Loading...

Loading...
کتب
۲۷۲ احادیث
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ۔ ( غزوہ ) احد کے دن میرے والد قتل کئے گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( قبریں ) کھودو اور انہیں کشادہ اور اچھی بناؤ، اور ( ایک ہی ) قبر میں دو دو تین تین کو دفنا دو، اور جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو انہیں پہلے رکھو“، چنانچہ میرے والد تین میں کے تیسرے تھے، اور انہیں قرآن زیادہ یاد تھا تو وہ پہلے رکھے گئے۔
حدثنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا ايوب، عن حميد بن هلال، عن هشام بن عامر، قال : قتل ابي يوم احد فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " احفروا واوسعوا واحسنوا، وادفنوا الاثنين والثلاثة في القبر، وقدموا اكثرهم قرانا " . فكان ابي ثالث ثلاثة وكان اكثرهم قرانا فقدم
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کو قبر میں داخل کر دئیے جانے کے بعد آئے، تو آپ نے اسے ( نکالنے کا ) حکم دیا، چنانچہ وہ نکالا گیا، آپ نے اسے اپنے دونوں گھٹنوں پر بٹھایا، اور اس پر تھو تھو کیا، اور اسے اپنی قمیص پہنائی، واللہ اعلم ۱؎۔
قال الحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، عن سفيان، قال سمع عمرو، جابرا يقول : اتى النبي صلى الله عليه وسلم عبد الله بن ابى بعد ما ادخل في قبره، فامر به فاخرج فوضعه على ركبتيه، ونفث عليه من ريقه والبسه قميصه، والله اعلم
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کو اس کی قبر سے نکلوایا، پھر اس کا سر اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا، اور اس پر تھو تھو کیا، اور اسے اپنی قمیص پہنائی۔ اور اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھی، واللہ اعلم۔
اخبرنا الحسين بن حريث، قال حدثنا الفضل بن موسى، عن الحسين بن واقد، قال حدثنا عمرو بن دينار، قال سمعت جابرا، يقول : ان النبي صلى الله عليه وسلم امر بعبد الله بن ابى فاخرجه من قبره، فوضع راسه على ركبتيه فتفل فيه من ريقه، والبسه قميصه . قال جابر : وصلى عليه والله اعلم
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد کے ساتھ قبر میں ایک شخص اور دفن کیا گیا تھا، میرا دل خوش نہیں ہوا یہاں تک کہ میں نے اسے نکالا، اور انہیں علاحدہ دفن کیا۔
اخبرنا العباس بن عبد العظيم، عن سعيد بن عامر، عن شعبة، عن ابن ابي نجيح، عن عطاء، عن جابر، قال : دفن مع ابي رجل في القبر فلم يطب قلبي حتى اخرجته ودفنته على حدة
یزید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو آپ نے ایک نئی قبر دیکھی تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: یہ فلاں قبیلے کی لونڈی ( کی قبر ) ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان لیا، وہ دوپہر میں مری تھی، اور آپ قیلولہ فرما رہے تھے، تو ہم نے آپ کو اس کی وجہ سے جگانا پسند نہیں کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور اپنے پیچھے لوگوں کی صف بندی کی، اور آپ نے چار تکبیریں کہیں، پھر فرمایا: ”جب تک میں تمہارے درمیان ہوں جو بھی تم میں سے مرے اس کی خبر مجھے ضرور دو، کیونکہ میری نماز اس کے لیے رحمت ہے“۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد ابو قدامة، قال حدثنا عبد الله بن نمير، قال حدثنا عثمان بن حكيم، عن خارجة بن زيد بن ثابت، عن عمه، يزيد بن ثابت : انهم خرجوا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم، فراى قبرا جديدا فقال : " ما هذا " . قالوا : هذه فلانة مولاة بني فلان، فعرفها رسول الله صلى الله عليه وسلم ماتت ظهرا وانت نايم قايل، فلم نحب ان نوقظك بها . فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم وصف الناس خلفه وكبر عليها اربعا ثم قال : " لا يموت فيكم ميت ما دمت بين اظهركم الا اذنتموني به، فان صلاتي له رحمة
عامر بن شراحیل شعبی کہتے ہیں مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ایسی قبر کے پاس سے گزرا، جو الگ تھلگ تھی، تو آپ نے ان کی امامت کی، اور اپنے پیچھے ان کی صف بندی کی۔ سلیمان کہتے ہیں میں نے ( شعبی ) پوچھا: ابوعمرو! یہ کون تھے؟ انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما تھے۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، عن شعبة، عن سليمان الشيباني، عن الشعبي، : اخبرني من، مر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على قبر منتبذ، فامهم وصف خلفه، قلت : من هو يا ابا عمرو قال : ابن عباس
عامر بن شراحیل شعبی کہتے ہیں مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک الگ تھلگ قبر کے پاس سے گزرے، تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، اور اپنے پیچھے اپنے اصحاب کی صف بندی کی، پوچھا گیا: آپ سے کس نے بیان کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا هشيم، قال الشيباني انبانا عن الشعبي، قال اخبرني من، راى النبي صلى الله عليه وسلم مر بقبر منتبذ، فصلى عليه وصف اصحابه خلفه . قيل : من حدثك قال : ابن عباس
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی قبر پر اسے دفن کر دئیے جانے کے بعد نماز جنازہ پڑھی۔
اخبرنا المغيرة بن عبد الرحمن، قال حدثنا زيد بن علي، - وهو ابو اسامة - قال حدثنا جعفر بن برقان، عن حبيب بن ابي مرزوق، عن عطاء، عن جابر، : ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى على قبر امراة بعد ما دفنت
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابودحداح رضی اللہ عنہ کے جنازے میں ( شرکت کے لیے ) نکلے، تو جب آپ لوٹنے لگے تو ( آپ کے لیے ) بغیر زین کے ننگی پیٹھ والا ایک گھوڑا لایا گیا، آپ ( اس پر ) سوار ہو گئے، اور ہم آپ کے ہمراہ پیدل چلنے لگے۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا ابو نعيم، ويحيى بن ادم، قالا حدثنا مالك بن مغول، عن سماك، عن جابر بن سمرة، قال : خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم على جنازة ابي الدحداح، فلما رجع اتي بفرس معرورى فركب ومشينا معه
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ قبر پر قبہ بنایا جائے یا اس کو اونچا کیا جائے، یا اس کو پختہ بنایا جائے، سلیمان بن موسیٰ کی روایت میں ”یا اس پر لکھا جائے“ کا اضافہ ہے ۱؎۔
اخبرنا هارون بن اسحاق، قال حدثنا حفص، عن ابن جريج، عن سليمان بن موسى، وابي الزبير، عن جابر، قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يبنى على القبر، او يزاد عليه، او يجصص . زاد سليمان بن موسى : او يكتب عليه
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو پختہ بنانے ۱؎ یا اس پر عمارت بنانے ۲؎ یا اس پر کسی کے بیٹھنے ۳؎ سے منع فرمایا ہے۔
اخبرنا يوسف بن سعيد، قال حدثنا حجاج، عن ابن جريج، قال اخبرني ابو الزبير، انه سمع جابرا، يقول : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن تقصيص القبور، او يبنى عليها، او يجلس عليها احد
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو پختہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
اخبرنا عمران بن موسى، قال حدثنا عبد الوارث، قال حدثنا ايوب، عن ابي الزبير، عن جابر، قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن تجصيص القبور
ثمامہ بن شفی کہتے ہیں کہ ہم فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ سر زمین روم میں تھے کہ ہمارا ایک ساتھی وفات پا گیا، تو فضالہ رضی اللہ عنہ نے اس کی قبر ( زمین کے برابر کرنے کا ) حکم دیا، تو وہ برابر کر دی گئی ۱؎ پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے برابر کرنے کا حکم دیتے سنا ہے۔
اخبرنا سليمان بن داود، قال انبانا ابن وهب، قال اخبرني عمرو بن الحارث، ان ثمامة بن شفى، حدثه قال : كنا مع فضالة بن عبيد بارض الروم فتوفي صاحب لنا، فامر فضالة بقبره فسوي، ثم قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يامر بتسويتها
ابوہیاج (حیان بن حصین اسدی) کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تمہیں اس کام پر نہ بھیجوں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا: تم کوئی بھی اونچی قبر نہ چھوڑنا مگر اسے برابر کر دینا، اور نہ کسی گھر میں کوئی مجسمہ ( تصویر ) چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا سفيان، عن حبيب، عن ابي وايل، عن ابي الهياج، قال قال علي رضى الله عنه : الا ابعثك على ما بعثني عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تدعن قبرا مشرفا الا سويته، ولا صورة في بيت الا طمستها
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا تو اب تم اس کی زیارت کیا کرو ۱؎، اور میں نے قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا تو اب جب تک جی چاہے رکھو، اور میں نے تمہیں مشک کے علاوہ کسی اور برتن میں نبیذ ( پینے ) سے منع کیا تھا، تو سارے برتنوں میں پیو ( مگر ) کسی نشہ آور چیز کو مت پینا“۔
اخبرني محمد بن ادم، عن ابن فضيل، عن ابي سنان، عن محارب بن دثار، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها، ونهيتكم عن لحوم الاضاحي فوق ثلاثة ايام فامسكوا ما بدا لكم، ونهيتكم عن النبيذ الا في سقاء فاشربوا في الاسقية كلها، ولا تشربوا مسكرا
بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں تھے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( موجود ) تھے، تو آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے منع کیا تھا ( تو اب تم ) کھاؤ، کھلاؤ اور جب تک جی چاہے رکھ چھوڑو، اور میں نے تم سے ذکر کیا تھا کہ کدو کی تمبی، تار کول ملے ہوئے، اور لکڑی کے اور سبز اونچے گھڑے کے برتنوں میں نبیذ نہ بناؤ، ( مگر اب ) جس میں مناسب سمجھو بناؤ، اور ہر نشہ آور چیز سے پرہیز کرو، اور میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا ( تو اب ) جو بھی زیارت کرنا چاہے کرے، البتہ تم زبان سے بری بات نہ کہو“۔
اخبرني محمد بن قدامة، قال حدثنا جرير، عن ابي فروة، عن المغيرة بن سبيع، حدثني عبد الله بن بريدة، عن ابيه، : انه كان في مجلس فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : " اني كنت نهيتكم ان تاكلوا لحوم الاضاحي الا ثلاثا، فكلوا واطعموا وادخروا ما بدا لكم، وذكرت لكم ان لا تنتبذوا في الظروف الدباء والمزفت والنقير والحنتم، انتبذوا فيما رايتم واجتنبوا كل مسكر، ونهيتكم عن زيارة القبور فمن اراد ان يزور فليزر، ولا تقولوا هجرا
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی، تو آپ خود رو پڑے اور جو آپ کے اردگرد تھے انہیں بھی رلا دیا، اور فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے اجازت چاہی کہ میں ان کے لیے مغفرت طلب کروں تو مجھے اجازت نہیں ملی، ( تو پھر ) میں نے ان کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت دے دی گئی، تم لوگ قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ تمہیں موت کی یاد دلاتی ہے“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا محمد بن عبيد، عن يزيد بن كيسان، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال : زار رسول الله صلى الله عليه وسلم قبر امه فبكى وابكى من حوله وقال : " استاذنت ربي عز وجل في ان استغفر لها فلم يوذن لي، واستاذنت في ان ازور قبرها فاذن لي، فزوروا القبور فانها تذكركم الموت
مسیب بن حزن رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اور ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ دونوں ان کے پاس ( پہلے سے موجود ) تھے، تو آپ نے فرمایا: ”چچا جان! آپ «لا إله إلا اللہ» کا کلمہ کہہ دیجئیے، میں اس کے ذریعہ آپ کے لیے اللہ عزوجل کے پاس جھگڑوں گا“، تو ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ دونوں نے ان سے کہا: ابوطالب! کیا آپ عبدالمطلب کے دین سے منہ موڑ لو گے؟ پھر وہ دونوں ان سے باتیں کرتے رہے یہاں تک کہ آخری بات جو عبدالمطلب نے ان سے کی وہ یہ تھی کہ ( میں ) عبدالمطلب کے دین پر ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”میں آپ کے لیے مغفرت طلب کرتا رہوں گا جب تک مجھے روک نہ دیا جائے“، تو یہ آیت اتری ۱؎: «ما كان للنبي والذين آمنوا أن يستغفروا للمشركين» ”نبی اور اہل ایمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت طلب کریں“ ( التوبہ: ۱۱۳ ) نیز یہ آیت اتری: «إنك لا تهدي من أحببت» ”آپ جسے چاہیں ہدایت کے راستہ پر نہیں لا سکتے“ ( القص: ۵۶ ) ۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا محمد، - وهو ابن ثور - عن معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابيه، قال : لما حضرت ابا طالب الوفاة دخل عليه النبي صلى الله عليه وسلم وعنده ابو جهل وعبد الله بن ابي امية فقال : " اى عم قل لا اله الا الله كلمة احاج لك بها عند الله عز وجل " . فقال له ابو جهل وعبد الله بن ابي امية : يا ابا طالب اترغب عن ملة عبد المطلب . فلم يزالا يكلمانه حتى كان اخر شىء كلمهم به على ملة عبد المطلب . فقال له النبي صلى الله عليه وسلم : " لاستغفرن لك ما لم انه عنك " . فنزلت { ما كان للنبي والذين امنوا ان يستغفروا للمشركين } ونزلت { انك لا تهدي من احببت}
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں میں نے ایک شخص کو اپنے ماں باپ کے لیے مغفرت طلب کرتے ہوئے سنا حالانکہ وہ دونوں مشرک تھے، تو میں نے کہا: کیا تو ان دونوں کے لیے مغفرت طلب کرتا ہے؟ حالانکہ وہ دونوں مشرک تھے، تو اس نے کہا: کیا ابراہیم ( علیہ السلام ) نے اپنے باپ کے لیے مغفرت طلب نہیں کی تھی؟ تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا، تو ( یہ آیت ) اتری: «وما كان استغفار إبراهيم لأبيه إلا عن موعدة وعدها إياه» ”ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے مغفرت طلب کرنا ایک وعدہ کی وجہ سے تھا“ ( التوبہ: ۱۱۴ ) ۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن ابي اسحاق، عن ابي الخليل، عن علي، قال : سمعت رجلا، يستغفر لابويه وهما مشركان فقلت : اتستغفر لهما وهما مشركان فقال اولم يستغفر ابراهيم لابيه . فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فنزلت { وما كان استغفار ابراهيم لابيه الا عن موعدة وعدها اياه}
محمد بن قیس بن مخرمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو بیان کرتے ہوئے سنا وہ کہہ رہی تھیں: کیا میں تمہیں اپنے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہم نے کہا کیوں نہیں ضرور بتائیے، تو وہ کہنے لگیں، جب وہ رات آئی جس میں وہ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تھے تو آپ ( عشاء ) سے پلٹے، اپنے جوتے اپنے پائتانے رکھے، اور اپنے تہبند کا کنارہ اپنے بستر پر بچھایا، آپ صرف اتنی ہی مقدار ٹھہرے جس میں آپ نے محسوس کیا کہ میں سو گئی ہوں، پھر آہستہ سے آپ نے جوتا پہنا اور آہستہ ہی سے اپنی چادر لی، پھر دھیرے سے دروازہ کھولا، اور دھیرے سے نکلے، میں نے بھی اپنا کرتا، اپنے سر میں ڈالا اور اپنی اوڑھنی اوڑھی، اور اپنی تہبند پہنی، اور آپ کے پیچھے چل پڑی، یہاں تک کہ آپ مقبرہ بقیع آئے، اور اپنے ہاتھوں کو تین بار اٹھایا، اور بڑی دیر تک اٹھائے رکھا، پھر آپ پلٹے تو میں بھی پلٹ پڑی، آپ تیز چلنے لگے تو میں بھی تیز چلنے لگی، پھر آپ دوڑنے لگے تو میں بھی دوڑنے لگی، پھر آپ اور تیز دوڑے تو میں بھی اور تیز دوڑی، اور میں آپ سے پہلے آ گئی، اور گھر میں داخل ہو گئی، اور ابھی لیٹی ہی تھی کہ آپ بھی اندر داخل ہو گئے، آپ نے پوچھا: ”عائشہ! تجھے کیا ہو گیا، یہ سانس اور پیٹ کیوں پھول رہے ہیں؟“ میں نے کہا: کچھ تو نہیں ہے، آپ نے فرمایا: ”تو مجھے بتا دے ورنہ وہ ذات جو باریک بین اور ہر چیز کی خبر رکھنے والی ہے مجھے ضرور بتا دے گی“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، پھر میں نے اصل بات بتا دی تو آپ نے فرمایا: ”وہ سایہ جو میں اپنے آگے دیکھ رہا تھا تو ہی تھی“، میں نے عرض کیا: جی ہاں، میں ہی تھی، آپ نے میرے سینہ پر ایک مکا مارا جس سے مجھے تکلیف ہوئی، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تو یہ سمجھتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تجھ پر ظلم کریں گے“، میں نے کہا: جو بھی لوگ چھپائیں اللہ تعالیٰ تو اس سے واقف ہی ہے، ( وہ آپ کو بتا دے گا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل میرے پاس آئے جس وقت تو نے دیکھا، مگر وہ میرے پاس اندر نہیں آئے کیونکہ تو اپنے کپڑے اتار چکی تھی، انہوں نے مجھے آواز دی اور انہوں نے تجھ سے چھپایا، میں نے انہیں جواب دیا، اور میں نے بھی اسے تجھ سے چھپایا، پھر میں نے سمجھا کہ تو سو گئی ہے، اور مجھے اچھا نہ لگا کہ میں تجھے جگاؤں، اور میں ڈرا کہ تو اکیلی پریشان نہ ہو، خیر انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں مقبرہ بقیع آؤں، اور وہاں کے لوگوں کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کروں“، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں کیا کہوں ( جب بقیع میں جاؤں ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو «السلام على أهل الديار من المؤمنين والمسلمين يرحم اللہ المستقدمين منا والمستأخرين وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون» ”سلامتی ہو ان گھروں کے مومنوں اور مسلمانوں پر، اللہ تعالیٰ ہم میں سے اگلے اور پچھلے ( دونوں ) پر رحم فرمائے، اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے ( ہی ) والے ہیں“۔
اخبرنا يوسف بن سعيد، قال حدثنا حجاج، عن ابن جريج، قال اخبرني عبد الله بن ابي مليكة، انه سمع محمد بن قيس بن مخرمة، يقول سمعت عايشة، تحدث قالت : الا احدثكم عني وعن النبي صلى الله عليه وسلم قلنا : بلى . قالت : لما كانت ليلتي التي هو عندي تعني النبي صلى الله عليه وسلم انقلب فوضع نعليه عند رجليه، وبسط طرف ازاره على فراشه، فلم يلبث الا ريثما ظن اني قد رقدت، ثم انتعل رويدا واخذ رداءه رويدا، ثم فتح الباب رويدا وخرج رويدا وجعلت درعي في راسي واختمرت وتقنعت ازاري، وانطلقت في اثره حتى جاء البقيع، فرفع يديه ثلاث مرات فاطال، ثم انحرف فانحرفت، فاسرع فاسرعت، فهرول فهرولت، فاحضر فاحضرت وسبقته فدخلت، فليس الا ان اضطجعت فدخل فقال : " ما لك يا عايشة حشيا رابية " . قالت : لا . قال : " لتخبرني او ليخبرني اللطيف الخبير " . قلت : يا رسول الله بابي انت وامي، فاخبرته الخبر . قال : " فانت السواد الذي رايت امامي " . قالت : نعم، فلهزني في صدري لهزة اوجعتني، ثم قال : " اظننت ان يحيف الله عليك ورسوله " . قلت : مهما يكتم الناس فقد علمه الله . قال : " فان جبريل اتاني حين رايت ولم يدخل على وقد وضعت ثيابك فناداني، فاخفى منك فاجبته فاخفيته منك، فظننت ان قد رقدت وكرهت ان اوقظك، وخشيت ان تستوحشي، فامرني ان اتي البقيع فاستغفر لهم " . قلت : كيف اقول يا رسول الله قال : " قولي السلام على اهل الديار من المومنين والمسلمين، يرحم الله المستقدمين منا والمستاخرين، وانا ان شاء الله بكم لاحقون