Loading...

Loading...
کتب
۱۸۴ احادیث
حسن (حسن بصریٰ) سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بصرہ میں خطبہ دیا، تو انہوں نے کہا: تم لوگ اپنے روزوں کی زکاۃ دو ( یعنی صدقہ فطر نکالو ) تو لوگ ایک دوسرے کو تکنے لگے۔ تو انہوں نے کہا: یہاں اہل مدینہ میں سے کون کون ہیں؟ تم لوگ اٹھو، اور اپنے بھائیوں کے پاس جاؤ، انہیں بتاؤ، کیونکہ وہ لوگ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام، مذکر اور مونث پر آدھا صاع گی ہوں، یا ایک صاع کھجور، یا جو فرض کیا ہے۔ حسن کہتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رہی بات جب اللہ نے تمہیں وسعت و فراخی دے رکھی ہو تو تم بھی وسعت و فراخی کا مظاہرہ کرو۔ گیہوں وغیرہ ( نصف صاع کے بجائے ) ایک صاع دو۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا يزيد بن هارون، قال حدثنا حميد، عن الحسن، ان ابن عباس، خطب بالبصرة فقال ادوا زكاة صومكم . فجعل الناس ينظر بعضهم الى بعض فقال من ها هنا من اهل المدينة قوموا الى اخوانكم فعلموهم فانهم لا يعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم فرض صدقة الفطر على الصغير والكبير والحر والعبد والذكر والانثى نصف صاع بر او صاعا من تمر او شعير . قال الحسن فقال علي اما اذا اوسع الله فاوسعوا اعطوا صاعا من بر او غيره
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگ صدقہ فطر ایک صاع جَو یا کھجور یا سُلت ( بے چھلکے کا جو ) یا کشمش نکالتے تھے۔
اخبرنا موسى بن عبد الرحمن، قال حدثنا حسين، عن زايدة، قال حدثنا عبد العزيز بن ابي رواد، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان الناس يخرجون عن صدقة الفطر، في عهد النبي صلى الله عليه وسلم صاعا من شعير او تمر او سلت او زبيب
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صدقہ فطر ایک صاع جَو یا کھجور یا انگور یا پنیر نکالتے تھے۔ اور ہم برابر ایسا ہی کرتے چلے آ رہے تھے یہاں تک کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا۔ تو انہوں نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ شامی گیہوں کے دو مد ( یعنی نصف صاع ) جو کے ایک صاع کے برابر ہیں۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا داود بن قيس، قال حدثنا عياض، عن ابي سعيد الخدري، قال كنا نخرج في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم صاعا من شعير او تمر او زبيب او اقط فلم نزل كذلك حتى كان في عهد معاوية قال ما ارى مدين من سمراء الشام الا تعدل صاعا من شعير
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( صدقہ فطر ) کھجور یا جو یا پنیر سے ایک صاع نکالتے تھے۔ اس کے علاوہ کچھ نہ نکالتے تھے۔
اخبرنا عيسى بن حماد، قال انبانا الليث، عن يزيد، عن عبيد الله بن عبد الله بن عثمان، ان عياض بن عبد الله بن سعد، حدثه ان ابا سعيد الخدري قال كنا نخرج في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم صاعا من تمر او صاعا من شعير او صاعا من اقط لا نخرج غيره
سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک صاع تمہارے آج کے مد سے ایک مد اور ایک تہائی مد اور کچھ زائد کا تھا۔ اور ابوعبدالرحمٰن فرماتے ہیں: اس حدیث کو مجھ سے زیاد بن ایوب نے بیان کیا ہے۔
اخبرنا عمرو بن زرارة، قال انبانا القاسم، - وهو ابن مالك - عن الجعيد، سمعت السايب بن يزيد، قال كان الصاع على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم مدا وثلثا بمدكم اليوم وقد زيد فيه . قال ابو عبد الرحمن وحدثنيه زياد بن ايوب
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا سفيان، عن حنظلة، عن طاوس، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " المكيال مكيال اهل المدينة والوزن وزن اهل مكة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ صدقہ فطر نماز کے لیے لوگوں کے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے ( ابن بزیع کی روایت میں «بصدقة الفطر» کے بجائے «بزكاة الفطر» ہے ) ۔
اخبرنا محمد بن معدان بن عيسى، قال حدثنا الحسن، حدثنا زهير، حدثنا موسى، ح قال وانبانا محمد بن عبد الله بن بزيع، قال حدثنا الفضيل، قال حدثنا موسى، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر بصدقة الفطر ان تودى قبل خروج الناس الى الصلاة . قال ابن بزيع بزكاة الفطر
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو فرمایا: ”تم ایک ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں، تم انہیں اس بات کی گواہی کی دعوت دو کہ اللہ کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ عزوجل نے ان پر ہر دن اور رات میں پانچ ( وقت کی ) نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ تمہاری یہ بات ( بھی ) مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ عزوجل نے ان کے مالوں میں زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی، اور ان کے محتاجوں میں تقسیم کر دی جائے گی، اگر وہ تمہاری یہ بات ( بھی ) مان لیں تو ان کے اچھے و عمدہ مال لینے سے بچو، اور مظلوم کی بد دعا سے بچو کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا وكيع، قال حدثنا زكريا بن اسحاق، - وكان ثقة - عن يحيى بن عبد الله بن صيفي، عن ابي معبد، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث معاذ بن جبل الى اليمن فقال " انك تاتي قوما اهل كتاب فادعهم الى شهادة ان لا اله الا الله واني رسول الله فان هم اطاعوك فاعلمهم ان الله عز وجل افترض عليهم خمس صلوات في كل يوم وليلة فان هم اطاعوك فاعلمهم ان الله عز وجل قد افترض عليهم صدقة في اموالهم توخذ من اغنيايهم فتوضع في فقرايهم فان هم اطاعوك لذلك فاياك وكرايم اموالهم واتق دعوة المظلوم فانها ليس بينها وبين الله عز وجل حجاب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص نے کہا: میں ضرور صدقہ دوں گا، تو وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اس نے اسے ایک چور کے ہاتھ میں رکھ دیا، صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ ایک چور کو صدقہ دیا گیا ہے، اس نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے چور کے ہاتھ میں چلے جانے پر بھی ۱؎، میں اور بھی صدقہ دوں گا چنانچہ ( دوسرے دن بھی ) وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اس نے اسے لے جا کر ایک زانیہ عورت کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ کو صدقہ دیا گیا ہے۔ تو اس نے پھر کہا: اللہ تیرا شکر ہے زانیہ کے ہاتھ میں چلے جانے پر بھی، میں پھر صدقہ دوں گا، چنانچہ ( تیسرے دن ) پھر وہ صدقہ کا مال لے کر نکلا، اور ایک مالدار شخص کو تھما آیا، پھر صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ ایک مالدار شخص کو صدقہ کیا گیا ہے، اس نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے، زانیہ، چور اور مالدار کو دے دینے پر بھی۔ تو خواب میں اس کے پاس آ کر کہا گیا: رہا تیرا صدقہ تو وہ قبول کر لیا گیا ہے، رہی زانیہ تو ( صدقہ پا کر ) شاید وہ زناکاری سے باز آ جائے اور رہا چور تو صدقہ پا کر شاید وہ اپنی چوری سے باز آ جائے، اور رہا مالدار آدمی ( تو صدقہ پا کر ) شاید وہ اس سے سبق سیکھے اور اللہ عزوجل نے اسے جو دولت دے رکھی ہے اس میں سے خرچ کرنے لگے“۔
اخبرنا عمران بن بكار، قال حدثنا علي بن عياش، قال حدثنا شعيب، قال حدثني ابو الزناد، مما حدثه عبد الرحمن الاعرج، مما ذكر انه سمع ابا هريرة، يحدث به عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال " قال رجل لاتصدقن بصدقة فخرج بصدقته فوضعها في يد سارق فاصبحوا يتحدثون تصدق على سارق فقال اللهم لك الحمد على سارق لاتصدقن بصدقة فخرج بصدقته فوضعها في يد زانية فاصبحوا يتحدثون تصدق الليلة على زانية فقال اللهم لك الحمد على زانية لاتصدقن بصدقة فخرج بصدقته فوضعها في يد غني فاصبحوا يتحدثون تصدق على غني قال اللهم لك الحمد على زانية وعلى سارق وعلى غني فاتي فقيل له اما صدقتك فقد تقبلت اما الزانية فلعلها ان تستعف به من زناها ولعل السارق ان يستعف به عن سرقته ولعل الغني ان يعتبر فينفق مما اعطاه الله عز وجل
ابوالملیح کے والد اسامہ بن عمیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ عزوجل بغیر پاکی کے کوئی نماز قبول نہیں کرتا، اور نہ ہی حرام مال سے کوئی صدقہ قبول کرتا ہے“۔
اخبرنا الحسين بن محمد الذارع، قال حدثنا يزيد، - وهو ابن زريع - قال حدثنا شعبة، . قال وانبانا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا بشر، - وهو ابن المفضل - قال حدثنا شعبة، - واللفظ لبشر - عن قتادة، عن ابي المليح، عن ابيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الله عز وجل لا يقبل صلاة بغير طهور ولا صدقة من غلول
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بھی اپنے پاکیزہ مال سے صدقہ دیتا ہے ( اور اللہ پاکیزہ مال ہی قبول کرتا ہے ) تو رحمن عزوجل اسے اپنے داہنے ہاتھ میں لیتا ہے گو وہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو، پھر وہ رحمن کے ہاتھ میں بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ بڑھتے بڑھتے پہاڑ سے بھی بڑا ہو جاتا ہے، جیسے کہ تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچھڑے یا اونٹنی کے چھوٹے بچے کو پالتا ہے“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن سعيد بن ابي سعيد، عن سعيد بن يسار، انه سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما تصدق احد بصدقة من طيب ولا يقبل الله عز وجل الا الطيب الا اخذها الرحمن عز وجل بيمينه وان كانت تمرة فتربو في كف الرحمن حتى تكون اعظم من الجبل كما يربي احدكم فلوه او فصيله
عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سے کام افضل ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ایسا ایمان جس میں شبہ نہ ہو، جہاد جس میں خیانت نہ ہو، اور حج مبرور“، پوچھا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”لمبے قیام والی نماز“، پوچھا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ صدقہ جو کم مال والا اپنی محنت کی کمائی سے دے“، پوچھا گیا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ایسی ہجرت جو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ دے“، پوچھا گیا: کون سا جہاد افضل ہے، آپ نے فرمایا: ”اس شخص کا جہاد جو مشرکین سے اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کرے“، پوچھا گیا: کون سا قتل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جس میں آدمی کا خون بہا دیا گیا ہو، اور اس کا گھوڑا ہلاک کر دیا گیا ہو“۔
اخبرنا عبد الوهاب بن عبد الحكم، عن حجاج، قال ابن جريج اخبرني عثمان بن ابي سليمان، عن علي الازدي، عن عبيد بن عمير، عن عبد الله بن حبشي الخثعمي، ان النبي صلى الله عليه وسلم سيل اى الاعمال افضل قال " ايمان لا شك فيه وجهاد لا غلول فيه وحجة مبرورة " . قيل فاى الصلاة افضل قال " طول القنوت " . قيل فاى الصدقة افضل قال " جهد المقل " . قيل فاى الهجرة افضل قال " من هجر ما حرم الله عز وجل " . قيل فاى الجهاد افضل قال " من جاهد المشركين بماله ونفسه " . قيل فاى القتل اشرف قال " من اهريق دمه وعقر جواده
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک درہم ایک لاکھ درہم سے بڑھ گیا“، لوگوں نے ( حیرت سے ) پوچھا: یہ کیسے؟ آپ نے فرمایا: ”ایک شخص کے پاس دو درہم تھے، ان دو میں سے اس نے ایک صدقہ کر دیا، اور دوسرا شخص اپنی دولت ( کے انبار کے ) ایک گوشے کی طرف گیا اور اس ( ڈھیر ) میں سے ایک لاکھ درہم لیا، اور اسے صدقہ کر دیا“ ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن سعيد بن ابي سعيد، والقعقاع، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " سبق درهم ماية الف درهم " . قالوا وكيف قال " كان لرجل درهمان تصدق باحدهما وانطلق رجل الى عرض ماله فاخذ منه ماية الف درهم فتصدق بها
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک درہم ایک لاکھ درہم سے آگے نکل گیا“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کیسے؟ آپ نے فرمایا: ”ایک شخص کے پاس دو درہم ہیں، اس نے ان دونوں میں سے ایک لیا اور اسے صدقہ کر دیا۔ دوسرا وہ آدمی ہے جس کے پاس بہت زیادہ مال ہے، اس نے اپنے مال ( خزانے ) کے ایک کنارے سے ایک لاکھ درہم نکالے، اور انہیں صدقہ میں دیدے“۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا صفوان بن عيسى، قال حدثنا ابن عجلان، عن زيد بن اسلم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سبق درهم ماية الف " . قالوا يا رسول الله وكيف قال " رجل له درهمان فاخذ احدهما فتصدق به ورجل له مال كثير فاخذ من عرض ماله ماية الف فتصدق بها
ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ کرنے کا حکم فرماتے تھے، اور ہم میں بعض ایسے ہوتے تھے جن کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ نہ ہوتا تھا، یہاں تک کہ وہ بازار جاتا اور اپنی پیٹھ پر بوجھ ڈھوتا، اور ایک مد لے کر آتا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتا۔ میں آج ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جس کے پاس ایک لاکھ درہم ہے، اور اس وقت اس کے پاس ایک درہم بھی نہ تھا۔
اخبرنا الحسين بن حريث، قال انبانا الفضل بن موسى، عن الحسين، عن منصور، عن شقيق، عن ابي مسعود، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامرنا بالصدقة فما يجد احدنا شييا يتصدق به حتى ينطلق الى السوق فيحمل على ظهره فيجيء بالمد فيعطيه رسول الله صلى الله عليه وسلم اني لاعرف اليوم رجلا له ماية الف ما كان له يوميذ درهم
ابومسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کا حکم دیا تو ابوعقیل رضی اللہ عنہ نے آدھا صاع صدقہ دیا، اور ایک اور شخص اس سے زیادہ لے کر آیا، تو منافقین اس ( پہلے شخص ) کے صدقہ کے بارے میں کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ ایسے صدقے سے بے نیاز ہے، اور اس دوسرے نے محض دکھاوے کے لیے دیا ہے، تو ( اس موقع پر ) آیت کریمہ: «الذين يلمزون المطوعين من المؤمنين في الصدقات والذين لا يجدون إلا جهدهم» ”جو لوگ دل کھول کر خیرات کرنے والے مومنین پر اور ان لوگوں پر جو صرف اپنی محنت و مزدوری سے حاصل کر کے صدقہ دیتے ہیں طعن زنی کرتے ہیں“ ( التوبہ: ۷۹ ) نازل ہوئی۔
اخبرنا بشر بن خالد، قال حدثنا غندر، عن شعبة، عن سليمان، عن ابي وايل، عن ابي مسعود، قال لما امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بالصدقة فتصدق ابو عقيل بنصف صاع وجاء انسان بشىء اكثر منه فقال المنافقون ان الله عز وجل لغني عن صدقة هذا وما فعل هذا الاخر الا رياء فنزلت { الذين يلمزون المطوعين من المومنين في الصدقات والذين لا يجدون الا جهدهم}
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے مجھے دیا، پھر مانگا پھر آپ نے دیا، پھر مانگا، تو فرمایا: ”یہ مال سرسبز و شیریں چیز ہے، جو شخص اسے فیاضی نفس کے ساتھ لے گا تو اس میں برکت دی جائے گی، اور جو شخص اسے حرص و طمع کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت نہ ملے گی، اور اس شخص کی طرح ہو گا جو کھاتا ہے مگر آسودہ نہیں ہوتا ( یعنی مانگنے والے کا پیٹ نہیں بھرتا ) ۔ اوپر والا ہاتھ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، قال اخبرني سعيد، وعروة، سمعا حكيم بن حزام، يقول سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعطاني ثم سالته فاعطاني ثم سالته فاعطاني ثم قال " ان هذا المال خضرة حلوة فمن اخذه بطيب نفس بورك له فيه ومن اخذه باشراف نفس لم يبارك له فيه وكان كالذي ياكل ولا يشبع واليد العليا خير من اليد السفلى
طارق محاربی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے خطبہ دے رہے ہیں آپ فرما رہے ہیں: دینے والے کا ہاتھ اوپر والا ہے، اور پہلے انہیں دو جن کی کفالت و نگہداشت کی ذمہ داری تم پر ہو: پہلے اپنی ماں کو، پھر اپنے باپ کو، پھر اپنی بہن کو، پھر اپنے بھائی کو، پھر اپنے قریبی کو، پھر اس کے بعد کے قریبی کو۔ یہ حدیث ایک لمبی حدیث کا اختصار ہے۔
اخبرنا يوسف بن عيسى، قال انبانا الفضل بن موسى، قال حدثنا يزيد، - وهو ابن زياد بن ابي الجعد - عن جامع بن شداد، عن طارق المحاربي، قال قدمنا المدينة فاذا رسول الله صلى الله عليه وسلم قايم على المنبر يخطب الناس وهو يقول " يد المعطي العليا وابدا بمن تعول امك واباك واختك واخاك ثم ادناك ادناك " . مختصر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اس وقت آپ صدقہ و خیرات اور مانگنے سے بچنے کا ذکر کر رہے تھے ) : اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے، اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہاتھ ہے، اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہاتھ ہے۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال وهو يذكر الصدقة والتعفف عن المسالة " اليد العليا خير من اليد السفلى واليد العليا المنفقة واليد السفلى السايلة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہتر صدقہ وہ ہے جو مالداری کی برقراری اور دل کی بے نیازی کے ساتھ ہو، اور اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے۔ اور پہلے صدقہ انہیں دو جن کی کفالت و نگرانی تمہارے ذمہ ہے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا بكر، عن ابن عجلان، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " خير الصدقة ما كان عن ظهر غنى واليد العليا خير من اليد السفلى وابدا بمن تعول