Loading...

Loading...
کتب
۱۸۴ احادیث
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ لکھ کر دیا کہ صدقہ ( زکاۃ ) کے یہ وہ فرائض ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض ٹھہرائے ہیں جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا ہے، تو جس مسلمان سے اس کے مطابق زکاۃ طلب کی جائے تو وہ اسے دے، اور جس سے اس سے زیادہ مانگا جائے تو وہ اسے نہ دے۔ پچیس اونٹوں سے کم میں ہر پانچ اونٹ میں ایک بکری ہے۔ اور جب پچیس اونٹ ہو جائیں تو اس میں پنتیس اونٹوں تک ایک برس کی اونٹنی ہے، اگر ایک برس کی اونٹنی نہ ہو تو دو برس کا اونٹ ( نر ) ہے۔ اور جب چھتیس اونٹ ہو جائیں تو چھتیس سے پینتالیس تک دو برس کی اونٹنی ہے۔ اور جب چھیالیس اونٹ ہو جائیں تو اس میں ساٹھ اونٹ تک تین برس کی اونٹنی ہے، جو نر کودانے کے لائق ہو گئی ہو، اور جب اکسٹھ اونٹ ہو جائیں تو اس میں پچہتر اونٹ تک چار برس کی اونٹنی ہے، اور جب چھہتر اونٹ ہو جائیں تو اس میں نوے تک میں دو دو برس کی دو اونٹنیاں ہیں، اور جب اکیانوے ہو جائیں تو ایک سو بیس تک میں تین تین برس کی دو اونٹنیاں ہیں جو نر کودانے کے قابل ہو گئی ہوں، اور جب ایک سو بیس سے زیادہ ہو گئی ہوں تو ہر چالیس میں دو برس کی ایک اونٹنی ہے، اور ہر پچاس میں تین برس کی ایک اونٹنی ہے۔ اگر اونٹوں کی عمروں میں اختلاف ہو ۱؎ ( مثلاً ) جس شخص پر چار برس کی اونٹنی کی زکاۃ ہو اور اس کے پاس چار برس کی اونٹنی نہ ہو تین برس کی اونٹنی ہو تو اس سے تین برس کی اونٹنی ہی قبول کر لی جائے گی، اور وہ اس کے ساتھ میں دو بکریاں بھی دیدے۔ اگر وہ اسے میسر ہوں ورنہ بیس درہم دے۔ اور جسے زکاۃ میں تین برس کی اونٹنی دینی ہو۔ اور اس کے پاس چار برس کی اونٹنی ہو تو اس سے وہی قبول کر لی جائے گی، اور عامل صدقہ اسے بیس درہم دے یا دو بکریاں واپس دیدے، اور جسے تین برس کی اونٹنی دینی ہو اور یہ اس کے پاس نہ ہو اور اس کے پاس دو برس کی اونٹنی ہو تو وہی اس سے قبول کر لی جائے اور اس کے ساتھ دو بکریاں دے اگر میسر ہوں یا بیس درہم دے، اور جسے زکاۃ میں دو سال کی اونٹنی دینی ہو اور اس کے پاس صرف تین سال کی اونٹنی ہو تو وہی اس سے قبول کر لی جائے گی اور عامل زکاۃ اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے، اور جسے دو برس کی اونٹنی دینی ہو، اور اس کے پاس دو برس کی اونٹنی نہ ہو صرف ایک برس کی اونٹنی ہو تو وہی اس سے قبول کر لی جائے اور دو بکریاں دے اگر بکریاں اسے میسر ہوں بیس درہم دے۔ اور جسے ایک برس کی اونٹنی دینی ہو اور اس کے پاس ایک برس کی اونٹنی نہ ہو۔ دو برس کا ( نر ) کا اونٹ ہو، تو وہی اس سے قبول کر لیا جائے۔ اس کے ساتھ کوئی اور چیز لی نہ جائے، اور جس کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو ان میں زکاۃ نہیں ہے الا یہ کہ ان کا مالک اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے، اور جنگل میں چرنے والی بکریوں میں جب چالیس ہوں تو ایک سو بیس تک میں ایک بکری زکاۃ ہے، اور ایک سو بیس سے جو ایک بکری بھی بڑھ جائے تو دو سو بکریوں تک میں دو بکریاں ہیں۔ اور دو سو سے ایک بکری بھی بڑھ جائے تو دو سو سے تین سو تک میں تین بکریاں ہیں، اور جب تین سو سے بھی بڑھ جائیں تو پھر ہر سو میں ایک بکری زکاۃ ہے۔ زکاۃ میں بوڑھے کانے اور عیب دار جانور نہیں لیے جائیں گے، اور نہ نر جانور لیا جائے گا الا یہ کہ صدقہ وصول کرنے والا کسی ضرورت و مصلحت سے لینا چاہے۔ زکاۃ کے ڈر سے دو جدا مال یکجا نہ کئے جائیں، اور نہ یکجا مال کو جدا جدا کیا جائے۔ اور جب آدمی کی جنگل میں چرنے والی بکریاں چالیس سے ایک بھی کم ہوں تو ان میں کوئی زکاۃ نہیں ہے، ہاں ان کا مالک اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے، چاندی میں چالیسواں حصہ زکاۃ ہے اور اگر مال ایک سو نوے درہم ہی ہو تو ان میں کوئی زکاۃ نہیں ہے۔ ہاں مالک اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔
اخبرنا عبيد الله بن فضالة بن ابراهيم النسايي، قال انبانا شريح بن النعمان، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن ثمامة بن عبد الله بن انس بن مالك، عن انس بن مالك، ان ابا بكر، رضى الله عنه كتب له ان هذه فرايض الصدقة التي فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم على المسلمين التي امر الله بها رسوله صلى الله عليه وسلم فمن سيلها من المسلمين على وجهها فليعطها ومن سيل فوقها فلا يعطه فيما دون خمس وعشرين من الابل في خمس ذود شاة فاذا بلغت خمسا وعشرين ففيها بنت مخاض الى خمس وثلاثين فان لم تكن ابنة مخاض فابن لبون ذكر فاذا بلغت ستة وثلاثين ففيها بنت لبون الى خمس واربعين فاذا بلغت ستة واربعين ففيها حقة طروقة الفحل الى ستين فاذا بلغت احدى وستين ففيها جذعة الى خمسة وسبعين فاذا بلغت ستة وسبعين ففيها ابنتا لبون الى تسعين فاذا بلغت احدى وتسعين ففيها حقتان طروقتا الفحل الى عشرين وماية فاذا زادت على عشرين وماية ففي كل اربعين ابنة لبون وفي كل خمسين حقة فاذا تباين اسنان الابل في فرايض الصدقات فمن بلغت عنده صدقة الجذعة وليست عنده جذعة وعنده حقة فانها تقبل منه الحقة ويجعل معها شاتين ان استيسرتا له او عشرين درهما ومن بلغت عنده صدقة الحقة وليست عنده الا جذعة فانها تقبل منه ويعطيه المصدق عشرين درهما او شاتين ومن بلغت عنده صدقة الحقة وليست عنده وعنده ابنة لبون فانها تقبل منه ويجعل معها شاتين ان استيسرتا له او عشرين درهما ومن بلغت عنده صدقة بنت لبون وليست عنده الا حقة فانها تقبل منه ويعطيه المصدق عشرين درهما او شاتين ومن بلغت عنده صدقة بنت لبون وعنده بنت مخاض فانها تقبل منه ويجعل معها شاتين ان استيسرتا له او عشرين درهما ومن بلغت عنده صدقة ابنة مخاض وليست عنده الا ابن لبون ذكر فانه يقبل منه وليس معه شىء ومن لم يكن عنده الا اربعة من الابل فليس فيها شىء الا ان يشاء ربها وفي صدقة الغنم في سايمتها اذا كانت اربعين ففيها شاة الى عشرين وماية فاذا زادت واحدة ففيها شاتان الى مايتين فاذا زادت واحدة ففيها ثلاث شياه الى ثلاثماية فاذا زادت واحدة ففي كل ماية شاة ولا توخذ في الصدقة هرمة ولا ذات عوار ولا تيس الغنم الا ان يشاء المصدق ولا يجمع بين متفرق ولا يفرق بين مجتمع خشية الصدقة وما كان من خليطين فانهما يتراجعان بينهما بالسوية واذا كانت سايمة الرجل ناقصة من اربعين شاة واحدة فليس فيها شىء الا ان يشاء ربها وفي الرقة ربع العشر فان لم يكن المال الا تسعين وماية فليس فيه شىء الا ان يشاء ربها
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اونٹ گائے اور بکریاں رکھتا ہو اور ان کی زکاۃ نہ دے تو وہ دنیا میں جیسے تھے اس سے بڑے اور موٹے تازے ہو کر آئیں گے، اور وہ اسے اپنی سینگوں سے ماریں گے، اور اپنی کھروں سے روندیں گے، جب آخری جانور مار چکے گا تو پھر پہلا جانور لوٹا دیا جائے گا، اور یہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا وكيع، قال حدثنا الاعمش، عن المعرور بن سويد، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من صاحب ابل ولا بقر ولا غنم لا يودي زكاتها الا جاءت يوم القيامة اعظم ما كانت واسمنه تنطحه بقرونها وتطوه باخفافها كلما نفذت اخراها اعادت عليه اولاها حتى يقضى بين الناس
سوید بن غفلہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا محصل ( زکاۃ ) ہمارے پاس آیا، میں آ کر اس کے پاس بیٹھا تو میں نے اسے کہتے ہوئے سنا کہ میرے عہد و قرار میں یہ بات شامل ہے کہ ہم دودھ پلانے والے جانور نہ لیں۔ اور نہ الگ الگ مال کو یکجا کریں، اور نہ یکجا مال کو الگ الگ کریں۔ پھر ان کے پاس ایک آدمی اونچی کوہان کی ایک اونٹنی لے کر آیا، اور کہنے لگا: اسے لے لو، تو اس نے انکار کیا ۱؎۔
اخبرنا هناد بن السري، عن هشيم، عن هلال بن خباب، عن ميسرة ابي صالح، عن سويد بن غفلة، قال اتانا مصدق النبي صلى الله عليه وسلم فاتيته فجلست اليه فسمعته يقول " ان في عهدي ان لا ناخذ راضع لبن ولا نجمع بين متفرق ولا نفرق بين مجتمع " . فاتاه رجل بناقة كوماء فقال " خذها " . فابى
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو زکاۃ کی وصولی پر بھیجا، وہ ایک شخص کے پاس آیا، اس نے اسے اونٹ کا ایک دبلا بچہ دیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے محصل زکاۃ ( صدقہ وصول کرنے والے ) کو بھیجا، فلاں شخص نے اسے ایک دبلا کمزور، دودھ چھوڑا ہوا بچہ دیا۔ اے اللہ! تو اس میں اور اس کے اونٹوں میں برکت نہ دے“، یہ بات اس آدمی کو معلوم ہوئی تو وہ ایک اچھی اونٹنی لے کر آیا، اور کہنے لگا: میں اللہ عزوجل سے توبہ کرتا ہوں اور اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی اطاعت کا اظہار کرتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو اس میں اور اس کے اونٹوں میں برکت فرما“۔
اخبرنا هارون بن زيد بن يزيد، - يعني ابن ابي الزرقاء - قال حدثنا ابي قال، حدثنا سفيان، عن عاصم بن كليب، عن ابيه، عن وايل بن حجر، ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث ساعيا فاتى رجلا فاتاه فصيلا مخلولا فقال النبي صلى الله عليه وسلم " بعثنا مصدق الله ورسوله وان فلانا اعطاه فصيلا مخلولا اللهم لا تبارك فيه ولا في ابله " . فبلغ ذلك الرجل فجاء بناقة حسناء فقال اتوب الى الله عز وجل والى نبيه صلى الله عليه وسلم . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اللهم بارك فيه وفي ابله
عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی قوم اپنا صدقہ لے کر آتی تو آپ فرماتے: ”اے اللہ! فلاں کے آل ( اولاد ) پر رحمت بھیج“ ( چنانچہ ) جب میرے والد اپنا صدقہ لے کر آپ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! آل ابی اوفی پر رحمت بھیج“۔
اخبرنا عمرو بن يزيد، قال حدثنا بهز بن اسد، قال حدثنا شعبة، قال عمرو بن مرة اخبرني قال سمعت عبد الله بن ابي اوفى، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اتاه قوم بصدقتهم قال " اللهم صل على ال فلان " . فاتاه ابي بصدقته فقال " اللهم صل على ال ابي اوفى
جریر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ دیہات کے لوگ آئے، اور انہوں آپ سے عرض کیا: آپ کے بھیجے ہوئے کچھ محصل زکاۃ ہمارے پاس آتے ہیں جو ہم پر ظلم کرتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”اپنے زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی و مطمئن کرو“، انہوں نے عرض کیا: اگرچہ وہ ظلم کریں۔ آپ نے فرمایا: ”اپنے زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی کرو“، انہوں نے پھر عرض کیا: اگرچہ وہ ظلم کریں؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی کرو“۔ جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی اسی وقت سے کوئی محصل زکاۃ میرے پاس سے راضی ہوئے بغیر نہیں گیا۔
اخبرنا محمد بن المثنى، ومحمد بن بشار، - واللفظ له - قالا حدثنا يحيى، عن محمد بن ابي اسماعيل، عن عبد الرحمن بن هلال، قال قال جرير اتى النبي صلى الله عليه وسلم ناس من الاعراب فقالوا يا رسول الله ياتينا ناس من مصدقيك يظلمون . قال " ارضوا مصدقيكم " . قالوا وان ظلم قال " ارضوا مصدقيكم " . ثم قالوا وان ظلم قال " ارضوا مصدقيكم " . قال جرير فما صدر عني مصدق منذ سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم الا وهو راض
جریر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب صدقہ وصول کرنے والا تمہارے پاس آئے تو وہ اس حال میں لوٹے کہ وہ تم سے راضی ہو“۔
اخبرنا زياد بن ايوب، قال حدثنا اسماعيل، - هو ابن علية - قال انبانا داود، عن الشعبي، قال قال جرير قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اتاكم المصدق فليصدر وهو عنكم راض
مسلم بن ثفنہ کہتے ہیں کہ ابن علقمہ نے میرے والد کو اپنی قوم کی عرافت ( نگرانی ) پر مقرر کیا، اور انہیں اس بات کا حکم بھی دیا کہ وہ ان سے زکاۃ وصول کر کے لائیں۔ تو میرے والد نے مجھے ان کے کچھ لوگوں کے پاس بھیجا کہ میں ان سے زکاۃ لے کر آ جاؤں۔ تو میں ( گھر سے ) نکلا یہاں تک کہ ایک بوڑھے بزرگ کے پاس پہنچا انہیں «سعر» کہا جاتا تھا۔ تو میں نے ان سے کہا کہ میرے والد نے مجھے آپ کے پاس آپ کی بکریوں کی زکاۃ لانے کے لیے بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! تم کس طرح کی زکاۃ لیتے ہو؟ میں نے کہا: ہم چنتے اور چھانٹتے ہیں یہاں تک کہ ہم بکریوں کے تھنوں کو ناپتے و ٹٹولتے ہیں ( یعنی عمدہ مال ڈھونڈ کر لیتے ہیں ) ۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انہیں گھاٹیوں میں سے کسی ایک گھاٹی میں اپنی بکریوں کے ساتھ تھا، میرے پاس ایک اونٹ پر سوار دو شخص آئے، اور انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرستادہ ہیں۔ ہم آپ کے پاس آئے ہیں کہ آپ ہمیں اپنی بکریوں کی زکاۃ ادا کریں۔ میں نے پوچھا: میرے اوپر ان بکریوں میں کتنی زکاۃ ہے؟ تو ان دونوں نے کہا: ایک بکری، میں نے دودھ اور چربی سے بھری ایک ایک موٹی تازی بکری کا قصد کیا جس کی جگہ مجھے معلوم تھی۔ میں اسے ( ریوڑ میں سے ) نکال کر ان کے پاس لایا تو انہوں نے کہا: «شافع» ہے ( «شافع» گابھن بکری کو کہتے ہیں ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گابھن جانور لینے سے روکا ہے۔ پھر میں نے ایک اور بکری لا کر پیش کرنے کا ارادہ کیا جو اس سے کمتر تھی جس نے ابھی کوئی بچہ نہیں جنا تھا لیکن حمل کے قابل ہو گئی تھی۔ میں نے اسے ( گلّے سے ) نکال کر ان دونوں کو پیش کیا، انہوں نے کہا: ہاں یہ ہمیں قبول ہے۔ پھر ہم نے اسے اٹھا کر انہیں پکڑا دیا۔ انہوں نے اسے اپنے ساتھ اونٹ پر لاد لیا، پھر لے کر چلے گئے۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا وكيع، قال حدثنا زكريا بن اسحاق، عن عمرو بن ابي سفيان، عن مسلم بن ثفنة، قال استعمل ابن علقمة ابي على عرافة قومه وامره ان يصدقهم، فبعثني ابي الى طايفة منهم لاتيه بصدقتهم فخرجت حتى اتيت على شيخ كبير يقال له سعر فقلت ان ابي بعثني اليك لتودي صدقة غنمك . قال ابن اخي واى نحو تاخذون قلت نختار حتى انا لنشبر ضروع الغنم . قال ابن اخي فاني احدثك اني كنت في شعب من هذه الشعاب على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في غنم لي فجاءني رجلان على بعير فقالا انا رسولا رسول الله صلى الله عليه وسلم اليك لتودي صدقة غنمك . قال قلت وما على فيها قالا شاة . فاعمد الى شاة قد عرفت مكانها ممتلية محضا وشحما فاخرجتها اليهما فقال هذه الشافع . والشافع الحايل وقد نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ناخذ شافعا قال فاعمد الى عناق معتاط - والمعتاط التي لم تلد ولدا وقد حان ولادها - فاخرجتها اليهما فقالا ناولناها فرفعتها اليهما فجعلاها معهما على بعيرهما ثم انطلقا
مسلم بن ثفنہ کا بیان ہے کہ ابن علقمہ نے ان کے والد کو اپنی قوم سے زکاۃ وصول کرنے کے کام پر لگایا، اور پوری حدیث بیان کی۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، قال حدثنا روح، قال حدثنا زكريا بن اسحاق، قال حدثني عمرو بن ابي سفيان، قال حدثني مسلم بن ثفنة، ان ابن علقمة، استعمل اباه على صدقة قومه وساق الحديث
ابوہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کا حکم کیا۔ تو آپ سے کہا گیا: ابن جمیل، خالد بن ولید، اور عباس بن عبدالمطلب ( رضی اللہ عنہم ) نے ( زکاۃ ) نہیں دی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن جمیل زکاۃ کا انکار اس وجہ سے کرتا ہے کہ وہ محتاج تھا تو اللہ تعالیٰ نے اسے مالدار بنا دیا۔ اور رہے خالد بن ولید تو تم لوگ خالد پر زیادتی کر رہے ہو، انہوں نے اپنی زرہیں اور اسباب اللہ کی راہ میں وقف کر دی ہیں، اور رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس بن عبدالمطلب، تو یہ زکاۃ تو ان پر ہے ہی۔ مزید اتنا اور بھی دیں گے“ ۱؎۔
اخبرني عمران بن بكار، قال حدثنا علي بن عياش، قال حدثنا شعيب، قال حدثني ابو الزناد، مما حدثه عبد الرحمن الاعرج، مما ذكر انه سمع ابا هريرة، يحدث قال وقال عمر امر رسول الله صلى الله عليه وسلم بصدقة فقيل منع ابن جميل وخالد بن الوليد وعباس بن عبد المطلب . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما ينقم ابن جميل الا انه كان فقيرا فاغناه الله واما خالد بن الوليد فانكم تظلمون خالدا قد احتبس ادراعه واعتده في سبيل الله واما العباس بن عبد المطلب عم رسول الله صلى الله عليه وسلم فهي عليه صدقة ومثلها معها
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کا حکم دیا، آگے کی اوپر والی روایت کے مثل مروی ہے۔
اخبرنا احمد بن حفص، قال حدثني ابي قال، قال حدثني ابراهيم بن طهمان، عن موسى، قال حدثني ابو الزناد، عن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال امر رسول الله صلى الله عليه وسلم بصدقة مثله سواء
عبداللہ بن ہلال ثقفی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: ( لوگ اتنے جھگڑالو اور نادہند ہو گئے ہیں کہ ) قریب ہے کہ میں آپ کے بعد زکاۃ کی بکری کے ایک بچے یا ایک بکری کے لیے قتل کر دیا جاؤں گا، تو آپ نے فرمایا: ”اگر وہ فقراء مہاجرین کو نہ دی جاتی ہوتی تو اسے میں نہ لیتا“۔
اخبرنا عمرو بن منصور، ومحمود بن غيلان، قالا حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا سفيان، عن ابراهيم بن ميسرة، عن عثمان بن عبد الله بن الاسود، عن عبد الله بن هلال الثقفي، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال كدت اقتل بعدك في عناق او شاة من الصدقة . فقال " لولا انها تعطى فقراء المهاجرين ما اخذتها
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں زکاۃ نہیں ہے“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا وكيع، عن شعبة، وسفيان، عن عبد الله بن دينار، عن سليمان بن يسار، عن عراك بن مالك، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس على المسلم في عبده ولا فرسه صدقة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں زکاۃ نہیں ہے“۔
اخبرنا محمد بن علي بن حرب المروزي، قال حدثنا محرز بن الوضاح، عن اسماعيل، - وهو ابن امية - عن مكحول، عن عراك بن مالك، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا زكاة على الرجل المسلم في عبده ولا فرسه
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر اس کے غلام میں اور اس کے گھوڑے میں زکاۃ نہیں ہے“۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا ايوب بن موسى، عن مكحول، عن سليمان بن يسار، عن عراك بن مالك، عن ابي هريرة، يرفعه الى النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس على المسلم في عبده ولا في فرسه صدقة
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی پر اس کے گھوڑے اور اس کے غلام میں زکاۃ نہیں ہے“۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن خثيم، قال حدثنا ابي، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس على المرء في فرسه ولا في مملوكه صدقة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر اس کے غلام اور اس کے گھوڑے میں زکاۃ نہیں ہے“۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن عبد الله بن دينار، عن سليمان بن يسار، عن عراك بن مالك، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ليس على المسلم في عبده ولا في فرسه صدقة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر اس کے غلام میں زکاۃ نہیں ہے اور نہ ہی اس کے گھوڑے میں“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن خثيم بن عراك بن مالك، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس على المسلم صدقة في غلامه ولا في فرسه
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے۔ اور پانچ وسق غلے سے کم میں زکاۃ نہیں ہے“۔
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، عن حماد، قال حدثنا يحيى، - وهو ابن سعيد - عن عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس فيما دون خمسة اواق صدقة ولا فيما دون خمس ذود صدقة وليس فيما دون خمس اوسق صدقة
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ وسق سے کم کھجور میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے“۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال انبانا ابن القاسم، عن مالك، قال حدثني محمد بن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي صعصعة المازني، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ليس فيما دون خمس اوسق من التمر صدقة وليس فيما دون خمس اواق من الورق صدقة وليس فيما دون خمس ذود من الابل صدقة