احادیث
#1963
سنن نسائی - Funerals
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی مومن مرتا اور اس پر قرض ہوتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے: ”کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟“ اگر لوگ کہتے: جی ہاں، تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھتے، اور اگر کہتے: نہیں، تو آپ کہتے: ”تم اپنے ساتھی پر نماز ( جنازہ ) پڑھ لو“۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر فتح و نصرت کا دروازہ کھولا، تو آپ نے فرمایا: ”میں مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں، تو جو وفات پا جائے اور اس پر قرض ہو، تو ( اس کی ادائیگی ) مجھ پر ہے، اور اگر کوئی مال چھوڑ کر گیا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے“۔
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، قال انبانا ابن وهب، قال اخبرني يونس، وابن ابي ذيب، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا توفي المومن وعليه دين سال " هل ترك لدينه من قضاء " . فان قالوا نعم صلى عليه وان قالوا لا قال " صلوا على صاحبكم " . فلما فتح الله عز وجل على رسوله صلى الله عليه وسلم قال " انا اولى بالمومنين من انفسهم فمن توفي وعليه دين فعلى قضاوه ومن ترك مالا فهو لورثته
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Funerals
- Hadith Index
- #1963
- Book Index
- 146
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
