احادیث
#2606
سنن نسائی - Zakah
عبداللہ بن السعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی خلافت کے زمانہ میں آئے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا مجھے یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ تم عوامی کاموں میں سے کسی کام کے ذمہ دار ہوتے ہو اور جب تمہیں مزدوری دی جاتی ہے تو قبول نہیں کرتے لوٹا دیتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں ( صحیح ہے ) اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس سے تم کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میرے پاس گھوڑے، غلام ہیں اور میں ٹھیک ٹھاک ہوں ( مجھے کسی چیز کی محتاجی نہیں ہے ) میں چاہتا ہوں کہ میرا کام مسلمانوں پر صدقہ ہو۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ایسا نہ کرو کیونکہ میں بھی یہی چاہتا تھا جو تم چاہتے ہو ( لیکن اس کے باوجود ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطیہ ( بخشش ) دیتے تھے تو میں عرض کرتا تھا: اسے میرے بجائے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہو، تو آپ فرماتے: ”اسے لے کر اپنے مال میں شامل کر لو، یا صدقہ کر دو، سنو! تمہارے پاس اس طرح کا جو بھی مال آئے جس کا نہ تم حرص رکھتے ہو اور نہ تم اس کے طلب گار ہو تو وہ مال لے لو، اور جو اس طرح نہ آئے اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ ڈالو“۔
اخبرنا كثير بن عبيد، قال حدثنا محمد بن حرب، عن الزبيدي، عن الزهري، عن السايب بن يزيد، ان حويطب بن عبد العزى، اخبره ان عبد الله بن السعدي اخبره انه، قدم على عمر بن الخطاب في خلافته فقال له عمر الم احدث انك تلي من اعمال الناس اعمالا فاذا اعطيت العمالة رددتها فقلت بلى . فقال عمر رضى الله عنه فما تريد الى ذلك فقلت لي افراس واعبد وانا بخير واريد ان يكون عملي صدقة على المسلمين . فقال له عمر فلا تفعل فاني كنت اردت مثل الذي اردت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعطيني العطاء فاقول اعطه افقر اليه مني . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خذه فتموله او تصدق به ما جاءك من هذا المال وانت غير مشرف ولا سايل فخذه وما لا فلا تتبعه نفسك
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Zakah
- Hadith Index
- #2606
- Book Index
- 172
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiHasan
