Loading...

Loading...
کتب
۱۸۴ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طرح کے لوگ ہیں جن سے اللہ عزوجل قیامت کے دن بات نہیں کرے گا: بوڑھا زنا کار، گھمنڈی فقیر، جھوٹا امام“۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا يحيى، عن ابن عجلان، قال سمعت ابي يحدث، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاثة لا يكلمهم الله عز وجل يوم القيامة الشيخ الزاني والعايل المزهو والامام الكذاب
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چار طرح کے لوگ ہیں جن سے اللہ بغض رکھتا ہے: قسمیں کھا کھا کر بیچنے والا، گھمنڈی فقیر، بوڑھا زنا کار، ظالم امام ( حاکم ) “
اخبرنا ابو داود، قال حدثنا عارم، قال حدثنا حماد، قال حدثنا عبيد الله بن عمر، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اربعة يبغضهم الله عز وجل البياع الحلاف والفقير المختال والشيخ الزاني والامام الجاير
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ عورت اور مسکین پر خرچ کرنے کے لیے محنت کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے مانند ہے“۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا عبد الله بن مسلمة، قال حدثنا مالك، عن ثور بن زيد الديلي، عن ابي الغيث، عن ابي هريرة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الساعي على الارملة والمسكين كالمجاهد في سبيل الله عز وجل
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مٹی ملا ہوا غیر صاف شدہ سونے کا ایک ڈلا بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار افراد: اقرع بن حابس حنظلی، عیینہ بن بدر فرازی، اور علقمہ بن علاثہ جو عامری تھے پھر وہ بنی کلاب کے ایک فرد بن گئے، اور زید جو طائی تھے پھر بنی نبہان میں سے ہو گئے، کے درمیان تقسیم کر دیا۔ ( یہ دیکھ کر ) قریش کے لوگ غصہ ہو گئے۔ راوی نے دوسری بار کہا: قریش کے سرکردہ لوگ غصہ ہو گئے، اور کہنے لگے کہ آپ نجد کے سرداروں کو دیتے ہیں اور ہم کو چھوڑ دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے ایسا اس لیے کیا ہے تاکہ ان کی تالیف قلب کروں ( یعنی انہیں رجھا سکوں ) “، اتنے میں گھنی داڑھی والا، ابھرے گالوں والا دھنسی آنکھوں والا، ابھری پیشانی والا، منڈے سر والا ایک شخص آیا اور کہنے لگا: محمد اللہ سے ڈرو، آپ نے فرمایا: ”اگر میں ہی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگوں گا تو پھر اللہ عزوجل کی تابعداری کون کرے گا؟ وہ مجھے سارے زمین والوں میں اپنا امین ( معتمد ) سمجھتا ہے، اور تم مجھے امین نہیں سمجھتے“، پھر وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا تو حاضرین میں سے ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت طلب کی ( لوگوں کا خیال ہے کہ وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۱؎، اہل اسلام کو قتل کریں گے، اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔ یہ لوگ اسلام سے ایسے ہی نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے جسم کو چھیدتا ہوا نکل جاتا ہے۔ اگر میں نے انہیں پایا، تو میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کر دوں گا“۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابي الاحوص، عن سعيد بن مسروق، عن عبد الرحمن بن ابي نعم، عن ابي سعيد الخدري، قال بعث علي وهو باليمن بذهيبة بتربتها الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقسمها رسول الله صلى الله عليه وسلم بين اربعة نفر الاقرع بن حابس الحنظلي وعيينة بن بدر الفزاري وعلقمة بن علاثة العامري ثم احد بني كلاب وزيد الطايي ثم احد بني نبهان فغضبت قريش وقال مرة اخرى صناديد قريش فقالوا تعطي صناديد نجد وتدعنا . قال " انما فعلت ذلك لاتالفهم " . فجاء رجل كث اللحية مشرف الوجنتين غاير العينين ناتي الجبين محلوق الراس فقال اتق الله يا محمد . قال " فمن يطع الله عز وجل ان عصيته ايامنني على اهل الارض ولا تامنوني " . ثم ادبر الرجل فاستاذن رجل من القوم في قتله يرون انه خالد بن الوليد فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من ضيضي هذا قوما يقرءون القران لا يجاوز حناجرهم يقتلون اهل الاسلام ويدعون اهل الاوثان يمرقون من الاسلام كما يمرق السهم من الرمية لين ادركتهم لاقتلنهم قتل عاد
قبیصہ بن مخارق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک قرض اپنے ذمہ لے لیا، تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس سلسلہ میں سوال کیا، تو آپ نے فرمایا: ”مانگنا صرف تین لوگوں کے لیے جائز ہے، ان میں سے ایک وہ شخص ہے جس نے قوم کے کسی شخص کے قرض کی ضمانت لے لی ہو ( پھر وہ ادا نہ کر سکے ) ، تو وہ دوسرے سے مانگے یہاں تک کہ اسے ادا کر دے، پھر رک جائے“۔
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، عن حماد، عن هارون بن رياب، قال حدثني كنانة بن نعيم، ح واخبرنا علي بن حجر، - واللفظ له - قال حدثنا اسماعيل، عن ايوب، عن هارون، عن كنانة بن نعيم، عن قبيصة بن مخارق، قال تحملت حمالة فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فسالته فيها فقال " ان المسالة لا تحل الا لثلاثة رجل تحمل بحمالة بين قوم فسال فيها حتى يوديها ثم يمسك
قبیصہ بن مخارق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک قرض اپنے ذمہ لے لیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( ادائیگی کے لیے روپے ) مانگنے آیا، تو آپ نے فرمایا: ”اے قبیصہ رکے رہو۔ ( کہیں سے ) صدقہ آ لینے دو، تو ہم تمہیں اس میں سے دلوا دیں گے“، وہ کہتے ہیں ـ: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قبیصہ! صدقہ تین طرح کے لوگوں کے سوا کسی کے لیے جائز نہیں ہے: وہ شخص جو کسی کا بوجھ خود اٹھا لے ۱؎ تو اس کے لیے مانگنا درست ہے، یہاں تک کہ اس سے اس کی ضرورت پوری ہو جائے، اور ( دوسرا ) وہ شخص جو کسی ناگہانی آفت کا شکار ہو جائے، اور وہ اس کا مال تباہ کر دے، تو اس کے لیے مانگنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ اسے پا لے، پھر رک جائے، ( تیسرا ) وہ شخص جو فاقہ کا شکار ہو گیا ہو یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین سمجھ دار افراد گواہی دیں کہ ہاں واقعی فلاں شخص فاقہ کا مارا ہوا ہے، تو اس کے لیے مانگنا جائز ہے یہاں تک کہ اس کے گزارہ کا انتظام ہو جائے، ان کے علاوہ مانگنے کی جو بھی صورت ہے حرام ہے، اے قبیصہ! اور جو کوئی مانگ کر کھاتا ہے حرام کھاتا ہے“۔
اخبرنا محمد بن النضر بن مساور، قال حدثنا حماد، عن هارون بن رياب، قال حدثني كنانة بن نعيم، عن قبيصة بن مخارق، قال تحملت حمالة فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم اساله فيها فقال " اقم يا قبيصة حتى تاتينا الصدقة فنامر لك " . قال ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا قبيصة ان الصدقة لا تحل الا لاحد ثلاثة رجل تحمل حمالة فحلت له المسالة حتى يصيب قواما من عيش او سدادا من عيش ورجل اصابته جايحة فاجتاحت ماله فحلت له المسالة حتى يصيبها ثم يمسك ورجل اصابته فاقة حتى يشهد ثلاثة من ذوي الحجا من قومه قد اصابت فلانا فاقة فحلت له المسالة حتى يصيب قواما من عيش او سدادا من عيش فما سوى هذا من المسالة يا قبيصة سحت ياكلها صاحبها سحتا
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے، ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھے، آپ نے فرمایا: ”اپنے بعد میں تمہارے متعلق دنیا کی رونق و شادابی جس کی تمہارے اوپر بہتات کر دی جائے گی سے ڈر رہا ہوں“، پھر آپ نے دنیا اور اس کی زینت کا ذکر کیا۔ تو ایک شخص کہنے لگا: کیا خیر شر لے کر آئے گا؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ تو اس سے کہا گیا: تیرا کیا معاملہ ہے کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرتا ہے، اور وہ تجھ سے بات نہیں کرتے؟ اس وقت ہم نے دیکھا کہ آپ پر وحی اتاری جا رہی تھی۔ پھر وحی موقوف ہوئی تو آپ پسینہ پوچھنے لگے، اور فرمایا: ”کیا پوچھنے والا موجود ہے؟ بیشک خیر شر نہیں لاتا ہے، مگر خیر اس سبزہ کی طرح ہے جسے موسم ربیع ( بہار ) اگاتا ہے، ( جانور کو بدہضمی سے ) مار ڈالتا ہے، یا مرنے کے قریب کر دیتا ہے مگر اس گھاس کو کھانے والے کو ( نقصان نہیں پہنچاتا ) جو کھائے یہاں تک کہ جب اس کی دونوں کوکھیں بھر جائیں تو وہ دھوپ میں جا کر سورج کا سامنا کرے، اور پائخانہ پیشاب کرے، پھر ( جب بھوک محسوس کرے تو ) پھر چرے ( اس طرح ) یقیناً یہ مال بھی ایک سرسبز و شیریں چیز ہے۔ وہ مسلمان کا کیا ہی بہترین ساتھی ہے اگر وہ اس سے یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کو دے، اور جو شخص ناحق مال حاصل کرتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے لیکن آسودہ نہیں ہوتا، اور یہ قیامت کے دن اس کے خلاف گواہ ہو گا“ ۲؎۔
اخبرني زياد بن ايوب، قال حدثنا اسماعيل ابن علية، قال اخبرني هشام، قال حدثني يحيى بن ابي كثير، قال حدثني هلال، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، قال جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر وجلسنا حوله فقال " انما اخاف عليكم من بعدي ما يفتح لكم من زهرة " . وذكر الدنيا وزينتها فقال رجل اوياتي الخير بالشر فسكت عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقيل له ما شانك تكلم رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا يكلمك . قال وراينا انه ينزل عليه فافاق يمسح الرحضاء وقال " اشاهد السايل انه لا ياتي الخير بالشر وان مما ينبت الربيع يقتل او يلم الا اكلة الخضر فانها اكلت حتى اذا امتدت خاصرتاها استقبلت عين الشمس فثلطت ثم بالت ثم رتعت وان هذا المال خضرة حلوة ونعم صاحب المسلم هو ان اعطى منه اليتيم والمسكين وابن السبيل وان الذي ياخذه بغير حقه كالذي ياكل ولا يشبع ويكون عليه شهيدا يوم القيامة
سلمان بن عامر رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”مسکین کو صدقہ کرنا صرف صدقہ ہے، اور رشتہ دار مسکین کو صدقہ کرنا صدقہ بھی ہے، اور صلہ رحمی بھی“۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا ابن عون، عن حفصة، عن ام الرايح، عن سلمان بن عامر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الصدقة على المسكين صدقة وعلى ذي الرحم اثنتان صدقة وصلة
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی بیوی زینب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا: ”تم صدقہ دو اگرچہ اپنے زیوروں ہی سے سہی“، وہ کہتی ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ( میرے شوہر ) تنگ دست و مفلس تھے، تو میں نے ان سے پوچھا: کیا میرے لیے یہ گنجائش ہے کہ میں اپنا صدقہ آپ کو اور اپنے یتیم بھتیجوں کو دے دیا کروں؟ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اس بارے میں تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو۔ زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ انصار کی ایک عورت اسے بھی زینب ہی کہا جاتا تھا آپ کے دروازے پر کھڑی ہے، وہ بھی اسی چیز کے بارے میں پوچھنا چاہتی تھی جس کے بارے میں میں پوچھنا چاہتی تھی۔ اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ اندر سے نکل کر ہماری طرف آئے، تو ہم نے ان سے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں، اور آپ سے اس کے بارے میں پوچھیں، اور آپ کو یہ نہ بتائیں کہ ہم کون ہیں، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ( اور آپ سے پوچھا ) آپ نے پوچھا: یہ دونوں کون ہیں؟ انہوں نے کہا: زینب، آپ نے فرمایا: کون سی زینب؟ انہوں نے کہا: ایک زینب تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی، اور ایک زینب انصار میں سے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”ہاں ( درست ہے ) انہیں دوہرا ثواب ملے گا ایک رشتہ داری کا اور دوسرا صدقے کا“۔
اخبرنا بشر بن خالد، قال حدثنا غندر، عن شعبة، عن سليمان، عن ابي وايل، عن عمرو بن الحارث، عن زينب، امراة عبد الله قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للنساء " تصدقن ولو من حليكن " . قالت وكان عبد الله خفيف ذات اليد فقالت له ايسعني ان اضع صدقتي فيك وفي بني اخ لي يتامى فقال عبد الله سلي عن ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالت فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فاذا على بابه امراة من الانصار يقال لها زينب تسال عما اسال عنه فخرج الينا بلال فقلنا له انطلق الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فسله عن ذلك ولا تخبره من نحن . فانطلق الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " من هما " . قال زينب . قال " اى الزيانب " . قال زينب امراة عبد الله وزينب الانصارية قال " نعم لهما اجران اجر القرابة واجر الصدقة
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کوئی لکڑیوں کا ایک گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے، پھر اسے بیچے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی آدمی سے مانگے، تو اسے دے یا نہ دے“۔
اخبرنا ابو داود، قال حدثنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، ان ابا عبيد، مولى عبد الرحمن بن ازهر اخبره انه، سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لان يحتزم احدكم حزمة حطب على ظهره فيبيعها خير من ان يسال رجلا فيعطيه او يمنعه
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی برابر مانگتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے روز ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر کوئی لوتھڑا گوشت نہ ہو گا“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، عن شعيب، عن الليث بن سعد، عن عبيد الله بن ابي جعفر، قال سمعت حمزة بن عبد الله، يقول سمعت عبد الله بن عمر، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما يزال الرجل يسال حتى ياتي يوم القيامة ليس في وجهه مزعة من لحم
عائذ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے مانگا تو آپ نے اسے دیا۔ جب ( وہ لوٹ کر چلا اور ) اس نے اپنا پیر دروازے کے چوکھٹ پر رکھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم لوگ جان پاتے کہ بھیک مانگنے میں کیا ( برائی ) ہے تو کوئی کسی کے پاس کچھ بھی مانگنے نہ جاتا“۔
اخبرنا محمد بن عثمان بن ابي صفوان الثقفي، قال حدثنا امية بن خالد، قال حدثنا شعبة، عن بسطام بن مسلم، عن عبد الله بن خليفة، عن عايذ بن عمرو، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فساله فاعطاه فلما وضع رجله على اسكفة الباب قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو تعلمون ما في المسالة ما مشى احد الى احد يساله شييا
فراسی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! میں مانگوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، اور اگر تمہیں مانگنا ضروری ہو تو نیکو کاروں سے مانگو“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن جعفر بن ربيعة، عن بكر بن سوادة، عن مسلم بن مخشي، عن ابن الفراسي، ان الفراسي، قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم اسال يا رسول الله قال " لا وان كنت سايلا لا بد فاسال الصالحين
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انصار میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو آپ نے انہیں دیا، ان لوگوں نے پھر سوال کیا، تو آپ نے انہیں پھر دیا یہاں تک کہ آپ کے پاس جو کچھ تھا ختم ہو گیا، تو آپ نے فرمایا: ”میرے پاس جو ہو گا اسے میں ذخیرہ بنا کر نہیں رکھوں گا، اور جو پاک دامن بننا چاہے گا اللہ تعالیٰ اسے پاک دامن بنا دے گا، اور جو صبر کرے گا اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق دے گا، اور صبر سے بہتر اور بڑی چیز کسی کو نہیں دی گئی ہے“۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عطاء بن يزيد، عن ابي سعيد الخدري، ان ناسا، من الانصار سالوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعطاهم ثم سالوه فاعطاهم حتى اذا نفد ما عنده قال " ما يكون عندي من خير فلن ادخره عنكم ومن يستعفف يعفه الله عز وجل ومن يصبر يصبره الله وما اعطي احد عطاء هو خير واوسع من الصبر
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ایک شخص کا اپنی رسی لے کر لکڑیوں کا گٹھا باندھ کر پیٹھ پر لادنا اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کے پاس جائے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل ( مال ) سے نوازا ہو، وہ اس سے مانگے، تو وہ اسے دے یا نہ دے“۔
اخبرنا علي بن شعيب، قال انبانا معن، قال انبانا مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " والذي نفسي بيده لان ياخذ احدكم حبله فيحتطب على ظهره خير له من ان ياتي رجلا اعطاه الله عز وجل من فضله فيساله اعطاه او منعه
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مجھے ایک بات کی ضمانت دے تو اس کے لیے جنت ہے“ ( یحییٰ کہتے ہیں: یہاں ایک لفظ تھا جس کا مفہوم یہ ہے کہ ) ”وہ لوگوں سے کچھ نہ مانگے“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا ابن ابي ذيب، حدثني محمد بن قيس، عن عبد الرحمن بن يزيد بن معاوية، عن ثوبان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من يضمن لي واحدة وله الجنة " . قال يحيى ها هنا كلمة معناها ان لا يسال الناس شييا
قبیصہ بن مخارق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تین شخصوں کے علاوہ کسی اور کے لیے سوال کرنا درست نہیں ہے: ایک وہ شخص جس کا مال کسی آفت کا شکار ہو گیا ہو تو وہ مانگ سکتا ہے یہاں تک کہ وہ گزارے کا کوئی ایسا ذریعہ حاصل کر لے جس سے اس کی ضرورتیں پوری ہو سکیں، پھر رک جائے، ( دوسرا ) وہ شخص جو کسی کا قرض اپنے ذمہ لے لے تو وہ قرض لوٹانے تک مانگ سکتا ہے، پھر ( جب قرض ادا ہو جائے ) تو مانگنے سے رک جائے۔ اور ( تیسرا ) وہ شخص جس کی قوم کے تین سمجھدار افراد اللہ کے نام کی قسم کھا کر اس کی محتاجی و تنگ دستی کی گواہی دیں کہ فلاں شخص کے لیے مانگنا جائز ہے تو وہ مانگ سکتا ہے، یہاں تک کہ وہ گزارے کا کوئی ایسا ذریعہ نہ حاصل کر لے جس سے اس کی ضرورتیں پوری ہو سکیں، ان ( تین صورتوں ) کے علاوہ مانگنا حرام ہے“۔
اخبرنا هشام بن عمار، قال حدثنا يحيى، - وهو ابن حمزة - قال حدثني الاوزاعي، عن هارون بن رياب، انه حدثه عن ابي بكر، عن قبيصة بن مخارق، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تصلح المسالة الا لثلاثة رجل اصابت ماله جايحة فيسال حتى يصيب سدادا من عيش ثم يمسك ورجل تحمل حمالة فيسال حتى يودي اليهم حمالتهم ثم يمسك عن المسالة ورجل يحلف ثلاثة نفر من قومه من ذوي الحجا بالله لقد حلت المسالة لفلان فيسال حتى يصيب قواما من معيشة ثم يمسك عن المسالة فما سوى ذلك سحت
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مانگے اور اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے مانگنے سے بے نیاز کرتی ہو، تو وہ قیامت کے دن اپنے چہرے پر خراشیں لے کر آئے گا“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کتنا مال ہو تو اسے غنی ( مالدار ) سمجھا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”پچاس درہم، یا اس کی قیمت کا سونا ہو“۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: سفیان ثوری نے کہا کہ میں نے زبید سے بھی سنا ہے، وہ محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید کے واسطہ سے ( یہ حدیث ) بیان کر رہے تھے۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا يحيى بن ادم، قال حدثنا سفيان الثوري، عن حكيم بن جبير، عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد، عن ابيه، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من سال وله ما يغنيه جاءت خموشا او كدوحا في وجهه يوم القيامة " . قيل يا رسول الله وماذا يغنيه او ماذا اغناه قال " خمسون درهما او حسابها من الذهب " . قال يحيى قال سفيان وسمعت زبيدا يحدث عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد
معاویہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چمٹ کر مت مانگو، اور تم میں سے کوئی مجھ سے کوئی چیز اس لیے نہ مانگے کہ میں اسے جو دوں اس میں اسے برکت دی جائے، اور حال یہ ہو کہ میں اسے نہ دینا چاہوں“۔
اخبرنا الحسين بن حريث، قال انبانا سفيان، عن عمرو، عن وهب بن منبه، عن اخيه، عن معاوية، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تلحفوا في المسالة ولا يسالني احد منكم شييا وانا له كاره فيبارك له فيما اعطيته
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس چالیس درہم ہوں اور وہ مانگے تو وہ «ملحف» ( چمٹ کر مانگنے والا ) ہے“۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال انبانا يحيى بن ادم، عن سفيان بن عيينة، عن داود بن شابور، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من سال وله اربعون درهما فهو الملحف