن الوليد الدمشقي، واحمد بن الازهر، قالا حدثنا مروان بن محمد، حدثنا يزيد بن السمط، حدثني الوضين بن عطاء، عن محفوظ بن علقمة، عن سلمان الفارسي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا فقلب جبة صوف كانت عليه فمسح بها وجهه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بکریوں کے کانوں میں داغتے دیکھا، اور میں نے آپ کو چادر کا تہبند پہنے دیکھا۔
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا موسى بن الفضل، عن شعبة، عن هشام بن زيد، عن انس بن مالك، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يسم غنما في اذانها ورايته متزرا بكساء
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بہترین کپڑے سفید کپڑے ہیں، لہٰذا انہیں کو پہنو اور اپنے مردوں کو انہیں میں کفناؤ ۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا عبد الله بن رجاء المكي، عن ابن خثيم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير ثيابكم البياض فالبسوها وكفنوا فيها موتاكم
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید کپڑے پہنو کہ یہ زیادہ پاکیزہ اور عمدہ لباس ہیں ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ميمون بن ابي شبيب، عن سمرة بن جندب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " البسوا ثياب البياض فانها اطهر واطيب
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر لباس جس کو پہن کر تم اپنی قبروں اور مسجدوں میں اللہ کی زیارت کرتے ہو، سفید لباس ہے ۔
حدثنا محمد بن حسان الازرق، حدثنا عبد المجيد بن ابي رواد، حدثنا مروان بن سالم، عن صفوان بن عمرو، عن شريح بن عبيد الحضرمي، عن ابي الدرداء، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان احسن ما زرتم الله به في قبوركم ومساجدكم البياض
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے کپڑے فخر و غرور سے گھسیٹے گا، اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف قیامت کے دن نہیں دیکھے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، ح وحدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن نمير، جميعا عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الذي يجر ثوبه من الخيلاء لا ينظر الله اليه يوم القيامة