Loading...

Loading...
کتب
۲۷۲ احادیث
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نو جنازوں کی ایک ساتھ نماز پڑھی، تو مرد امام سے قریب رکھے گئے، اور عورتیں قبلہ سے قریب، ان سب عورتوں کی ایک صف بنائی، اور علی رضی اللہ عنہ کی بیٹی اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیوی ام کلثوم، اور ان کے بیٹے زید دونوں کا جنازہ ایک ساتھ رکھا گیا، امام اس دن سعید بن العاص تھے، اور لوگوں میں ابن عمر، ابوہریرہ، ابوسعید اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہم ( بھی موجود ) تھے، بچہ امام سے قریب رکھا گیا، تو ایک شخص نے کہا: مجھے یہ چیز ناگوار لگی، تو میں نے ابن عباس، ابوہریرہ، ابوسعید اور ابوقتادہ ( رضی اللہ عنہم ) کی طرف ( حیرت سے ) دیکھا، اور پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہی سنت ( نبی کا طریقہ ) ہے۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال انبانا عبد الرزاق، قال انبانا ابن جريج، قال سمعت نافعا، يزعم ان ابن عمر، صلى على تسع جنايز جميعا فجعل الرجال يلون الامام والنساء يلين القبلة فصفهن صفا واحدا ووضعت جنازة ام كلثوم بنت علي امراة عمر بن الخطاب وابن لها يقال له زيد وضعا جميعا والامام يوميذ سعيد بن العاص وفي الناس ابن عمر وابو هريرة وابو سعيد وابو قتادة فوضع الغلام مما يلي الامام فقال رجل فانكرت ذلك فنظرت الى ابن عباس وابي هريرة وابي سعيد وابي قتادة فقلت ما هذا قالوا هي السنة
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کی ماں کی نماز جنازہ پڑھی جو اپنی زچگی میں مر گئیں تھیں، تو آپ ان کے بیچ میں یعنی کمر کے پاس کھڑے ہوئے۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا ابن المبارك، والفضل بن موسى، ح واخبرنا سويد، قال انبانا عبد الله، عن حسين المكتب، عن عبد الله بن بريدة، عن سمرة بن جندب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى على ام فلان ماتت في نفاسها فقام في وسطها
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نجاشی کی موت کی خبر دی، اور آپ ان کے ساتھ نکلے تو ان کی صف بندی کی، ( اور ) چار تکبیریں کہیں۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نعى للناس النجاشي وخرج بهم فصف بهم وكبر اربع تكبيرات
ابوامامہ بن سہل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عوالی والوں ۱؎ میں سے ایک عورت بیمار ہوئی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار کی بیمار پرسی سب سے زیادہ کرتے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”جب یہ مر جائے تو مجھے خبر کرنا“ تو وہ رات میں مر گئی، اور لوگوں نے اسے دفنا دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر نہیں کیا، جب آپ نے صبح کی تو اس کے بارے میں پوچھا، تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو بیدار کرنا مناسب نہیں سمجھا، آپ اس کی قبر پر آئے، اور اس پر نماز جنازہ پڑھی اور ( اس میں ) چار تکبیریں کہیں۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن ابي امامة بن سهل، قال مرضت امراة من اهل العوالي وكان النبي صلى الله عليه وسلم احسن شىء عيادة للمريض فقال " اذا ماتت فاذنوني " . فماتت ليلا فدفنوها ولم يعلموا النبي صلى الله عليه وسلم فلما اصبح سال عنها فقالوا كرهنا ان نوقظك يا رسول الله . فاتى قبرها فصلى عليها وكبر اربعا
ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ایک میت کی نماز جنازہ پڑھائی تو ( اس میں ) پانچ تکبیریں کہیں، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اتنی ہی تکبیریں کہیں تھیں۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا شعبة، قال حدثني عمرو بن مرة، عن ابن ابي ليلى، ان زيد بن ارقم، صلى على جنازة فكبر عليها خمسا وقال كبرها رسول الله صلى الله عليه وسلم
عوف بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ ایک جنازے کی نماز میں کہہ رہے تھے: «اللہم اغفر له وارحمه واعف عنه وعافه وأكرم نزله ووسع مدخله واغسله بماء وثلج وبرد ونقه من الخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس وأبدله دارا خيرا من داره وأهلا خيرا من أهله وزوجا خيرا من زوجه وقه عذاب القبر وعذاب النار» ”اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اس پر رحم کر، اسے معاف کر دے، اسے عافیت دے، اس کی ( بہترین ) مہمان نوازی فرما، اس کی ( قبر ) کشادہ کر دے، اسے پانی برف اور اولے سے دھو دے، اسے گناہوں سے اس طرح صاف کر دے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے، اس کو بدلے میں اس کے گھر سے اچھا گھر، اس کے گھر والوں سے بہتر گھر والے، اور اس کی بیوی سے اچھی بیوی عطا کر، اور اسے عذاب قبر اور عذاب جہنم سے بچا“۔ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس میت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا ( سن کر ) میں نے آرزو کی: کاش! اس کی جگہ میں ہوتا۔
اخبرنا احمد بن عمرو بن السرح، عن ابن وهب، قال اخبرني عمرو بن الحارث، عن ابي حمزة بن سليم، عن عبد الرحمن بن جبير، عن ابيه، عن عوف بن مالك، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى على جنازة يقول " اللهم اغفر له وارحمه واعف عنه وعافه واكرم نزله ووسع مدخله واغسله بماء وثلج وبرد ونقه من الخطايا كما ينقى الثوب الابيض من الدنس وابدله دارا خيرا من داره واهلا خيرا من اهله وزوجا خيرا من زوجه وقه عذاب القبر وعذاب النار " . قال عوف فتمنيت ان لو كنت الميت لدعاء رسول الله صلى الله عليه وسلم لذلك الميت
عوف بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک میت پر صلاۃ پڑھتے سنا، تو میں نے سنا کہ آپ اس کے لیے دعا میں یہ کہہ رہے تھے: «اللہم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه وأكرم نزله ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس وأبدله دارا خيرا من داره وأهلا خيرا من أهله وزوجا خيرا من زوجه وأدخله الجنة ونجه من النار – أو قال – وأعذه من عذاب القبر» ”اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اس پر رحم کر، اسے عافیت دے، اسے معاف کر دے، اس کی ( بہترین ) مہمان نوازی فرما، اس کی ( قبر ) کشادہ کر دے، اسے پانی، برف اور اولے سے دھو دے، اسے گناہوں سے اس طرح صاف کر دے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے، اس کو بدلے میں اس کے گھر سے اچھا گھر، اس کے گھر والوں سے بہتر گھر والے، اور اس کی بیوی سے اچھی بیوی عطا کر، اور اسے جنت میں داخل کر، اور جہنم کے عذاب سے نجات دے، یا فرمایا اسے عذاب قبر سے بچا“۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، قال حدثنا معن، قال حدثنا معاوية بن صالح، عن حبيب بن عبيد الكلاعي، عن جبير بن نفير الحضرمي، قال سمعت عوف بن مالك، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي على ميت فسمعت في دعايه وهو يقول " اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه واكرم نزله ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا كما نقيت الثوب الابيض من الدنس وابدله دارا خيرا من داره واهلا خيرا من اهله وزوجا خيرا من زوجه وادخله الجنة ونجه من النار - او قال - واعذه من عذاب القبر
عبید بن خالد سلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان بھائی چارہ کرایا، ان میں سے ایک قتل کر دیا گیا، اور دوسرا ( بھی ) اس کے بعد مر گیا، ہم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم لوگوں نے کیا دعا کی؟“، تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے اس کے لیے یہ دعا کی: «اللہم اغفر له اللہم ارحمه اللہم ألحقه بصاحبه» ”اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اے اللہ اس پر رحم فرما، اے اللہ! اسے اپنے ساتھی سے ملا دے“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی صلاۃ اس کی صلاۃ کے بعد کہاں جائے گی؟ اور اس کا عمل اس کے عمل کے بعد کہاں جائے گا؟ ان دونوں کے درمیان وہی دوری ہے جو آسمان و زمین کے درمیان ہے“۔ عمرو بن میمون کہتے ہیں: مجھے خوشی ہوئی کیونکہ عبداللہ بن ربیعہ سلمی رضی اللہ عنہ نے ( اس حدیث کو ) میرے لیے مسند کر دیا۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، قال حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، قال سمعت عمرو بن ميمون، يحدث عن عبد الله بن ربيعة السلمي، وكان، من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم عن عبيد بن خالد السلمي ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اخى بين رجلين فقتل احدهما ومات الاخر بعده فصلينا عليه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ما قلتم " . قالوا دعونا له اللهم اغفر له اللهم ارحمه اللهم الحقه بصاحبه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " فاين صلاته بعد صلاته واين عمله بعد عمله فلما بينهما كما بين السماء والارض " . قال عمرو بن ميمون اعجبني لانه اسند لي
ابوابراہیم انصاری اشہلی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میت پر نماز جنازہ میں کہتے سنا: «اللہم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وذكرنا وأنثانا وصغيرنا وكبيرنا» ”اے اللہ! ہمارے زندہ اور مردہ کو، ہمارے حاضر اور غائب، ہمارے نر اور مادہ، ہمارے چھوٹے اور بڑے سب کو بخش دے“۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا يزيد، - وهو ابن زريع - قال حدثنا هشام بن ابي عبد الله، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي ابراهيم الانصاري، عن ابيه، انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول في الصلاة على الميت " اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغايبنا وذكرنا وانثانا وصغيرنا وكبيرنا
طلحہ بن عبداللہ بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے جنازہ کی نماز پڑھی، تو انہوں نے سورۃ فاتحہ اور کوئی ایک سورت پڑھی، اور جہر کیا یہاں تک کہ آپ نے ہمیں سنا دیا، جب فارغ ہوئے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور پوچھا: ( یہ کیا؟ ) تو انہوں نے کہا: ( یہی ) سنت ( نبی کا طریقہ ) ہے، اور ( یہی ) حق ہے۔
اخبرنا الهيثم بن ايوب، قال حدثنا ابراهيم، - وهو ابن سعد - قال حدثنا ابي، عن طلحة بن عبد الله بن عوف، قال صليت خلف ابن عباس على جنازة فقرا بفاتحة الكتاب وسورة وجهر حتى اسمعنا فلما فرغ اخذت بيده فسالته فقال سنة وحق
طلحہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے ایک جنازے کی نماز پڑھی، تو میں نے انہیں سورۃ فاتحہ پڑھتے سنا، تو جب وہ سلام پھیر چکے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑا، اور پوچھا: آپ ( نماز جنازہ میں ) قرآن پڑھتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں، ( یہی ) حق اور سنت ہے۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، عن طلحة بن عبد الله، قال صليت خلف ابن عباس على جنازة فسمعته يقرا، بفاتحة الكتاب فلما انصرف اخذت بيده فسالته فقلت تقرا قال نعم انه حق وسنة
ابوامامہ اسعد بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں نماز جنازہ میں سنت یہ ہے کہ پہلی تکبیر کے بعد سورۃ فاتحہ آہستہ پڑھی جائے، پھر تین تکبیریں کہی جائیں، اور آخر میں سلام پھیرا جائے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن ابي امامة، انه قال السنة في الصلاة على الجنازة ان يقرا في التكبيرة الاولى بام القران مخافتة ثم يكبر ثلاثا والتسليم عند الاخرة
ضحاک بن قیس دمشقی رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن محمد بن سويد الدمشقي الفهري، عن الضحاك بن قيس الدمشقي، بنحو ذلك
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس میت پر بھی مسلمانوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھے ( جن کی تعداد ) سو تک پہنچتی ہو، ( اور ) وہ ( اللہ کے پاس ) شفاعت ( سفارش ) کریں تو اس کے حق میں ( ان کی ) شفاعت قبول کی جائے گی“۔ سلام کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو شعیب بن حبحاب سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے اسے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے، وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے۔
اخبرنا سويد، قال حدثنا عبد الله، عن سلام بن ابي مطيع الدمشقي، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن عبد الله بن يزيد، رضيع عايشة عن عايشة، رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما من ميت يصلي عليه امة من المسلمين يبلغون ان يكونوا ماية يشفعون الا شفعوا فيه " . قال سلام فحدثت به شعيب بن الحبحاب فقال حدثني به انس بن مالك عن النبي صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں میں سے جو بھی اس طرح مرتا ہو کہ لوگوں کی ایک ایسی جماعت اس کی نماز جنازہ پڑھتی ہو، جو سو تک پہنچ جاتی ہو، تو وہ شفاعت کرتے ہیں، تو ان کی شفاعت قبول کی جاتی ہے“۔
اخبرنا عمرو بن زرارة، قال انبانا اسماعيل، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن عبد الله بن يزيد، - رضيع لعايشة رضى الله عنها - عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يموت احد من المسلمين فيصلي عليه امة من الناس فيبلغوا ان يكونوا ماية فيشفعوا الا شفعوا فيه
ابوبکار حکم بن فروخ کہتے ہیں ہمیں ابوملیح نے ایک جنازے کی نماز پڑھائی تو ہم نے سمجھا کہ وہ تکبیر ( تکبیر اولیٰ ) کہہ چکے ( پھر کیا دیکھتا ہوں کہ ) وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور کہا: تم اپنی صفیں درست کرو تاکہ تمہاری سفارش کارگر ہو۔ ابوملیح کہتے ہیں: مجھ سے عبداللہ بن سلیط نے بیان کیا، انہوں نے امہات المؤمنین میں سے ایک سے روایت کی، اور وہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، وہ کہتی ہیں: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی، آپ نے فرمایا: ”جس میت کی بھی لوگوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھتی ہے تو اس کے حق میں ( ان کی ) شفاعت قبول کر لی جاتی ہے“، تو میں نے ابوملیح سے جماعت ( کی تعداد ) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: چالیس افراد پر مشتمل گروہ امت ( جماعت ) ہے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا محمد بن سواء ابو الخطاب، قال حدثنا ابو بكار الحكم بن فروخ، قال صلى بنا ابو المليح على جنازة فظننا انه قد كبر فاقبل علينا بوجهه فقال اقيموا صفوفكم ولتحسن شفاعتكم قال ابو المليح حدثني عبد الله - وهو ابن سليط - عن احدى امهات المومنين وهي ميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت اخبرني النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما من ميت يصلي عليه امة من الناس الا شفعوا فيه " . فسالت ابا المليح عن الامة فقال اربعون
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی کی نماز جنازہ پڑھی، تو اسے ایک قیراط ملے گا، اور جس نے اسے قبر میں رکھے جانے تک انتظار کیا، تو اسے دو قیراط ملے گا، اور دو قیراط دو بڑے پہاڑوں کے مثل ہیں“۔
اخبرنا نوح بن حبيب، قال انبانا عبد الرزاق، قال انبانا معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى على جنازة فله قيراط ومن انتظرها حتى توضع في اللحد فله قيراطان والقيراطان مثل الجبلين العظيمين
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی جنازے میں شریک رہے یہاں تک کہ اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے، تو اسے ایک قیراط ثواب ملے گا، اور جو دفنائے جانے تک رہے تو اسے دو قیراط ملے گا“، پوچھا گیا: اللہ کے رسول! یہ دو قیراط کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ دو بڑے پہاڑوں کے برابر ہیں“۔
اخبرنا سويد، قال اخبرنا عبد الله، عن يونس، عن الزهري، قال انبانا عبد الرحمن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من شهد جنازة حتى يصلى عليها فله قيراط ومن شهد حتى تدفن فله قيراطان " . قيل وما القيراطان يا رسول الله قال " مثل الجبلين العظيمين
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص طلب ثواب کے لیے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے، اور اس کی نماز جنازہ پڑھے، اور اسے دفنائے تو اس کے لیے دو قیراط ( کا ثواب ) ہے، اور جو ( صرف ) نماز جنازہ پڑھے اور دفنانے جانے سے پہلے لوٹ آئے، تو وہ ایک قیراط ( ثواب ) لے کر لوٹتا ہے“۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد بن جعفر، عن عوف، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من تبع جنازة رجل مسلم احتسابا فصلى عليها ودفنها فله قيراطان ومن صلى عليها ثم رجع قبل ان تدفن فانه يرجع بقيراط من الاجر
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی جنازے کے ساتھ جائے ( اور ) اس پر نماز جنازہ پڑھے پھر لوٹ آئے، تو اسے ایک قیراط کا ثواب ہے، اور جو ( جنازہ میں ) شریک ہو، ( اور ) اس پر نماز جنازہ پڑھے پھر بیٹھا رہے یہاں تک کہ اسے دفنا کر فارغ ہو لیا جائے، تو اس کا اجر دو قیراط ہے، ان میں سے ہر ایک قیراط احد ( پہاڑ ) سے زیادہ بڑا ہے“۔
اخبرنا الحسن بن قزعة، قال حدثنا مسلمة بن علقمة، قال انبانا داود، عن عامر، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من تبع جنازة فصلى عليها ثم انصرف فله قيراط من الاجر ومن تبعها فصلى عليها ثم قعد حتى يفرغ من دفنها فله قيراطان من الاجر كل واحد منهما اعظم من احد