احادیث
#1985
سنن نسائی - Funerals
عبید بن خالد سلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان بھائی چارہ کرایا، ان میں سے ایک قتل کر دیا گیا، اور دوسرا ( بھی ) اس کے بعد مر گیا، ہم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم لوگوں نے کیا دعا کی؟“، تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے اس کے لیے یہ دعا کی: «اللہم اغفر له اللہم ارحمه اللہم ألحقه بصاحبه» ”اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اے اللہ اس پر رحم فرما، اے اللہ! اسے اپنے ساتھی سے ملا دے“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی صلاۃ اس کی صلاۃ کے بعد کہاں جائے گی؟ اور اس کا عمل اس کے عمل کے بعد کہاں جائے گا؟ ان دونوں کے درمیان وہی دوری ہے جو آسمان و زمین کے درمیان ہے“۔ عمرو بن میمون کہتے ہیں: مجھے خوشی ہوئی کیونکہ عبداللہ بن ربیعہ سلمی رضی اللہ عنہ نے ( اس حدیث کو ) میرے لیے مسند کر دیا۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، قال حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، قال سمعت عمرو بن ميمون، يحدث عن عبد الله بن ربيعة السلمي، وكان، من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم عن عبيد بن خالد السلمي ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اخى بين رجلين فقتل احدهما ومات الاخر بعده فصلينا عليه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ما قلتم " . قالوا دعونا له اللهم اغفر له اللهم ارحمه اللهم الحقه بصاحبه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " فاين صلاته بعد صلاته واين عمله بعد عمله فلما بينهما كما بين السماء والارض " . قال عمرو بن ميمون اعجبني لانه اسند لي
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Funerals
- Hadith Index
- #1985
- Book Index
- 168
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
