Loading...

Loading...
کتب
۴۷ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے رشتہ توڑنے کی قسم کھائی، یا کسی ایسی چیز کی قسم کھائی جو درست نہیں، تو اس قسم کا پورا کرنا یہ ہے کہ اسے چھوڑ دے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن نمير، عن حارثة بن ابي الرجال، عن عمرة، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف في قطيعة رحم او فيما لا يصلح فبره ان لا يتم على ذلك
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے قسم کھائی، پھر اس کے خلاف کرنا اس سے بہتر سمجھا، تو قسم توڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے ۔
حدثنا عبد الله بن عبد المومن الواسطي، حدثنا عون بن عمارة، حدثنا روح بن القاسم، عن عبيد الله بن عمر، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، . ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من حلف على يمين فراى غيرها خيرا منها فليتركها فان تركها كفارتها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجور کفارہ میں دی، میں لوگوں کو اسی کا حکم دیتا ہوں، تو جس کسی کے پاس ایک صاع کھجور نہ ہو تو آدھا صاع گیہوں دے ۱؎۔
حدثنا العباس بن يزيد، حدثنا زياد بن عبد الله البكايي، حدثنا عمر بن عبد الله بن يعلى الثقفي، عن المنهال بن عمرو، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال كفر رسول الله صلى الله عليه وسلم بصاع من تمر وامر الناس بذلك فمن لم يجد فنصف صاع من بر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بعض آدمی اپنے گھر والوں کو ایسا کھانا دیتے ہیں جس میں فراخی ہوتی ہے، اور بعض آدمی تنگی کے ساتھ دیتے ہیں تب یہ آیت اتری: «من أوسط ما تطعمون أهليكم» مسکینوں کو وہ کھانا دو جو درمیانی قسم کا اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن سليمان بن ابي المغيرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال كان الرجل يقوت اهله قوتا فيه سعة وكان الرجل يقوت اهله قوتا فيه شدة فنزلت {من اوسط ما تطعمون اهليكم}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ اللہ کے رسول ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی قسم پر اصرار کرے، تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کفارے سے زیادہ گنہگار ہو گا، جس کی ادائیگی کا اسے حکم دیا گیا ہے ۱؎۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا محمد بن حميد المعمري، عن معمر، عن همام، قال سمعت ابا هريرة، يقول قال ابو القاسم صلى الله عليه وسلم " اذا استلج احدكم في اليمين فانه اثم له عند الله من الكفارة التي امر بها " . حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا يحيى بن صالح الوحاظي، حدثنا معاوية بن سلام، عن يحيى بن ابي كثير، عن عكرمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قسم دینے والے کی قسم پوری کرنے کا حکم دیا ہے۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن علي بن صالح، عن اشعث بن ابي الشعثاء، عن معاوية بن سويد بن مقرن، عن البراء بن عازب، قال امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بابرار المقسم
عبدالرحمٰن بن صفوان یا صفوان بن عبدالرحمٰن قرشی کہتے ہیں کہ جس دن مکہ فتح ہوا، وہ اپنے والد کو لے کر آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد کو ہجرت کے ثواب سے ایک حصہ دلوائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب ہجرت نہیں ہے، آخر وہ چلا گیا، اور عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: آپ نے مجھے پہچانا؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر عباس رضی اللہ عنہ ایک قمیص پہنے ہوئے نکلے ان پر چادر بھی نہ تھی عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھ میں اور فلاں شخص میں جو تعلقات ہیں وہ آپ کو معلوم ہیں، اور وہ اپنے والد کو لے کر آیا ہے تاکہ آپ اس سے ہجرت پہ بیعت کر لیں ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب ہجرت نہیں رہی ، عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو قسم دیتا ہوں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا، اور اس کا ہاتھ چھو لیا، اور فرمایا: میں نے اپنے چچا کی قسم پوری کی، لیکن ہجرت تو نہیں رہی ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن فضيل، عن يزيد بن ابي زياد، عن مجاهد، عن عبد الرحمن بن صفوان، او عن صفوان بن عبد الرحمن القرشي، قال لما كان يوم فتح مكة جاء بابيه فقال يا رسول الله اجعل لابي نصيبا في الهجرة . فقال " انه لا هجرة " . فانطلق فدخل على العباس فقال قد عرفتني فقال اجل . فخرج العباس في قميص ليس عليه رداء فقال يا رسول الله قد عرفت فلانا والذي بيننا وبينه جاء بابيه ليبايعك على الهجرة . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " انه لا هجرة " . فقال العباس اقسمت عليك . فمد النبي صلى الله عليه وسلم يده فمس يده فقال " ابررت عمي ولا هجرة " . حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا الحسن بن الربيع، عن عبد الله بن ادريس، عن يزيد بن ابي زياد، باسناده نحوه . قال يزيد بن ابي زياد يعني لا هجرة من دار قد اسلم اهلها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص قسم کھائے تو «ما شاء الله وشئت» جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں نہ کہے، بلکہ یوں کہے: «ما شاء الله ثم شئت» جو اللہ چاہے پھر آپ چاہیں ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا الاجلح الكندي، عن يزيد بن الاصم، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا حلف احدكم فلا يقل ما شاء الله وشيت . ولكن ليقل ما شاء الله ثم شيت
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ وہ اہل کتاب کے ایک شخص سے ملا تو اس نے کہا: تم کیا ہی اچھے لوگ ہوتے اگر شرک نہ کرتے، تم کہتے ہو: جو اللہ چاہے اور محمد چاہیں، اس مسلمان نے یہ خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس بات کو جانتا ہوں ( کہ ایسا کہنے میں شرک کی بو ہے ) ۔ لہٰذا تم «ما شاء الله ثم شاء محمد» جو اللہ چاہے پھر محمد چاہیں کہو ۱؎۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الملك بن عمير، عن ربعي بن حراش، عن حذيفة بن اليمان، ان رجلا، من المسلمين راى في النوم انه لقي رجلا من اهل الكتاب فقال نعم القوم انتم لولا انكم تشركون تقولون ما شاء الله وشاء محمد . وذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " اما والله ان كنت لاعرفها لكم قولوا ما شاء الله ثم شاء محمد " . حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا ابو عوانة، عن عبد الملك، عن ربعي بن حراش، عن الطفيل بن سخبرة، اخي عايشة لامها عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه
سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہونے کے ارادے سے نکلے، اور ہمارے ساتھ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان کو ان کے ایک دشمن نے پکڑ لیا، تو لوگوں نے قسم کھانے میں حرج محسوس کیا، آخر میں نے قسم کھائی کہ یہ میرا بھائی ہے، تو اس نے انہیں چھوڑ دیا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور میں نے آپ کو بتایا کہ لوگوں نے قسم کھانے میں حرج محسوس کیا، اور میں نے قسم کھائی کہ یہ میرا بھائی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے سچ کہا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، ح وحدثنا يحيى بن حكيم، عن عبد الرحمن بن مهدي، عن اسراييل، عن ابراهيم بن عبد الاعلى، عن جدته، عن ابيها، سويد بن حنظلة قال خرجنا نريد رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعنا وايل بن حجر فاخذه عدو له فتحرج الناس ان يحلفوا فحلفت انا انه اخي فخلى سبيله فاتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبرته ان القوم تحرجوا ان يحلفوا وحلفت انا انه اخي فقال " صدقت المسلم اخو المسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم کا اعتبار صرف قسم دلانے والے کی نیت پر ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا هشيم، عن عباد بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما اليمين على نية المستحلف
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری قسم اسی مطلب پر واقع ہو گی جس پر تمہارا ساتھی تمہاری تصدیق کرے ۱؎۔
حدثنا عمرو بن رافع، حدثنا هشيم، انبانا عبد الله بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يمينك على ما يصدقك به صاحبك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر سے منع کرتے ہوئے فرمایا: اس سے صرف بخیل کا مال نکالا جاتا ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن منصور، عن عبد الله بن مرة، عن عبد الله بن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن النذر وقال " انما يستخرج به من اللييم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر سے آدمی کو کچھ نہیں ملتا مگر وہ جو اس کے لیے مقدر کر دیا گیا ہے، لیکن آدمی کی تقدیر میں جو ہوتا ہے وہ نذر پر غالب آ جاتا ہے، تو اس نذر سے بخیل کا مال نکالا جاتا ہے، اور اس پہ وہ بات آسان کر دی جاتی ہے، جو پہلے آسان نہ تھی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو مال خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا ۔
حدثنا احمد بن يوسف، حدثنا عبيد الله، عن سفيان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان النذر لا ياتي ابن ادم بشىء الا ما قدر له ولكن يغلبه القدر ما قدر له فيستخرج به من البخيل فيتيسر عليه ما لم يكن يتيسر عليه من قبل ذلك وقد قال الله انفق انفق عليك
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہ ) میں نذر نہیں ہے، اور نہ اس میں نذر ہے جس کا آدمی مالک نہ ہو ۱؎۔
حدثنا سهل بن ابي سهل، حدثنا سفيان بن عيينة، حدثنا ايوب، عن ابي قلابة، عن عمه، عن عمران بن الحصين، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا نذر في معصية ولا نذر فيما لا يملك ابن ادم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت ( گناہ ) میں نذر نہیں ہے، اور ایسی نذر کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح المصري ابو طاهر، حدثنا ابن وهب، انبانا يونس، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا نذر في معصية وكفارته كفارة يمين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانی ہو وہ اس کی اطاعت کرے، اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مانی ہو تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن عبيد الله، عن طلحة بن عبد الملك، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من نذر ان يطيع الله فليطعه ومن نذر ان يعصي الله فلا يعصه
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نذر مانی، اور اس کی تعیین نہ کی تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا اسماعيل بن رافع، عن خالد بن يزيد، عن عقبة بن عامر الجهني، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من نذر نذرا ولم يسمه فكفارته كفارة يمين
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نذر مانی اور اس کی تعیین نہ کی، تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے، اور جس نے ایسی نذر مانی جس کے پورا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے، اور جس نے ایسی نذر مانی جس کے پورا کرنے کی طاقت ہو تو اس کو پورا کرے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الملك بن محمد الصنعاني، حدثنا خارجة بن مصعب، عن بكير بن عبد الله بن الاشج، عن كريب، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من نذر نذرا ولم يسمه فكفارته كفارة يمين ومن نذر نذرا لم يطقه فكفارته كفارة يمين ومن نذر نذرا اطاقه فليف به
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی، پھر اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی نذر پوری کرنے کا حکم دیا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا حفص بن غياث، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، عن عمر بن الخطاب، قال نذرت نذرا في الجاهلية فسالت النبي صلى الله عليه وسلم بعد ما اسلمت فامرني ان اوفي بنذري