Loading...

Loading...
کتب
۲۷۲ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ مجھے جھٹلانا اس کے لیے مناسب نہ تھا، ابن آدم نے مجھے گالی دی حالانکہ مجھے گالی دینا اس کے لیے مناسب نہ تھا، رہا اس کا مجھے جھٹلانا تو وہ اس کا ( یہ ) کہنا ہے کہ میں اسے دوبارہ پیدا نہیں کر سکوں گا جیسے پہلی بار کیا تھا، حالانکہ آخری بار پیدا کرنا پہلی بار پیدا کرنے سے زیادہ دشوار مشکل نہیں، اور رہا اس کا مجھے گالی دینا تو وہ اس کا ( یہ ) کہنا ہے کہ اللہ کے بیٹا ہے، حالانکہ میں اللہ اکیلا اور بے نیاز ہوں، نہ میں نے کسی کو جنا، نہ مجھے کسی نے جنا، اور نہ کوئی میرا ہم سر ہے“
اخبرنا الربيع بن سليمان، قال حدثنا شعيب بن الليث، قال حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال عن رسول الله صلى الله عليه وسلم " قال الله عز وجل كذبني ابن ادم ولم يكن ينبغي له ان يكذبني وشتمني ابن ادم ولم يكن ينبغي له ان يشتمني اما تكذيبه اياى فقوله اني لا اعيده كما بداته وليس اخر الخلق باعز على من اوله واما شتمه اياى فقوله اتخذ الله ولدا وانا الله الاحد الصمد لم الد ولم اولد ولم يكن لي كفوا احد
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا: ”ایک بندے نے اپنے اوپر ( بڑا ) ظلم کیا، یہاں تک کہ موت ( کا وقت ) آپ پہنچا، تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر مجھے پیس ڈالنا، کچھ ہوا میں اڑا دینا اور کچھ سمندر میں ڈال دینا، اس لیے کہ اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر ہوا تو ایسا ( سخت ) عذاب دے گا کہ ویسا عذاب اپنی کسی مخلوق کو نہیں دے گا“، تو اس کے گھر والوں نے ایسا ہی کیا، اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو جس نے اس کا کچھ حصہ لیا تھا حکم دیا کہ حاضر کرو جو کچھ تم نے لیا ہے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ سامنے کھڑا ہے، ( تو ) اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا: تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے اکسایا؟ اس نے کہا: تیرے خوف نے، تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا“۔
اخبرنا كثير بن عبيد، قال حدثنا محمد بن حرب، عن الزبيدي، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اسرف عبد على نفسه حتى حضرته الوفاة قال لاهله اذا انا مت فاحرقوني ثم اسحقوني ثم اذروني في الريح في البحر فوالله لين قدر الله على ليعذبني عذابا لا يعذبه احدا من خلقه قال ففعل اهله ذلك قال الله عز وجل لكل شىء اخذ منه شييا اد ما اخذت فاذا هو قايم قال الله عز وجل ما حملك على ما صنعت قال خشيتك . فغفر الله له
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے لوگوں میں کا ایک آدمی اپنے اعمال کے سلسلہ میں بدگمان تھا، چنانچہ جب موت ( کا وقت ) آپ پہنچا، تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر پیس ڈالنا، پھر مجھے دریا میں اڑا دینا، کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر ہو گا تو وہ مجھے بخشے گا نہیں، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا تو وہ اس کی روح کو پکڑ کر لائے، اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا: تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے ابھارا؟ اس نے کہا: اے میرے رب! میں نے صرف تیرے خوف کی وجہ سے ایسا کیا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا جرير، عن منصور، عن ربعي، عن حذيفة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " كان رجل ممن كان قبلكم يسيء الظن بعمله فلما حضرته الوفاة قال لاهله اذا انا مت فاحرقوني ثم اطحنوني ثم اذروني في البحر فان الله ان يقدر على لم يغفر لي . قال فامر الله عز وجل الملايكة فتلقت روحه قال له ما حملك على ما فعلت قال يا رب ما فعلت الا من مخافتك . فغفر الله له
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر خطبہ دیتے سنا آپ فرما رہے تھے: ”تم اللہ تعالیٰ سے ننگے پاؤں، ننگے بدن ( اور ) غیر مختون ملو گے“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن عمرو، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب على المنبر يقول " انكم ملاقو الله عز وجل حفاة عراة غرلا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ قیامت کے دن ننگ دھڑنگ، غیر مختون اکٹھا کیے جائیں گے، اور مخلوقات میں سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو کپڑا پہنایا جائے گا، پھر آپ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی: «كما بدأنا أول خلق نعيده» ”جیسے ہم نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ویسے ہی دوبارہ پیدا کریں گے“ ( الانبیاء: ۱۰۴ ) ۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثني المغيرة بن النعمان، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يحشر الناس يوم القيامة عراة غرلا واول الخلايق يكسى ابراهيم عليه السلام ثم قرا { كما بدانا اول خلق نعيده}
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن ( اور ) غیر مختون اٹھائے جائیں گے“، تو اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: لوگوں کی شرمگاہوں کا کیا حال ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دن ہر ایک کی ایسی حالت ہو گی جو اسے ( ان چیزوں سے ) بے نیاز کر دے گی“۔
اخبرني عمرو بن عثمان، قال حدثنا بقية، قال اخبرني الزبيدي، قال اخبرني الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يبعث الناس يوم القيامة حفاة عراة غرلا " . فقالت عايشة فكيف بالعورات قال " لكل امري منهم يوميذ شان يغنيه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ( قیامت کے دن ) ننگے پاؤں ( اور ) ننگے بدن اکٹھا کیے جاؤ گے“، میں نے پوچھا: مرد عورت سب ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاملہ اتنا سنگین ہو گا کہ انہیں اس کی فکر نہیں ہو گی“۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا ابو يونس القشيري، قال حدثني ابن ابي مليكة، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " انكم تحشرون حفاة عراة " . قلت الرجال والنساء ينظر بعضهم الى بعض قال " ان الامر اشد من ان يهمهم ذلك
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ قیامت کے دن تین گروہ میں جمع کیے جائیں گے، کچھ جنت کی رغبت رکھنے والے اور جہنم سے ڈرنے والے ہوں گے ۱؎، اور کچھ لوگ ایک اونٹ پر دو سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر تین سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر چار سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر دس سوار ہوں گے، اور بقیہ لوگوں کو آگ ۱؎ اکٹھا کرے گی، ان کے ساتھ وہ بھی قیلولہ کرے گی جہاں وہ قیلولہ کریں گے، رات گزارے گی جہاں وہ رات گزاریں گے، صبح کرے گی جہاں وہ صبح کریں گے، اور شام کرے گی جہاں وہ شام کریں گے“۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا ابو هشام، قال حدثنا وهيب بن خالد ابو بكر، قال حدثنا ابن طاوس، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يحشر الناس يوم القيامة على ثلاث طرايق راغبين راهبين اثنان على بعير وثلاثة على بعير واربعة على بعير وعشرة على بعير وتحشر بقيتهم النار تقيل معهم حيث قالوا وتبيت معهم حيث باتوا وتصبح معهم حيث اصبحوا وتمسي معهم حيث امسوا
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان کیا کہ لوگ ( قیامت کے دن ) تین گروہ میں جمع کیے جائیں گے: ایک گروپ سوار ہو گا، کھاتے ( اور ) پہنتے اٹھے گا، اور ایک گروہ کو فرشتے اوندھے منہ گھسیٹیں گے، اور انہیں آگ گھیر لے گی، اور ایک گروہ پیدل چلے گا ( بلکہ ) دوڑے گا۔ اللہ تعالیٰ سواریوں پر آفت نازل کر دے گا، چنانچہ کوئی سواری باقی نہ رہے گی، یہاں تک کہ ایک شخص کے پاس باغ ہو گا جسے وہ ایک پالان والے اونٹ کے بدلے میں دیدے گا جس پر وہ قادر نہ ہو سکے گا۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، عن الوليد بن جميع، قال حدثنا ابو الطفيل، عن حذيفة بن اسيد، عن ابي ذر، قال ان الصادق المصدوق صلى الله عليه وسلم حدثني " ان الناس يحشرون ثلاثة افواج فوج راكبين طاعمين كاسين وفوج تسحبهم الملايكة على وجوههم وتحشرهم النار وفوج يمشون ويسعون يلقي الله الافة على الظهر فلا يبقى حتى ان الرجل لتكون له الحديقة يعطيها بذات القتب لا يقدر عليها
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت کرنے کھڑے ہوئے تو فرمایا: ”لوگو! تم اللہ تعالیٰ کے پاس ننگے جسم جمع کئے جاؤ گے، ( ابوداؤد کی روایت میں ہے ننگے پاؤں اور غیر مختون جمع کئے جاؤ گے، اور وکیع اور وہب کی روایت میں ہے: ننگے جسم اور بلا ختنہ ) جیسے ہم نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ویسے ہی دوبارہ پیدا کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے جسے قیامت کے دن کپڑا پہنایا جائے گا ابراہیم علیہ السلام ہوں گے، اور عنقریب میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے ( ابوداؤد کی روایت میں «یجائ» ہے اور وہب اور وکیع کی روایت میں «سیؤتی» ہے ) اور وہ پکڑ کر بائیں جانب لے جائے جائیں گے، میں عرض کروں گا: اے میرے رب! یہ میرے اصحاب ( امتی ) ہیں، کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے جو آپ کے بعد انہوں نے شریعت میں نئی چیزیں ایجاد کر ڈالی ہیں، تو میں وہی کہوں گا جو نیکوکار بندے ( عیسیٰ علیہ السلام ) نے کہا تھا کہ جب تک میں ان کے درمیان موجود تھا ان پر گواہ تھا جب تو نے مجھے وفات دے دی ( تو تو ہی ان کا نگہبان تھا ) اب اگر تو انہیں سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں، اور اگر انہیں بخش دے تو تو زبردست حکمت والا ہے، تو کہا جائے گا: یہ لوگ برابر پیٹھ پھیرنے والے رہے، ( اور ابوداؤد کی روایت میں ہے: جب سے تم ان سے جدا ہوئے یہ اپنے ایڑیوں کے بل پلٹنے والے رہے ) ۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال اخبرنا وكيع، ووهب بن جرير، وابو داود عن شعبة، عن المغيرة بن النعمان، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قام رسول الله صلى الله عليه وسلم بالموعظة فقال " يا ايها الناس انكم محشورون الى الله عز وجل عراة " . قال ابو داود " حفاة غرلا " . وقال وكيع ووهب " عراة غرلا { كما بدانا اول خلق نعيده } قال اول من يكسى يوم القيامة ابراهيم عليه السلام وانه سيوتى " . قال ابو داود " يجاء " . وقال وهب ووكيع " سيوتى برجال من امتي فيوخذ بهم ذات الشمال فاقول رب اصحابي . فيقال انك لا تدري ما احدثوا بعدك فاقول كما قال العبد الصالح { وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني } الى قوله { وان تغفر لهم } الاية فيقال ان هولاء لم يزالوا مدبرين " . قال ابو داود " مرتدين على اعقابهم منذ فارقتهم
قرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھتے تو آپ کے صحابہ کی ایک جماعت بھی آپ کے پاس بیٹھتی، ان میں ایک ایسے آدمی بھی ہوتے جن کا ایک چھوٹا بچہ ان کی پیٹھ کے پیچھے سے آتا، تو وہ اسے اپنے سامنے ( گود میں ) بٹھا لیتے ( چنانچہ کچھ دنوں بعد ) وہ بچہ مر گیا، تو اس آدمی نے اپنے بچے کی یاد میں محفل میں آنا بند کر دیا، اور رنجیدہ رہنے لگا، تو ( جب ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں پایا تو پوچھا: ”کیا بات ہے؟ میں فلاں کو نہیں دیکھ رہا ہوں؟“ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا ننھا بچہ جسے آپ نے دیکھا تھا مر گیا، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ملاقات کی، ( اور ) اس کے بچے کے بارے میں پوچھا، تو اس نے بتایا کہ وہ مر گیا، تو آپ نے اس کی ( موت کی خبر ) پر اس کی تعزیت کی، پھر فرمایا: ”اے فلاں! تجھ کو کون سی بات زیادہ پسند ہے؟ یہ کہ تم اس سے عمر بھر فائدہ اٹھاتے یا یہ کہ ( جب ) تم قیامت کے دن جنت کے کسی دروازے پر جاؤ تو اسے اپنے سے پہلے پہنچا ہوا پائے، وہ تمہارے لیے اسے کھول رہا ہو؟“ تو اس نے کہا: اللہ کے نبی! مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ وہ جنت کے دروازے پر مجھ سے پہلے پہنچے، اور میرے لیے دروازہ کھول رہا ہو، آپ نے فرمایا: ”تمہارے لیے ایسا ( ہی ) ہو گا“۔
اخبرنا هارون بن زيد، - وهو ابن ابي الزرقاء - قال حدثنا ابي قال، حدثنا خالد بن ميسرة، قال سمعت معاوية بن قرة، عن ابيه، قال كان نبي الله صلى الله عليه وسلم اذا جلس يجلس اليه نفر من اصحابه وفيهم رجل له ابن صغير ياتيه من خلف ظهره فيقعده بين يديه فهلك فامتنع الرجل ان يحضر الحلقة لذكر ابنه فحزن عليه ففقده النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ما لي لا ارى فلانا " . قالوا يا رسول الله بنيه الذي رايته هلك . فلقيه النبي صلى الله عليه وسلم فساله عن بنيه فاخبره انه هلك فعزاه عليه ثم قال " يا فلان ايما كان احب اليك ان تمتع به عمرك او لا تاتي غدا الى باب من ابواب الجنة الا وجدته قد سبقك اليه يفتحه لك " . قال يا نبي الله بل يسبقني الى باب الجنة فيفتحها لي لهو احب الى . قال " فذاك لك
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں موت کا فرشتہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا، جب وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے ایک طمانچہ رسید کیا، تو اس کی ایک آنکھ پھوٹ کر بہہ گئی، چنانچہ اس نے اپنے رب کے پاس واپس جا کر شکایت کی کہ تو نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیج دیا جو مرنا نہیں چاہتا، اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ اچھی کر دی، اور کہا: اس کے پاس دوبارہ جاؤ، اور اس سے کہہ: تم اپنا ہاتھ بیل کی پیٹھ پر رکھو اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے ہر بال کے عوض انہیں ایک سال کی مزید عمر مل جائے گی، تو انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! پھر کیا ہو گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پھر مرنا ہو گا، ( موسیٰ علیہ السلام ) نے کہا: تب تو ابھی ( مرنا بہتر ہے ) ، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ وہ انہیں ارض مقدس سے پتھر پھینکنے کی مسافت کے برابر قریب کر دے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اس جگہ ہوتا تو تمہیں راستے کی طرف سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر دکھلاتا“۔
اخبرنا محمد بن رافع، عن عبد الرزاق، قال حدثنا معمر، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال ارسل ملك الموت الى موسى عليه السلام فلما جاءه صكه ففقا عينه فرجع الى ربه فقال ارسلتني الى عبد لا يريد الموت . فرد الله عز وجل اليه عينه وقال ارجع اليه فقل له يضع يده على متن ثور فله بكل ما غطت يده بكل شعرة سنة . قال اى رب ثم مه قال الموت . قال فالان . فسال الله عز وجل ان يدنيه من الارض المقدسة رمية بحجر . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فلو كنت ثم لاريتكم قبره الى جانب الطريق تحت الكثيب الاحمر