احادیث
#1962
سنن نسائی - Funerals
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے، چنانچہ ایک جنازہ آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: ہاں، اس پر دو دینار ( کا قرض ) ہے، آپ نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے ساتھی پر نماز جنازہ پڑھ لو“، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دونوں دینار میرے ذمہ ہیں، تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو فتح و نصرت عطا کی، تو آپ نے فرمایا: ”میں ہر مومن پر اس کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں، جو قرض چھوڑ کر مرے ( اس کی ادائیگی ) مجھ پر ہے، اور جو مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے“۔
اخبرنا نوح بن حبيب القومسي، قال حدثنا عبد الرزاق، قال انبانا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن جابر، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم لا يصلي على رجل عليه دين فاتي بميت فسال " اعليه دين " . قالوا نعم عليه ديناران . قال " صلوا على صاحبكم " . قال ابو قتادة هما على يا رسول الله . فصلى عليه فلما فتح الله على رسوله صلى الله عليه وسلم قال " انا اولى بكل مومن من نفسه من ترك دينا فعلى ومن ترك مالا فلورثته
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Funerals
- Hadith Index
- #1962
- Book Index
- 145
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih
