Loading...

Loading...
کتب
۱۸۴ احادیث
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”پانچ وسق سے کم کھجور میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے۔ اور نہ پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ ہے“۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، قال حدثنا ابو اسامة، عن الوليد بن كثير، عن محمد بن عبد الرحمن بن ابي صعصعة، عن يحيى بن عمارة، وعباد بن تميم، عن ابي سعيد الخدري، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا صدقة فيما دون خمس اوساق من التمر ولا فيما دون خمس اواق من الورق صدقة ولا فيما دون خمس ذود من الابل صدقة
ابوسعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں ہے“۔
اخبرنا محمد بن منصور الطوسي، قال حدثنا يعقوب، قال حدثنا ابي قال، حدثنا ابن اسحاق، قال حدثني محمد بن يحيى بن حبان، ومحمد بن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي صعصعة، - وكانا ثقة - عن يحيى بن عمارة بن ابي حسن، وعباد بن تميم، - وكانا ثقة - عن ابي سعيد الخدري، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ليس فيما دون خمس اواق من الورق صدقة وليس فيما دون خمس من الابل صدقة وليس فيما دون خمسة اوسق صدقة
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے گھوڑے اور غلام کی زکاۃ معاف کر دی ہے، تو تم اپنے مالوں کی زکاۃ ہر دو سو میں سے پانچ یعنی چالیسواں حصہ دو“۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو اسامة، قال حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن عاصم بن ضمرة، عن علي، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد عفوت عن الخيل والرقيق فادوا زكاة اموالكم من كل مايتين خمسة
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے گھوڑے اور غلام کی زکاۃ معاف کر دی ہے، اور دو سو درہم سے کم میں زکاۃ نہیں ہے“۔
اخبرنا حسين بن منصور، قال حدثنا ابن نمير، قال حدثنا الاعمش، عن ابي اسحاق، عن عاصم بن ضمرة، عن علي، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد عفوت عن الخيل والرقيق وليس فيما دون مايتين زكاة
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ یمن کی رہنے والی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی ایک بیٹی تھی جس کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے موٹے کنگن تھے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تم اس کی زکاۃ دیتی ہو؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تجھے اچھا لگے گا کہ اللہ عزوجل ان کے بدلے قیامت کے دن تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے؟“ یہ سن کر اس عورت نے دونوں کنگن ( بچی کے ہاتھ سے ) نکال لیے۔ اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ڈال دیا، اور کہا: یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، عن حسين، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان امراة، من اهل اليمن اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم وبنت لها في يد ابنتها مسكتان غليظتان من ذهب فقال " اتودين زكاة هذا " . قالت لا . قال " ايسرك ان يسورك الله عز وجل بهما يوم القيامة سوارين من نار " . قال فخلعتهما فالقتهما الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت هما لله ولرسوله صلى الله عليه وسلم
عمرو بن شعیب کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس کے ساتھ اس کی ایک بچی تھی اور اس کی بچی کے ہاتھ میں دو کنگن تھے، آگے اسی طرح کی روایت ہے جیسے اوپر گزری ہے۔ اور یہ روایت مرسل ہے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: خالد معتمر سے زیادہ ثقہ راوی ہیں ( اس لیے ان کی متصل روایت معتمر کی مرسل سے زیادہ صحیح ہے ) ۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا المعتمر بن سليمان، قال سمعت حسينا، قال حدثني عمرو بن شعيب، قال جاءت امراة ومعها بنت لها الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي يد ابنتها مسكتان نحوه مرسل . قال ابو عبد الرحمن خالد اثبت من المعتمر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مال کی زکاۃ نہیں دیتا ہے، اسے قیامت کے دن اس کا مال ایسے خوفناک سانپ کی صورت میں نظر آئے گا جو گنجا ہو گا، اس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ اس سے چمٹ جائے گا، یا اس کے گلے کا ہار بن جائے گا، اور کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں“۔
اخبرنا الفضل بن سهل، قال حدثنا ابو النضر، هاشم بن القاسم قال حدثنا عبد العزيز بن عبد الله بن ابي سلمة، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الذي لا يودي زكاة ماله يخيل اليه ماله يوم القيامة شجاعا اقرع له زبيبتان - قال - فيلتزمه او يطوقه - قال - يقول انا كنزك انا كنزك
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ تعالیٰ مال دے اور وہ اس مال کی زکاۃ ادا نہ کرے، تو قیامت کے دن اس کا مال گنجا سانپ بن جائے گا، اس کی آنکھ کے اوپر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ قیامت کے دن اس کے دونوں کلّے پکڑے گا، اور اس سے کہے گا: میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں“۔ پھر آپ نے آیت کریمہ کی تلاوت کی: «ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم اللہ من فضله» ”اللہ تعالیٰ نے جنہیں مال دیا ہے وہ بخیلی کر کے یہ نہ سمجھیں کہ یہ ان کے لیے بہتر ہے بلکہ وہی مال قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا“ ( آل عمران: ۱۸۰ ) ۔
اخبرنا الفضل بن سهل، قال حدثنا حسن بن موسى الاشيب، قال حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار المدني، عن ابيه، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اتاه الله عز وجل مالا فلم يود زكاته مثل له ماله يوم القيامة شجاعا اقرع له زبيبتان ياخذ بلهزمتيه يوم القيامة فيقول انا مالك انا كنزك " . ثم تلا هذه الاية { ولا يحسبن الذين يبخلون بما اتاهم الله من فضله } الاية
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ وسق سے کم غلے یا کھجور میں زکاۃ نہیں ہے“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا وكيع، عن سفيان، عن اسماعيل بن امية، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن يحيى بن عمارة، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس فيما دون خمسة اوساق من حب او تمر صدقة
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گیہوں اور کھجور میں زکاۃ نہیں یہاں تک کہ وہ پانچ وسق کو پہنچ جائے، اسی طرح چاندی میں زکاۃ نہیں یہاں تک کہ وہ پانچ اوقیہ کو پہنچ جائے۔ اور اونٹ میں زکاۃ نہیں ہے یہاں تک کہ وہ پانچ کی تعداد کو پہنچ جائیں“۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا روح بن القاسم، قال حدثني عمرو بن يحيى بن عمارة، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل في البر والتمر زكاة حتى تبلغ خمسة اوسق ولا يحل في الورق زكاة حتى تبلغ خمسة اواق ولا يحل في ابل زكاة حتى تبلغ خمس ذود
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلہ میں زکاۃ نہیں ہے اور نہ کھجور میں یہاں تک کہ یہ پانچ وسق ہو جائیں، اور نہ پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ ہے، اور نہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ ہے“۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن اسماعيل بن امية، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن يحيى بن عمارة، عن ابي سعيد الخدري، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس في حب ولا تمر صدقة حتى يبلغ خمسة اوسق ولا فيما دون خمس ذود ولا فيما دون خمس اواق صدقة
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا وكيع، قال حدثنا ادريس الاودي، عن عمرو بن مرة، عن ابي البختري، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس فيما دون خمس اواق صدقة
ابو سعید خدری رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اوقیہ سے کم ( چاندی ) میں زکاۃ نہیں، اور نہ پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ ہے، اور نہ پانچ وسق سے کم غلہ میں زکاۃ ہے“۔
اخبرنا احمد بن عبدة، قال حدثنا حماد، عن يحيى بن سعيد، وعبيد الله بن عمر، عن عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس فيما دون خمس اواق صدقة ولا فيما دون خمس ذود صدقة وليس فيما دون خمسة اوسق صدقة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے نہر اور چشمے سینچیں یا جس زمین میں تری رہتی ہو ۱؎ اس میں دسواں حصہ زکاۃ ہے۔ اور جو اونٹوں سے سینچا جائے یا ڈول سے اس میں بیسواں حصہ ہے“۔
اخبرنا هارون بن سعيد بن الهيثم ابو جعفر الايلي، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " فيما سقت السماء والانهار والعيون او كان بعلا العشر وما سقي بالسواني والنضح نصف العشر
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو پیداوار آسمان کی بارش اور نہروں کے پانی سے ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ ہے، اور جو پیداوار جانوروں کے ذریعہ سینچائی کر کے ہو اس میں بیسواں حصہ ہے“۔
اخبرني عمرو بن سواد بن الاسود بن عمرو، واحمد بن عمرو، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن وهب، قال حدثنا عمرو بن الحارث، ان ابا الزبير، حدثه انه، سمع جابر بن عبد الله، يقول ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " فيما سقت السماء والانهار والعيون العشر وفيما سقي بالسانية نصف العشر
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا تو مجھے حکم دیا کہ جسے آسمان کے پانی نے سینچا ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ لوں، اور جو پیداوار ڈولوں کے پانی سے ( سینچائی کر کے ) ہو اس میں بیسواں حصہ زکاۃ لوں۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابي بكر، - وهو ابن عياش - عن عاصم، عن ابي وايل، عن معاذ، قال بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم الى اليمن فامرني ان اخذ مما سقت السماء العشر وفيما سقي بالدوالي نصف العشر
سہل بن ابی حثمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم درختوں پر پھلوں کا تخمینہ لگاؤ تو جو تخمینہ لگاؤ اسے لو، اور اس میں سے ایک تہائی چھوڑ دو ۱؎ اور اگر تم نہ لے سکو یا تہائی نہ چھوڑ سکو ( شعبہ کو شک ہو گیا ہے ) تو تم چوتھائی چھوڑ دو“۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى بن سعيد، ومحمد بن جعفر، قالا حدثنا شعبة، قال سمعت خبيب بن عبد الرحمن، يحدث عن عبد الرحمن بن مسعود بن نيار، عن سهل بن ابي حثمة، قال اتانا ونحن في السوق فقال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا خرصتم فخذوا ودعوا الثلث فان لم تاخذوا او تدعوا الثلث - شك شعبة - فدعوا الربع
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ ابوامامہ بن سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے اللہ عز و جل کے فرمان: «ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون» ”اللہ کی راہ میں برا مال خرچ کرنے کا قصد نہ کرو“ ( البقرہ: ۲۶۷ ) کے متعلق مجھ سے بیان کیا کہ «خبيث» سے مراد «جعرور» اور «لون حبیق» ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ میں خراب مال لینے سے منع فرما دیا ہے۔
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن وهب، قال حدثني عبد الجليل بن حميد اليحصبي، ان ابن شهاب، حدثه قال حدثني ابو امامة بن سهل بن حنيف، في الاية التي قال الله عز وجل { ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون } قال هو الجعرور ولون حبيق فنهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان توخذ في الصدقة الرذالة
عوف بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی ( مسجد میں پہنچے ) وہاں ایک شخص نے سوکھی خراب کھجور کا ایک گچھا لٹکا رکھا تھا ۱؎ آپ اس گچھے میں ( لاٹھی سے ) کوچتے جاتے تھے، اور فرماتے جاتے تھے: ”یہ صدقہ دینے والا اگر چاہتا تو اس سے اچھی کھجوریں دے سکتا تھا، یہ صدقہ دینے والا قیامت میں اسی طرح کی سوکھی خراب کھجوریں کھائے گا“۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال انبانا يحيى، عن عبد الحميد بن جعفر، قال حدثني صالح بن ابي عريب، عن كثير بن مرة الحضرمي، عن عوف بن مالك، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم وبيده عصا وقد علق رجل قنو حشف فجعل يطعن في ذلك القنو فقال " لو شاء رب هذه الصدقة تصدق باطيب من هذا ان رب هذه الصدقة ياكل حشفا يوم القيامة
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راستہ میں پڑی ہوئی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”جو چیز چالو راستے میں ملے یا آباد بستی میں، تو سال بھر اسے پہنچواتے رہو، اگر اس کا مالک آ جائے ( اور پہچان بتائے ) تو اسے دے دو، ورنہ وہ تمہاری ہے، اور جو کسی چالو راستے یا کسی آباد بستی کے علاوہ میں ملے تو اس میں اور جاہلیت کے دفینوں میں پانچواں حصہ ہے“ ( یعنی: زکاۃ نکال کر خود استعمال کر لے ) ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو عوانة، عن عبيد الله بن الاخنس، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اللقطة فقال " ما كان في طريق ماتي او في قرية عامرة فعرفها سنة فان جاء صاحبها والا فلك وما لم يكن في طريق ماتي ولا في قرية عامرة ففيه وفي الركاز الخمس