Loading...

Loading...
کتب
۴۷ احادیث
رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قسم کھاتے تو یہ فرماتے: «والذي نفس محمد بيده» قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن مصعب، عن الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن هلال بن ابي ميمونة، عن عطاء بن يسار، عن رفاعة الجهني، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا حلف قال " والذي نفس محمد بيده
رفاعہ بن عرابہ جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم جو آپ کھایا کرتے تھے، یوں ہوتی تھی: «والذي نفسي بيده» قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا عبد الملك بن محمد الصنعاني، حدثنا الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن هلال بن ابي ميمونة، عن عطاء بن يسار، عن رفاعة بن عرابة الجهني، قال كانت يمين رسول الله صلى الله عليه وسلم التى يحلف بها اشهد عند الله " والذي نفسي بيده
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم اکثر یوں ہوتی تھی: «لا ومصرف القلوب» قسم ہے اس ذات کی جو دلوں کو پھیرنے والا ہے ۔
حدثنا ابو اسحاق الشافعي، ابراهيم بن محمد بن العباس حدثنا عبد الله بن رجاء المكي، عن عباد بن اسحاق، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابيه، قال كانت اكثر ايمان رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا ومصرف القلوب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم یوں ہوتی تھی: «لا وأستغفر الله» ایسا نہیں ہے، اور میں اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا حماد بن خالد، ح وحدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا معن بن عيسى، جميعا عن محمد بن هلال، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال كانت يمين رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا واستغفر الله
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا: اللہ تمہیں باپ دادا کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے ، اس کے بعد میں نے کبھی باپ دادا کی قسم نہیں کھائی، نہ اپنی طرف سے، اور نہ دوسرے کی نقل کر کے ۱؎۔
حدثنا محمد بن ابي عمر العدني، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، عن عمر بن الخطاب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سمعه يحلف بابيه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله ينهاكم ان تحلفوا بابايكم " . قال عمر فما حلفت بها ذاكرا ولا اثرا
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ طاغوتوں ( بتوں ) کی، اور نہ اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الاعلى، عن هشام، عن الحسن، عن عبد الرحمن بن سمرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تحلفوا بالطواغي ولا بابايكم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قسم کھائی، اور اپنی قسم میں لات اور عزیٰ کی قسم کھائی، تو اسے چاہیئے کہ وہ «لا إله إلا الله» کہے: اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ۱؎۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا عمر بن عبد الواحد، عن الاوزاعي، عن الزهري، عن حميد، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من حلف فقال في يمينه باللات والعزى فليقل لا اله الا الله
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے لات اور عزیٰ کی قسم کھا لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم «لا إله إلا الله وحده لا شريك له» اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں ، پھر اپنے بائیں طرف تین بار تھو تھو کرو، اور «اعوذ باللہ» کہو میں شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں پھر ایسی قسم نہ کھانا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، والحسن بن علي الخلال، قالا حدثنا يحيى بن ادم، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن مصعب بن سعد، عن سعد، قال حلفت باللات والعزى فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قل لا اله الا الله وحده لا شريك له ثم انفث عن يسارك ثلاثا وتعوذ ولا تعد
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام کے سوا کسی اور دین میں چلے جانے کی جھوٹی قسم جان بوجھ کر کھائی، تو وہ ویسے ہی ہو گا جیسا اس نے کہا ۱؎۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابن ابي عدي، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن ثابت بن الضحاك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف بملة سوى الاسلام كاذبا متعمدا فهو كما قال
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا کہ اگر میں ایسا کروں تو یہودی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر یہ قسم واجب ہو گئی ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا بقية، عن عبد الله بن محرر، عن قتادة، عن انس، قال سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يقول انا اذا ليهودي . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وجبت
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کہے اگر ایسا کروں تو اسلام سے بری ہوں، اگر وہ جھوٹا ہے تو ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا، اور اگر وہ اپنی بات میں سچا ہے تو بھی اسلام کی جانب صحیح سالم سے نہیں لوٹے گا ۱؎۔
حدثنا عمرو بن رافع البجلي، حدثنا الفضل بن موسى، عن الحسين بن واقد، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قال اني بريء من الاسلام فان كان كاذبا فهو كما قال وان كان صادقا لم يعد اليه الاسلام سالما
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا: اپنے باپ دادا کی قسمیں نہ کھاؤ، جو شخص اللہ کی قسم کھائے تو چاہیئے کہ وہ سچ کہے، اور جس سے اللہ کی قسم کھا کر کوئی بات کہی جائے تو اس کو راضی ہونا چاہیئے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے نام پہ راضی نہ ہو وہ اللہ سے کچھ تعلق نہیں رکھتا ۱؎۔
حدثنا محمد بن اسماعيل بن سمرة، حدثنا اسباط بن محمد، عن محمد بن عجلان، عن نافع، عن ابن عمر، قال سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يحلف بابيه فقال " لا تحلفوا بابايكم من حلف بالله فليصدق ومن حلف له بالله فليرض ومن لم يرض بالله فليس من الله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: تم نے چوری کی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں اللہ پر ایمان لایا، اور میں نے اپنی آنکھ کو جھٹلا دیا ۱؎۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن ابي بكر بن يحيى بن النضر، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " راى عيسى ابن مريم رجلا يسرق فقال اسرقت قال لا والذي لا اله الا هو . فقال عيسى امنت بالله وكذبت بصري
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم یا تو حنث ( قسم توڑنا ) ہے یا ندامت ( شرمندگی ) ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا ابو معاوية، عن بشار بن كدام، عن محمد بن زيد، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما الحلف حنث او ندم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قسم کھائی، اور «إن شاء الله» کہا، تو اس کا «إن شاء الله» کہنا اسے فائدہ دے گا ۱؎۔
حدثنا العباس بن عبد العظيم العنبري، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف فقال ان شاء الله فله ثنياه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قسم کھائی، اور «إن شاء الله» کہا، تو وہ چاہے قسم کے خلاف کرے، یا قسم کے موافق، حانث یعنی قسم توڑنے والا نہ ہو گا ۔
حدثنا محمد بن زياد، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف واستثنى ان شاء رجع وان شاء ترك غير حانث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس نے قسم کھائی اور «إن شاء الله» کہا، وہ حانث یعنی قسم توڑنے والا نہ ہو گا۔
حدثنا عبد الله بن محمد الزهري، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، رواية قال " من حلف واستثنى فلم يحنث
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اشعری قبیلہ کے چند لوگوں کے ہمراہ آپ سے سواری مانگنے کے لیے حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تم کو سواری نہیں دوں گا، اور میرے پاس سواری ہے بھی نہیں کہ تم کو دوں ، پھر ہم جب تک اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے، پھر آپ کے پاس زکاۃ کے اونٹ آ گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے سفید کوہان والے تین اونٹ دینے کا حکم دیا، جب ہم انہیں لے کر چلے تو ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری مانگنے گئے تو آپ نے قسم کھا لی کہ ہم کو سواری نہ دیں گے، پھر ہم کو سواری دی؟ چلو واپس آپ کے پاس لوٹ چلو، آخر ہم آپ کے پاس آئے اور ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ کے پاس سواری مانگنے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ ہم کو سواری نہ دیں گے، پھر آپ نے ہم کو سواری دے دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے تم کو سواری نہیں دی ہے بلکہ اللہ نے دی ہے، اللہ کی قسم! ان شاءاللہ میں جب کوئی قسم کھاتا ہوں، پھر اس کے خلاف کرنا بہتر سمجھتا ہوں، تو اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں اور جو کام بہتر ہوتا ہے اس کو کرتا ہوں یا یوں فرمایا: جو کام بہتر ہوتا ہے اس کو کرتا ہوں، اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں ۔
حدثنا احمد بن عبدة، انبانا حماد بن زيد، حدثنا غيلان بن جرير، عن ابي بردة، عن ابيه ابي موسى، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في رهط من الاشعريين نستحمله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والله ما احملكم وما عندي ما احملكم عليه " . قال فلبثنا ما شاء الله ثم اتي بابل فامر لنا بثلاثة ابل ذود غر الذرى فلما انطلقنا قال بعضنا لبعض اتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم نستحمله فحلف الا يحملنا ثم حملنا ارجعوا بنا . فاتيناه فقلنا يا رسول الله انا اتيناك نستحملك فحلفت ان لا تحملنا . ثم حملتنا فقال " والله ما انا حملتكم فان الله حملكم والله ما انا حملتكم بل الله حملكم اني والله ان شاء الله لا احلف على يمين فارى غيرها خيرا منها الا كفرت عن يميني واتيت الذي هو خير " . او قال " اتيت الذي هو خير وكفرت عن يميني
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے قسم کھائی، اور اس کے خلاف کرنے کو بہتر سمجھا تو جو بہتر ہو اس کو کرے، اور اپنی قسم کا کفارہ دیدے ۔
حدثنا علي بن محمد، وعبد الله بن عامر بن زرارة، قالا حدثنا ابو بكر بن عياش، عن عبد العزيز بن رفيع، عن تميم بن طرفة، عن عدي بن حاتم، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف على يمين فراى غيرها خيرا منها فليات الذي هو خير وليكفر عن يمينه
مالک جشمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرا چچا زاد بھائی میرے پاس آتا ہے، اور میں قسم کھا لیتا ہوں کہ اس کو کچھ نہ دوں گا، اور نہ ہی اس کے ساتھ صلہ رحمی کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو ۱؎۔
حدثنا محمد بن ابي عمر العدني، حدثنا سفيان بن عيينة، حدثنا ابو الزعراء، عمرو بن عمرو عن عمه ابي الاحوص، عوف بن مالك الجشمي عن ابيه، قال قلت يا رسول الله ياتيني ابن عمي فاحلف ان لا، اعطيه ولا اصله . قال " كفر عن يمينك