Loading...

Loading...
کتب
۲۷۲ احادیث
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دیئے، اس کے پاس ان کے علاوہ اور کوئی مال ( مال و اسباب ) نہ تھا، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ اس سے ناراض ہوئے، اور فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھوں“، پھر آپ نے اس کے غلاموں کو بلایا، اور ان کے تین حصے کیے، پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، اور دو کو آزاد کر دیا، اور چار کو رہنے دیا۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا هشيم، عن منصور، - وهو ابن زاذان - عن الحسن، عن عمران بن حصين، ان رجلا، اعتق ستة مملوكين له عند موته ولم يكن له مال غيرهم فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فغضب من ذلك وقال " لقد هممت ان لا اصلي عليه " . ثم دعا مملوكيه فجزاهم ثلاثة اجزاء ثم اقرع بينهم فاعتق اثنين وارق اربعة
زید بن خالد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص خیبر میں مر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو، اس نے اللہ کی راہ میں چوری کی ہے“، تو ( جب ) ہم نے اس کے اسباب کی تلاشی لی تو ہمیں اس میں یہود کے نگینوں میں سے کچھ نگینے ملے، جو دو درہم کے برابر بھی نہیں تھے۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن يحيى بن سعيد الانصاري، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن ابي عمرة، عن زيد بن خالد، قال مات رجل بخيبر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلوا على صاحبكم انه غل في سبيل الله " . ففتشنا متاعه فوجدنا فيه خرزا من خرز يهود ما يساوي درهمين
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کا ایک شخص لایا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ( میں نہیں پڑھتا ) کیونکہ اس پر قرض ہے“، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ میرے ذمہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم اس کی ادائیگی کرو گے؟“ تو انہوں نے کہا: ہاں میں اس کی ادائیگی کروں گا، تب آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود، قال حدثنا شعبة، عن عثمان بن عبد الله بن موهب، سمعت عبد الله بن ابي قتادة، يحدث عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتي برجل من الانصار ليصلي عليه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " صلوا على صاحبكم فان عليه دينا " . قال ابو قتادة هو على . قال النبي صلى الله عليه وسلم " بالوفاء " . قال بالوفاء . فصلى عليه
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے نبی! اس کی نماز جنازہ پڑھ دیجئیے، آپ نے پوچھا: ”کیا اس نے اپنے اوپر کچھ قرض چھوڑا ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: ”کیا اس نے اس کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز چھوڑی ہے؟“ لوگوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو“، تو ابوقتادہ نامی ایک انصاری نے عرض کیا: آپ اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھ دیجئیے، اس کا قرض میرے ذمہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھی۔
اخبرنا عمرو بن علي، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا يحيى، قال حدثنا يزيد بن ابي عبيد، قال حدثنا سلمة، - يعني ابن الاكوع - قال اتي النبي صلى الله عليه وسلم بجنازة فقالوا يا نبي الله صل عليها . قال " هل ترك عليه دينا " . قالوا نعم . قال " هل ترك من شىء " . قالوا لا . قال " صلوا على صاحبكم " . قال رجل من الانصار يقال له ابو قتادة صل عليه وعلى دينه . فصلى عليه
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے، چنانچہ ایک جنازہ آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: ہاں، اس پر دو دینار ( کا قرض ) ہے، آپ نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے ساتھی پر نماز جنازہ پڑھ لو“، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دونوں دینار میرے ذمہ ہیں، تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو فتح و نصرت عطا کی، تو آپ نے فرمایا: ”میں ہر مومن پر اس کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں، جو قرض چھوڑ کر مرے ( اس کی ادائیگی ) مجھ پر ہے، اور جو مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے“۔
اخبرنا نوح بن حبيب القومسي، قال حدثنا عبد الرزاق، قال انبانا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن جابر، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم لا يصلي على رجل عليه دين فاتي بميت فسال " اعليه دين " . قالوا نعم عليه ديناران . قال " صلوا على صاحبكم " . قال ابو قتادة هما على يا رسول الله . فصلى عليه فلما فتح الله على رسوله صلى الله عليه وسلم قال " انا اولى بكل مومن من نفسه من ترك دينا فعلى ومن ترك مالا فلورثته
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی مومن مرتا اور اس پر قرض ہوتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے: ”کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟“ اگر لوگ کہتے: جی ہاں، تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھتے، اور اگر کہتے: نہیں، تو آپ کہتے: ”تم اپنے ساتھی پر نماز ( جنازہ ) پڑھ لو“۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر فتح و نصرت کا دروازہ کھولا، تو آپ نے فرمایا: ”میں مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں، تو جو وفات پا جائے اور اس پر قرض ہو، تو ( اس کی ادائیگی ) مجھ پر ہے، اور اگر کوئی مال چھوڑ کر گیا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے“۔
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، قال انبانا ابن وهب، قال اخبرني يونس، وابن ابي ذيب، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا توفي المومن وعليه دين سال " هل ترك لدينه من قضاء " . فان قالوا نعم صلى عليه وان قالوا لا قال " صلوا على صاحبكم " . فلما فتح الله عز وجل على رسوله صلى الله عليه وسلم قال " انا اولى بالمومنين من انفسهم فمن توفي وعليه دين فعلى قضاوه ومن ترك مالا فهو لورثته
ابن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے تیر کی انی سے خودکشی کر لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہا میں تو میں اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھ سکتا“۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال انبانا ابو الوليد، قال حدثنا ابو خيثمة، زهير قال حدثنا سماك، عن جابر بن سمرة، ان رجلا، قتل نفسه بمشاقص فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما انا فلا اصلي عليه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے آپ کو کسی پہاڑ سے گرا کر مار ڈالے، تو وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیش اپنے آپ کو اوپر سے نیچے گراتا رہے گا، اور جو زہر پی کر اپنے آپ کو مار ڈالے تو وہ زہر اس کے ہاتھ میں رہے گا اسے وہ ہمیشہ ہمیش جہنم میں پیتا رہے گا، اور جو شخص کسی دھار دار چیز سے اپنے آپ کو مار ڈالے ( راوی کہتے ہیں: پھر کوئی چیز میرے سننے سے رہ گئی ۱؎، خالد کہہ رہے تھے: ) تو اس کا لوہا اس کے ہاتھ میں ہو گا اسے وہ جہنم کی آگ میں اپنے پیٹ میں برابر گھونپتا رہے گا“۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن سليمان، سمعت ذكوان، يحدث عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من تردى من جبل فقتل نفسه فهو في نار جهنم يتردى خالدا مخلدا فيها ابدا ومن تحسى سما فقتل نفسه فسمه في يده يتحساه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها ابدا ومن قتل نفسه بحديدة - ثم انقطع على شىء خالد يقول - كانت حديدته في يده يجا بها في بطنه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها ابدا
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی ابن سلول ( منافقوں کا سردار ) مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلائے گئے، تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز پڑھنے کے لیے ) کھڑے ہوئے تو میں تیزی سے آپ کی طرف بڑھا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ابن ابی پر نماز جنازہ پڑھیں گے؟ حالانکہ فلاں دن وہ ایسا ایسا کہہ رہا تھا، میں اس کی تمام باتیں آپ پر گنانے لگا، تو آپ مسکرائے، اور فرمایا: ”اے عمر! ان باتوں کو جانے دو“۔ جب میں نے کافی اصرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اختیار ہے ( نماز پڑھوں یا نہ پڑھوں ) تو میں نے پڑھنا پسند کیا، اگر میں یہ جانتا کہ ستر بار سے زیادہ مغفرت چاہنے پر اس کی مغفرت ہو جائے گی تو میں اس سے زیادہ مغفرت کرتا“ ۱؎ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر لوٹے اور ابھی ذرا سا دم ہی لیا تھا کہ سورۃ برأت کی دونوں آیتیں نازل ہوئیں: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره إنهم كفروا باللہ ورسوله وماتوا وهم فاسقون» ”جب یہ مر جائیں تو تم ان میں سے کسی پر کبھی بھی نماز جنازہ نہ پڑھو، اور نہ اس کی قبر پہ کھڑے ہو، اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے، اور گنہگار ہو کر مرے ہیں“، بعد میں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اپنی اس دن کی اس جرات پر حیرت ہوئی، اور اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں کہ یہ جرات میں نے کیوں کی۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا حجين بن المثنى، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن عبد الله بن عباس، عن عمر بن الخطاب، قال لما مات عبد الله بن ابى ابن سلول دعي له رسول الله صلى الله عليه وسلم ليصلي عليه فلما قام رسول الله صلى الله عليه وسلم وثبت اليه فقلت يا رسول الله تصلي على ابن ابى وقد قال يوم كذا وكذا كذا وكذا اعدد عليه فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال " اخر عني يا عمر " . فلما اكثرت عليه قال " اني قد خيرت فاخترت فلو علمت اني لو زدت على السبعين غفر له لزدت عليها " . فصلى عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم انصرف فلم يمكث الا يسيرا حتى نزلت الايتان من براءة { ولا تصل على احد منهم مات ابدا ولا تقم على قبره انهم كفروا بالله ورسوله وماتوا وهم فاسقون } فعجبت بعد من جراتي على رسول الله صلى الله عليه وسلم يوميذ والله ورسوله اعلم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد ہی میں پڑھی تھی ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، وعلي بن حجر، قالا حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عبد الواحد بن حمزة، عن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن عايشة، قالت ما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم على سهيل ابن بيضاء الا في المسجد
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء ۱؎ کی نماز جنازہ مسجد کے صحن ہی میں پڑھی تھی۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال حدثنا عبد الله، عن موسى بن عقبة، عن عبد الواحد بن حمزة، ان عباد بن عبد الله بن الزبير، اخبره ان عايشة قالت ما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم على سهيل ابن بيضاء الا في جوف المسجد
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ عوالی مدینہ کی ایک غریب عورت ۱؎ بیمار پڑ گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھتے رہتے تھے، اور کہہ رکھا تھا کہ ”اگر یہ مر جائے تو اسے دفن مت کرنا جب تک کہ میں اس کی نماز جنازہ نہ پڑھ لوں“، چنانچہ وہ مر گئی، تو لوگ اسے عشاء کے بعد مدینہ لے کر آئے، ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سویا ہوا پایا، تو آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا، چنانچہ ان لوگوں نے اس کی نماز جنازہ پڑھ لی، اور اسے لے جا کر مقبرہ بقیع میں دفن کر دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو لوگ آپ کے پاس آئے، آپ نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! وہ تو دفنائی جا چکی، ( رات ) ہم آپ کے پاس آئے ( بھی ) تھے، ( لیکن ) ہم نے آپ کو سویا ہوا پایا، تو آپ کو جگانا نامناسب سمجھا، آپ نے فرمایا: ”چلو!“ ( اور ) خود بھی چل پڑے، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ گئے یہاں تک کہ ان لوگوں نے آپ کو اس کی قبر دکھائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف باندھا، آپ نے اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھائی اور ( اس میں ) چار تکبیریں کہیں۔
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، قال انبانا ابن وهب، قال حدثني يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني ابو امامة بن سهل بن حنيف، انه قال اشتكت امراة بالعوالي مسكينة فكان النبي صلى الله عليه وسلم يسالهم عنها وقال " ان ماتت فلا تدفنوها حتى اصلي عليها " . فتوفيت فجاءوا بها الى المدينة بعد العتمة فوجدوا رسول الله صلى الله عليه وسلم قد نام فكرهوا ان يوقظوه فصلوا عليها ودفنوها ببقيع الغرقد فلما اصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم جاءوا فسالهم عنها فقالوا قد دفنت يا رسول الله وقد جيناك فوجدناك نايما فكرهنا ان نوقظك . قال " فانطلقوا " . فانطلق يمشي ومشوا معه حتى اروه قبرها فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم وصفوا وراءه فصلى عليها وكبر اربعا
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بھائی نجاشی کی موت ہو گئی ہے، تو تم لوگ اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو“، ( پھر ) آپ نے ہماری صف بندی کی جیسے جنازہ پر صف بندی کی جاتی ہے، اور ان کی نماز جنازہ پڑھی۔
اخبرنا محمد بن عبيد، عن حفص بن غياث، عن ابن جريج، عن عطاء، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان اخاكم النجاشي قد مات فقوموا فصلوا عليه " . فقام فصف بنا كما يصف على الجنازة وصلى عليه
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے، پھر آپ لوگوں کو لے کر صلاۃ گاہ کی طرف نکلے، اور ان کی صف بندی کی، ( پھر ) آپ نے ان کی نماز ( جنازہ ) پڑھائی، اور چار تکبیریں کہیں۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم نعى للناس النجاشي اليوم الذي مات فيه ثم خرج بهم الى المصلى فصف بهم فصلى عليه وكبر اربع تكبيرات
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں اپنے صحابہ کو نجاشی کی موت کی خبر دی، تو انہوں نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، آپ نے ان کی نماز ( جنازہ ) پڑھائی، اور چار تکبیریں کہیں۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: ابن مسیب کا نام جیسا میں سننا چاہتا تھا نہیں سن سکا۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا عبد الرزاق، قال انبانا معمر، عن الزهري، عن ابن المسيب، وابي، سلمة عن ابي هريرة، قال نعى رسول الله صلى الله عليه وسلم النجاشي لاصحابه بالمدينة فصفوا خلفه فصلى عليه وكبر اربعا . قال ابو عبد الرحمن ابن المسيب اني لم افهمه كما اردت
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بھائی ( نجاشی ) مر گئے ہیں تو تم لوگ اٹھو، اور ان کی نماز جنازہ پڑھو“ تو ہم نے ان پر دو صفیں باندھیں۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا اسماعيل، عن ايوب، عن ابي الزبير، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان اخاكم قد مات فقوموا فصلوا عليه " . فصففنا عليه صفين
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز ( جنازہ ) پڑھی تھی میں دوسری صف میں تھا۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا ابو داود، سمعت شعبة، يقول الساعة يخرج الساعة يخرج حدثنا ابو الزبير، عن جابر، قال كنت في الصف الثاني يوم صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم على النجاشي
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تمہارے بھائی نجاشی انتقال کر گئے ہیں تو تم اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو“، تو ہم کھڑے ہوئے ( اور ) ہم نے ان پر اسی طرح صف بندی کی جس طرح میت پر کی جاتی ہے، اور ہم نے ان کی نماز ( جنازہ ) اسی طرح پڑھی جس طرح میت کی پڑھی جاتی ہے۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا بشر بن المفضل، قال حدثنا يونس، عن محمد بن سيرين، عن ابي المهلب، عن عمران بن حصين، قال قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اخاكم النجاشي قد مات فقوموا فصلوا عليه " . قال فقمنا فصففنا عليه كما يصف على الميت وصلينا عليه كما يصلى على الميت
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام کعب رضی اللہ عنہا کی نماز ( جنازہ ) پڑھی، جو اپنی زچگی میں مر گئیں تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ان کی کمر کے پاس کھڑے ہوئے۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، عن عبد الوارث، قال حدثنا حسين، عن ابن بريدة، عن سمرة، قال صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على ام كعب ماتت في نفاسها فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصلاة في وسطها
عمار رضی الله عنہ کہتے ہیں ایک بچہ اور ایک عورت کا جنازہ آیا، تو بچہ لوگوں سے متصل رکھا گیا، اور عورت اس کے پیچھے ( قبلہ کی طرف ) رکھی گئی، پھر ان دونوں کی نماز جنازہ پڑھی گئی، لوگوں میں ابو سعید خدری، ابن عباس، ابوقتادہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم ( بھی ) تھے، تو میں نے ان ( لوگوں ) سے اس کے متعلق سوال کیا، تو سبھوں نے کہا: یہی سنت ( نبی کا طریقہ ) ہے۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، قال حدثنا ابي قال، حدثنا سعيد، قال حدثني يزيد بن ابي حبيب، عن عطاء بن ابي رباح، عن عمار، قال حضرت جنازة صبي وامراة فقدم الصبي مما يلي القوم ووضعت المراة وراءه فصلى عليهما وفي القوم ابو سعيد الخدري وابن عباس وابو قتادة وابو هريرة فسالتهم عن ذلك فقالوا السنة