احادیث
#2116
سنن ابن ماجہ - Expiation
عبدالرحمٰن بن صفوان یا صفوان بن عبدالرحمٰن قرشی کہتے ہیں کہ جس دن مکہ فتح ہوا، وہ اپنے والد کو لے کر آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد کو ہجرت کے ثواب سے ایک حصہ دلوائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب ہجرت نہیں ہے، آخر وہ چلا گیا، اور عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: آپ نے مجھے پہچانا؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر عباس رضی اللہ عنہ ایک قمیص پہنے ہوئے نکلے ان پر چادر بھی نہ تھی عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھ میں اور فلاں شخص میں جو تعلقات ہیں وہ آپ کو معلوم ہیں، اور وہ اپنے والد کو لے کر آیا ہے تاکہ آپ اس سے ہجرت پہ بیعت کر لیں ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب ہجرت نہیں رہی ، عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو قسم دیتا ہوں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا، اور اس کا ہاتھ چھو لیا، اور فرمایا: میں نے اپنے چچا کی قسم پوری کی، لیکن ہجرت تو نہیں رہی ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن فضيل، عن يزيد بن ابي زياد، عن مجاهد، عن عبد الرحمن بن صفوان، او عن صفوان بن عبد الرحمن القرشي، قال لما كان يوم فتح مكة جاء بابيه فقال يا رسول الله اجعل لابي نصيبا في الهجرة . فقال " انه لا هجرة " . فانطلق فدخل على العباس فقال قد عرفتني فقال اجل . فخرج العباس في قميص ليس عليه رداء فقال يا رسول الله قد عرفت فلانا والذي بيننا وبينه جاء بابيه ليبايعك على الهجرة . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " انه لا هجرة " . فقال العباس اقسمت عليك . فمد النبي صلى الله عليه وسلم يده فمس يده فقال " ابررت عمي ولا هجرة " . حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا الحسن بن الربيع، عن عبد الله بن ادريس، عن يزيد بن ابي زياد، باسناده نحوه . قال يزيد بن ابي زياد يعني لا هجرة من دار قد اسلم اهلها
Metadata
- Edition
- سنن ابن ماجہ
- Book
- Expiation
- Hadith Index
- #2116
- Book Index
- 27
Grades
- Al-AlbaniDaif
- Muhammad Fouad Abd al-BaqiDaif
- Shuaib Al ArnautDaif
- Zubair Ali ZaiDaif
