Loading...

Loading...
کتب
۱۸۴ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت فرمایا: ”تم اہل کتاب ( یہود و نصاریٰ ) کے پاس جا رہے ہو، تو جب تم ان کے پاس پہنچو تو انہیں اس بات کی دعوت دو کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، پھر اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن و رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں، پھر اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ عزوجل نے ان پر ( زکاۃ ) فرض کی ہے، جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے محتاجوں میں بانٹ دیا جائے گا، اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو پھر مظلوم کی بد دعا سے بچو“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن عمار الموصلي، عن المعافى، عن زكريا بن اسحاق المكي، قال حدثنا يحيى بن عبد الله بن صيفي، عن ابي معبد، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لمعاذ حين بعثه الى اليمن " انك تاتي قوما اهل كتاب فاذا جيتهم فادعهم الى ان يشهدوا ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله فان هم اطاعوك بذلك فاخبرهم ان الله عز وجل فرض عليهم خمس صلوات في يوم وليلة فان هم - يعني اطاعوك بذلك - فاخبرهم ان الله عز وجل فرض عليهم صدقة توخذ من اغنيايهم فترد على فقرايهم فان هم اطاعوك بذلك فاتق دعوة المظلوم
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں آپ کے پاس نہیں آیا یہاں تک کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی تعداد سے زیادہ بار یہ قسم کھائی کہ نہ میں آپ کے قریب اور نہ آپ کے دین کے قریب آؤں گا۔ اور اب میں ایک ایسا آدمی ہوں کہ کوئی چیز سمجھتا ہی نہیں ہوں سوائے اس چیز کے جسے اللہ اور اس کے رسول نے مجھے سکھا دی ہے، اور میں اللہ کی وحی کی قسم دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا چیز دے کر آپ کو ہمارے پاس بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اسلام کے ساتھ“، میں نے پوچھا: اسلام کی نشانیاں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”یہ ہیں کہ تم کہو کہ میں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیا، اور شرک اور اس کی تمام آلائشوں سے کٹ کر صرف اللہ کی عبادت کے لیے یکسو ہو گیا، اور نماز قائم کرو، اور زکاۃ دو“۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا معتمر، قال سمعت بهز بن حكيم، يحدث عن ابيه، عن جده، قال قلت يا نبي الله ما اتيتك حتى حلفت اكثر من عددهن - لاصابع يديه - ان لا اتيك ولا اتي دينك واني كنت امرا لا اعقل شييا الا ما علمني الله عز وجل ورسوله واني اسالك بوحى الله بما بعثك ربك الينا قال " بالاسلام " . قلت وما ايات الاسلام قال " ان تقول اسلمت وجهي الى الله وتخليت وتقيم الصلاة وتوتي الزكاة
ابو مالک اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کامل وضو کرنا آدھا ایمان ہے، الحمدللہ ترازو کو بھر دیتا ہے۔ اور سبحان اللہ اور اللہ اکبر آسمانوں اور زمین کو ( ثواب ) سے بھر دیتے ہیں۔ اور نماز نور ہے، اور زکاۃ دلیل ہے، اور صبر روشنی ہے، اور قرآن حجت ( دلیل ) ہے تیرے حق میں بھی، اور تیرے خلاف بھی“۔
اخبرنا عيسى بن مساور، قال حدثنا محمد بن شعيب بن شابور، عن معاوية بن سلام، عن اخيه، زيد بن سلام انه اخبره عن جده ابي سلام، عن عبد الرحمن بن غنم، ان ابا مالك الاشعري، حدثه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اسباغ الوضوء شطر الايمان والحمد لله تملا الميزان والتسبيح والتكبير يملا السموات والارض والصلاة نور والزكاة برهان والصبر ضياء والقران حجة لك او عليك
ابوہریرہ اور ابوسعید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک دن خطبہ دیا۔ آپ نے تین بار فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے“، پھر آپ نے سر جھکا لیا تو ہم سے ہر شخص سر جھکا کر رونے لگا، ہم نہیں جان سکے آپ نے کس بات پر قسم کھائی ہے، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، آپ کے چہرے پر بشارت تھی جو ہمیں سرخ اونٹ پانے کی خوشی سے زیادہ محبوب تھی، پھر آپ نے فرمایا: ”جو بندہ بھی پانچوں وقت کی نماز پڑھے، روزے رمضان رکھے، اور زکاۃ ادا کرے، اور ساتوں کبائر ۱؎ سے بچے تو اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے، اور اس سے کہا جائے گا: سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، عن شعيب، عن الليث، قال انبانا خالد، عن ابن ابي هلال، عن نعيم المجمر ابي عبد الله، قال اخبرني صهيب، انه سمع من ابي هريرة، ومن ابي سعيد يقولان خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فقال " والذي نفسي بيده " . ثلاث مرات ثم اكب فاكب كل رجل منا يبكي لا ندري على ماذا حلف ثم رفع راسه في وجهه البشرى فكانت احب الينا من حمر النعم ثم قال " ما من عبد يصلي الصلوات الخمس ويصوم رمضان ويخرج الزكاة ويجتنب الكباير السبع الا فتحت له ابواب الجنة فقيل له ادخل بسلام
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو شخص اللہ کی راہ میں چیزوں میں سے کسی چیز کے جوڑے دے تو وہ جنت کے دروازے سے یہ کہتے ہوئے بلایا جائے گا کہ اللہ کے بندے! آ جا یہ دروازہ تیرے لیے بہتر ہے، تو جو شخص اہل صلاۃ میں سے ہو گا وہ صلاۃ کے دروازے سے بلایا جائے گا۔ اور جو شخص مجاہدین میں سے ہو گا وہ جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو اہل صدقہ ( و زکاۃ ) میں سے ہوں گے تو وہ صدقہ ( زکاۃ ) کے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو روزے رکھنے والوں میں سے ہو گا وہ باب الریان ( ریان کے دروازہ ) سے بلایا جائے گا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: جو کوئی ان دروازوں میں سے کسی ایک دروازے سے بلا لیا جائے اسے مزید کسی اور دروازے سے بلائے جانے کی ضرورت نہیں، لیکن اللہ کے رسول! کیا کوئی ایسا بھی ہے جو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں میں سے ہو گے“۔
اخبرني عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير، قال حدثنا ابي، عن شعيب، عن الزهري، قال اخبرني حميد بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من انفق زوجين من شىء من الاشياء في سبيل الله دعي من ابواب الجنة يا عبد الله هذا خير لك وللجنة ابواب فمن كان من اهل الصلاة دعي من باب الصلاة ومن كان من اهل الجهاد دعي من باب الجهاد ومن كان من اهل الصدقة دعي من باب الصدقة ومن كان من اهل الصيام دعي من باب الريان " . قال ابو بكر هل على من يدعى من تلك الابواب من ضرورة فهل يدعى منها كلها احد يا رسول الله قال " نعم واني ارجو ان تكون منهم " . يعني ابا بكر
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ خانہ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے، جب آپ نے ہمیں آتے دیکھا تو فرمایا: ”وہ بہت خسارے والے لوگ ہیں، رب کعبہ کی قسم“! میں نے ( اپنے جی میں ) کہا: کیا بات ہے؟ شاید میرے بارے میں کوئی آیت نازل ہوئی ہے، میں نے عرض کیا: کون لوگ ہیں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”بہت مال والے، مگر جو اس طرح کرے، اس طرح کرے“ یہاں تک کہ آپ اپنے سامنے، اپنے دائیں، اور اپنے بائیں دونوں ہاتھ سے اشارہ کیا، پھر آپ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو شخص کوئی اونٹ یا بیل چھوڑ کر مرے گا جس کی اس نے زکاۃ نہ دی ہو گی تو وہ ( اونٹ یا بیل ) ( دنیا میں ) جیسا کچھ وہ تھا قیامت کے دن اس سے بڑا اور موٹا تازہ ہو کر اس کے سامنے آئے گا، اور اسے اپنے کھروں سے روندے گا اور سینگوں سے مارے گا، جب آخری جانور روند اور مار چکے گا تو پھر ان کا پہلا لوٹا دیا جائے گا، اور یہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے“۔
اخبرنا هناد بن السري، في حديثه عن ابي معاوية، عن الاعمش، عن المعرور بن سويد، عن ابي ذر، قال جيت الى النبي صلى الله عليه وسلم وهو جالس في ظل الكعبة فلما راني مقبلا قال " هم الاخسرون ورب الكعبة " . فقلت ما لي لعلي انزل في شىء قلت من هم فداك ابي وامي قال " الاكثرون اموالا الا من قال هكذا وهكذا وهكذا حتى بين يديه وعن يمينه وعن شماله " . ثم قال " والذي نفسي بيده لا يموت رجل فيدع ابلا او بقرا لم يود زكاتها الا جاءت يوم القيامة اعظم ما كانت واسمنه تطوه باخفافها وتنطحه بقرونها كلما نفدت اخراها اعيدت اولاها حتى يقضى بين الناس
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس مال ہو اور وہ اپنے مال کا حق ادا نہ کرے ( یعنی زکاۃ نہ دے ) تو وہ مال ایک گنجے زہریلے سانپ کی شکل میں اس کی گردن کا ہار بنا دیا جائے گا، وہ اس سے بھاگے گا، اور وہ ( سانپ ) اس کے ساتھ ہو گا“، پھر اس کی تصدیق کے لیے آپ نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی «ولا تحسبن الذين يبخلون بما آتاهم اللہ من فضله هو خيرا لهم بل هو شر لهم سيطوقون ما بخلوا به يوم القيامة» ”تم یہ مت سمجھو کہ جو لوگ اس مال میں جو اللہ نے انہیں دیا ہے بخیلی کرتے ہیں ان کے حق میں بہتر ہے، یہ بہت برا ہے ان کے لیے۔ عنقریب جس مال کے ساتھ انہوں نے بخل کیا ہو گا وہ قیامت کے دن ان کے گلے کا ہار بنا دیا جائے گا“ ( آل عمران: ۱۸ ) ۔
اخبرنا مجاهد بن موسى، قال حدثنا ابن عيينة، عن جامع بن ابي راشد، عن ابي وايل، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من رجل له مال لا يودي حق ماله الا جعل له طوقا في عنقه شجاع اقرع وهو يفر منه وهو يتبعه " . ثم قرا مصداقه من كتاب الله عز وجل { ولا تحسبن الذين يبخلون بما اتاهم الله من فضله هو خيرا لهم بل هو شر لهم سيطوقون ما بخلوا به يوم القيامة } الاية
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جس شخص کے پاس اونٹ ہوں اور وہ ان کی تنگی اور خوشحالی میں ان کا حق ادا نہ کرے ( لوگوں نے ) عرض کیا: اللہ کے رسول! «نجدتها ورسلها» سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: تنگی اور آسانی ۱؎ تو وہ اونٹ جیسے کچھ تھے قیامت کے دن اس سے زیادہ چست، فربہ اور موٹے تازے ہو کر آئیں گے۔ اور یہ ایک کشادہ اور ہموار چٹیل میدان میں اوندھا لٹا دیا جائے گا، وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے، جب آخری اونٹ روند چکے گا تو پھر پہلا اونٹ روندنے کے لیے لوٹایا جائے گا، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہو گی، اور یہ سلسلہ برابر اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہ کر دیا جائے گا، اور وہ اپنا راستہ دیکھ نہ لے گا، جن کے پاس گائے بیل ہوں اور وہ ان کا حق ادا نہ کرے یعنی ان کی زکاۃ نہ دے، ان کی تنگی اور ان کی کشادگی کے زمانہ میں، تو وہ گائے بیل قیامت کے دن پہلے سے زیادہ مستی و نشاط میں موٹے تازے اور تیز رفتار ہو کر آئیں گے، اور اسے ایک کشادہ میدان میں اوندھا لٹا دیا جائے گا اور ہر سینگ والا اسے سینگوں سے مارے گا، اور ہر کھر والا اپنی کھروں سے اسے روندے گا، جب آخری جانور روند چکے گا، تو پھر پہلا پھر لوٹا دیا جائے گا، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہو گی، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے اور وہ اپنا راستہ دیکھ لے، اور جس شخص کے پاس بکریاں ہوں اور وہ ان کی تنگی اور آسانی میں ان کا حق ادا نہ کرے تو قیامت کے دن وہ بکریاں اس سے زیادہ چست فربہ اور موٹی تازی ہو کر آئیں گی جتنی وہ ( دنیا میں ) تھیں، پھر وہ ایک کشادہ ہموار میدان میں منہ کے بل لٹا دیا جائے، تو ہر کھر والی اسے اپنے کھر سے روندیں گی، اور ہر سینگ والی اسے اپنی سینگ سے مارے گی، ان میں کوئی مڑی ہوئی اور ٹوٹی ہوئی سینگ کی نہ ہو گی، جب آخری بکری مار چکے گی تو پھر پہلی بکری لوٹا دی جائے گی، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہو گی، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے، اور وہ اپنا راستہ دیکھ لے۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، قال حدثنا قتادة، عن ابي عمرو الغداني، ان ابا هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ايما رجل كانت له ابل لا يعطي حقها في نجدتها ورسلها " . قالوا يا رسول الله ما نجدتها ورسلها قال " في عسرها ويسرها فانها تاتي يوم القيامة كاغذ ما كانت واسمنه واشره يبطح لها بقاع قرقر فتطوه باخفافها اذا جاءت اخراها اعيدت عليه اولاها في يوم كان مقداره خمسين الف سنة حتى يقضى بين الناس فيرى سبيله وايما رجل كانت له بقر لا يعطي حقها في نجدتها ورسلها فانها تاتي يوم القيامة اغذ ما كانت واسمنه واشره يبطح لها بقاع قرقر فتنطحه كل ذات قرن بقرنها وتطوه كل ذات ظلف بظلفها اذا جاوزته اخراها اعيدت عليه اولاها في يوم كان مقداره خمسين الف سنة حتى يقضى بين الناس فيرى سبيله وايما رجل كانت له غنم لا يعطي حقها في نجدتها ورسلها فانها تاتي يوم القيامة كاغذ ما كانت واكثره واسمنه واشره ثم يبطح لها بقاع قرقر فتطوه كل ذات ظلف بظلفها وتنطحه كل ذات قرن بقرنها ليس فيها عقصاء ولا عضباء اذا جاوزته اخراها اعيدت عليه اولاها في يوم كان مقداره خمسين الف سنة حتى يقضى بين الناس فيرى سبيله
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے، اور عربوں میں سے جنہیں کافر مرتد ہونا تھا کافر ہو گئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگوں سے کیسے لڑیں گے؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ یہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کر لیں، تو جس نے لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کر لیا، اس نے مجھ سے اپنے مال اور اپنی جان کو سوائے اسلام کے حق ۱؎ کے مجھے سے محفوظ کر لیا۔ اور اس کا حساب اللہ کے سپرد ہے“ ۲؎ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس شخص سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرے گا ( یعنی نماز تو پڑھے اور زکاۃ دینے سے منع کرے ) کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے، قسم اللہ کی، اگر یہ اونٹ باندھنے کی رسی بھی جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے مجھ سے روکیں گے، تو میں ان سے ان کے روکنے پر لڑوں گا، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! زیادہ دیر نہیں ہوئی مگر مجھے یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قتال کے سلسلے میں شرح صدر عطا کر دیا ہے، اور میں نے جان لیا کہ یہ ( یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے ) حق ہے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن الزهري، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، عن ابي هريرة، قال لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم واستخلف ابو بكر بعده وكفر من كفر من العرب قال عمر لابي بكر كيف تقاتل الناس وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله فمن قال لا اله الا الله عصم مني ماله ونفسه الا بحقه وحسابه على الله " . فقال ابو بكر رضى الله عنه لاقاتلن من فرق بين الصلاة والزكاة فان الزكاة حق المال والله لو منعوني عقالا كانوا يودونه الى رسول الله صلى الله عليه وسلم لقاتلتهم على منعه . قال عمر رضى الله عنه فوالله ما هو الا ان رايت الله شرح صدر ابي بكر للقتال فعرفت انه الحق
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”چرائے جانے والے ہر چالیس اونٹ میں ایک بنت لبون ۱؎ ہے، اونٹوں کو ( زکاۃ سے بچنے کے لیے ) ان کے حساب ( ریوڑ ) سے جدا نہ کیا جائے۔ جو شخص ثواب کی نیت سے زکاۃ دے گا تو اسے اس کا ثواب ملے گا، اور جو شخص زکاۃ دینے سے انکار کرے گا تو ہم زکاۃ بھی لیں گے اور بطور سزا اس کے آدھے اونٹ بھی لے لیں گے، یہ ہمارے رب کی سزاؤں میں سے ایک سزا ہے۔ اس میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے لیے کوئی چیز جائز نہیں ہے“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا بهز بن حكيم، قال حدثني ابي، عن جدي، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " في كل ابل سايمة في كل اربعين ابنة لبون لا يفرق ابل عن حسابها من اعطاها موتجرا فله اجرها ومن ابى فانا اخذوها وشطر ابله عزمة من عزمات ربنا لا يحل لال محمد صلى الله عليه وسلم منها شىء
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا سفيان، قال حدثني عمرو بن يحيى، ح واخبرنا محمد بن المثنى، ومحمد بن بشار، عن عبد الرحمن، عن سفيان، وشعبة، ومالك، عن عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ليس فيما دون خمسة اوسق صدقة ولا فيما دون خمس ذود صدقة ولا فيما دون خمسة اواق صدقة
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں ہے“۔
اخبرنا عيسى بن حماد، قال انبانا الليث، عن يحيى بن سعيد، عن عمرو بن يحيى بن عمارة، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ليس فيما دون خمسة ذود صدقة وليس فيما دون خمسة اواق صدقة وليس فيما دون خمسة اوسق صدقة
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ( عاملین صدقہ کو ) یہ لکھا کہ یہ صدقہ کے وہ فرائض ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض ٹھہرائے ہیں، جن کا اللہ عزوجل نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے، تو جس مسلمان سے اس کے مطابق زکاۃ طلب کی جائے تو وہ دے، اور جس سے اس سے زیادہ مانگا جائے تو وہ نہ دے: پچیس اونٹوں سے کم میں ہر پانچ اونٹ میں ایک بکری ہے، اور جب پچیس اونٹ ہو جائیں تو اس میں پینتیس اونٹوں تک ایک برس کی اونٹنی ہے، اگر ایک برس کی اونٹنی نہ ہو تو دو برس کا اونٹ ( نر ) ہے، اور جب چھتیس اونٹ ہو جائیں تو چھتیس سے پینتالیس تک دو برس کی اونٹنی ہے، اور جب چھیالیس اونٹ ہو جائیں تو چھیالیس سے ساٹھ اونٹ تک میں تین برس کی اونٹنی ( یعنی جو ان اونٹنی جو نر کودانے کے لائق ہو گئی ہو ) ہے، اور جب اکسٹھ اونٹ ہو جائیں تو اکسٹھ سے پچہتر اونٹوں تک میں چار برس کی اونٹنی ہے، اور جب چھہتر اونٹ ہو جائیں تو چھہتر سے نوے اونٹوں تک میں دو دو برس کی دو اونٹنیاں ہیں، اور جب اکیانوے ہو جائیں تو ایک سو بیس اونٹوں تک میں تین تین برس کی دو اونٹنیاں ہیں جو نر کے کودانے کے قابل ہو گئی ہوں۔ اور جب ایک سو بیس سے زیادہ ہو گئی ہوں تو ہر چالیس اونٹ میں دو برس کی ایک اونٹنی۔ اور ہر پچاس اونٹ میں تین برس کی ایک اونٹنی ہے، اگر اونٹوں کی عمروں میں اختلاف ہو ( یعنی زکاۃ کے لائق اونٹ نہ ہو، اس سے بڑا یا چھوٹا ہو ) مثلاً جس شخص پر چار برس کی اونٹنی لازم ہو اور اس کے پاس چار برس کی اونٹنی نہ ہو، تین برس کی اونٹنی ہو۔ تو تین برس کی اونٹنی ہی اس سے قبول کر لی جائے گی اور وہ ساتھ میں دو بکریاں بھی دے۔ اگر اسے بکریاں دینے میں آسانی و سہولت ہو، اور اگر دو بکریاں نہ دے سکتا ہو تو بیس درہم دے۔ اور جس شخص کو تین برس کی اونٹنی دینی پڑ رہی ہو، اور اس کے پاس تین برس کی اونٹنی نہ ہو، چار برس کی اونٹنی ہو تو چار برس کی اونٹنی ہی قبول کر لی جائے گی۔ اور عامل صدقہ ( یعنی زکاۃ وصول کرنے والا ) اسے بیس درہم واپس کرے گا۔ یا اسے بکریاں دینے میں آسانی ہو تو دو بکریاں دے۔ اور جس کو تین برس کی اونٹنی دینی ہو اور تین برس کی اونٹنی اس کے پاس نہ ہو اس کے پاس دو برس کی اونٹنی ہو تو وہ اس سے قبول کر لی جائے، اور وہ اس کے ساتھ دو بکریاں اور دے، اگر یہ اس کے لیے آسان ہو، یا بیس درہم دے، اور جس کو دو برس کی اونٹنی دینی ہو اور وہ اس کے پاس نہ ہو تین برس کی اونٹنی ہو تو وہ اس سے قبول کر لی جائے، اور عامل صدقہ اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے، اور جسے دو سال کی اونٹنی زکاۃ میں دینی ہو، اور دو سال کی اونٹنی اس کے پاس نہ ہو ایک سال کی اونٹنی ہو تو وہی اس سے قبول کر لی جائے، اور اس کے ساتھ وہ دو بکریاں دے اگر یہ اس کے لیے آسان ہو، یا بیس درہم دے، اور جس کے اوپر ایک برس کی اونٹنی دینی لازم ہو، اور اس کے پاس ایک برس کی اونٹنی نہ ہو۔ دو برس کا ( نر ) اونٹ ہو، تو دو برس کا اونٹ قبول کر لیا جائے۔ ( اس کے ساتھ کچھ مزید لینا دینا نہیں ہو گا ) اور جس کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو ان میں کوئی زکاۃ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ان کا مالک اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے، اور جنگل میں چرائی جانے والی بکریاں جب چالیس ہوں تو ان میں ایک سو بیس بکریوں تک میں ایک بکری زکاۃ ہے، اور ایک سو بیس سے جو ایک بکری بھی بڑھ جائے تو دو سو بکریوں تک میں دو بکریاں ہیں۔ اور دو سو سے ایک بکری بھی بڑھ جائے تو دو سو سے تین سو تک میں تین بکریاں ہیں اور جب تین سو سے بھی بڑھ جائیں تو پھر ہر ایک سو میں ایک بکری زکاۃ ہے۔ زکاۃ میں کوئی بوڑھا، کانا اور عیب دار جانور نہیں لیا جائے گا، اور نہ بکریوں کا نر جانور لیا جائے گا مگر یہ کہ صدقہ وصول کرنے والا کوئی ضرورت و مصلحت سے مجھے تو لے سکتا ہے، زکاۃ کے ڈر سے دو جدا مالوں کو یکجا نہیں کیا جا سکتا ۱؎ اور نہ یکجا مال کو جدا جدا ۲؎ اور جب آدمی کی چرائی جانے والی بکریاں چالیس سے ایک بھی کم ہوں تو ان میں کوئی زکاۃ نہیں ہے۔ ہاں ان کا مالک اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تودے سکتا ہے، اور چاندی میں چالیسواں حصہ زکاۃ ہے، اور اگر ایک سو نوے درہم ہو تو اس میں کوئی زکاۃ نہیں۔ ہاں مالک اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ اپنے مالک کے پاس جب اس نے ان میں ان کا حق نہ دیا ہو گا اس سے بہتر حالت میں آئیں گے جس میں وہ ( دنیا میں ) تھے، وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے، اور بکریاں اپنے مالک کے پاس جب اس نے ان میں ان کا حق نہ دیا ہو گا، اس سے بہتر حالت میں آئیں گی جس حالت میں وہ ( دنیا میں ) تھیں۔ وہ اسے اپنی کھروں سے روندیں گی، اور اپنی سینگوں سے ماریں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا حق یہ بھی ہے کہ انہیں اسی جگہ دوہا جائے جہاں انہیں پانی پلانے کا نظم ہو ۱؎، سن لو، قیامت کے دن تم میں کا کوئی اپنے اونٹ کو اپنی گردن پر لادے ہوئے نہ لائے وہ بلبلا رہا ہو، پھر وہ کہے: اے محمد! ( بچائیے مجھ کو اس عذاب سے ) کہ میں کہوں: میں تیرے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں تو تجھے بتا چکا تھا، سن لو! قیامت کے دن کوئی اپنی گردن پر بکری کو لادے ہوئے نہ آئے کہ وہ ممیا رہی ہو، پھر وہ کہے: اے محمد! ( مجھے اس عذاب سے بچائیے ) کہ اس وقت میں کہوں: میں تیرے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں تو تجھے پہلے ہی بتا چکا ہوں“۔ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کا خزانہ ۲؎ قیامت کے دن گنجا سانپ بن کر سامنے آئے گا، اس کا مالک اس سے بھاگے گا، اور وہ اس کا برابر پیچھا کرتا رہے گا، اور کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں یہاں تک کہ وہ اس کی انگلی کو اپنے منہ میں داخل کر لے گا“۔
اخبرنا عمران بن بكار، قال حدثنا علي بن عياش، قال حدثنا شعيب، قال حدثني ابو الزناد، مما حدثه عبد الرحمن الاعرج، مما ذكر انه سمع ابا هريرة، يحدث به قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تاتي الابل على ربها على خير ما كانت اذا هي لم يعط فيها حقها تطوه باخفافها وتاتي الغنم على ربها على خير ما كانت اذا لم يعط فيها حقها تطوه باظلافها وتنطحه بقرونها - قال - ومن حقها ان تحلب على الماء الا لا ياتين احدكم يوم القيامة ببعير يحمله على رقبته له رغاء فيقول يا محمد . فاقول لا املك لك شييا قد بلغت . الا لا ياتين احدكم يوم القيامة بشاة يحملها على رقبته لها يعار فيقول يا محمد . فاقول لا املك لك شييا قد بلغت - قال - ويكون كنز احدهم يوم القيامة شجاعا اقرع يفر منه صاحبه ويطلبه انا كنزك فلا يزال حتى يلقمه اصبعه
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ہر چرنے والے چالیس اونٹوں میں دو برس کی اونٹنی ہے۔ اونٹ اپنے حساب ( ریوڑ ) سے جدا نہ کئے جائیں، جو ثواب کی امید رکھ کر انہیں دے گا تو اسے اس کا اجر ملے گا، اور جو دینے سے انکار کرے گا تو ہم اس سے اسے لے کر رہیں گے، مزید اس کے آدھے اونٹ اور لے لیں گے، یہ ہمارے رب کے تاکیدی حکموں میں سے ایک حکم ہے، محمد کے آل کے لیے اس میں سے کوئی چیز حلال نہیں ہے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا معتمر، قال سمعت بهز بن حكيم، يحدث عن ابيه، عن جده، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " في كل ابل سايمة من كل اربعين ابنة لبون لا تفرق ابل عن حسابها من اعطاها موتجرا له اجرها ومن منعها فانا اخذوها وشطر ابله عزمة من عزمات ربنا لا يحل لال محمد صلى الله عليه وسلم منها شىء
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا اور حکم دیا کہ ہر بالغ شخص سے ایک دینار ( جزیہ ) لیں یا اتنی قیمت کی یمنی چادریں، اور ہر تیس گائے بیل میں ایک برس کا بچھوا یا بچھیا لیں، اور ہر چالیس گائے اور بیل میں دو برس کی ایک گائے۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا يحيى بن ادم، قال حدثنا مفضل، - وهو ابن مهلهل - عن الاعمش، عن شقيق، عن مسروق، عن معاذ، . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثه الى اليمن وامره ان ياخذ من كل حالم دينارا او عدله معافر ومن البقر من ثلاثين تبيعا او تبيعة ومن كل اربعين مسنة
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا، تو مجھے حکم دیا کہ ہر چالیس گائے میں دو برس کی ایک گائے، اور ہر تیس میں ایک سال کا ایک بچھوا لوں۔ اور ہر بالغ سے ( بطور جزیہ ) ایک دینار لوں، یا ایک دینار کے مساوی قیمت کی یمنی چادر۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا يعلى، - وهو ابن عبيد - قال حدثنا الاعمش، عن شقيق، عن مسروق، والاعمش، عن ابراهيم، قالا قال معاذ بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم الى اليمن فامرني ان اخذ من كل اربعين بقرة ثنية ومن كل ثلاثين تبيعا ومن كل حالم دينارا او عدله معافر
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا تو انہیں حکم دیا کہ ہر تیس گائے بیل میں ایک سال کا بچھوا یا بچھیا لیں، اور ہر چالیس گائے میں دو سال کی بچھیا۔ اور ہر بالغ سے ( جزیہ میں ) ایک دینار یا ایک دینار کی قیمت کی یمنی چادر۔
اخبرنا احمد بن حرب، قال حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن مسروق، عن معاذ، قال لما بعثه رسول الله صلى الله عليه وسلم الى اليمن امره ان ياخذ من كل ثلاثين من البقر تبيعا او تبيعة ومن كل اربعين مسنة ومن كل حالم دينارا او عدله معافر
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت مجھے یمن بھیجا تو حکم دیا کہ میں گائے، بیل سے جب تک وہ تیس کی تعداد کو نہ پہنچ جائیں کچھ نہ لوں، اور جب تیس ہو جائیں تو ان میں گائے کا ایک سال کا بچہ چاہے نر ہو یا مادہ یہاں تک کہ وہ چالیس کو پہنچ جائیں، اور جب چالیس ہو جائیں تو ان میں دو سال کی ایک بچھیا ہے۔
اخبرنا محمد بن منصور الطوسي، قال حدثنا يعقوب، قال حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، قال حدثني سليمان الاعمش، عن ابي وايل بن سلمة، عن معاذ بن جبل، قال امرني رسول الله صلى الله عليه وسلم حين بعثني الى اليمن ان لا اخذ من البقر شييا حتى تبلغ ثلاثين فاذا بلغت ثلاثين ففيها عجل تابع جذع او جذعة حتى تبلغ اربعين فاذا بلغت اربعين ففيها بقرة مسنة
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی اونٹ، گائے اور بکری والا ان کا حق ادا نہیں کرے گا، ( یعنی زکاۃ نہیں ادا کرے گا ) تو اسے قیامت کے دن ایک کشادہ ہموار میدان میں کھڑا کیا جائے گا، کھر والے جانور اپنے کھروں سے اسے روندیں گے، اور سینگ والے اسے اپنی سینگوں سے ماریں گے۔ اس دن ان میں کوئی ایسا نہ ہو گا جس کے سینگ ہی نہ ہو اور نہ ہی کسی کی سینگ ٹوٹی ہوئی ہو گی“، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان پر نر کودوانا، ان کے ڈول کو منگنی دینا اور اللہ کی راہ میں ان پر بوجھ اور سواری لادنا، اور جو صاحب مال اپنے مال کا حق ادا نہ کرے گا وہ مال قیامت کے دن ایک گنجے ( زہریلے ) سانپ کی شکل میں اسے دکھائی پڑے گا، اس کا مالک اس سے بھاگے گا، اور وہ اس کا پیچھا کرے گا، اور اس سے کہے گا: یہ تو تیرا وہ خزانہ ہے جس کے ساتھ تو بخل کرتا تھا، جب وہ دیکھے گا کہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے تو ( لاچار ہو کر ) اپنا ہاتھ اس کے منہ میں ڈال دے گا، اور وہ اس کو اس طرح چبائے گا جس طرح اونٹ چباتا ہے“۔
اخبرنا واصل بن عبد الاعلى، عن ابن فضيل، عن عبد الملك بن ابي سليمان، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من صاحب ابل ولا بقر ولا غنم لا يودي حقها الا وقف لها يوم القيامة بقاع قرقر تطوه ذات الاظلاف باظلافها وتنطحه ذات القرون بقرونها ليس فيها يوميذ جماء ولا مكسورة القرن " . قلنا يا رسول الله وماذا حقها قال " اطراق فحلها واعارة دلوها وحمل عليها في سبيل الله ولا صاحب مال لا يودي حقه الا يخيل له يوم القيامة شجاع اقرع يفر منه صاحبه وهو يتبعه يقول له هذا كنزك الذي كنت تبخل به فاذا راى انه لا بد له منه ادخل يده في فيه فجعل يقضمها كما يقضم الفحل
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا المظفر بن مدرك ابو كامل، قال حدثنا حماد بن سلمة، قال اخذت هذا الكتاب من ثمامة بن عبد الله بن انس بن مالك عن انس بن مالك ان ابا بكر كتب لهم ان هذه فرايض الصدقة التي فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم على المسلمين التي امر الله عز وجل بها رسوله صلى الله عليه وسلم فمن سيلها من المسلمين على وجهها فليعط ومن سيل فوق ذلك فلا يعط فيما دون خمس وعشرين من الابل في كل خمس ذود شاة فاذا بلغت خمسا وعشرين ففيها بنت مخاض الى خمس وثلاثين فان لم تكن بنت مخاض فابن لبون ذكر فاذا بلغت ستا وثلاثين ففيها بنت لبون الى خمس واربعين فاذا بلغت ستة واربعين ففيها حقة طروقة الفحل الى ستين فاذا بلغت احدى وستين ففيها جذعة الى خمس وسبعين فاذا بلغت ستا وسبعين ففيها بنتا لبون الى تسعين فاذا بلغت احدى وتسعين ففيها حقتان طروقتا الفحل الى عشرين وماية فاذا زادت على عشرين وماية ففي كل اربعين بنت لبون وفي كل خمسين حقة فاذا تباين اسنان الابل في فرايض الصدقات فمن بلغت عنده صدقة الجذعة وليست عنده جذعة وعنده حقة فانها تقبل منه الحقة ويجعل معها شاتين ان استيسرتا له او عشرين درهما ومن بلغت عنده صدقة الحقة وليست عنده حقة وعنده جذعة فانها تقبل منه ويعطيه المصدق عشرين درهما او شاتين ان استيسرتا له ومن بلغت عنده صدقة الحقة وليست عنده وعنده بنت لبون فانها تقبل منه ويجعل معها شاتين ان استيسرتا له او عشرين درهما ومن بلغت عنده صدقة ابنة لبون وليست عنده الا حقة فانها تقبل منه ويعطيه المصدق عشرين درهما او شاتين ومن بلغت عنده صدقة ابنة لبون وليست عنده بنت لبون وعنده بنت مخاض فانها تقبل منه ويجعل معها شاتين ان استيسرتا له او عشرين درهما ومن بلغت عنده صدقة ابنة مخاض وليس عنده الا ابن لبون ذكر فانه يقبل منه وليس معه شىء ومن لم يكن عنده الا اربع من الابل فليس فيها شىء الا ان يشاء ربها وفي صدقة الغنم في سايمتها اذا كانت اربعين ففيها شاة الى عشرين وماية فاذا زادت واحدة ففيها شاتان الى مايتين فاذا زادت واحدة ففيها ثلاث شياه الى ثلاثماية فاذا زادت ففي كل ماية شاة ولا يوخذ في الصدقة هرمة ولا ذات عوار ولا تيس الغنم الا ان يشاء المصدق ولا يجمع بين متفرق ولا يفرق بين مجتمع خشية الصدقة وما كان من خليطين فانهما يتراجعان بينهما بالسوية فاذا كانت سايمة الرجل ناقصة من اربعين شاة واحدة فليس فيها شىء الا ان يشاء ربها وفي الرقة ربع العشر فان لم تكن الا تسعين وماية درهم فليس فيها شىء الا ان يشاء ربها