احادیث
#2039
سنن نسائی - Funerals
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں جب جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری ان کے یہاں ہوتی تو رات کے آخری ( حصے ) میں مقبرہ بقیع کی طرف نکل جاتے، ( اور ) کہتے: «السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا وإياكم متواعدون غدا أو مواكلون وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون اللہم اغفر لأهل بقيع الغرقد» ”اے مومن گھر ( قبرستان ) والو! تم پر سلامتی ہو، ہم اور تم آپس میں ایک دوسرے سے کل کی حاضری کا وعدہ کرنے والے ہیں، اور آپس میں ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے والے ہیں، اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے والے ہیں، اے اللہ! بقیع غرقد والوں کی مغفرت فرما“۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا اسماعيل، قال حدثنا شريك، - وهو ابن ابي نمر - عن عطاء، عن عايشة، قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم كلما كانت ليلتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج في اخر الليل الى البقيع فيقول : " السلام عليكم دار قوم مومنين، وانا واياكم متواعدون غدا او مواكلون، وانا ان شاء الله بكم لاحقون، اللهم اغفر لاهل بقيع الغرقد
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Funerals
- Hadith Index
- #2039
- Book Index
- 222
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih Muslim
