Loading...

Loading...
کتب
۲۷۲ احادیث
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، اور جو اس کے ساتھ جائے وہ بھی کھڑا رہے یہاں تک کہ اسے رکھ دیا جائے“۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن هشام، والاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا رايتم الجنازة فقوموا ومن تبعها فلا يقعدن حتى توضع
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے جنازے کے لیے جب تک رکھ نہ دیا جائے کھڑے رہنے کا ذکر کیا گیا، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( پہلے ) کھڑے رہتے تھے پھر بیٹھنے لگے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن يحيى، عن واقد، عن نافع بن جبير، عن مسعود بن الحكم، عن علي بن ابي طالب، : انه ذكر القيام على الجنازة حتى توضع، فقال علي بن ابي طالب : قام رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قعد
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے دیکھا آپ کھڑے ہوئے تو ہم ( بھی ) کھڑے ہوئے، اور بیٹھتے دیکھا تو ہم ( بھی ) بیٹھنے لگے۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، قال اخبرني محمد بن المنكدر، عن مسعود بن الحكم، عن علي، قال : رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم قام فقمنا، ورايناه قعد فقعدنا
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے، جب ہم قبر کے پاس پہنچے تو وہ تیار نہیں ہوئی تھی، چنانچہ آپ بیٹھ گئے تو ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے، گویا ہمارے سر پر پرندے بیٹھے ہوئے تھے۔
اخبرنا هارون بن اسحاق، قال حدثنا ابو خالد الاحمر، عن عمرو بن قيس، عن المنهال بن عمرو، عن زاذان، عن البراء، قال : خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في جنازة، فلما انتهينا الى القبر ولم يلحد، فجلس وجلسنا حوله كان على رءوسنا الطير
عبداللہ بن ثعلبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کے بارے میں فرمایا: ”انہیں ان کے خون کے ساتھ کپڑوں میں لپیٹ دو کیونکہ جو بھی زخم اللہ کی راہ میں لگا ہو گا وہ قیامت کے روز بہتا ہوا آئے گا، اس کا رنگ خون کا رنگ ہو گا، اور اس کی خوشبو مشک کی خوشبو ہو گی“۔
اخبرنا هناد، عن ابن المبارك، عن معمر، عن الزهري، عن عبد الله بن ثعلبة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لقتلى احد : " زملوهم بدمايهم، فانه ليس كلم يكلم في الله الا ياتي يوم القيامة يدمى، لونه لون الدم وريحه ريح المسك
عبیداللہ بن معیہ نامی ایک شخص کہتے ہیں کہ غزوہ طائف کے دن دو مسلمان مارے گئے، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر لائے گئے، تو آپ نے انہیں ( اسی جگہ ) دفنانے کا حکم دیا جہاں وہ مارے گئے تھے۔ اس حدیث کے راوی ابن معیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پیدا ہوئے تھے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا وكيع، قال حدثنا سعيد بن السايب، عن رجل، يقال له عبيد الله بن معية قال : اصيب رجلان من المسلمين يوم الطايف، فحملا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فامر ان يدفنا حيث اصيبا . وكان ابن معية ولد على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے مقتولین کے بارے حکم دیا کہ انہیں ان کے پچھاڑے جانے کی جگ ہوں پر لوٹا دیا جائے، حالانکہ وہ مدینہ لے آئے گئے تھے۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا الاسود بن قيس، عن نبيح العنزي، عن جابر بن عبد الله، : ان النبي صلى الله عليه وسلم امر بقتلى احد ان يردوا الى مصارعهم، وكانوا قد نقلوا الى المدينة
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مقتولین کو ان کے گرنے کی جگ ہوں میں دفن کرو“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا وكيع، عن سفيان، عن الاسود بن قيس، عن نبيح العنزي، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال : " ادفنوا القتلى في مصارعهم
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ کے بوڑھے گم کردہ راہ چچا ( ابوطالب ) مر گئے ہیں، انہیں کون دفن کرے؟ آپ نے فرمایا: ”تم جاؤ اور اپنے باپ کو دفن کر دو اور کوئی نئی چیز نہ کرنا جب تک میرے پاس لوٹ نہ آنا“، چنانچہ میں انہیں دفن کر آیا، تو آپ نے میرے لیے ( نہانے کا ) حکم دیا، میں نے غسل کیا، اور آپ نے مجھے دعا دی۔ راوی ناجیہ بن کعب کہتے ہیں: اور علی رضی اللہ عنہ نے ایک ایسی دعا کا ذکر کیا جسے میں یاد نہیں رکھ سکا۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثني ابو اسحاق، عن ناجية بن كعب، عن علي، قال قلت للنبي صلى الله عليه وسلم، ان عمك الشيخ الضال مات، فمن يواريه قال : " اذهب فوار اباك ولا تحدثن حدثا حتى تاتيني " . فواريته ثم جيت فامرني فاغتسلت ودعا لي، وذكر دعاء لم احفظه
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے لیے بغلی قبر کھودنا، اور ( اینٹیں ) کھڑی کرنا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کی گئی تھی۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا عبد الله بن جعفر، عن اسماعيل بن محمد بن سعد، عن ابيه، عن سعد، قال : الحدوا لي لحدا، وانصبوا على نصبا كما فعل برسول الله صلى الله عليه وسلم
عامر بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ کی جب وفات ہونے لگی تو انہوں نے کہا: میرے لیے بغلی قبر کھدوانا، اور اینٹیں کھڑی کرنا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علیہ السلام کے لیے کی گئی تھی۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، قال حدثنا ابو عامر، عن عبد الله بن جعفر، عن اسماعيل بن محمد، عن عامر بن سعد، : ان سعدا، لما حضرته الوفاة قال : الحدوا لي لحدا، وانصبوا على نصبا كما فعل برسول الله صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بغلی قبر ہم ( مسلمانوں ) کے لیے ہے، اور صندوقی قبر دوسروں کے لیے ہے“ ۱؎۔
اخبرنا عبد الله بن محمد ابو عبد الرحمن الاذرمي، عن حكام بن سلم الرازي، عن علي بن عبد الاعلى، عن ابيه، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " اللحد لنا والشق لغيرنا
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے ( غزوہ ) احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہر ایک آدمی کے لیے ( الگ الگ ) قبر کھودنا ہمارے لیے دشوار ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھودو اور گہرا کھودو اچھی طرح کھودو، اور دو دو تین تین ( افراد ) کو ایک ہی قبر میں دفن کر دو“، تو لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! پہلے ہم کسے رکھیں؟ آپ نے فرمایا: ”پہلے انہیں رکھو جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو“۔ ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک ہی قبر میں رکھے جانے والے تین افراد میں سے میرے والد تیسرے فرد تھے۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا اسحاق بن يوسف، قال حدثنا سفيان، عن ايوب، عن حميد بن هلال، عن هشام بن عامر، قال : شكونا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم احد فقلنا : يا رسول الله الحفر علينا لكل انسان شديد فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " احفروا واعمقوا واحسنوا، وادفنوا الاثنين والثلاثة في قبر واحد " . قالوا : فمن نقدم يا رسول الله قال : " قدموا اكثرهم قرانا " . قال : فكان ابي ثالث ثلاثة في قبر واحد
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس دن احد کی لڑائی ہوئی تو جن مسلمانوں کو مارا جانا تھا مارے گئے، اور جسے زخمی ہونا تھا زخمی ہوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( قبریں ) کھودو اور چوڑی کھودو، اور ایک ہی قبر میں دو دو تین تین لوگوں کو دفنا دو، اور جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو انہیں ( قبر میں ) پہلے رکھو“۔
اخبرنا محمد بن معمر، قال حدثنا وهب بن جرير، قال حدثنا ابي قال، سمعت حميد بن هلال، عن سعد بن هشام بن عامر، عن ابيه، قال : لما كان يوم احد اصيب من المسلمين، واصاب الناس جراحات فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " احفروا واوسعوا، وادفنوا الاثنين والثلاثة في القبر، وقدموا اكثرهم قرانا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت دفنائے گئے آپ کے نیچے ایک سرخ چادر رکھی گئی ۱؎۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، عن يزيد، - وهو ابن زريع - قال حدثنا شعبة، عن ابي جمرة، عن ابن عباس، قال : جعل تحت رسول الله صلى الله عليه وسلم حين دفن قطيفة حمراء
عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ تین اوقات ایسے ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے ( اور ) اپنے مردوں کو قبر میں دفنانے سے منع فرماتے تھے: ایک جس وقت سورج نکل رہا ہو یہاں تک کہ بلند ہو جائے، اور دوسرے جس وقت ٹھیک دوپہر ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اور ( تیسرے جس وقت سورج ڈوبنے کے لیے مائل ہو رہا ہو۔)
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا موسى بن على بن رباح، قال سمعت ابي قال، سمعت عقبة بن عامر الجهني، قال : ثلاث ساعات كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهانا ان نصلي فيهن، او نقبر فيهن موتانا : حين تطلع الشمس بازغة حتى ترتفع، وحين يقوم قايم الظهيرة حتى تزول الشمس، وحين تضيف الشمس للغروب
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ۔ ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب فرمایا ( آپ نے اس میں ) اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جو مر گیا تھا، اسے رات ہی میں دفنا دیا گیا، اور ایک گھٹیا کفن میں کفنایا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرما دیا کہ کوئی رات میں دفنایا جائے، سوائے اس کے کہ وہ اس کے لیے مجبور کر دیا جائے۔
اخبرني عبد الرحمن بن خالد القطان الرقي، قال حدثنا حجاج، قال ابن جريج اخبرني ابو الزبير، انه سمع جابرا، يقول : خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر رجلا من اصحابه مات فقبر ليلا، وكفن في كفن غير طايل، فزجر رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يقبر انسان ليلا الا ان يضطر الى ذلك
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب ( غزوہ ) احد کا دن آیا، تو لوگوں کو سخت پریشانی ہوئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبریں کھودو اور اسے چوڑی کھودو، اور ایک ہی قبر میں دو دو تین تین دفنا دو“، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پہلے کسے رکھیں؟ آپ نے فرمایا: ”پہلے اسے رکھو جسے قرآن زیادہ یاد ہو“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا وكيع، عن سليمان بن المغيرة، عن حميد بن هلال، عن هشام بن عامر، قال : لما كان يوم احد اصاب الناس جهد شديد، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " احفروا واوسعوا، وادفنوا الاثنين والثلاثة في قبر " . فقالوا : يا رسول الله فمن نقدم قال : " قدموا اكثرهم قرانا
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ۔ ( غزوہ ) احد کے دن ( لوگ ) شدید زخمی ہوئے ( اور جاں بحق ہو گئے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی گئی ۱؎، آپ نے فرمایا: ” ( قبریں ) کھودو، انہیں کشادہ اور اچھی بناؤ، اور ایک ( ہی ) قبر میں دو دو تین تین کو دفن کرو، اور جسے قرآن زیادہ یاد ہوا سے آگے رکھو“۔
اخبرني ابراهيم بن يعقوب، قال انبانا سليمان بن حرب، قال حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن حميد بن هلال، عن سعد بن هشام بن عامر، عن ابيه، قال : اشتد الجراح يوم احد فشكي ذلك الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : " احفروا واوسعوا واحسنوا، وادفنوا في القبر الاثنين والثلاثة، وقدموا اكثرهم قرانا
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( قبریں ) کھودو، اور انہیں خوبصورت بناؤ، اور دو دو تین تین کو دفن کرو، اور جسے قرآن زیادہ یاد ہو انہیں پہلے رکھو“۔
اخبرنا ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا مسدد، قال حدثنا عبد الوارث، عن ايوب، عن حميد بن هلال، عن ابي الدهماء، عن هشام بن عامر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " احفروا واحسنوا، وادفنوا الاثنين والثلاثة، وقدموا اكثرهم قرانا