Loading...

Loading...
کتب
۲۷۲ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اپنا کپڑا پہنا پھر ( باہر ) نکل گئے، تو میں نے اپنی لونڈی بریرہ کو حکم دیا کہ وہ پیچھے پیچھے جائے، چنانچہ وہ آپ کے پیچھے پیچھے گئی یہاں تک کہ آپ مقبرہ بقیع پہنچے، تو اس کے قریب کھڑے رہے جتنی دیر اللہ تعالیٰ نے کھڑا رکھنا چاہا، پھر آپ پلٹے تو بریرہ آپ سے پہلے پلٹ کر آ گئی، اور اس نے مجھے بتایا، لیکن میں نے آپ سے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا یہاں تک کہ صبح کیا، تو میں نے آپ کو ساری باتیں بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اہل بقیع کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ میں ان کے حق میں دعا کروں“۔
اخبرني محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن علقمة بن ابي علقمة، عن امه، انها سمعت عايشة، تقول : قام رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فلبس ثيابه ثم خرج - قالت - فامرت جاريتي بريرة تتبعه فتبعته حتى جاء البقيع، فوقف في ادناه ما شاء الله ان يقف، ثم انصرف فسبقته بريرة فاخبرتني، فلم اذكر له شييا حتى اصبحت، ثم ذكرت ذلك له فقال : " اني بعثت الى اهل البقيع لاصلي عليهم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں جب جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری ان کے یہاں ہوتی تو رات کے آخری ( حصے ) میں مقبرہ بقیع کی طرف نکل جاتے، ( اور ) کہتے: «السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا وإياكم متواعدون غدا أو مواكلون وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون اللہم اغفر لأهل بقيع الغرقد» ”اے مومن گھر ( قبرستان ) والو! تم پر سلامتی ہو، ہم اور تم آپس میں ایک دوسرے سے کل کی حاضری کا وعدہ کرنے والے ہیں، اور آپس میں ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے والے ہیں، اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے والے ہیں، اے اللہ! بقیع غرقد والوں کی مغفرت فرما“۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا اسماعيل، قال حدثنا شريك، - وهو ابن ابي نمر - عن عطاء، عن عايشة، قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم كلما كانت ليلتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج في اخر الليل الى البقيع فيقول : " السلام عليكم دار قوم مومنين، وانا واياكم متواعدون غدا او مواكلون، وانا ان شاء الله بكم لاحقون، اللهم اغفر لاهل بقيع الغرقد
بریدہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قبرستان آتے تو فرماتے: «السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين والمسلمين وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون أنتم لنا فرط ونحن لكم تبع أسأل اللہ العافية لنا ولكم» ”اے مومن اور مسلمان گھر والو! تم پر سلامتی ہو، اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم ( عنقریب ) تم سے ملنے والے ہیں، تم ہمارے پیش رو ہو، اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں۔ میں اللہ سے اپنے اور تمہارے لیے عافیت کی درخواست کرتا ہوں“۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا حرمي بن عمارة، قال حدثنا شعبة، عن علقمة بن مرثد، عن سليمان بن بريدة، عن ابيه، : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا اتى على المقابر فقال : " السلام عليكم اهل الديار من المومنين والمسلمين، وانا ان شاء الله بكم لاحقون، انتم لنا فرط ونحن لكم تبع، اسال الله العافية لنا ولكم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب نجاشی ( شاہ حبشہ ) کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ان کی بخشش کی دعا کرو“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال : لما مات النجاشي قال النبي صلى الله عليه وسلم : " استغفروا له
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شاہ حبشہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بھائی کے لیے مغفرت طلب کرو“۔
اخبرنا ابو داود، قال حدثنا يعقوب، قال حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، قال حدثني ابو سلمة، وابن المسيب، ان ابا هريرة، اخبرهما : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نعى لهم النجاشي صاحب الحبشة في اليوم الذي مات فيه فقال : " استغفروا لاخيكم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والیوں پر، اور انہیں سجدہ گاہ بنانے اور ان پر چراغاں کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن محمد بن جحادة، عن ابي صالح، عن ابن عباس، قال : لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم زايرات القبور والمتخذين عليها المساجد والسرج
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کا انگارے پر بیٹھنا یہاں تک کہ اس کے کپڑے جل جائیں اس کے لیے بہتر ہے اس بات سے کہ وہ کسی قبر پر بیٹھے“
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، عن وكيع، عن سفيان، عن سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لان يجلس احدكم على جمرة حتى تحرق ثيابه خير له من ان يجلس على قبر
عمرو بن حزم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ قبروں پر نہ بیٹھو“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، عن شعيب، قال حدثنا الليث، قال حدثنا خالد، عن ابن ابي هلال، عن ابي بكر بن حزم، عن النضر بن عبد الله السلمي، عن عمرو بن حزم، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تقعدوا على القبور
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر لعنت فرمائی ہے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا“۔
اخبرنا عمرو بن علي، حدثنا خالد بن الحارث، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لعن الله قوما اتخذوا قبور انبيايهم مساجد
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائی ہے ( کیونکہ ) ان لوگوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا“۔
اخبرنا محمد بن عبد الرحيم ابو يحيى، صاعقة قال حدثنا ابو سلمة الخزاعي، قال حدثنا الليث بن سعد، عن يزيد بن الهاد، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لعن الله اليهود والنصارى اتخذوا قبور انبيايهم مساجد
بشیر بن خصاصیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ مسلمانوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”یہ لوگ بڑے شر و فساد سے ( بچ ) کر آگے نکل گئے“، پھر آپ مشرکوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”یہ لوگ بڑے خیر سے ( محروم ) ہو کر آگے نکل گئے“، پھر آپ متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص اپنی دونوں جوتیوں میں قبروں کے درمیان چل رہا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سبتی جوتوں والو! انہیں اتار دو“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا وكيع، عن الاسود بن شيبان، - وكان ثقة - عن خالد بن سمير، عن بشير بن نهيك، ان بشير ابن الخصاصية، قال كنت امشي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فمر على قبور المسلمين فقال " لقد سبق هولاء شرا كثيرا " . ثم مر على قبور المشركين فقال " لقد سبق هولاء خيرا كثيرا " . فحانت منه التفاتة فراى رجلا يمشي بين القبور في نعليه فقال " يا صاحب السبتيتين القهما
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے، اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں، تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے“ ۱؎۔
اخبرنا احمد بن ابي عبيد الله الوراق، قال حدثنا يزيد بن زريع، عن سعيد، عن قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان العبد اذا وضع في قبره وتولى عنه اصحابه انه ليسمع قرع نعالهم
انس بن مالک رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتیوں کی آواز سنتا ہے، ( پھر ) اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اور اسے بٹھاتے ہیں، ( اور ) اس سے پوچھتے ہیں: تم اس شخص ( محمد ) کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ رہا مومن تو وہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، تو اس سے کہا جائے گا کہ تم جہنم میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے تمہیں جنت میں ٹھکانا دیا ہے“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو وہ ان دونوں ( جنت و جہنم ) کو ایک ساتھ دیکھے گا“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، وابراهيم بن يعقوب بن اسحاق، قالا حدثنا يونس بن محمد، عن شيبان، عن قتادة، انبانا انس بن مالك، قال قال نبي الله صلى الله عليه وسلم " ان العبد اذا وضع في قبره وتولى عنه اصحابه انه ليسمع قرع نعالهم " . قال " فياتيه ملكان فيقعدانه فيقولان له ما كنت تقول في هذا الرجل فاما المومن فيقول اشهد انه عبد الله ورسوله فيقال له انظر الى مقعدك من النار قد ابدلك الله به مقعدا من الجنة " . قال النبي صلى الله عليه وسلم " فيراهما جميعا
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے، ( پھر ) دو فرشتے آتے ہیں، ( اور ) اسے بٹھاتے ہیں ( پھر ) اس سے پوچھتے ہیں: تم اس شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ رہا مومن تو وہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، ( پھر ) اس سے کہا جاتا ہے تم جہنم میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ لو اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کے بدلے ایک اچھا ٹھکانا دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ ان دونوں ( جنت و جہنم ) کو ایک ساتھ دیکھتا ہے، اور رہا کافر یا منافق تو اس سے پوچھا جاتا ہے: اس شخص ( محمد ) کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟، تو وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے، تو اس سے کہا جائے گا: نہ تم نے خود جاننے کی کوشش کی، اور نہ جانکار لوگوں کی پیروی کی، پھر اس کے دونوں کانوں کے بیچ ایک ایسی مار ماری جاتی ہے کہ وہ ایسے زور کی چیخ مارتا ہے جسے انسان اور جنات کے علاوہ جو بھی اس کے قریب ہوتے ہیں سبھی سنتے ہیں“۔
اخبرنا احمد بن ابي عبيد الله، قال حدثنا يزيد بن زريع، عن سعيد، عن قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان العبد اذا وضع في قبره وتولى عنه اصحابه انه ليسمع قرع نعالهم اتاه ملكان فيقعدانه فيقولان له ما كنت تقول في هذا الرجل محمد فاما المومن فيقول اشهد انه عبد الله ورسوله فيقال له انظر الى مقعدك من النار قد ابدلك الله به مقعدا خيرا منه " . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فيراهما جميعا واما الكافر او المنافق فيقال له ما كنت تقول في هذا الرجل فيقول لا ادري كنت اقول كما يقول الناس . فيقال له لا دريت ولا تليت . ثم يضرب ضربة بين اذنيه فيصيح صيحة يسمعها من يليه غير الثقلين
عبداللہ بن یسار کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا اور ( وہیں ) سلیمان بن صرد اور خالد بن عرفطہٰ رضی اللہ عنہما ( بھی ) موجود تھے تو لوگوں نے ذکر کیا کہ ایک آدمی اپنے پیٹ کے عارضہ میں وفات پا گیا ہے، تو ان دونوں نے تمنا کی کہ وہ اس کے جنازے میں شریک ہوں، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کہا ہے کہ ”جو پیٹ کے عارضہ میں مرے اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا“، تو دوسرے نے کہا: کیوں نہیں، آپ نے ایسا فرمایا ہے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، عن شعبة، قال اخبرني جامع بن شداد، قال سمعت عبد الله بن يسار، قال كنت جالسا وسليمان بن صرد وخالد بن عرفطة فذكروا ان رجلا، توفي مات ببطنه فاذا هما يشتهيان ان يكونا شهداء جنازته فقال احدهما للاخر الم يقل رسول الله صلى الله عليه وسلم " من يقتله بطنه فلن يعذب في قبره " . فقال الاخر بلى
ایک صحابی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے؟ سبھی اہل ایمان اپنی قبروں میں آزمائے جاتے ہیں، سوائے شہید کے؟ آپ نے فرمایا: ”اس کے سروں پر چمکتی تلوار کی آزمائش کافی ہے“۔
اخبرنا ابراهيم بن الحسن، قال حدثنا حجاج، عن ليث بن سعد، عن معاوية بن صالح، ان صفوان بن عمرو، حدثه عن راشد بن سعد، عن رجل، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ان رجلا قال يا رسول الله ما بال المومنين يفتنون في قبورهم الا الشهيد قال " كفى ببارقة السيوف على راسه فتنة
صفوان بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں طاعون سے مرنے والا، پیٹ کے مرض میں مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، اور زچگی کی وجہ سے مرنے والی عورت شہید ہے۔ وہ ( تیمی ) کہتے ہیں: ہم سے ابوعثمان نے بارہا بیان کیا، ایک مرتبہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے مرفوع بیان کیا۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن التيمي، عن ابي عثمان، عن عامر بن مالك، عن صفوان بن امية، قال الطاعون والمبطون والغريق والنفساء شهادة . قال وحدثنا ابو عثمان مرارا ورفعه مرة الى النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی وہ شخص ہے جس کے لیے عرش الٰہی ہل گیا، آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے، اور ستر ہزار فرشتے اس کے جنازے میں شریک ہوئے، ( پھر بھی قبر میں ) اسے ایک بار بھینچا گیا، پھر ( یہ عذاب ) اس سے جاتا رہا“ ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا عمرو بن محمد العنقزي، قال حدثنا ابن ادريس، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " هذا الذي تحرك له العرش وفتحت له ابواب السماء وشهده سبعون الفا من الملايكة لقد ضم ضمة ثم فرج عنه
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں آیت کریمہ «يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ”اللہ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت میں ٹھیک بات پر قائم رکھے گا“ ( ابراہیم: ۲۷ ) ۔ عذاب قبر کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن ابيه، عن خيثمة، عن البراء، قال { يثبت الله الذين امنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الاخرة } قال نزلت في عذاب القبر
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آیت کریمہ «يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ”اللہ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت ( دونوں میں ) ٹھیک بات پر قائم رکھے گا“۔ عذاب قبر کے سلسلے میں اتری ہے۔ میت سے پوچھا جائے گا: تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہے گا: میرا رب اللہ ہے، میرا دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہے۔ اللہ کے قول: «يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» سے یہی مراد ہے“۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن علقمة بن مرثد، عن سعد بن عبيدة، عن البراء بن عازب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال { يثبت الله الذين امنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الاخرة } قال نزلت في عذاب القبر يقال له من ربك فيقول ربي الله وديني دين محمد صلى الله عليه وسلم فذلك قوله { يثبت الله الذين امنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الاخرة}