احادیث
#1993
سنن نسائی - Funerals
ابوبکار حکم بن فروخ کہتے ہیں ہمیں ابوملیح نے ایک جنازے کی نماز پڑھائی تو ہم نے سمجھا کہ وہ تکبیر ( تکبیر اولیٰ ) کہہ چکے ( پھر کیا دیکھتا ہوں کہ ) وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور کہا: تم اپنی صفیں درست کرو تاکہ تمہاری سفارش کارگر ہو۔ ابوملیح کہتے ہیں: مجھ سے عبداللہ بن سلیط نے بیان کیا، انہوں نے امہات المؤمنین میں سے ایک سے روایت کی، اور وہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، وہ کہتی ہیں: مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی، آپ نے فرمایا: ”جس میت کی بھی لوگوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھتی ہے تو اس کے حق میں ( ان کی ) شفاعت قبول کر لی جاتی ہے“، تو میں نے ابوملیح سے جماعت ( کی تعداد ) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: چالیس افراد پر مشتمل گروہ امت ( جماعت ) ہے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا محمد بن سواء ابو الخطاب، قال حدثنا ابو بكار الحكم بن فروخ، قال صلى بنا ابو المليح على جنازة فظننا انه قد كبر فاقبل علينا بوجهه فقال اقيموا صفوفكم ولتحسن شفاعتكم قال ابو المليح حدثني عبد الله - وهو ابن سليط - عن احدى امهات المومنين وهي ميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت اخبرني النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما من ميت يصلي عليه امة من الناس الا شفعوا فيه " . فسالت ابا المليح عن الامة فقال اربعون
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Funerals
- Hadith Index
- #1993
- Book Index
- 176
Grades
- Abu GhuddahHasan Sahih
- Al-AlbaniHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
