Loading...

Loading...
کتب
۱۸۴ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے، کنوئیں میں گر کر کوئی مر جائے تو وہ بھی رائیگاں ہے، کان میں کوئی دب کر مر جائے تو وہ بھی رائیگاں ہے ۱؎ اور جاہلیت کے دفینے میں پانچواں حصہ ہے“ ۲؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم ح واخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبد الرزاق، قال حدثنا معمر، عن الزهري، عن سعيد، وابي، سلمة عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " العجماء جرحها جبار والبير جبار والمعدن جبار وفي الركاز الخمس
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل مروی ہے۔
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن سعيد، وعبيد الله بن عبد الله، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بمثله
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے، کنویں میں گر کر مر جانا رائیگاں ہے، اور کان میں دب کر مر جانا رائیگاں ہے، اور جاہلیت کے دفینہ میں پانچواں حصہ ہے“۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد، وابي، سلمة عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " جرح العجماء جبار والبير جبار والمعدن جبار وفي الركاز الخمس
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنویں میں گر کر مر جانا لغو و رائیگاں ہے۔ جانور کا زخمی کرنا رائیگاں ہے۔ کان میں دب کر مر جانا رائیگاں ہے، اور جاہلیت کے دفینوں میں پانچواں حصہ ہے“۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا هشيم، انبانا منصور، وهشام، عن ابن سيرين، عن ابي هريرة، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " البير جبار والعجماء جبار والمعدن جبار وفي الركاز الخمس
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہلال رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے شہد کا دسواں حصہ لے کر آئے، اور آپ سے درخواست کی کہ آپ اس وادی کو جسے سلبہ کہا جاتا ہے ان کے لیے خاص کر دیں ( اس پر کسی اور کا دعویٰ نہ رہے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مذکورہ وادی ان کے لیے مخصوص فرما دی۔ پھر جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو سفیان بن وھب نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا، وہ ان سے پوچھ رہے تھے ( کہ یہ وادی ہلال رضی اللہ عنہ کے پاس رہنے دی جائے یا نہیں ) تو عمر رضی اللہ عنہ نے جواب لکھا: اگر وہ اپنے شہد کا دسواں حصہ جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے ہمیں دیتے ہیں تو ”سلبہ“ کو انہیں کے پاس رہنے دیں، ورنہ وہ برسات کی مکھیاں ہیں ( پھول و پودوں کا رس چوس کر شہد بناتی ہیں ) جو چاہے اسے کھائے۔
اخبرني المغيرة بن عبد الرحمن، قال حدثنا احمد بن ابي شعيب، عن موسى بن اعين، عن عمرو بن الحارث، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال جاء هلال الى رسول الله صلى الله عليه وسلم بعشور نحل له وساله ان يحمي له واديا يقال له سلبة فحمى له رسول الله صلى الله عليه وسلم ذلك الوادي فلما ولي عمر بن الخطاب كتب سفيان بن وهب الى عمر بن الخطاب يساله فكتب عمر ان ادى اليك ما كان يودي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم من عشر نحله فاحم له سلبة ذلك والا فانما هو ذباب غيث ياكله من شاء
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد، غلام، مرد اور عورت ہر ایک پر رمضان کی زکاۃ ( صدقہ فطر ) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض کی ہے، پھر اس کے برابر لوگوں نے نصف صاع گیہوں کو قرار دے لیا ۱؎۔
اخبرنا عمران بن موسى، عن عبد الوارث، قال حدثنا ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة رمضان على الحر والعبد والذكر والانثى صاعا من تمر او صاعا من شعير فعدل الناس به نصف صاع من بر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ہر مرد و عورت، آزاد اور غلام پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض کیا ہے، پھر لوگوں نے آدھا صاع گیہوں کو اس کے برابر ٹھہرا لیا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم صدقة الفطر على الذكر والانثى والحر والمملوك صاعا من تمر او صاعا من شعير . قال فعدل الناس الى نصف صاع من بر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ہر چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام اور مرد اور عورت پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو مقرر کی ہے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا مالك، عن نافع، عن ابن عمر، قال فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة رمضان على كل صغير وكبير حر وعبد وذكر وانثى صاعا من تمر او صاعا من شعير
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا صدقہ فطر مسلمان لوگوں پر ہر آزاد، غلام مرد اور عورت پر ایک صاع کھجور، یا ایک صاع جو فرض ٹھہرایا ہے۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم فرض زكاة الفطر من رمضان على الناس صاعا من تمر او صاعا من شعير على كل حر او عبد ذكر او انثى من المسلمين
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ فطر مسلمانوں میں سے ہر آزاد، غلام مرد، عورت چھوٹے اور بڑے پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو فرض کیا ہے، اور حکم دیا ہے کہ اسے لوگوں کے ( عید کی ) نماز کے لیے ( گھر سے ) نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔
اخبرنا يحيى بن محمد بن السكن، قال حدثنا محمد بن جهضم، قال حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن عمر بن نافع، عن ابيه، عن ابن عمر، قال فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر صاعا من تمر او صاعا من شعير على الحر والعبد والذكر والانثى والصغير والكبير من المسلمين وامر بها ان تودى قبل خروج الناس الى الصلاة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو، ہر چھوٹے، بڑے، مرد، عورت، آزاد اور غلام پر فرض کیا ہے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عيسى، قال حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم صدقة الفطر على الصغير والكبير والذكر والانثى والحر والعبد صاعا من تمر او صاعا من شعير
قیس بن سعد بن عبادہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، اور عید الفطر کا صدقہ ادا کرتے تھے، پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے، اور زکاۃ کی ( فرضیت ) اتری، تو نہ ہمیں ان کا حکم دیا گیا نہ ہی ان کے کرنے سے روکا گیا، اور ہم ( جیسے کرتے تھے ) اسے کرتے رہے۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال انبانا شعبة، عن الحكم بن عتيبة، عن القاسم بن مخيمرة، عن عمرو بن شرحبيل، عن قيس بن سعد بن عبادة، قال كنا نصوم عاشوراء ونودي زكاة الفطر فلما نزل رمضان ونزلت الزكاة لم نومر به ولم ننه عنه وكنا نفعله
قیس بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زکاۃ کی فرضیت اترنے سے پہلے صدقہ فطر کا حکم دیا تھا، پھر جب زکاۃ کی فرضیت اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہ کرنے کا حکم دیا اور نہ ہی روکا، اور ہم اسے کرتے رہے۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: ابوعمار کا نام عریب بن حمید ہے۔ اور عمرو بن شرحبیل کی کنیت ابومیسرہ ہے، اور سلمہ بن کہیل نے اپنی سند میں حکم کی مخالفت کی ہے اور حکم سلمہ بن کہیل سے زیادہ ثقہ راوی ہیں ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا وكيع، عن سفيان، عن سلمة بن كهيل، عن القاسم بن مخيمرة، عن ابي عمار الهمداني، عن قيس بن سعد، قال امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بصدقة الفطر قبل ان تنزل الزكاة فلما نزلت الزكاة لم يامرنا ولم ينهنا ونحن نفعله . قال ابو عبد الرحمن ابو عمار اسمه عريب بن حميد وعمرو بن شرحبيل يكنى ابا ميسرة وسلمة بن كهيل خالف الحكم في اسناده والحكم اثبت من سلمة بن كهيل
حسن بصری کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رمضان کے مہینے کے آخر میں کہا ( جب وہ بصرہ کے امیر تھے ) : تم اپنے روزوں کی زکاۃ نکالو، تو لوگ ایک دوسرے کو تکنے لگے تو انہوں نے پوچھا: مدینہ والوں میں سے یہاں کون کون ہے ( جو بھی ہو ) اٹھ جاؤ، اور اپنے بھائیوں کو بتاؤ، کیونکہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ اس زکاۃ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرد، عورت، آزاد اور غلام پر ایک صاع جو یا کھجور، یا آدھا صاع گی ہوں فرض کیا ہے، تو لوگ اٹھے ( اور انہوں نے لوگوں کو بتایا ) ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: ہشام نے حمید کی مخالفت کی ہے، انہوں نے «عن محمد بن سيرين» کہا ہے۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا خالد، - وهو ابن الحارث - قال حدثنا حميد، عن الحسن، قال قال ابن عباس وهو امير البصرة في اخر الشهر اخرجوا زكاة صومكم . فنظر الناس بعضهم الى بعض فقال من ها هنا من اهل المدينة قوموا فعلموا اخوانكم فانهم لا يعلمون ان هذه الزكاة فرضها رسول الله صلى الله عليه وسلم على كل ذكر وانثى حر ومملوك صاعا من شعير او تمر او نصف صاع من قمح . فقاموا . خالفه هشام فقال عن محمد بن سيرين
ابن سیرین کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے صدقہ فطر کا ذکر کیا۔ تو کہا: گیہوں سے ایک صاع، یا کھجور سے ایک صاع، یا جو سے ایک صاع، یا سلت ( جَو کی ایک قسم ہے ) سے ایک صاع ہے۔
اخبرنا علي بن ميمون، عن مخلد، عن هشام، عن ابن سيرين، عن ابن عباس، قال ذكر في صدقة الفطر قال صاعا من بر او صاعا من تمر او صاعا من شعير او صاعا من سلت
ابورجاء کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو تمہارے منبر سے یعنی بصرہ کے منبر سے خطبہ دیتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: صدقہ فطر گی ہوں سے ایک صاع ہے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ یعنی ایوب تینوں میں زیادہ ثقہ ہیں ( یعنی: حسن بصری اور ابن سیرین سے ) ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن ايوب، عن ابي رجاء، قال سمعت ابن عباس، يخطب على منبركم - يعني منبر البصرة - يقول صدقة الفطر صاع من طعام . قال ابو عبد الرحمن هذا اثبت الثلاثة
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر جَو یا کھجور یا پنیر سے ایک صاع فرض کیا ہے۔
اخبرنا محمد بن علي بن حرب، قال حدثنا محرز بن الوضاح، عن اسماعيل، - وهو ابن امية - عن الحارث بن عبد الرحمن بن ابي ذباب، عن عياض بن عبد الله بن ابي سرح، عن ابي سعيد الخدري، قال فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم صدقة الفطر صاعا من شعير او صاعا من تمر او صاعا من اقط
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے درمیان موجود تھے تو ہم صدقہ فطر گی ہوں سے ایک صاع، یا جو سے، یا کھجور سے، یا کشمش سے، یا پنیر سے ایک صاع نکالتے تھے۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا وكيع، عن سفيان، عن زيد بن اسلم، عن عياض بن عبد الله بن ابي سرح، عن ابي سعيد، قال كنا نخرج زكاة الفطر اذ كان فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم صاعا من طعام او صاعا من شعير او صاعا من تمر او صاعا من زبيب او صاعا من اقط
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہم میں تھے تو ہم صدقہ فطر گی ہوں سے، کھجور سے، یا جو سے، یا پنیر سے ایک صاع نکالتے تھے، اور ہم برابر اسی طرح نکالتے رہے۔ یہاں تک کہ معاویہ رضی اللہ عنہ شام سے آئے، اور انہوں نے جو باتیں لوگوں کو بتائیں ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ شامی گی ہوں کے دو مد ( مدینہ کے ) ایک صاع کے برابر ہیں، تو لوگوں نے اسی کو اختیار کر لیا۔
اخبرنا هناد بن السري، عن وكيع، عن داود بن قيس، عن عياض بن عبد الله، عن ابي سعيد، قال كنا نخرج صدقة الفطر اذ كان فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم صاعا من طعام او صاعا من تمر او صاعا من شعير او صاعا من اقط فلم نزل كذلك حتى قدم معاوية من الشام وكان فيما علم الناس انه قال ما ارى مدين من سمراء الشام الا تعدل صاعا من هذا . قال فاخذ الناس بذلك
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صدقہ فطر کھجور سے، یا جو سے، یا کشمش سے، یا آٹا یا پنیر سے، یا بے چھلکے والی جو سے ایک صاع ہی نکالا ہے۔ سفیان کو شک ہوا تو انہوں نے «من دقیق أوسلت» شک کے ساتھ روایت کی ہے۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن ابن عجلان، قال سمعت عياض بن عبد الله، يخبر عن ابي سعيد الخدري، قال لم نخرج على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم الا صاعا من تمر او صاعا من شعير او صاعا من زبيب او صاعا من دقيق او صاعا من اقط او صاعا من سلت - ثم شك سفيان - فقال دقيق او سلت