Loading...

Loading...
کتب
۱۸۴ احادیث
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میری ماں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( کچھ مانگنے کے لیے ) بھیجا، میں آیا، اور بیٹھ گیا، آپ نے میری طرف منہ کیا، اور فرمایا: ”جو بے نیازی چاہے گا اللہ عزوجل اسے بے نیاز کر دے گا اور جو شخص سوال سے بچنا چاہے گا اللہ تعالیٰ اسے بچا لے گا، اور جو تھوڑے پر قناعت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے کافی ہو گا۔ اور جو شخص مانگے اور اس کے پاس ایک اوقیہ ( یعنی چالیس درہم ) کے برابر مال ہو تو گویا اس نے چمٹ کر مانگا“، تو میں نے ( اپنے دل میں ) کہا: میری اونٹنی یاقوتہ ایک اوقیہ سے بہتر ہے، چنانچہ میں آپ سے بغیر کچھ مانگے واپس چلا آیا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابن ابي الرجال، عن عمارة بن غزية، عن عبد الرحمن بن ابي سعيد الخدري، عن ابيه، قال سرحتني امي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتيته وقعدت فاستقبلني وقال " من استغنى اغناه الله عز وجل ومن استعف اعفه الله عز وجل ومن استكفى كفاه الله عز وجل ومن سال وله قيمة اوقية فقد الحف " . فقلت ناقتي الياقوتة خير من اوقية فرجعت ولم اساله
قبیلہ بنی اسد کے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں اور میری بیوی دونوں بقیع الغرقد میں اترے، میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر ہمارے لیے کھانے کی کوئی چیز مانگ کر لائیے، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ مجھے آپ کے پاس ایک شخص ملا جو آپ سے مانگ رہا تھا، اور آپ اس سے فرما رہے تھے: ”میرے پاس ( اس وقت ) تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے“۔ وہ شخص آپ کے پاس سے پیٹھ پھیر کر غصے کی حالت میں یہ کہتا ہوا چلا: قسم ہے میری زندگی کی! آپ تو اسی کو دیتے ہیں جسے چاہتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( خواہ مخواہ ) مجھ پر اس بات پر غصہ ہو رہا ہے کہ میرے پاس اسے دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، ( ہوتا تو اسے دیتا ویسے تم لوگ جان لو کہ ) تم میں سے جس کے پاس چالیس درہم ہو یا چالیس درہم کی قیمت کے برابر کا مال ہو، اور اس نے مانگا تو اس نے چمٹ کر مانگا“، اسدی ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں: میں نے ( دل میں ) کہا: ہماری دو دھاری اونٹنی ایک اوقیہ سے تو بہتر ہی ہے، اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، چنانچہ میں آپ سے بغیر کچھ مانگے لوٹ آیا۔ پھر آپ کے پاس جَو اور کشمش آئے، تو آپ نے ہم کو بھی اس میں سے حصہ دیا، یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے ہم کو مالدار کر دیا۔
قال الحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال انبانا مالك، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن رجل، من بني اسد قال نزلت انا واهلي، ببقيع الغرقد فقالت لي اهلي اذهب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فسله لنا شييا ناكله . فذهبت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فوجدت عنده رجلا يساله ورسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا اجد ما اعطيك " . فولى الرجل عنه وهو مغضب وهو يقول لعمري انك لتعطي من شيت . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انه ليغضب على ان لا اجد ما اعطيه من سال منكم وله اوقية او عدلها فقد سال الحافا " . قال الاسدي فقلت للقحة لنا خير من اوقية - والاوقية اربعون درهما - فرجعت ولم اساله فقدم على رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد ذلك شعير وزبيب فقسم لنا منه حتى اغنانا الله عز وجل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ کسی مالدار، طاقتور اور صحیح سالم شخص کے لیے درست نہیں“۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابي بكر، عن ابي حصين، عن سالم، عن ابي هريرة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تحل الصدقة لغني ولا لذي مرة سوي
عبیداللہ بن عدی بن خیار رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ دو شخصوں نے ان سے بیان کیا کہ وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، دونوں آپ سے صدقہ مانگ رہے تھے، تو آپ نے نگاہ الٹ پلٹ کر انہیں دیکھا ( محمد کی روایت میں ( نگاہ کے بجائے ) اپنی نگاہ ہے تو دونوں کو ہٹا کٹا پایا، تو آپ نے فرمایا: ”اگر چاہو تو لے لو، ( لیکن یہ جان لو ) کہ مالدار اور کما سکنے والے شخص کے لیے اس میں کوئی حصہ نہیں ہے“۔
اخبرنا عمرو بن علي، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا يحيى، عن هشام بن عروة، قال حدثني ابي قال، حدثني عبيد الله بن عدي بن الخيار، . ان رجلين، حدثاه انهما، اتيا رسول الله صلى الله عليه وسلم يسالانه من الصدقة فقلب فيهما البصر - وقال محمد بصره - فراهما جلدين فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان شيتما ولا حظ فيها لغني ولا لقوي مكتسب
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنا خراش ( زخم کی ہلکی لکیر ) ہے جسے آدمی اپنے چہرے پر لگاتا ہے، تو جو چاہے اپنے چہرے پر ( مانگ کر ) خراش لگائے، اور جو چاہے نہ لگائے، مگر یہ کہ آدمی حاکم سے مانگے، یا کوئی ایسی چیز مانگے جس سے چارہ نہ ہو“۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا محمد بن بشر، قال انبانا شعبة، عن عبد الملك، عن زيد بن عقبة، عن سمرة بن جندب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان المسايل كدوح يكدح بها الرجل وجهه فمن شاء كدح وجهه ومن شاء ترك الا ان يسال الرجل ذا سلطان او شييا لا يجد منه بدا
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنا خراش ہے جس سے آدمی اپنے چہرے کو زخمی کرتا ہے مگر یہ کہ آدمی حاکم سے مانگے، یا کوئی ایسی چیز مانگے جس کے بغیر چارہ نہیں“۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا وكيع، قال حدثنا سفيان، عن عبد الملك، عن زيد بن عقبة، عن سمرة بن جندب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المسالة كد يكد بها الرجل وجهه الا ان يسال الرجل سلطانا او في امر لا بد منه
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے دیا، پھر مانگا تو پھر دیا، پھر آپ نے فرمایا: ”یہ مال ہری بھری اور میٹھی چیز ہے، جو شخص اسے دل کی پاکیزگی کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت ملے گی، اور جو شخص اسے نفس کی حرص و طمع سے لے گا تو اس میں اسے برکت نہیں دی جائے گی۔ وہ اس شخص کی طرح ہو گا جو کھائے لیکن اس کا پیٹ نہ بھرے۔ ( جان لو ) اوپر والا ( یعنی دینے والا ) ہاتھ نیچے والے ( یعنی لینے والے ) ہاتھ سے بہتر ہے“۔
اخبرنا عبد الجبار بن العلاء بن عبد الجبار، عن سفيان، عن الزهري، قال اخبرني عروة، عن حكيم بن حزام، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعطاني ثم سالته فاعطاني ثم سالته فاعطاني فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا حكيم ان هذا المال خضرة حلوة فمن اخذه بطيب نفس بورك له فيه ومن اخذه باشراف نفس لم يبارك له فيه وكان كالذي ياكل ولا يشبع واليد العليا خير من اليد السفلى
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے مجھے دیا، پھر مانگا تو آپ نے پھر دیا، پھر مانگا تو آپ نے پھر دیا، پھر آپ نے فرمایا: ”حکیم! یہ مال ہری بھری اور میٹھی چیز ہے۔ جو اسے طبیعت کی فیاضی کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت دی جائے گی، اور جو نفس کی حرص و لالچ کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت نہیں دی جائے گی۔ اور وہ اس شخص کی طرح ہو گا جو کھاتا ہو لیکن آسودہ نہ ہوتا ہو، اور اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے“۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا مسكين بن بكير، قال حدثنا الاوزاعي، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن حكيم بن حزام، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعطاني ثم سالته فاعطاني ثم سالته فاعطاني ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا حكيم ان هذا المال خضرة حلوة من اخذه بسخاوة نفس بورك له فيه ومن اخذه باشراف النفس لم يبارك له فيه وكان كالذي ياكل ولا يشبع واليد العليا خير من اليد السفلى
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے مجھے دیا، میں نے پھر مانگا تو آپ نے پھر دیا۔ پھر آپ نے فرمایا: ”اے حکیم! یہ مال میٹھی چیز ہے، جو شخص اسے نفس کی فیاضی کے ساتھ لے گا تو اس میں اسے برکت دی جائے گی، اور جو شخص اسے حرص و طمع کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت نہیں دی جائے گی۔ اور وہ اس شخص کی طرح ہو گا جو کھائے تو لیکن اس کا پیٹ نہ بھرے۔ اور ( جان لو ) اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے سے“۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے آپ کے بعد اب کسی سے کچھ نہ لوں گا یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہو جاؤں۔
اخبرني الربيع بن سليمان بن داود، قال حدثنا اسحاق بن بكر، قال حدثني ابي، عن عمرو بن الحارث، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، وسعيد بن المسيب، ان حكيم بن حزام، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعطاني ثم سالته فاعطاني ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا حكيم ان هذا المال حلوة فمن اخذه بسخاوة نفس بورك له فيه ومن اخذه باشراف نفس لم يبارك له فيه وكان كالذي ياكل ولا يشبع واليد العليا خير من اليد السفلى " . قال حكيم فقلت يا رسول الله والذي بعثك بالحق لا ارزا احدا بعدك حتى افارق الدنيا بشىء
عبداللہ بن ساعدی مالکی کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقہ پر عامل بنایا، جب میں اس سے فارغ ہوا اور اسے ان کے حوالے کر دیا، تو انہوں نے اس کام کی مجھے اجرت دینے کا حکم دیا، میں نے ان سے عرض کیا کہ میں نے یہ کام صرف اللہ عزوجل کے لیے کیا ہے، اور میرا اجر اللہ ہی کے ذمہ ہے، تو انہوں نے کہا: ـ میں تمہیں جو دیتا ہوں وہ لے لو، کیونکہ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک کام کیا تھا، اور میں نے بھی آپ سے ویسے ہی کہا تھا جو تم نے کہا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تمہیں کوئی چیز بغیر مانگے ملے تو ( اسے ) کھاؤ، اور ( اس میں سے ) صدقہ کرو“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن بكير، عن بسر بن سعيد، عن ابن الساعدي المالكي، قال استعملني عمر بن الخطاب رضى الله عنه على الصدقة فلما فرغت منها فاديتها اليه امر لي بعمالة فقلت له انما عملت لله عز وجل واجري على الله عز وجل . فقال خذ ما اعطيتك فاني قد عملت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت له مثل قولك فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اعطيت شييا من غير ان تسال فكل وتصدق
عبداللہ بن السعدی القرشی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ شام سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی ہے کہ تم مسلمانوں کے کاموں میں سے کسی کام پر عامل بنائے جاتے ہو، اور اس پر جو تمہیں اجرت دی جاتی ہے تو اسے تم قبول نہیں کرتے، تو انہوں نے کہا: ہاں یہ صحیح ہے، میرے پاس گھوڑے ہیں، غلام ہیں اور میں ٹھیک ٹھاک ہوں ( اللہ کا شکر ہے کوئی کمی نہیں ہے ) میں چاہتا ہوں کہ میرا کام مسلمانوں پر صدقہ ہو جائے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو تم چاہتے ہو وہی میں نے بھی چاہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مال دیتے تو میں عرض کرتا: اسے آپ اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہو، ایک بار آپ نے مجھے مال دیا تو میں نے عرض کیا: آپ اسے اس شخص کو دے دیجئیے جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل اس مال میں سے جو تمہیں بغیر مانگے اور بغیر لالچ کئے دے، اسے لے لو، چاہو تم ( اسے اپنے مال میں شامل کر کے ) مالدار بن جاؤ، اور چاہو تو اسے صدقہ کر دو۔ اور جو نہ دے اسے لینے کے پیچھے مت پڑو“۔
اخبرنا سعيد بن عبد الرحمن ابو عبيد الله المخزومي، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن السايب بن يزيد، عن حويطب بن عبد العزى، قال اخبرني عبد الله بن السعدي، انه قدم على عمر بن الخطاب رضى الله عنه من الشام فقال الم اخبر انك تعمل على عمل من اعمال المسلمين فتعطى عليه عمالة فلا تقبلها قال اجل ان لي افراسا واعبدا وانا بخير واريد ان يكون عملي صدقة على المسلمين فقال عمر رضى الله عنه اني اردت الذي اردت وكان النبي صلى الله عليه وسلم يعطيني المال فاقول اعطه من هو افقر اليه مني وانه اعطاني مرة مالا فقلت له اعطه من هو احوج اليه مني . فقال " ما اتاك الله عز وجل من هذا المال من غير مسالة ولا اشراف فخذه فتموله او تصدق به وما لا فلا تتبعه نفسك
عبداللہ بن السعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی خلافت کے زمانہ میں آئے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا مجھے یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ تم عوامی کاموں میں سے کسی کام کے ذمہ دار ہوتے ہو اور جب تمہیں مزدوری دی جاتی ہے تو قبول نہیں کرتے لوٹا دیتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں ( صحیح ہے ) اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس سے تم کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میرے پاس گھوڑے، غلام ہیں اور میں ٹھیک ٹھاک ہوں ( مجھے کسی چیز کی محتاجی نہیں ہے ) میں چاہتا ہوں کہ میرا کام مسلمانوں پر صدقہ ہو۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ایسا نہ کرو کیونکہ میں بھی یہی چاہتا تھا جو تم چاہتے ہو ( لیکن اس کے باوجود ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطیہ ( بخشش ) دیتے تھے تو میں عرض کرتا تھا: اسے میرے بجائے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہو، تو آپ فرماتے: ”اسے لے کر اپنے مال میں شامل کر لو، یا صدقہ کر دو، سنو! تمہارے پاس اس طرح کا جو بھی مال آئے جس کا نہ تم حرص رکھتے ہو اور نہ تم اس کے طلب گار ہو تو وہ مال لے لو، اور جو اس طرح نہ آئے اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ ڈالو“۔
اخبرنا كثير بن عبيد، قال حدثنا محمد بن حرب، عن الزبيدي، عن الزهري، عن السايب بن يزيد، ان حويطب بن عبد العزى، اخبره ان عبد الله بن السعدي اخبره انه، قدم على عمر بن الخطاب في خلافته فقال له عمر الم احدث انك تلي من اعمال الناس اعمالا فاذا اعطيت العمالة رددتها فقلت بلى . فقال عمر رضى الله عنه فما تريد الى ذلك فقلت لي افراس واعبد وانا بخير واريد ان يكون عملي صدقة على المسلمين . فقال له عمر فلا تفعل فاني كنت اردت مثل الذي اردت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعطيني العطاء فاقول اعطه افقر اليه مني . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خذه فتموله او تصدق به ما جاءك من هذا المال وانت غير مشرف ولا سايل فخذه وما لا فلا تتبعه نفسك
عبداللہ بن السعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں ان کے پاس آئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی ہے کہ تم عوامی کاموں میں سے کسی کام کے والی ہوتے ہو تو جب تمہیں اجرت دی جاتی ہے تو تم اسے ناپسند کرتے ہو؟ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کیوں نہیں ( ایسا تو ہے ) انہوں نے کہا: اس سے تم کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میرے پاس گھوڑے اور غلام ہیں اور میں ٹھیک ٹھاک ہوں، میں چاہتا ہوں کہ میرا کام مسلمانوں پر صدقہ ہو جائے، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا نہ کرو، کیونکہ میں بھی وہی چاہتا تھا جو تم چاہتے ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطایا ( بخشش ) دیتے تھے، تو میں عرض کرتا تھا: آپ اسے دے دیں جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہو، یہاں تک کہ ایک بار آپ نے مجھے کچھ مال دیا، میں نے کہا: آپ اسے اس شخص کو دے دیں جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے کر اپنے مال میں شامل کر لو، نہیں تو صدقہ کر دو۔ ( سنو! ) اس مال میں سے جو بھی تمہیں بغیر کسی لالچ کے اور بغیر مانگے ملے اس کو لے لو، اور جو نہ ملے اس کے پیچھے نہ پڑو“۔
اخبرنا عمرو بن منصور، واسحاق بن منصور، عن الحكم بن نافع، قال انبانا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني السايب بن يزيد، ان حويطب بن عبد العزى، اخبره ان عبد الله بن السعدي اخبره انه، قدم على عمر بن الخطاب في خلافته فقال عمر الم اخبر انك، تلي من اعمال الناس اعمالا فاذا اعطيت العمالة كرهتها قال فقلت بلى . قال فما تريد الى ذلك فقلت ان لي افراسا واعبدا وانا بخير واريد ان يكون عملي صدقة على المسلمين فقال عمر فلا تفعل فاني كنت اردت الذي اردت فكان النبي صلى الله عليه وسلم يعطيني العطاء فاقول اعطه افقر اليه مني حتى اعطاني مرة مالا فقلت اعطه افقر اليه مني . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " خذه فتموله وتصدق به فما جاءك من هذا المال وانت غير مشرف ولا سايل فخذه وما لا فلا تتبعه نفسك
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطیہ دیتے تو میں کہتا: آپ اسے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو۔ یہاں تک کہ ایک بار آپ نے مجھے کچھ مال دیا تو میں نے آپ سے عرض کیا: اسے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ اس کا حاجت مند ہو، تو آپ نے فرمایا: ”تم لے لو، اور اس کے مالک بن جاؤ، اور اسے صدقہ کر دو، اور جو مال تمہیں اس طرح ملے کہ تم نے اسے مانگا نہ ہو اور اس کی لالچ کی ہو تو اسے قبول کر لو، اور جو اس طرح نہ ملے اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ ڈالو“۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا الحكم بن نافع، قال انبانا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سالم بن عبد الله، ان عبد الله بن عمر، قال سمعت عمر، رضى الله عنه يقول كان النبي صلى الله عليه وسلم يعطيني العطاء فاقول اعطه افقر اليه مني حتى اعطاني مرة مالا فقلت له اعطه افقر اليه مني . فقال " خذه فتموله وتصدق به وما جاءك من هذا المال وانت غير مشرف ولا سايل فخذه وما لا فلا تتبعه نفسك
عبدالمطلب بن ربیعہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد ربیعہ بن حارث نے عبدالمطلب بن ربیعہ اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہم سے کہا کہ تم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، اور آپ سے کہو کہ اللہ کے رسول! آپ ہمیں صدقہ پر عامل بنا دیں، ہم اسی حال میں تھے کہ علی رضی اللہ عنہ آ گئے تو انہوں نے ان دونوں سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم دونوں میں سے کسی کو بھی صدقہ پر عامل مقرر نہیں فرمائیں گے۔ عبدالمطلب کہتے ہیں: ( ان کے ایسا کہنے کے باوجود بھی ) میں اور فضل دونوں چلے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، تو آپ نے ہم سے فرمایا: ”یہ صدقہ جو ہے یہ لوگوں کا میل ہے، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آل کے لیے جائز نہیں“۔
اخبرنا عمرو بن سواد بن الاسود بن عمرو، عن ابن وهب، قال حدثنا يونس، عن ابن شهاب، عن عبد الله بن الحارث بن نوفل الهاشمي، ان عبد المطلب بن ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب، اخبره ان اباه ربيعة بن الحارث قال لعبد المطلب بن ربيعة بن الحارث والفضل بن العباس بن عبد المطلب ايتيا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقولا له استعملنا يا رسول الله على الصدقات . فاتى علي بن ابي طالب ونحن على تلك الحال فقال لهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يستعمل منكم احدا على الصدقة قال عبد المطلب فانطلقت انا والفضل حتى اتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لنا " ان هذه الصدقة انما هي اوساخ الناس وانها لا تحل لمحمد ولا لال محمد صلى الله عليه وسلم
شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوایاس معاویہ بن قرہ سے پوچھا: کیا آپ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کا بھانجا بھی انہیں میں سے ہوتا ہے“، انہوں نے کہا: جی ہاں ( میں نے سنا ہے ) ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا وكيع، قال حدثنا شعبة، قال قلت لابي اياس معاوية بن قرة اسمعت انس بن مالك يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابن اخت القوم من انفسهم " . قال نعم
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کا بھانجا بھی انہیں میں سے ہوتا ہے“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا وكيع، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، عن انس بن مالك، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ابن اخت القوم منهم
ابورافع رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ پر عامل مقرر فرمایا، تو ابورافع نے بھی اس کے ساتھ جانا چاہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ ہمارے لیے حلال نہیں ہے، لوگوں کا غلام بھی انہیں میں سے شمار ہوتا ہے“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا الحكم، عن ابن ابي رافع، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم استعمل رجلا من بني مخزوم على الصدقة فاراد ابو رافع ان يتبعه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الصدقة لا تحل لنا وان مولى القوم منهم
بہز بن حکیم کے دادا (معاویہ بن حیدہ) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( کھانے کی ) کوئی چیز لائی جاتی تو آپ پوچھتے: ”یہ ہدیہ ہے یا صدقہ؟“ اگر کہا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو آپ نہ کھاتے اور اگر کہا جاتا یہ ہدیہ ہے تو آپ ( کھانے کے لیے ) اپنا ہاتھ بڑھاتے۔
اخبرنا زياد بن ايوب، قال حدثنا عبد الواحد بن واصل، قال حدثنا بهز بن حكيم، عن ابيه، عن جده، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا اتي بشىء سال عنه " اهدية ام صدقة " . فان قيل صدقة لم ياكل وان قيل هدية بسط يده
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کر دینا چاہا، لیکن ان کے مالکان نے ولاء ( ترکہ ) خود لینے کی شرط لگائی۔ تو انہوں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے فرمایا: ”اسے خرید لو، اور آزاد کر دو، ولاء ( ترکہ ) اسی کا ہے جو آزاد کرے“، اور جس وقت وہ آزاد کر دی گئیں تو انہیں اختیار دیا گیا کہ وہ اپنے شوہر کی زوجیت میں رہیں یا نہ رہیں۔ ( اسی درمیان ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا، کہا گیا کہ یہ ان چیزوں میں سے ہے جو بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا جاتا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”یہ اس کے لیے صدقہ ہے، اور ہمارے لیے ہدیہ ہے“، ان کے شوہر آزاد تھے۔
اخبرنا عمرو بن يزيد، قال حدثنا بهز بن اسد، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا الحكم، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، انها ارادت ان تشتري، بريرة فتعتقها وانهم اشترطوا ولاءها فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " اشتريها واعتقيها فان الولاء لمن اعتق " . وخيرت حين اعتقت واتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بلحم فقيل هذا مما تصدق به على بريرة . فقال " هو لها صدقة ولنا هدية " . وكان زوجها حرا