Loading...

Loading...
کتب
۲۷۲ احادیث
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی قبر سے ایک آواز سنی تو پوچھا: ”یہ کب مرا ہے؟“ لوگوں نے کہا: زمانہ جاہلیت میں مرا ہے، آپ اس بات سے خوش ہوئے، اور فرمایا: ”اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ تم ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑ دو گے، تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذاب قبر سنا دے“۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال حدثنا عبد الله، عن حميد، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم سمع صوتا من قبر فقال " متى مات هذا " . قالوا مات في الجاهلية . فسر بذلك وقال " لولا ان لا تدافنوا لدعوت الله ان يسمعكم عذاب القبر
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈوبنے کے بعد نکلے، تو ایک آواز سنی، آپ نے فرمایا: ”یہود اپنی قبروں میں عذاب دیئے جا رہے ہیں“۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن شعبة، قال اخبرني عون بن ابي جحيفة، عن ابيه، عن البراء بن عازب، عن ابي ايوب، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد ما غربت الشمس فسمع صوتا فقال " يهود تعذب في قبورها
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من عذاب النار وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال» ”اے اللہ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، زندگی اور موت کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور مسیح دجال کی آزمائش سے ( بھی ) تیری پناہ مانگتا ہوں“۔
اخبرنا يحيى بن درست، قال حدثنا ابو اسماعيل، قال حدثنا يحيى بن ابي كثير، ان ابا سلمة، حدثه عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه كان يقول " اللهم اني اعوذ بك من عذاب القبر واعوذ بك من عذاب النار واعوذ بك من فتنة المحيا والممات واعوذ بك من فتنة المسيح الدجال
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے سنا۔
اخبرنا عمرو بن سواد بن الاسود بن عمرو، عن ابن وهب، قال حدثنا يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد ذلك يستعيذ من عذاب القبر
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ( اور ) اس آزمائش کا ذکر کیا جس سے آدمی اپنی قبر میں دوچار ہوتا ہے، تو جب آپ نے اس کا ذکر کیا تو مسلمانوں نے ایک چیخ ماری جو میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سمجھنے کے درمیان حائل ہو گئی، جب ان کی چیخ و پکار بند ہوئیں تو میں نے ایک شخص سے جو مجھ سے قریب تھا کہا: اللہ تجھے برکت دے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطاب کے آخر میں کیا کہا تھا؟ اس نے کہا: ( آپ نے فرمایا تھا: ) ”مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ قبروں میں تمہاری آزمائش ہو گی جو دجال کی آزمائش کے قریب قریب ہو گی“۔
اخبرنا سليمان بن داود، عن ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، اخبرني عروة بن الزبير، انه سمع اسماء بنت ابي بكر، تقول قام رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر الفتنة التي يفتن بها المرء في قبره فلما ذكر ذلك ضج المسلمون ضجة حالت بيني وبين ان افهم كلام رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما سكنت ضجتهم قلت لرجل قريب مني اى بارك الله لك ماذا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في اخر قوله قال " قد اوحي الى انكم تفتنون في القبور قريبا من فتنة الدجال
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا انہیں اسی طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے، آپ فرماتے کہو: «اللہم إنا نعوذ بك من عذاب جهنم وأعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» ”اے اللہ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں جہنم کے عذاب سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں عذاب قبر سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں موت اور زندگی کی آزمائش سے“۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابي الزبير، عن طاوس، عن عبد الله بن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يعلمهم هذا الدعاء كما يعلمهم السورة من القران " قولوا اللهم انا نعوذ بك من عذاب جهنم واعوذ بك من عذاب القبر واعوذ بك من فتنة المسيح الدجال واعوذ بك من فتنة المحيا والممات
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میرے پاس ایک یہودی عورت تھی، وہ کہہ رہی تھی کہ تم لوگ قبروں میں آزمائے جاؤ گے، ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا گئے، اور فرمایا: ”صرف یہودیوں ہی کی آزمائش ہو گی“۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر ہم کئی رات ٹھہرے رہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر وحی آئی ہے کہ تمہیں ( بھی ) قبروں میں آزمایا جائے گا“، اس کے بعد سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے سنتی رہی۔
اخبرنا سليمان بن داود، عن ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال حدثني عروة، ان عايشة، قالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعندي امراة من اليهود وهي تقول انكم تفتنون في القبور . فارتاع رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال " انما تفتن يهود " . وقالت عايشة فلبثنا ليالي ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انه اوحي الى انكم تفتنون في القبور " . قالت عايشة فسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد يستعيذ من عذاب القبر
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے عذاب، اور دجال کے فتنے سے پناہ طلب کرتے، اور فرماتے: ”تم اپنی قبروں میں آزمائے جاؤ گے“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن يحيى، عن عمرة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يستعيذ من عذاب القبر ومن فتنة الدجال وقال " انكم تفتنون في قبوركم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی ( اور ) اس نے ان سے کوئی چیز مانگی تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے دیا تو اس نے کہا: اللہ تجھے قبر کے عذاب سے بچائے! عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو اس کی یہ بات میرے دل میں بیٹھ گئی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے جسے چوپائے سنتے ہیں“۔
اخبرنا هناد، عن ابي معاوية، عن الاعمش، عن شقيق، عن مسروق، عن عايشة، دخلت يهودية عليها فاستوهبتها شييا فوهبت لها عايشة فقالت اجارك الله من عذاب القبر . قالت عايشة فوقع في نفسي من ذلك حتى جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال " انهم ليعذبون في قبورهم عذابا تسمعه البهايم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں یہود مدینہ کی بوڑھی عورتوں میں سے دو عورتیں میرے پاس آئیں، ( اور ) کہنے لگیں کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے، تو میں نے ان کو جھٹلا دیا اور مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں ان کی تصدیق کروں، وہ دونوں نکل گئیں ( تبھی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہود مدینہ کی بوڑھیوں میں سے دو بوڑھیاں کہہ رہی تھیں کہ مردوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں نے سچ کہا، انہیں عذاب دیا جاتا ہے جسے سارے چوپائے سنتے ہیں“، ( پھر ) میں نے دیکھا آپ ہر صلاۃ کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔
اخبرنا محمد بن قدامة، قال حدثنا جرير، عن منصور، عن ابي وايل، عن مسروق، عن عايشة، قالت دخلت على عجوزتان من عجز يهود المدينة فقالتا ان اهل القبور يعذبون في قبورهم . فكذبتهما ولم انعم ان اصدقهما فخرجتا ودخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله ان عجوزتين من عجز يهود المدينة قالتا ان اهل القبور يعذبون في قبورهم . قال " صدقتا انهم يعذبون عذابا تسمعه البهايم كلها " . فما رايته صلى صلاة الا تعوذ من عذاب القبر
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ یا مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ کے پاس سے گزرے، تو آپ نے دو انسانوں کی آوازیں سنیں جنہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور انہیں کسی بڑے جرم میں عذاب نہیں دیا جا رہا ہے ۱؎، بلکہ ان میں سے ایک اچھی طرح اپنے پیشاب سے پاکی نہیں حاصل کرتا تھا، اور دوسرا چغل خوری ۲؎ کرتا تھا“، پھر آپ نے ایک ٹہنی منگوائی ( اور ) اس کے دو ٹکڑے کئے پھر ان میں سے ہر ایک کی قبر پر ایک ایک ٹکڑا رکھ دیا، تو آپ سے سوال کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو آپ نے فرمایا: ”شاید ان کے عذاب میں نرمی کر دی جائے جب تک یہ دونوں ( ٹہنیاں ) خشک نہ ہوں“۔ راوی کو شک ہے کہ آپ نے «ما لم ييبسا أو أن ييبسا» فرمایا، یا «إلى أن ييبسا» فرمایا۔
اخبرنا محمد بن قدامة، قال حدثنا جرير، عن منصور، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال مر رسول الله صلى الله عليه وسلم بحايط من حيطان مكة او المدينة سمع صوت انسانين يعذبان في قبورهما فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يعذبان وما يعذبان في كبير " . ثم قال " بلى كان احدهما لا يستبري من بوله وكان الاخر يمشي بالنميمة " . ثم دعا بجريدة فكسرها كسرتين فوضع على كل قبر منهما كسرة فقيل له يا رسول الله لم فعلت هذا قال " لعله ان يخفف عنهما ما لم ييبسا او ان ييبسا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو قبر کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ”ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور یہ کسی بڑے جرم میں عذاب نہیں دئیے جا رہے ہیں، رہا ان میں سے ایک تو وہ اپنے پیشاب سے اچھی طرح پاکی حاصل نہیں کرتا تھا، اور رہا دوسرا تو وہ چغل خوری کرتا تھا، پھر آپ نے کھجور کی ایک ہری ٹہنی لی ( اور ) اسے آدھا آدھا چیر دیا، پھر ہر ایک کی قبر پہ گاڑ دیا“، تو لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید ان دونوں کا عذاب ہلکا کر دیا جائے جب تک یہ دونوں ( ٹہنیاں ) خشک نہ ہوں“۔
اخبرنا هناد بن السري، في حديثه عن ابي معاوية، عن الاعمش، عن مجاهد، عن طاوس، عن ابن عباس، قال مر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقبرين فقال " انهما ليعذبان وما يعذبان في كبير اما احدهما فكان لا يستبري من بوله واما الاخر فكان يمشي بالنميمة " . ثم اخذ جريدة رطبة فشقها نصفين ثم غرز في كل قبر واحدة فقالوا يا رسول الله لم صنعت هذا فقال " لعلهما ان يخفف عنهما ما لم ييبسا ���
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! جب تم میں سے کوئی مر جاتا ہے تو اس پر صبح و شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے، اگر جنتی ہے تو جنت میں کا، اور اگر جہنمی ہے تو جہنم میں کا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے روز اٹھائے“ ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الا ان احدكم اذا مات عرض عليه مقعده بالغداة والعشي ان كان من اهل الجنة فمن اهل الجنة وان كان من اهل النار فمن اهل النار حتى يبعثه الله عز وجل يوم القيامة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مرتا ہے تو اس پر صبح و شام اس کا ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے، چنانچہ اگر وہ جہنمی ہے تو جہنمیوں ( کے ٹھکانوں ) میں سے ( پیش کیا جائے گا ) ، اور کہا جاتا ہے: یہ ہے تمہارا ٹھکانا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے روز اٹھائے“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا المعتمر، قال سمعت عبيد الله، يحدث عن نافع، عن ابن عمر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يعرض على احدكم اذا مات مقعده من الغداة والعشي فان كان من اهل النار فمن اهل النار قيل هذا مقعدك حتى يبعثك الله عز وجل يوم القيامة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مرتا ہے تو اس کا ٹھکانا اس پر صبح و شام پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ جنتی ہے تو جنتیوں ( کے ٹھکانوں ) میں سے، اور اگر جہنمی ہے تو جہنمیوں ( کے ٹھکانوں ) میں سے، ( اور اس سے ) کہا جاتا ہے: یہ تمہارا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ اللہ عزوجل تمہیں قیامت کے روز اٹھائے“۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن القاسم، حدثني مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا مات احدكم عرض على مقعده بالغداة والعشي ان كان من اهل الجنة فمن اهل الجنة وان كان من اهل النار فمن اهل النار فيقال هذا مقعدك حتى يبعثك الله عز وجل يوم القيامة
کعب بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی جان جنت کے درختوں پہ اڑتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اس کے جسم کی طرف بھیج دے“۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عبد الرحمن بن كعب، انه اخبره ان اباه كعب بن مالك كان يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انما نسمة المومن طاير في شجر الجنة حتى يبعثه الله عز وجل الى جسده يوم القيامة
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے کہ وہ ہم سے اہل بدر کے سلسلہ میں بیان کرنے لگے، اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( کافروں کے ) مارے جانے کی جگہیں ایک دن پہلے دکھلا دیں، اور فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو کل فلاں کے پچھاڑ کھا کر گرنے کی جگہ یہاں ہو گی، اور فلاں کی یہاں“، عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! ان جگہوں میں کوئی فرق نہیں آیا، چنانچہ انہیں ایک کنویں میں ڈال دیا گیا، ( پھر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، ( اور ) پکارا: ”اے فلاں، فلاں کے بیٹے! اے فلاں، فلاں کے بیٹے! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے صحیح پایا؟ میں نے تو اللہ نے جو وعدہ مجھ سے کیا تھا اسے صحیح پایا“، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ایسے جسموں سے بات کر رہے ہیں جن میں روح نہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان سے زیادہ نہیں سنتے“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا سليمان، - وهو ابن المغيرة - قال حدثنا ثابت، عن انس، قال كنا مع عمر بين مكة والمدينة اخذ يحدثنا عن اهل بدر فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليرينا مصارعهم بالامس قال " هذا مصرع فلان ان شاء الله غدا " . قال عمر والذي بعثه بالحق ما اخطيوا تيك فجعلوا في بير فاتاهم النبي صلى الله عليه وسلم فنادى " يا فلان بن فلان يا فلان بن فلان هل وجدتم ما وعد ربكم حقا فاني وجدت ما وعدني الله حقا " . فقال عمر تكلم اجسادا لا ارواح فيها فقال " ما انتم باسمع لما اقول منهم
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے رات کو بدر کے کنویں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے آواز لگاتے سنا: ”اے ابوجہل بن ہشام! اے شیبہ بن ربیعہ! اے عتبہ بن ربیعہ! اور اے امیہ بن خلف! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے صحیح پایا؟، میں نے تو اپنے رب کے وعدہ کو صحیح پایا“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ان لوگوں کو پکارتے ہیں جو محض بدبودار لاش ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان سے زیادہ نہیں سن سکتے، لیکن ( فرق صرف اتنا ہے کہ ) وہ جواب نہیں دے سکتے“۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن حميد، عن انس، قال سمع المسلمون، من الليل ببير بدر ورسول الله صلى الله عليه وسلم قايم ينادي " يا ابا جهل بن هشام ويا شيبة بن ربيعة ويا عتبة بن ربيعة ويا امية بن خلف هل وجدتم ما وعد ربكم حقا فاني وجدت ما وعدني ربي حقا " . قالوا يا رسول الله اوتنادي قوما قد جيفوا فقال " ما انتم باسمع لما اقول منهم ولكنهم لا يستطيعون ان يجيبوا
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے کنویں پہ کھڑے ہوئے ( اور ) فرمایا: ”کیا تم نے اپنے رب کے وعدہ کو صحیح پایا؟“ ( پھر ) آپ نے فرمایا: ”اس وقت جو کچھ میں ان سے کہہ رہا ہوں اسے یہ لوگ سن رہے ہیں“، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا گیا، تو انہوں نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھول ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یوں ) کہا تھا: ”یہ لوگ اب خوب جان رہے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا وہ سچ تھا“، پھر انہوں نے اللہ کا قول پڑھا: «إنك لا تسمع الموتى» ( النمل: ۸۰ ) یہاں تک کہ پوری آیت پڑھی۔
اخبرنا محمد بن ادم، قال حدثنا عبدة، عن هشام، عن ابيه، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم وقف على قليب بدر فقال " هل وجدتم ما وعد ربكم حقا - قال - انهم ليسمعون الان ما اقول لهم " . فذكر ذلك لعايشة فقالت وهل ابن عمر انما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انهم الان يعلمون ان الذي كنت اقول لهم هو الحق " . ثم قرات قوله { انك لا تسمع الموتى } حتى قرات الاية
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی آدم ( کے جسم کا ہر حصہ ) ، ( مغیرہ والی حدیث میں ہے ) ابن آدم ( کے جسم کے ہر حصہ کو ) مٹی کھا جاتی ہے، سوائے اس کی ریڑھ کی ہڈی کے، اسی سے وہ پیدا کیا گیا ہے، اور اسی سے ( دوبارہ ) جوڑا جائے گا“۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، ومغيرة، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل بني ادم - وفي حديث مغيرة كل ابن ادم - ياكله التراب الا عجب الذنب منه خلق وفيه يركب