Loading...

Loading...
کتب
۱۸۴ احادیث
حارثہ بن وہب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ صدقہ کرو کیونکہ تم پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ آدمی اپنا صدقہ لے کر دینے چلے گا تو جس شخص کو وہ دینے جائے گا وہ شخص کہے گا: اگر تم کل لے کر آئے ہوتے تو میں لے لیتا، لیکن آج تو آج نہیں لوں گا ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن معبد بن خالد، عن حارثة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " تصدقوا فانه سياتي عليكم زمان يمشي الرجل بصدقته فيقول الذي يعطاها لو جيت بها بالامس قبلتها فاما اليوم فلا
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی، اللہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے جو چاہے فیصلہ فرمائے“۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا سفيان، قال اخبرني ابو بردة بن عبد الله بن ابي بردة، عن جده ابي بردة، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اشفعوا تشفعوا ويقضي الله عز وجل على لسان نبيه ما شاء
معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کوئی چیز مجھ سے مانگتا ہے تو میں نہیں دیتا، تاکہ تم اس سلسلہ میں سفارش کرو، اور سفارش کرنے کا اجر پاؤ“، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفارش کرو تمہیں سفارش کا اجر ( ثواب ) دیا جائے گا“۔
اخبرنا هارون بن سعيد، قال انبانا سفيان، عن عمرو، عن ابن منبه، عن اخيه، عن معاوية بن ابي سفيان، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الرجل ليسالني الشىء فامنعه حتى تشفعوا فيه فتوجروا " . وان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اشفعوا توجروا
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک غیرت وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور ایک غیرت وہ ہے جسے اللہ ناپسند کرتا ہے، ( ایسے ہی ) ایک فخر وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے، اور ایک فخر وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے، تو جس غیرت کو اللہ پسند کرتا ہے وہ تہمت کی جگہ کی غیرت ہے، اور وہ غیرت ۱؎ جو اللہ عزوجل کو ناپسند ہے تو وہ غیر تہمت کی جگہ کی غیرت ہے ۲؎ رہا فخر جو اللہ کو پسند ہے تو وہ آدمی کا لڑائی کے وقت یا صدقہ دیتے وقت اپنی ذات پر فخر ہے ۳؎ اور وہ فخر جو اللہ کو ناپسند ہے وہ یہ ہے کہ آدمی لغو اور بیہودہ کاموں پر فخر کرے“۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا محمد بن يوسف، قال حدثنا الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، قال حدثني محمد بن ابراهيم بن الحارث التيمي، عن ابن جابر، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من الغيرة ما يحب الله عز وجل ومنها ما يبغض الله عز وجل ومن الخيلاء ما يحب الله عز وجل ومنها ما يبغض الله عز وجل فاما الغيرة التي يحب الله عز وجل فالغيرة في الريبة واما الغيرة التي يبغض الله عز وجل فالغيرة في غير ريبة والاختيال الذي يحب الله عز وجل اختيال الرجل بنفسه عند القتال وعند الصدقة والاختيال الذي يبغض الله عز وجل الخيلاء في الباطل
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ، صدقہ کرو، اور پہنو، لیکن اسراف ( فضول خرچی ) اور غرور ( گھمنڈ و تکبر ) سے بچو“۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا يزيد، قال حدثنا همام، عن قتادة، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كلوا وتصدقوا والبسوا في غير اسراف ولا مخيلة
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن، مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے“، نیز فرمایا: ”امانت دار خازن جو خوش دلی سے وہ چیز دے جس کا اسے حکم دیا گیا ہو تو وہ بھی صدقہ دینے والوں میں سے ایک ہے“۔
اخبرني عبد الله بن الهيثم بن عثمان، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثنا سفيان، عن بريد بن ابي بردة، عن جده، عن ابي موسى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المومن للمومن كالبنيان يشد بعضه بعضا " . وقال " الخازن الامين الذي يعطي ما امر به طيبا بها نفسه احد المتصدقين
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا اعلانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے، اور دھیرے سے قرآن پڑھنے والا چھپا کر صدقہ دینے والے کی طرح ہے“۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال حدثنا ابن وهب، عن معاوية بن صالح، عن بحير بن سعد، عن خالد بن معدان، عن كثير بن مرة، عن عقبة بن عامر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الجاهر بالقران كالجاهر بالصدقة والمسر بالقران كالمسر بالصدقة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طرح کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ دیکھے گا، ایک ماں باپ کا نافرمان، دوسری وہ عورت جو مردوں کی مشابہت اختیار کرے، تیسرا دیوث ( بے غیرت ) اور تین شخص ایسے ہیں جو جنت میں نہ جائیں گے۔ ایک ماں باپ کا نافرمان، دوسرا عادی شرابی، اور تیسرا دے کر احسان جتانے والا“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا عمر بن محمد، عن عبد الله بن يسار، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاثة لا ينظر الله عز وجل اليهم يوم القيامة العاق لوالديه والمراة المترجلة والديوث وثلاثة لا يدخلون الجنة العاق لوالديه والمدمن على الخمر والمنان بما اعطى
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ان کو پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت پڑھی۔ تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ لوگ نامراد ہوئے، گھاٹے میں رہے، آپ نے فرمایا: ” ( وہ تین یہ ہیں ) اپنا تہبند ٹخنے کے نیچے لٹکانے والا، جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اپنے سامان کو رواج دینے والا، اپنے دیے ہوئے کا احسان جتانے والا“۔
اخبرنا محمد بن بشار، عن محمد، قال حدثنا شعبة، عن علي بن المدرك، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن خرشة بن الحر، عن ابي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ثلاثة لا يكلمهم الله عز وجل يوم القيامة ولا ينظر اليهم ولا يزكيهم ولهم عذاب اليم " . فقراها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ابو ذر خابوا وخسروا خابوا وخسروا . قال " المسبل ازاره والمنفق سلعته بالحلف الكاذب والمنان عطاءه
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ عزوجل نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ انہیں پاک و صاف کرے گا، اور انہیں درد ناک عذاب ہو گا: اپنے دئیے ہوئے کا احسان جتانے والا، اپنے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، اپنے سامان کو جھوٹی قسمیں کھا کر رواج دینے والا“۔
اخبرنا بشر بن خالد، قال حدثنا غندر، عن شعبة، قال سمعت سليمان، - وهو الاعمش - عن سليمان بن مسهر، عن خرشة بن الحر، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاثة لا يكلمهم الله عز وجل يوم القيامة ولا ينظر اليهم ولا يزكيهم ولهم عذاب اليم المنان بما اعطى والمسبل ازاره والمنفق سلعته بالحلف الكاذب
ابن بجید انصاری اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنے والے کو کچھ دے کر لوٹایا کرو اگرچہ کھر ہی سہی“۔ ہارون کی روایت میں «محرق» ( جلی ہوئی ) کا اضافہ ہے۔
اخبرني هارون بن عبد الله، قال حدثنا معن، قال حدثنا مالك، ح وانبانا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن ابن بجيد الانصاري، عن جدته، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ردوا السايل ولو بظلف " . في حديث هارون محرق
بہز بن حکیم اپنے دادا معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”آدمی اپنے مالک کے پاس اس کی ضرورت سے زائد و فاضل چیز مانگنے آئے، اور وہ اسے نہ دے تو اس کے لیے قیامت کے دن ایک گنجا ( زہریلا ) سانپ بلایا جائے گا، جو اس کے فاضل مال کو جسے اس نے دینے سے انکار کر دیا تھا چاٹتا پھرے گا“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا المعتمر، قال سمعت بهز بن حكيم، يحدث عن ابيه، عن جده، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا ياتي رجل مولاه يساله من فضل عنده فيمنعه اياه الا دعي له يوم القيامة شجاع اقرع يتلمظ فضله الذي منع
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے اسے پناہ دو، اور جو شخص تم سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کرے اسے دو، اور جو شخص اللہ کے نام پر تم سے امان چاہے تو امان دو، اور جو شخص تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کرے تو تم اسے اس کا بدلہ دو، اور اگر تم بدلہ نہ دے سکو تو اس کے لیے دعا کرو یہاں تک کہ تم جان لو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو عوانة، عن الاعمش، عن مجاهد، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من استعاذ بالله فاعيذوه ومن سالكم بالله فاعطوه ومن استجار بالله فاجيروه ومن اتى اليكم معروفا فكافيوه فان لم تجدوا فادعوا له حتى تعلموا ان قد كافاتموه
معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی تعداد سے بھی زیادہ بار یہ قسم کھانے کے بعد کہ میں نہ آپ کے پاس آؤں گا اور نہ آپ کا دین قبول کروں گا۔ آپ کے پاس آیا ہوں، میں ایک بے عقل اور ناسمجھ انسان ہوں ( اب بھی کچھ نہیں سمجھتا ) سوائے اس کے جو اللہ اور اس کے رسول نے مجھے سکھا دیا ہے۔ میں اللہ کی ذات کا حوالہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: اللہ نے آپ کو ہمارے پاس کیا چیزیں دے کر بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اسلام دے کر“، میں نے عرض کیا: ”اسلام کی نشانیاں کیا ہیں؟“ تو آپ نے فرمایا: ”یہ ہے کہ تم کہو: میں نے اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا اور اپنے آپ کو کفر و شرک کی آلائشوں سے پاک کر لیا ہے، اور تم نماز قائم کرو، زکاۃ دو۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۱؎۔ ہر ایک دوسرے کا بھائی و مددگار ہے، اللہ تعالیٰ مشرک کا کوئی عمل اس کے بعد کہ وہ اسلام لے آیا ہو قبول نہیں کرتا، یا وہ مشرکین کو چھوڑ کر مسلمانوں سے آ ملے ۲؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا المعتمر، قال سمعت بهز بن حكيم، يحدث عن ابيه، عن جده، قال قلت يا نبي الله ما اتيتك حتى حلفت اكثر من عددهن - لاصابع يديه - الا اتيك ولا اتي دينك واني كنت امرا لا اعقل شييا الا ما علمني الله ورسوله واني اسالك بوجه الله عز وجل بما بعثك ربك الينا قال " بالاسلام " . قال قلت وما ايات الاسلام قال " ان تقول اسلمت وجهي الى الله عز وجل وتخليت وتقيم الصلاة وتوتي الزكاة كل مسلم على مسلم محرم اخوان نصيران لا يقبل الله عز وجل من مشرك بعد ما اسلم عملا او يفارق المشركين الى المسلمين
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں لوگوں میں مرتبہ کے اعتبار سے بہترین شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کا سر تھامے رہے یہاں تک کہ اسے موت آ جائے، یا وہ قتل کر دیا جائے، اور میں تمہیں اس شخص کے بارے میں بتاؤں جو مرتبہ میں اس سے قریب تر ہے“۔ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! بتائیے، آپ نے فرمایا: ”یہ وہ شخص ہے جو لوگوں سے کٹ کر کسی وادی میں ( گوشہ نشین ہو جائے ) نماز قائم کرے، زکاۃ دے اور لوگوں کے شر سے الگ تھلگ رہے، اور میں تمہیں لوگوں میں برے شخص کے بارے میں بتاؤں؟“، ہم نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! ضرور بتائیے، آپ نے فرمایا: ”وہ شخص ہے جس سے اللہ کے نام پر مانگا جائے اور وہ نہ دے“۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا ابن ابي فديك، قال انبانا ابن ابي ذيب، عن سعيد بن خالد القارظي، عن اسماعيل بن عبد الرحمن، عن عطاء بن يسار، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الا اخبركم بخير الناس منزلا " . قلنا بلى يا رسول الله . قال " رجل اخذ براس فرسه في سبيل الله عز وجل حتى يموت او يقتل واخبركم بالذي يليه " . قلنا نعم يا رسول الله . قال " رجل معتزل في شعب يقيم الصلاة ويوتي الزكاة ويعتزل شرور الناس واخبركم بشر الناس " . قلنا نعم يا رسول الله . قال " الذي يسال بالله عز وجل ولا يعطي به
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ عزوجل محبت کرتا ہے، اور تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ عزوجل بغض رکھتا ہے، رہے وہ جن سے اللہ محبت کرتا ہے تو وہ یہ ہیں: ایک شخص کچھ لوگوں کے پاس گیا، اور اس نے ان سے اللہ کے نام پر کچھ مانگا، اور مانگنے میں ان کے اور اپنے درمیان کسی قرابت کا واسطہ نہیں دیا۔ لیکن انہوں نے اسے نہیں دیا۔ تو ایک شخص ان لوگوں کے پیچھے سے مانگنے والے کے پاس آیا۔ اور اسے چپکے سے دیا، اس کے اس عطیہ کو صرف اللہ عزوجل جانتا ہو اور وہ جسے اس نے دیا ہے۔ اور کچھ لوگ رات میں چلے اور جب نیند انہیں اس جیسی اور چیزوں کے مقابل میں بہت بھلی لگنے لگی، تو ایک جگہ اترے اور اپنا سر رکھ کر سو گئے، لیکن ایک شخص اٹھا، اور میرے سامنے گڑگڑانے لگا اور میری آیتیں پڑھنے لگا۔ اور ایک وہ شخص ہے جو ایک فوجی دستہ میں تھا، دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی، لوگ شکست کھا کر بھاگنے لگے مگر وہ سینہ تانے ڈٹا رہا یہاں تک کہ وہ مارا گیا، یا اللہ تعالیٰ نے اسے فتح مند کیا۔ اور تین شخص جن سے اللہ تعالیٰ بغض رکھتا ہے یہ ہیں: ایک بوڑھا زنا کار، دوسرا گھمنڈی فقیر، اور تیسرا ظالم مالدار“۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن منصور، قال سمعت ربعيا، يحدث عن زيد بن ظبيان، رفعه الى ابي ذر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ثلاثة يحبهم الله عز وجل وثلاثة يبغضهم الله عز وجل اما الذين يحبهم الله عز وجل فرجل اتى قوما فسالهم بالله عز وجل ولم يسالهم بقرابة بينه وبينهم فمنعوه فتخلفه رجل باعقابهم فاعطاه سرا لا يعلم بعطيته الا الله عز وجل والذي اعطاه وقوم ساروا ليلتهم حتى اذا كان النوم احب اليهم مما يعدل به نزلوا فوضعوا رءوسهم فقام يتملقني ويتلو اياتي ورجل كان في سرية فلقوا العدو فهزموا فاقبل بصدره حتى يقتل او يفتح الله له والثلاثة الذين يبغضهم الله عز وجل الشيخ الزاني والفقير المختال والغني الظلوم
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک کھجور یا دو کھجور ایک لقمہ یا دو لقمے ( در در ) گھماتے اور ( گھر گھر ) چکر لگواتے ہیں۔ بلکہ مسکین سوال سے بچنے والا ہے ۱؎ اگر تم چاہو تو پڑھو «لا يسألون الناس إلحافا» ”وہ لوگوں سے گڑگڑا کر نہیں مانگتے“ ( البقرہ: ۲۷۳ ) ۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا اسماعيل، قال حدثنا شريك، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ليس المسكين الذي ترده التمرة والتمرتان واللقمة واللقمتان ان المسكين المتعفف اقرءوا ان شيتم { لا يسالون الناس الحافا}
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں ہے جو اس طرح لوگوں کے پاس چکر لگائے کہ ایک لقمہ دو لقمے یا ایک کھجور دو کھجوریں اسے در در پھرائیں“، لوگوں نے پوچھا: پھر مسکین کون ہے؟ فرمایا: ”مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال و دولت نہ ہو کہ وہ اپنی ضرورت کی تکمیل کے لیے دوسروں کا محتاج نہ رہے، اور وہ محسوس بھی نہ ہو سکے کہ وہ مسکین ہے کہ اسے ضرورت مند سمجھ کر صدقہ دیا جائے۔ اور نہ ہی وہ لوگوں کے سامنے مانگنے کے لیے ہاتھ پھیلائے کھڑا ہوتا ہے“
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ليس المسكين بهذا الطواف الذي يطوف على الناس ترده اللقمة واللقمتان والتمرة والتمرتان " . قالوا فما المسكين قال " الذي لا يجد غنى يغنيه ولا يفطن له فيتصدق عليه ولا يقوم فيسال الناس
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک لقمے دو لقمے اور ایک کھجور، دو کھجور در در پھرائیں“۔ لوگوں نے کہا: پھر مسکین کون ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”مسکین وہ ہے: جو مالدار نہ ہو، اور لوگ اس کی محتاجی و حاجت مندی کو جان بھی نہ سکیں کہ اسے صدقہ دیں“۔
اخبرنا نصر بن علي، قال حدثنا عبد الاعلى، قال حدثنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ليس المسكين الذي ترده الاكلة والاكلتان والتمرة والتمرتان " . قالوا فما المسكين يا رسول الله قال " الذي لا يجد غنى ولا يعلم الناس حاجته فيتصدق عليه
ام بجید رضی الله عنہا (جو ان عورتوں میں سے ہیں جن ہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی) کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ( کبھی ایسا ہوتا ہے ) کہ مسکین میرے دروازے پر آ کھڑا ہوتا ہے، اور میں اسے دینے کے لیے کوئی چیز موجود نہیں پاتی؟ آپ نے فرمایا: ”اگر تم اسے دینے کے لیے صرف جلی ہوئی کھر ہی پاؤ تو اسے وہی دے دو“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن سعيد بن ابي سعيد، عن عبد الرحمن بن بجيد، عن جدته ام بجيد، وكانت، ممن بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم انها قالت لرسول الله صلى الله عليه وسلم ان المسكين ليقوم على بابي فما اجد له شييا اعطيه اياه فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان لم تجدي شييا تعطينه اياه الا ظلفا محرقا فادفعيه اليه