احادیث
#2089
سنن نسائی - Funerals
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں موت کا فرشتہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا، جب وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے ایک طمانچہ رسید کیا، تو اس کی ایک آنکھ پھوٹ کر بہہ گئی، چنانچہ اس نے اپنے رب کے پاس واپس جا کر شکایت کی کہ تو نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیج دیا جو مرنا نہیں چاہتا، اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ اچھی کر دی، اور کہا: اس کے پاس دوبارہ جاؤ، اور اس سے کہہ: تم اپنا ہاتھ بیل کی پیٹھ پر رکھو اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے ہر بال کے عوض انہیں ایک سال کی مزید عمر مل جائے گی، تو انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! پھر کیا ہو گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پھر مرنا ہو گا، ( موسیٰ علیہ السلام ) نے کہا: تب تو ابھی ( مرنا بہتر ہے ) ، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ وہ انہیں ارض مقدس سے پتھر پھینکنے کی مسافت کے برابر قریب کر دے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اس جگہ ہوتا تو تمہیں راستے کی طرف سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر دکھلاتا“۔
اخبرنا محمد بن رافع، عن عبد الرزاق، قال حدثنا معمر، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال ارسل ملك الموت الى موسى عليه السلام فلما جاءه صكه ففقا عينه فرجع الى ربه فقال ارسلتني الى عبد لا يريد الموت . فرد الله عز وجل اليه عينه وقال ارجع اليه فقل له يضع يده على متن ثور فله بكل ما غطت يده بكل شعرة سنة . قال اى رب ثم مه قال الموت . قال فالان . فسال الله عز وجل ان يدنيه من الارض المقدسة رمية بحجر . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فلو كنت ثم لاريتكم قبره الى جانب الطريق تحت الكثيب الاحمر
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Funerals
- Hadith Index
- #2089
- Book Index
- 272
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
