Loading...

Loading...
کتب
۱۰۷ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑھاپا تقریباً ً بیس بال کا تھا ۱؎۔
حدثنا محمد بن عمر بن الوليد الكندي، حدثنا يحيى بن ادم، عن شريك، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان شيب رسول الله صلى الله عليه وسلم نحو عشرين شعرة
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں ( فتح کے روز ) داخل ہوئے، تو آپ کے سر میں چار چوٹیاں تھیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، قال قالت ام هاني دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة وله اربع غداير . تعني ضفاير
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اہل کتاب اپنے بالوں کو پیشانی پر لٹکائے رکھتے تھے، اور مشرکین مانگ نکالا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی پیشانی پر بال لٹکائے رکھتے، پھر بعد میں آپ مانگ نکالنے لگے
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن ادم، عن ابراهيم بن سعد، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، قال كان اهل الكتاب يسدلون اشعارهم وكان المشركون يفرقون وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحب موافقة اهل الكتاب . قال فسدل رسول الله صلى الله عليه وسلم ناصيته ثم فرق بعد
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر چندیا کے پچھلے حصے میں مانگ نکالتی تھی اور سامنے کے بال پیشانی پر لٹکتے چھوڑ دیتی تھی۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسحاق بن منصور، عن ابراهيم بن سعد، عن ابن اسحاق، عن يحيى بن عباد، عن ابيه، عن عايشة، قالت كنت افرق خلف يافوخ رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم اسدل ناصيته
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال دونوں کانوں اور مونڈھوں کے درمیان سیدھے تھے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا جرير بن حازم، عن قتادة، عن انس، قال كان شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم شعرا رجلا بين اذنيه ومنكبيه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مونڈھوں سے اوپر اور کانوں سے نیچے ہوتے تھے۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا ابن ابي فديك، عن عبد الرحمن بن ابي الزناد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان لرسول الله صلى الله عليه وسلم شعر دون الجمة وفوق الوفرة
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ میرے بال لمبے ہیں تو فرمایا: منحوس ہے منحوس ، یہ سن کر میں چلا آیا، اور میں نے بالوں کو چھوٹا کیا، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: میں نے تم کو نہیں کہا تھا، ویسے یہ بال زیادہ اچھے ہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا معاوية بن هشام، وسفيان بن عقبة، عن سفيان، عن عاصم بن كليب، عن ابيه، عن وايل بن حجر، قال راني النبي صلى الله عليه وسلم ولي شعر طويل فقال " ذباب ذباب " . فانطلقت فاخذته فراني النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اني لم اعنك وهذا احسن
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا۔ راوی نے کہا: «قزع» کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: بچے کے سر کے بال ایک جگہ کے کاٹ دئیے جائیں، اور دوسری جگہ کے چھوڑ دئیے جائیں، اسے «قزع» کہتے ہیں۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وعلي بن محمد، قالا حدثنا ابو اسامة، عن عبيد الله بن عمر، عن عمر بن نافع، عن نافع، عن ابن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن القزع . قال وما القزع قال ان يحلق من راس الصبي مكان ويترك مكان
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع» سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شبابة، حدثنا شعبة، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن القزع
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی، پھر اس میں «محمد رسول الله» نقش کرایا، اور فرمایا: میری انگوٹھی کا یہ نقش کوئی اور نہ کرائے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ايوب بن موسى، عن نافع، عن ابن عمر، قال اتخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم خاتما من ورق ثم نقش فيه محمد رسول الله فقال " لا ينقش احد على نقش خاتمي هذا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی، اور فرمایا: ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں نقش کرایا ہے، لہٰذا اب اس طرح کوئی اور نقش نہ کرائے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك، قال اصطنع رسول الله صلى الله عليه وسلم خاتما فقال " انا قد اصطنعنا خاتما ونقشنا فيه نقشا فلا ينقشن عليه احد
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اس میں ایک حبشی نگینہ تھا، اور اس میں «محمد رسول الله» کا نقش تھا۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا يونس، عن الزهري، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتخذ خاتما من فضة له فص حبشي ونقشه محمد رسول الله
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا عبد الله بن نمير، عن عبيد الله، عن نافع بن جبير، مولى علي عن علي، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن التختم بالذهب
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی ( پہننے ) سے منع فرمایا۔
حدثنا ابو بكر، حدثنا علي بن مسهر، عن يزيد بن ابي زياد، عن الحسن بن سهيل، عن ابن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن خاتم الذهب
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نجاشی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک چھلا بطور ہدیہ بھیجا، اس میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی، انگوٹھی میں حبشی نگینہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکڑی سے چھوا، آپ اس سے اعراض کر رہے تھے، یا پھر اپنی ایک انگلی سے چھوا، اور اپنی نواسی امامہ بنت ابی العاص کو بلا کر فرمایا: بیٹی! اسے تم پہن لو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، عن محمد بن اسحاق، عن يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن ابيه، عن عايشة ام المومنين، قالت اهدى النجاشي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم حلقة فيها خاتم ذهب فيه فص حبشي فاخذه رسول الله صلى الله عليه وسلم بعود وانه لمعرض عنه او ببعض اصابعه ثم دعا ابنة ابنته امامة بنت ابي العاص فقال " تحلى بهذا يا بنية
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگوٹھی کے نگینے کو ہتھیلی کی جانب رکھتے تھے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ايوب بن موسى، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يجعل فص خاتمه مما يلي كفه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی پہنی، اس میں حبشی نگینہ تھا، آپ اپنے نگینے کو اپنی ہتھیلی کے اندر کی جانب رکھتے تھے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا اسماعيل بن ابي اويس، حدثني سليمان بن بلال، عن يونس بن يزيد الايلي، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لبس خاتم فضة فيه فص حبشي كان يجعل فصه في بطن كفه
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، عن ابراهيم بن الفضل، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، عن عبد الله بن جعفر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يتختم في يمينه
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرمایا کہ میں اس میں اور اس میں انگوٹھی پہنوں، یعنی چھنگلی اور انگوٹھے میں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن عاصم، عن ابي بردة، عن علي، قال نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اتختم في هذه وفي هذه يعني الخنصر والابهام
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس گھر میں فرشتے نہیں داخل ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، عن ابي طلحة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تدخل الملايكة بيتا فيه كلب ولا صورة