Loading...

Loading...
کتب
۱۰۷ احادیث
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے غرور و تکبر سے اپنا تہبند گھسیٹا، اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف قیامت کے روز نہیں دیکھے گا ۔ عطیہ کہتے ہیں کہ مقام بلاط میں میری ملاقات ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہوئی تو میں نے ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بیان کی جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کر کے کہا: اسے میرے کانوں نے بھی سنا ہے، اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عطية، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من جر ازاره من الخيلاء لم ينظر الله اليه يوم القيامة " . قال فلقيت ابن عمر بالبلاط فذكرت له حديث ابي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم فقال واشار الى اذنيه سمعته اذناى ووعاه قلبي
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس سے قریش کا ایک جوان اپنی چادر لٹکائے ہوئے گزرا، آپ نے اس سے کہا: میرے بھتیجے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس نے غرور و تکبر سے اپنے کپڑے گھسیٹے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال مر بابي هريرة فتى من قريش يجر سبله فقال يا ابن اخي اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من جر ثوبه من الخيلاء لم ينظر الله له يوم القيامة
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پنڈلی کے نیچے کا پٹھا پکڑا اور فرمایا: تہبند کا مقام یہ ہے، اگر تم اتنا نہ کر سکو تو اس سے تھوڑا نیچے رکھو، اور اگر اتنا بھی نہ رکھ سکو تو اور نیچے رکھو، لیکن اگر اتنا بھی نہ کر سکو تو تمہیں ٹخنوں سے نیچے تہبند رکھنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن مسلم بن نذير، عن حذيفة، قال اخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم باسفل عضلة ساقي او ساقه فقال " هذا موضع الازار فان ابيت . فاسفل فان ابيت فاسفل فان ابيت فلا حق للازار في الكعبين " . حدثنا علي بن محمد، حدثنا سفيان بن عيينة، حدثني ابو اسحاق، عن مسلم بن نذير، عن حذيفة، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تہبند کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مومن کا تہبند اس کی آدھی پنڈلی تک ہوتا ہے، اور اگر وہ اس کے اور ٹخنوں کے درمیان کسی بھی جگہ تک رکھے تو بھی کوئی حرج نہیں، لیکن جو ٹخنوں سے نیچے ہو وہ حصہ جہنم میں ہو گا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا جو اپنا تہبند تکبر کی وجہ سے گھسیٹے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا سفيان بن عيينة، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، قال قلت لابي سعيد هل سمعت من، رسول الله صلى الله عليه وسلم شييا في الازار قال نعم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ازرة المومن الى انصاف ساقيه لا جناح عليه ما بينه وبين الكعبين وما اسفل من الكعبين في النار " . يقول ثلاثا " لا ينظر الله الى من جر ازاره بطرا
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفیان بن سہل! ( ٹخنہ کے نیچے ) تہبند نہ لٹکاؤ کہ اللہ تعالیٰ تہبند لٹکانے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا شريك، عن عبد الملك بن عمير، عن حصين بن قبيصة، عن المغيرة بن شعبة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا سفيان بن سهل لا تسبل فان الله لا يحب المسبلين
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ( قمیص ) سے بڑھ کر کوئی لباس محبوب اور پسندیدہ نہ تھا ۱؎۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم الدورقي، حدثنا ابو تميلة، عن عبد المومن بن خالد، عن ابن بريدة، عن امه، عن ام سلمة، قالت لم يكن ثوب احب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم من القميص
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اسبال»: تہبند، کرتے ( قمیص ) اور عمامہ ( پگڑی ) میں ہوتا ہے جو اسے محض تکبر اور غرور کے سبب گھسیٹے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف قیامت کے روز نہیں دیکھے گا ۱؎۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ یہ کتنی غریب روایت ہے
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا الحسين بن علي، عن ابن ابي رواد، عن سالم، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الاسبال في الازار والقميص والعمامة من جر شييا خيلاء لم ينظر الله اليه يوم القيامة " . قال ابو بكر ما اغربه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قمیص پہنتے جس کی آستین چھوٹی اور لمبائی بھی کم ہوتی تھی۔
حدثنا احمد بن عثمان بن حكيم الاودي، حدثنا ابو غسان، قال حدثنا حسن بن صالح، ح وحدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا ابي، عن الحسن بن صالح، عن مسلم، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبس قميصا قصير اليدين والطول
قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے بیعت کی، اس وقت آپ کے کرتے کی گھنڈیاں کھلی ہوئی تھیں، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے کو خواہ سردی ہو یا گرمی ہمیشہ اپنی گھنڈیاں ( بٹن ) کھولے دیکھا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا ابن دكين، عن زهير، عن عروة بن عبد الله بن قشير، حدثني معاوية بن قرة، عن ابيه، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فبايعته وان زر قميصه لمطلق . قال عروة فما رايت معاوية ولا ابنه في شتاء ولا صيف الا مطلقة ازرارهما
سوید بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے ہم سے پاجامے کا مول بھاؤ ( سودا ) کیا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا وكيع، ح وحدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى، وعبد الرحمن، قالوا حدثنا سفيان، عن سماك بن حرب، عن سويد بن قيس، قال اتانا النبي صلى الله عليه وسلم فساومنا سراويل
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: عورت اپنے کپڑے کا دامن کتنا لٹکا سکتی ہے؟ فرمایا: ایک بالشت میں نے عرض کیا: اتنے میں تو پاؤں کھل جائے گا، تو فرمایا: ایک ہاتھ، اس سے زیادہ نہیں ۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا المعتمر بن سليمان، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن سليمان بن يسار، عن ام سلمة، قالت سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم كم تجر المراة من ذيلها قال " شبرا " . قلت اذا ينكشف عنها . قال ذراع لا تزيد عليه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو کپڑوں کے دامن ایک ہاتھ لٹکانے کی اجازت تھی، چنانچہ جب وہ ہمارے پاس آتیں تو ہم ان کے لیے لکڑی سے ایک ہاتھ کا ناپ بنا کر دیتے۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان، عن زيد العمي، عن ابي الصديق الناجي، عن ابن عمر، ان ازواج النبي، صلى الله عليه وسلم رخص لهن في الذيل ذراعا فكن ياتينا فنذرع لهن بالقصب ذراعا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ یا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اپنے کپڑے کا دامن ایک ہاتھ کا رکھو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا حماد بن سلمة، عن ابي المهزم، عن ابي هريرة، . ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لفاطمة او لام سلمة " ذيلك ذراع
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے دامن کے سلسلے میں فرمایا: ایک بالشت کا ہو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ اتنے میں تو پنڈلی کھل جائے گی؟ فرمایا: تو پھر ایک ہاتھ ہو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عفان، حدثنا عبد الوارث، حدثنا حبيب المعلم، عن ابي المهزم، عن ابي هريرة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال في ذيول النساء " شبرا " . فقالت عايشة اذا تخرج سوقهن . قال " فذراع
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر خطبہ دیتے دیکھا، آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن مساور الوراق، عن جعفر بن عمرو بن حريث، عن ابيه، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يخطب على المنبر وعليه عمامة سوداء
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں ( فتح کے دن ) داخل ہوئے، تو آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، حدثنا حماد بن سلمة، عن ابي الزبير، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل مكة وعليه عمامة سوداء
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے، آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبيد الله، انبانا موسى بن عبيدة، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل يوم فتح مكة وعليه عمامة سوداء
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، اور آ پ کے سر پر کالی پگڑی ہے جس کے دونوں کناروں کو آپ اپنے دونوں شانوں کے درمیان لٹکائے ہوئے ہیں
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن مساور، حدثني جعفر بن عمرو بن حريث، عن ابيه، قال كاني انظر الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليه عمامة سوداء قد ارخى طرفيها بين كتفيه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے دنیا میں ریشمی کپڑا پہنا، وہ آخرت میں نہیں پہن سکے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لبس الحرير في الدنيا لم يلبسه في الاخرة
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مردوں کے لیے ) دیباج، حریر اور استبرق ( موٹا ریشمی کپڑا ) پہننے سے منع کیا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، عن الشيباني، عن اشعث بن ابي الشعثاء، عن معاوية بن سويد، عن البراء، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الديباج والحرير والاستبرق