Loading...

Loading...
کتب
۱۸۴ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ دو“، ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے اپنی ذات پر صدقہ کرو“ ۱؎ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اپنی بیوی پر صدقہ کرو“، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے اپنے بیٹے پر صدقہ کرو“، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور بھی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اپنے خادم پر صدقہ کر دو“، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: آپ بہتر سمجھنے والے ہیں ( جیسی ضرورت سمجھو ویسا کرو“ ) ۔
اخبرنا عمرو بن علي، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا يحيى، عن ابن عجلان، عن سعيد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تصدقوا " . فقال رجل يا رسول الله عندي دينار . قال " تصدق به على نفسك " . قال عندي اخر . قال " تصدق به على زوجتك " . قال عندي اخر . قال " تصدق به على ولدك " . قال عندي اخر . قال " تصدق به على خادمك " . قال عندي اخر . قال " انت ابصر
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”تم دو رکعتیں پڑھو“، پھر وہ شخص دوسرے جمعہ کو بھی آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”تم دو رکعتیں پڑھو“، پھر وہ تیسرے جمعہ کو ( بھی ) آیا، آپ نے فرمایا: ”دو رکعتیں پڑھو“، پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”صدقہ دو“، تو لوگوں نے صدقہ دیا، تو آپ نے اس شخص کو دو کپڑے دئیے، پھر آپ نے پھر فرمایا: ”لوگو صدقہ دو“، تو اس شخص نے اپنے ان دونوں کپڑوں میں سے ایک کو آپ کے سامنے ڈال دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگوں نے اس شخص کو نہیں دیکھا؟ یہ خستہ حالت میں مسجد میں آیا، میں نے امید کی کہ تم لوگ اسے دیکھ کر اس کی خستہ حالی کو تاڑ لو گے اور اسے صدقہ دو گے، لیکن تم لوگوں نے ایسا نہیں کیا، تو مجھ ہی کو کہنا پڑا کہ تم صدقہ دو، تو تم لوگوں نے صدقہ دیا تو میں نے اسے دو کپڑے دئیے، پھر لوگوں سے کہا: ”صدقہ دو“، تو اس نے ان کپڑوں میں سے ( جو ہم نے اسے دیے تھے ) ایک ( ہمارے آگے ) ڈال دیا، ( ارے بیوقوف ) تم اپنا کپڑا لے لو، آپ نے اسے ڈانٹا ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا ابن عجلان، عن عياض، عن ابي سعيد، ان رجلا، دخل المسجد يوم الجمعة ورسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب فقال " صل ركعتين " . ثم جاء الجمعة الثانية والنبي صلى الله عليه وسلم يخطب فقال " صل ركعتين " . ثم جاء الجمعة الثالثة فقال " صل ركعتين " . ثم قال " تصدقوا " . فتصدقوا فاعطاه ثوبين ثم قال " تصدقوا " . فطرح احد ثوبيه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الم تروا الى هذا انه دخل المسجد بهيية بذة فرجوت ان تفطنوا له فتصدقوا عليه فلم تفعلوا فقلت تصدقوا . فتصدقتم فاعطيته ثوبين ثم قلت تصدقوا . فطرح احد ثوبيه خذ ثوبك " . وانتهره
عمیر مولی آبی اللحم کہتے ہیں کہ میرے مالک نے مجھے گوشت بھوننے کا حکم دیا، اتنے میں ایک مسکین آیا، میں نے اس میں سے تھوڑا سا اسے کھلا دیا، میرے مالک کو اس بات کی خبر ہو گئی تو اس نے مجھے مارا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے اسے بلوایا اور پوچھا: تم نے اسے کیوں مارا ہے؟ اس نے کہا: یہ میرا کھانا ( دوسروں کو ) بغیر اس کے کہ میں اسے حکم دوں کھلا دیتا ہے۔ اور دوسری بار راوی نے کہا: بغیر میرے حکم کے کھلا دیتا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اس کا ثواب تم دونوں ہی کو ملے گا“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حاتم، عن يزيد بن ابي عبيد، قال سمعت عميرا، مولى ابي اللحم قال امرني مولاى ان اقدد، لحما فجاء مسكين فاطعمته منه فعلم بذلك مولاى فضربني فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فدعاه فقال " لم ضربته " . فقال يطعم طعامي بغير ان امره وقال مرة اخرى بغير امري قال " الاجر بينكما
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مسلمان پر صدقہ ہے“، عرض کیا گیا: اگر کسی کو ایسی چیز نہ ہو جسے صدقہ کر سکے؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے ہاتھوں سے کام کرے اور اپنی ذات کو فائدہ پہنچائے، اور صدقہ کرے“، کہا گیا: اگر ایسا بھی نہ کر سکے؟ آپ نے فرمایا: ”محتاج و پریشان حال کی مدد کرے“، کہا گیا: اگر ایسا بھی نہ کر سکے؟ آپ نے فرمایا: ”بھلائی اور نیک باتوں کا حکم کرے“، کہا گیا: اگر یہ بھی نہ کر سکے؟ آپ نے فرمایا: ”برائیوں سے باز رہے“، یہ بھی ایک صدقہ ہے۔
اخبرني محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، قال اخبرني ابن ابي بردة، قال سمعت ابي يحدث، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " على كل مسلم صدقة " . قيل ارايت ان لم يجدها قال " يعتمل بيده فينفع نفسه ويتصدق " . قيل ارايت ان لم يفعل قال " يعين ذا الحاجة الملهوف " . قيل فان لم يفعل قال " يامر بالخير " . قيل ارايت ان لم يفعل قال " يمسك عن الشر فانها صدقة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت اپنے شوہر کے مال سے صدقہ دے تو اسے ثواب ملے گا، اور اس کے شوہر کو بھی۔ اور خازن کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا، اور ان میں سے کوئی دوسرے کا ثواب کم نہ کرے گا، شوہر کو اس کے کمانے کی وجہ سے ثواب ملے گا، اور بیوی کو اس کے خرچ کرنے کی وجہ سے“۔
اخبرنا محمد بن المثنى، ومحمد بن بشار، قالا حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، قال سمعت ابا وايل، يحدث عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا تصدقت المراة من بيت زوجها كان لها اجر وللزوج مثل ذلك وللخازن مثل ذلك ولا ينقص كل واحد منهما من اجر صاحبه شييا للزوج بما كسب ولها بما انفقت
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کر لیا، تو تقریر کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے ( منجملہ اور باتوں کے ) اپنی تقریر میں فرمایا: ”کسی عورت کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر عطیہ دینا جائز نہیں“، یہ حدیث مختصر ہے۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد بن الحارث، قال حدثنا حسين المعلم، عن عمرو بن شعيب، ان اباه، حدثه عن عبد الله بن عمرو، قال لما فتح رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة قام خطيبا فقال في خطبته " لا يجوز لامراة عطية الا باذن زوجها " . مختصر
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محترم بیویاں ( ازواج مطہرات ) آپ کے پاس اکٹھا ہوئیں، اور پوچھنے لگیں کہ ہم میں کون آپ سے پہلے ملے گی؟ آپ نے فرمایا: ”تم میں سب سے لمبے ہاتھ والی“، ازواج مطہرات ایک بانس کی کھپچی لے کر ایک دوسرے کا ہاتھ ناپنے لگیں، تو وہ ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا تھیں جو سب سے پہلے آپ سے ملیں، وہی سب میں لمبے ہاتھ والی تھیں، یہ ان کے بہت زیادہ صدقہ و خیرات کرنے کی وجہ سے تھا ۱؎۔
اخبرنا ابو داود، قال حدثنا يحيى بن حماد، قال انبانا ابو عوانة، عن فراس، عن عامر، عن مسروق، عن عايشة، رضى الله عنها ان ازواج، النبي صلى الله عليه وسلم اجتمعن عنده فقلن ايتنا بك اسرع لحوقا فقال " اطولكن يدا " . فاخذن قصبة فجعلن يذرعنها فكانت سودة اسرعهن به لحوقا فكانت اطولهن يدا فكان ذلك من كثرة الصدقة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارا اس وقت کا صدقہ دینا افضل ہے جب تم تندرست ہو اور تمہیں دولت کی حرص ہو اور تم عیش و راحت کی آرزو رکھتے ہو اور محتاجی سے ڈرتے ہو۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا وكيع، قال حدثنا سفيان، عن عمارة بن القعقاع، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، قال قال رجل يا رسول الله اى الصدقة افضل قال " ان تصدق وانت صحيح شحيح تامل العيش وتخشى الفقر
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین صدقہ وہ ہے جو مالداری کی پشت سے ہو ( یعنی مالداری باقی رکھتے ہوئے ہو ) ، اور اوپر والا ہاتھ ( دینے والا ہاتھ ) نیچے والے ہاتھ ( لینے والا ہاتھ ) سے بہتر ہے، اور پہلے صدقہ انہیں دو جن کی تم کفالت کرتے ہو“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا عمرو بن عثمان، قال سمعت موسى بن طلحة، ان حكيم بن حزام، حدثه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افضل الصدقة ما كان عن ظهر غنى واليد العليا خير من اليد السفلى وابدا بمن تعول
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”بہترین صدقہ وہ ہے جو مالداری کی پشت سے ہو ۱؎، اور ان سے شروع کرو جن کی کفالت تمہارے ذمہ ہے“۔
اخبرنا عمرو بن سواد بن الاسود بن عمرو، عن ابن وهب، قال انبانا يونس، عن ابن شهاب، قال حدثنا سعيد بن المسيب، انه سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير الصدقة ما كان عن ظهر غنى وابدا بمن تعول
ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنی بیوی پر خرچ کرے اور اس سے ثواب کی امید رکھتا ہو تو یہ اس کے لیے صدقہ ہو گا“۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن عدي بن ثابت، قال سمعت عبد الله بن يزيد الانصاري، يحدث عن ابي مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا انفق الرجل على اهله وهو يحتسبها كانت له صدقة
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنی عذرہ کے ایک شخص نے اپنے غلام کو مدبر کر دیا ۱؎، یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اس شخص سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس اس غلام کے علاوہ بھی کوئی مال ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مجھ سے کون خرید رہا ہے؟“ تو نعیم بن عبداللہ عدوی نے اسے آٹھ سو درہم میں خرید لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان درہموں کو لے کر آئے اور انہیں اس کے حوالہ کر دیا، اور فرمایا: ”پہلے خود سے شروع کرو اسے اپنے اوپر صدقہ کرو اگر کچھ بچ رہے تو تمہاری بیوی کے لیے ہے، اور اگر تمہاری بیوی سے بھی بچ رہے تو تمہارے قرابت داروں کے لیے ہے، اور اگر تمہارے قرابت داروں سے بھی بچ رہے تو اس طرح اور اس طرح کرو، اور آپ اپنے سامنے اور اپنے دائیں اور بائیں اشارہ کر رہے تھے“ ۲؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابي الزبير، عن جابر، قال اعتق رجل من بني عذرة عبدا له عن دبر، فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " الك مال غيره " . قال لا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من يشتريه مني " . فاشتراه نعيم بن عبد الله العدوي بثمانماية درهم فجاء بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فدفعها اليه ثم قال " ابدا بنفسك فتصدق عليها فان فضل شىء فلاهلك فان فضل شىء عن اهلك فلذي قرابتك فان فضل عن ذي قرابتك شىء فهكذا وهكذا يقول بين يديك وعن يمينك وعن شمالك
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کرنے والے فیاض اور بخیل کی مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن پر لوہے کے دو کرتے یا دو ڈھال ان دونوں کی چھاتیوں سے لے کر ان کی ہنسلی کی ہڈیوں تک ہوں، جب فیاض خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ اس کے بدن پر کشادہ ہو جاتی ہے، پھیل کر اس کی انگلیوں کے پوروں کو ڈھانپ لیتی ہے، اور اس کے نشان قدم کو مٹا دیتی ہے، اور جب بخیل خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ سکڑ جاتی ہے اور اس کی کڑیاں اپنی جگ ہوں پر چمٹ جاتی ہیں یہاں تک کہ وہ اس کی ہنسلی یا اس کی گردن پکڑ لیتی ہے“۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسے کشادہ کر رہے تھے، اور وہ کشادہ نہیں ہو رہی تھی۔ طاؤس کہتے ہیں: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ آپ اپنے ہاتھ سے کشادہ کرنے کے لیے اشارہ کر رہے تھے، اور وہ کشادہ نہیں ہو رہی تھی۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن ابن جريج، عن الحسن بن مسلم، عن طاوس، قال سمعت ابا هريرة، ثم قال حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان مثل المنفق المتصدق والبخيل كمثل رجلين عليهما جبتان او جنتان من حديد من لدن ثديهما الى تراقيهما فاذا اراد المنفق ان ينفق اتسعت عليه الدرع او مرت حتى تجن بنانه وتعفو اثره واذا اراد البخيل ان ينفق قلصت ولزمت كل حلقة موضعها حتى اخذته بترقوته او برقبته " . يقول ابو هريرة اشهد انه راى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوسعها فلا تتسع . قال طاوس سمعت ابا هريرة يشير بيده وهو يوسعها ولا تتوسع
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخیل اور صدقہ دینے والے ( سخی ) کی مثال ان دو شخصوں کی ہے جن پر لوہے کی زرہیں ہوں، اور ان کے ہاتھ ان کی ہنسلیوں کے ساتھ چمٹا دیئے گئے ہوں، تو جب جب صدقہ کرنے والا صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ اس کے لیے وسیع و کشادہ ہو جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اتنی بڑی ہو جاتی ہے کہ چلتے وقت اس کے پیر کے نشانات کو مٹا دیتی ہے، اور جب بخیل صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ہر کڑی دوسرے کے ساتھ پیوست ہو جاتی اور سکڑ جاتی ہے، اور اس کے ہاتھ اس کی ہنسلی سے مل جاتے ہیں“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”وہ ( بخیل ) کوشش کرتا ہے کہ اسے کشادہ کرے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتی“۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا عفان، قال حدثنا وهيب، قال حدثنا عبد الله بن طاوس، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " مثل البخيل والمتصدق مثل رجلين عليهما جنتان من حديد قد اضطرت ايديهما الى تراقيهما فكلما هم المتصدق بصدقة اتسعت عليه حتى تعفي اثره وكلما هم البخيل بصدقة تقبضت كل حلقة الى صاحبتها وتقلصت عليه وانضمت يداه الى تراقيه " . وسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " فيجتهد ان يوسعها فلا تتسع
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ہمارے ساتھ کچھ مہاجرین و انصار بھی تھے، ہم نے ایک شخص کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ملاقات کی اجازت حاصل کرنے کے لیے بھیجا، ( انہوں نے اجازت دے دی، ہم ان کے پاس پہنچی تو انہوں نے کہا: ایک بار میرے پاس ایک مانگنے والا آیا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف فرما تھے، میں نے ( خادمہ کو ) اسے کچھ دینے کا حکم دیا، پھر میں نے اسے بلایا اسے دیکھنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا آپ چاہتی ہیں کہ بغیر آپ کے علم میں آئے تمہارے گھر میں کچھ نہ آئے اور تمہارے گھر سے کچھ نہ جائے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”عائشہ! ٹھہر جاؤ، گن کر نہ دو کہ اللہ عزوجل بھی تمہیں بھی گن کر دے“۔
اخبرني محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، عن شعيب، حدثني الليث، قال حدثنا خالد، عن ابن ابي هلال، عن امية بن هند، عن ابي امامة بن سهل بن حنيف، قال كنا يوما في المسجد جلوسا ونفر من المهاجرين والانصار فارسلنا رجلا الى عايشة ليستاذن فدخلنا عليها قالت دخل على سايل مرة وعندي رسول الله صلى الله عليه وسلم فامرت له بشىء ثم دعوت به فنظرت اليه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما تريدين ان لا يدخل بيتك شىء ولا يخرج الا بعلمك " . قلت نعم . قال " مهلا يا عايشة لا تحصي فيحصي الله عز وجل عليك
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”گن کر نہ دو کہ اللہ عزوجل بھی تمہیں گن کر دے“۔
اخبرنا محمد بن ادم، عن عبدة، عن هشام بن عروة، عن فاطمة، عن اسماء بنت ابي بكر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لها " لا تحصي فيحصي الله عز وجل عليك
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور کہنے لگیں: اللہ کے نبی! میرے پاس تو کچھ ہوتا نہیں ہے سوائے اس کے کہ جو زبیر ( میرے شوہر ) مجھے ( کھانے یا خرچ کرنے کے لیے ) دے دیتے ہیں، تو کیا اس دیے ہوئے میں سے میں کچھ ( فقراء و مساکین کو ) دے دوں تو مجھ پر گناہ ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”تم جو کچھ دے سکو دو، اور روکو نہیں کہ اللہ عزوجل بھی تم سے روک لے“۔
اخبرنا الحسن بن محمد، عن حجاج، قال قال ابن جريج اخبرني ابن ابي مليكة، عن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن اسماء بنت ابي بكر، انها جاءت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا نبي الله ليس لي شىء الا ما ادخل على الزبير فهل على جناح في ان ارضخ مما يدخل على فقال " ارضخي ما استطعت ولا توكي فيوكي الله عز وجل عليك
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ سے بچو، اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا اللہ کی راہ میں دے کر سہی“۔
اخبرنا نصر بن علي، عن خالد، حدثنا شعبة، عن المحل، عن عدي بن حاتم، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اتقوا النار ولو بشق تمرة
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کا ذکر کیا، اور نفرت سے اپنا منہ پھیر لیا، اور اس سے پناہ مانگی۔ شعبہ نے ذکر کیا کہ آپ نے تین دفعہ ایسا کیا، پھر فرمایا: ”آگ سے بچو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی اللہ کی راہ میں دے کر سہی۔ اور اگر اسے نہ پاس کو تو بھلی بات کے ذریعہ معذرت کر کے سہی“۔
انبانا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، ان عمرو بن مرة، حدثهم عن خيثمة، عن عدي بن حاتم، قال ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم النار فاشاح بوجهه وتعوذ منها ذكر شعبة انه فعله ثلاث مرات - ثم قال " اتقوا النار ولو بشق التمرة فان لم تجدوا فبكلمة طيبة
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم دن کے ابتدائی حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، کچھ لوگ ننگے بدن، ننگے پیر، تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، زیادہ تر لوگ قبیلہ مضر کے تھے، بلکہ سبھی مضر ہی کے تھے۔ ان کی فاقہ مستی دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ اندر گئے، پھر نکلے، تو بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی، آپ نے نماز پڑھائی، پھر آپ نے خطبہ دیا، تو فرمایا: ”لوگو! ڈرو، تم اپنے رب سے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا۔ اور انہیں دونوں ( میاں بیوی ) سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیئے۔ اور اس اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم سب ایک دوسرے سے مانگتے ہو۔ قرابت داریوں کا خیال رکھو کہ وہ ٹوٹنے نہ پائیں، بیشک اللہ تمہارا نگہبان ہے، اور اللہ سے ڈرو، اور تم میں سے ہر شخص یہ ( دھیان رکھے اور ) دیکھتا رہے کہ آنے والے کل کے لیے اس نے کیا آگے بھیجا ہے، آدمی کو چاہیئے کہ اپنے دینار میں سے، اپنے درہم میں سے، اپنے کپڑے میں سے، اپنے گیہوں کے صاع میں سے، اپنے کھجور کے صاع میں سے صدقہ کرے“، یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ”اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی سہی“، چنانچہ انصار کا ایک شخص ( روپیوں سے بھری ) ایک تھیلی لے کر آیا جو اس کی ہتھیلی سے سنبھل نہیں رہی تھی بلکہ سنبھلی ہی نہیں۔ پھر تو لوگوں کا تانتا بندھ گیا۔ یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ کھانے اور کپڑے کے دو ڈھیر اکٹھے ہو گئے۔ اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور کھل اٹھا ہے گویا وہ سونے کا پانی دیا ہوا چاندی ہے ( اس موقع پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کرے گا، اس کے لیے دہرا اجر ہو گا: ایک اس کے جاری کرنے کا، دوسرا جو اس پر عمل کریں گے ان کا اجر، بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کوئی کمی کی جائے۔ اور جس نے اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کیا، تو اسے اس کے جاری کرنے کا گناہ ملے گا اور جو اس اس پر عمل کریں گے ان کا گناہ بھی بغیر اس کے کہ ان کے گناہ میں کوئی کمی کی جائے“۔
اخبرنا ازهر بن جميل، قال حدثنا خالد بن الحارث، قال حدثنا شعبة، قال وذكر عون بن ابي جحيفة قال سمعت المنذر بن جرير، يحدث عن ابيه، قال كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم في صدر النهار فجاء قوم عراة حفاة متقلدي السيوف عامتهم من مضر بل كلهم من مضر فتغير وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم لما راى بهم من الفاقة فدخل ثم خرج فامر بلالا فاذن فاقام الصلاة فصلى ثم خطب فقال " { يا ايها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة وخلق منها زوجها وبث منهما رجالا كثيرا ونساء واتقوا الله الذي تساءلون به والارحام ان الله كان عليكم رقيبا } و { اتقوا الله ولتنظر نفس ما قدمت لغد } تصدق رجل من ديناره من درهمه من ثوبه من صاع بره من صاع تمره - حتى قال - ولو بشق تمرة " . فجاء رجل من الانصار بصرة كادت كفه تعجز عنها بل قد عجزت ثم تتابع الناس حتى رايت كومين من طعام وثياب حتى رايت وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم يتهلل كانه مذهبة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من سن في الاسلام سنة حسنة فله اجرها واجر من عمل بها من غير ان ينقص من اجورهم شييا ومن سن في الاسلام سنة سيية فعليه وزرها ووزر من عمل بها من غير ان ينقص من اوزارهم شييا