احادیث
#2596
سنن نسائی - Zakah
قبیلہ بنی اسد کے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں اور میری بیوی دونوں بقیع الغرقد میں اترے، میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر ہمارے لیے کھانے کی کوئی چیز مانگ کر لائیے، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ مجھے آپ کے پاس ایک شخص ملا جو آپ سے مانگ رہا تھا، اور آپ اس سے فرما رہے تھے: ”میرے پاس ( اس وقت ) تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے“۔ وہ شخص آپ کے پاس سے پیٹھ پھیر کر غصے کی حالت میں یہ کہتا ہوا چلا: قسم ہے میری زندگی کی! آپ تو اسی کو دیتے ہیں جسے چاہتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( خواہ مخواہ ) مجھ پر اس بات پر غصہ ہو رہا ہے کہ میرے پاس اسے دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، ( ہوتا تو اسے دیتا ویسے تم لوگ جان لو کہ ) تم میں سے جس کے پاس چالیس درہم ہو یا چالیس درہم کی قیمت کے برابر کا مال ہو، اور اس نے مانگا تو اس نے چمٹ کر مانگا“، اسدی ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں: میں نے ( دل میں ) کہا: ہماری دو دھاری اونٹنی ایک اوقیہ سے تو بہتر ہی ہے، اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، چنانچہ میں آپ سے بغیر کچھ مانگے لوٹ آیا۔ پھر آپ کے پاس جَو اور کشمش آئے، تو آپ نے ہم کو بھی اس میں سے حصہ دیا، یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے ہم کو مالدار کر دیا۔
قال الحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال انبانا مالك، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن رجل، من بني اسد قال نزلت انا واهلي، ببقيع الغرقد فقالت لي اهلي اذهب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فسله لنا شييا ناكله . فذهبت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فوجدت عنده رجلا يساله ورسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا اجد ما اعطيك " . فولى الرجل عنه وهو مغضب وهو يقول لعمري انك لتعطي من شيت . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انه ليغضب على ان لا اجد ما اعطيه من سال منكم وله اوقية او عدلها فقد سال الحافا " . قال الاسدي فقلت للقحة لنا خير من اوقية - والاوقية اربعون درهما - فرجعت ولم اساله فقدم على رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد ذلك شعير وزبيب فقسم لنا منه حتى اغنانا الله عز وجل
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Zakah
- Hadith Index
- #2596
- Book Index
- 162
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Sahih
