Loading...

Loading...
کتب
۱۸۴ احادیث
اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے ( ایک آدمی کو ) ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دیا تو اسے اس شخص نے برباد کر دیا، تو میں نے سوچا کہ میں اسے خرید لوں، خیال تھا کہ وہ اسے سستا ہی بیچ دے گا، میں نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم اسے مت خریدو گرچہ وہ تمہیں ایک ہی درہم میں دیدے، کیونکہ صدقہ کر کے پھر اسے لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے اسے چاٹتا ہے“۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال حدثنا مالك، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، قال سمعت عمر، يقول حملت على فرس في سبيل الله عز وجل فاضاعه الذي كان عنده واردت ان ابتاعه منه وظننت انه بايعه برخص فسالت عن ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " لا تشتره وان اعطاكه بدرهم فان العايد في صدقته كالكلب يعود في قييه
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دیا، پھر دیکھا کہ وہ گھوڑا بیچا جا رہا ہے، تو انہوں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اپنے صدقے میں آڑے نہ آؤ“۔
اخبرنا هارون بن اسحاق، قال حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، عن عمر، انه حمل على فرس في سبيل الله فراها تباع فاراد شراءها فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " لا تعرض في صدقتك
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں صدقہ کیا، اس کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ وہ بیچا جا رہا ہے۔ تو انہوں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے اس بارے میں اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: ”اپنا صدقہ واپس نہ لو“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال انبانا حجين، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، ان عبد الله بن عمر، كان يحدث ان عمر، تصدق بفرس في سبيل الله عز وجل فوجدها تباع بعد ذلك فاراد ان يشتريه ثم اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستامره في ذلك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تعد في صدقتك
تابعی سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتاب بن اسید کو ( درخت پر لگے ) انگور کا تخمینہ لگانے کا حکم دیا تاکہ اس کی زکاۃ کشمش سے ادا کی جا سکے، جیسے درخت پر لگی کھجوروں کی زکاۃ پکی کھجور سے ادا کی جاتی ہے ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا بشر، ويزيد، قالا حدثنا عبد الرحمن بن اسحاق، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر عتاب بن اسيد ان يخرص العنب فتودى زكاته زبيبا كما تودى زكاة النخل تمرا