Loading...

Loading...
کتب
۴۷ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے مقام بوانہ میں قربانی کرنے کی نذر مانی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے دل میں جاہلیت کا کوئی اعتقاد باقی ہے ؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نذر پوری کرو ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، وعبد الله بن اسحاق الجوهري، قالا حدثنا عبد الله بن رجاء، انبانا المسعودي، عن حبيب بن ابي ثابت، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان رجلا، جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اني نذرت ان انحر ببوانة فقال " في نفسك شىء من امر الجاهلية " . قال لا . قال " اوف بنذرك
میمونہ بنت کردم یساریہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی، وہ اس وقت اپنے والد کے پیچھے ایک اونٹ پر بیٹھی تھیں، والد نے کہا: میں نے مقام بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہاں کوئی بت ہے ؟ کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نذر پوری کرو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا مروان بن معاوية، عن عبد الله بن عبد الرحمن الطايفي، عن ميمونة بنت كردم اليسارية، ان اباها، لقي النبي صلى الله عليه وسلم وهي رديفة له فقال اني نذرت ان انحر ببوانة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هل بها وثن " . قال لا . قال " اوف بنذرك " . حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابن دكين، عن عبد الله بن عبد الرحمن، عن يزيد بن مقسم، عن ميمونة بنت كردم، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا کہ میری ماں کے ذمہ ایک نذر تھی وہ مر گئیں، اور اس کو ادا نہ کر سکیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کی جانب سے اسے پوری کر دو ۔
حدثنا محمد بن رمح، انبانا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، ان سعد بن عبادة، استفتى رسول الله صلى الله عليه وسلم في نذر كان على امه توفيت ولم تقضه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقضه عنها
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اس نے کہا: میری ماں کا انتقال ہو گیا، اور ان کے ذمہ روزوں کی نذر تھی، اور وہ اس کی ادائیگی سے پہلے وفات پا گئیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا ولی ان کی جانب سے روزے رکھے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا ابن لهيعة، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله، . ان امراة، اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت ان امي توفيت وعليها نذر صيام فتوفيت قبل ان تقضيه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليصم عنها الولي
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کی بہن نے نذر مانی کہ ننگے پاؤں، ننگے سر اور پیدل چل کر حج کے لیے جائیں گی، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دو کہ سوار ہو جائے، دوپٹہ اوڑھ لے، اور تین دن کے روزے رکھے ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبد الله بن نمير، عن يحيى بن سعيد، عن عبيد الله بن زحر، عن ابي سعيد الرعيني، ان عبد الله بن مالك، اخبره ان عقبة بن عامر اخبره ان اخته نذرت ان تمشي حافية غير مختمرة وانه ذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " مرها فلتركب ولتختمر ولتصم ثلاثة ايام
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے کو دیکھا کہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چل رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اس کا کیا معاملہ ہے ؟ اس کے بیٹوں نے کہا: اس نے نذر مانی ہے، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بوڑھے سوار ہو جاؤ، اللہ تم سے اور تمہاری نذر سے بے نیاز ہے ۔
حدثنا يعقوب بن حميد بن كاسب، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عمرو بن ابي عمرو، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال راى النبي صلى الله عليه وسلم شيخا يمشي بين ابنيه فقال " ما شان هذا " . قال ابناه نذر يا رسول الله . قال " اركب ايها الشيخ فان الله غني عنك وعن نذرك
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ دھوپ میں کھڑا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا: اس نے نذر مانی ہے کہ وہ روزہ رکھے گا، اور رات تک سایہ میں نہیں رہے گا، اور نہ بولے گا، اور برابر کھڑا رہے گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو چاہیئے کہ بولے، سایہ میں آ جائے، بیٹھ جائے اور اپنا روزہ پورا کرے ۱؎۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا اسحاق بن محمد الفروي، حدثنا عبد الله بن عمر، عن عبيد الله بن عمر، عن عطاء، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر برجل بمكة وهو قايم في الشمس فقال " ما هذا " . قالوا نذر ان يصوم ولا يستظل الى الليل ولا يتكلم ولا يزال قايما . قال " ليتكلم وليستظل وليجلس وليتم صيامه " . حدثنا الحسين بن محمد بن شنبة الواسطي، حدثنا العلاء بن عبد الجبار، عن وهيب، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه والله اعلم